ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

سیما علی

لائبریرین
ٹھیک فرمایا آپ نے۔
آج سب بہنوں اور بھائیوں کو پاکستان کا یومِ آزادی مبارک ہو
ثمر ہے یہ آباو اجداد کی محنت کا کا ش ہم نے اسکی قدر کی ہوتی ۔۔۔
جواں ہے عزم تو پھر ظلم کی بربادی باقی ہے
غلامی ہے بہت ارزاں، ابھی آزادی باقی ہے
درندے دندناتے پھِر رہے ہیں شہرِ آدم میں
ہے قیدِ نفس میں انساں، ابھی آزادی باقی ہے
حوا کی بیٹیوں کو اب سکوں ملتا ہے مرگھٹ پر
یہ دنیا ہو گئی زنداں، ابھی آزادی باقی ہے
لہو بہتا ہے اب تک شہر کے آباد رستوں پر
بہت گھر ہو گئے سنساں، ابھی آزادی باقی ہے
 

سیما علی

لائبریرین
جب بھی چودہ اگست آتی ہے ہمیں اجداد کی قربانیاں یاد آتیں ہیں؀
ملی نہیں ہے ہمیں ارضِ پاک تحفے میں
جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
جب بھی چودہ اگست آتی ہے ہمیں اجداد کی قربانیاں یاد آتیں ہیں؀
ملی نہیں ہے ہمیں ارضِ پاک تحفے میں
جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا
چنانچہ فیض نے کہا تھا کہ

یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل

اور آ گے جا کر کہتے ہیں کہ

ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں کمی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
 

سیما علی

لائبریرین
چودہ اگست پر صہبا اختر کی نظم حاضر ہے ؀
اک خدا ہے ، اک نبی ہے ، ایک ہی قرآن ہے
ایک ہی کعبہ ہے ہمارا ، ایک ہی ایمان ہے
ایک ملت ہے ہماری ، ایک پاکستان ہے

اس وطن کے دشت ودر کی سب فضائیں ایک ہیں
سارے بھائی ، ساری بہنیں، ساری مائیں‌ ایک ہیں

پیار کی کرنوں سے کردیں، چاک نفرت کے غلاف
آو ہم اک دوسرے کی ہرخطا کردیں معاف
آو پاکستان کی خاطر ، بھول جائیں اختلاف

نفرتوں کی آگ پہ چاہت کے آنسو ڈال دیں
آو ہم اس تیرگی کو روشنی میں ڈھال دیں
 

سیما علی

لائبریرین
حالتِ اہل وطن دیکھ کے دل کڑھتا ہے ؀
صبح آزادی نے یارو کیا ہمیں بخشا نہیں
اس وطن کا کون سا تحفہ ہے جو اپنا نہیں
خاکدانٍ نور ساماں ‘ آسمانٍ نیل گوں
یہ طسلمٍ ماہٍ تاباں ‘ یہ ستاروں کا فسوں
یہ بہاروں کا تبسم ‘ یہ ہواؤں کا جنوں
برگ و گل ‘ سرو و سمن ‘ دشت و دمن ‘ گلزار و باغ
کہکشاں در کہکشاں ‘ انجم بہ انجم یہ چراغ
یہ شرابٍ نور سے لبریز ‘ کرنوں کے ایاغ
نیلے دریا ‘ سبز میداں ‘ جھلملاتے آبشار
پگھلی چاندی کی طرح یہ چشمہ ہائے کوہسار
یہ سمندر جس کے نیلم پر ستارے بھی نثار
یہ زمینٍ پاک جس کے پاسباں ہیں کوہسار
میری آنکھوں کے لئے سرمہ ہے جس کا ہر غبار
یہ میرے نغموں کا گلشن میرے خوابوں کا دیار
جس کے ہاتھوں میں چھلکتے ہیں محبت کے سبو
جس کی مٹی میں دمکتا ہے شہیدوں کا لہو
جس کی خاموشی بھی کرتی ہے مسلسل گفتگو
ہاں سنو اے خوشنصیبانٍ فضائے خُُم بہ خُم
نغمہ ہائے سرمدی ہیں اس کی گویائی میں گم
اٍس کی چُپ کے بھی مخاطب صرف تم ہو صرف تم
ہاں سنو ! یہ کہہ رہی ہے دلبرانٍ آرزو
صَرفٍ برگ و گل ہوا ہے لاکھ زخموں کا لہو
دل ہوئے ٹکڑے ہزاروں ‘ تب ڈھلے ہیں یہ سبو
اَن گنت یعقوب گذرے ‘ ایک راہٍ صبر سے
اَن گنت یوسف ہوئے پابندٍ زنداں جبر سے
تب یہ ایک سورج ہے ابھرا ‘ ظلمتوں کی قبر سے
جبر کی ارزانیاں تھیں ‘ ظلم کی برسات تھی
آگ کے بادل گھرے تھے خون کی برسات تھی
صُبح آزادی سے پہلے سو برس کی رات تھی
گھٹ گئے ہیں دم تو پھینکی ہے ستاروں پر کمند
سر کٹائے ہیں ہزاروں تو ہوئے ہیں سر بلند
صدقہء خونٍ شہیداں ہے یہ خاکٍ ارجمند
حاصلٍ زہرٍ غلامی ہے مسرت کا سرور
ظلمتوں میں خونٍ دل سے اس کا ہوتا ہے ظہور
مفت میں ملتا نہیں ہے صبح آزادی کا نور
قدرٍ آزادی کرو ورنہ رفیقانٍ بہار
گر یہ آزادی کسی سے روٹھ جائے ایک بار
کرنا پڑتا ہے اسے پھر صدیوں اس کا انتظار
صبح آزادی کا سورج جسم و جاں کا قرض ہے
اس کی کرنوں کی حفاظت اب تمہارا فرض ہے
 

سیما علی

لائبریرین
روکتے نہیں والدین بھی بچوں کو باجا بجانے سے۔بڑی کریہہ آواز ہے
زیادہ بجاتے ہیں اگر آپ روکیں تو۔سچ کہا آپ نے والدین روکتے کیوں نہیں اور تو اور فائرنگ الگ کرتے ہیں کچھ کیا بتانا چاہتے ہیں معلوم نہیں۔۔


اب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ‌ ر‌ ڑ ز ژ س ش ص ض‌ ط‌ ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن و ہ ھ ء ی ے۔

 
Top