اقتباسات ایک نو مسلم خاتون کی کتاب "طالبان کی قید میں " سے اقتباس

arifkarim

معطل
میری بات کا تعلق بعثتِ محمدیہ کے بعد سے ہے۔۔۔ بعد کے آنے والے لوگ جنہیں یہ پیغام پہنچا لیکن اسکے باوجود وہ کفر کی حالت میں ہی اس دنیا سے گئے۔۔
دین میں کوئی جبر نہیں۔ اگر کوئی اسلام کا پیغام سننے کے بعد اپنی مرضی سے اسکو رد کردیتا ہے تو اسکا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ محض اسلام نہ قبول کرنے پر ہمیشہ کیلئے جہنم کی سزا سنا دینا محض بلاوجہ ڈرانے کے مترادف ہے۔
 
اس کے بارے صرف اتنا کہوں گا کہ یہاں ہر بندہ قاتل بننے کو پھر رہا ہے۔ بہانہ چاہے جو بھی مل جائے
تاہم آپ کی بات بجا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں اور نہ ہی ہونا چاہیئے
دین میں جبر والی آیت کا یہ معنی نہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی کو دین میں زبردستی داخل نہیں کیا جائے گا ۔ اسی لیے جو لوگ اسلام لانا چاہتے ہیں ان کو سوچ سمجھ کر اسلام لانا چاہیے ۔
 
دین میں کوئی جبر نہیں۔ اگر کوئی اسلام کا پیغام سننے کے بعد اپنی مرضی سے اسکو رد کردیتا ہے تو اسکا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ محض اسلام نہ قبول کرنے پر ہمیشہ کیلئے جہنم کی سزا سنا دینا محض بلاوجہ ڈرانے کے مترادف ہے۔
آپکی یہ بات درست ہےکہ اسکا معاملہ صرف اور صرف اللہ کے ساتھ ہے۔۔لیکن اگر اللہ ہی خبر دے رہا ہے قرآن میں کہ ایسے لوگوں کی سزا ابدی جہنم ہے تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں۔۔۔اور اگر اللہ ہی مرتد کے قتل کا بھی ھکم دے دے تو جس طرح ہم نے پہلے والی بات مان لی اسی طرح دوسری بات بھی ماننی پرے گی۔۔فرٖق صرف یہ ہے کہ یہ ثابت ہوجائے کہ واقعی مرتد کے قتل کی سزا اللہ کا حکم ہے۔۔۔
 

arifkarim

معطل
آپکی یہ بات درست ہےکہ اسکا معاملہ صرف اور صرف اللہ کے ساتھ ہے۔۔لیکن اگر اللہ ہی خبر دے رہا ہے قرآن میں کہ ایسے لوگوں کی سزا ابدی جہنم ہے تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں۔۔۔ اور اگر اللہ ہی مرتد کے قتل کا بھی ھکم دے دے تو جس طرح ہم نے پہلے والی بات مان لی اسی طرح دوسری بات بھی ماننی پرے گی۔۔فرٖق صرف یہ ہے کہ یہ ثابت ہوجائے کہ واقعی مرتد کے قتل کی سزا اللہ کا حکم ہے۔۔۔
احکام خُدا کی تشریح تو حضرت انسان کو ہی کرنی ہے نا؟ قرآن پاک میں تو کئی مقامات پر احکامات ہیں کہ کفار، یہود و نصاریٰ کو قتل کرو۔ تو کیا اسکا یہ مطلب لے لیا جائے کہ جہاں کہیں کوئی غیر مسلم ملے اسکو قتل کردو؟ ہر گز نہیں! ہر حُکم الٰہی کے پیچھے سیاق و سباق کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
 
یہ بات بھی درست ہے ۔۔۔لیکن سیاق و سباق دیکھ کر ہی بات کی تھی :)
ایک آسان حل بتاتا ہوں۔۔آپ ان تمام آیات کا سیاق و سباق کے ساتھ مطالعہ کرلیں جن میں " خالدین فیھا ابداّ" کے الفاظ آئے ہیں۔
 

arifkarim

معطل
دین میں جبر والی آیت کا یہ معنی نہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی کو دین میں زبردستی داخل نہیں کیا جائے گا ۔ اسی لیے جو لوگ اسلام لانا چاہتے ہیں ان کو سوچ سمجھ کر اسلام لانا چاہیے ۔
کیا آپنے اسلامی تاریخ نہیں پڑھی؟ مسلمانوں سے جنگ ہار جانے کی صورت میں قیدیوں کے پاس صرف دوحق انتخاب ہوتے تھے:
۱۔ اسلام قبول کر لو یا قتل
۲۔ اسلام قبول کر لو یا غلامی

یہاں سوچ سمجھ کا کوئی پیمانہ ہی موجود نہیں۔ آپ اسے سمجھوتہ کہہ سکتے ہیں۔
 
کیا آپنے اسلامی تاریخ نہیں پڑھی؟ مسلمانوں سے جنگ ہار جانے کی صورت میں قیدیوں کے پاس صرف دوحق انتخاب ہوتے تھے:
۱۔ اسلام قبول کر لو یا قتل
۲۔ اسلام قبول کر لو یا غلامی

یہاں سوچ سمجھ کا کوئی پیمانہ ہی موجود نہیں۔ آپ اسے سمجھوتہ کہہ سکتے ہیں۔
مسلمانوں کے ساتھ جنگ سے پہلے تین آپشن ہوتے تھے:
1-اسلام قبول کرلو۔
2- جزیہ دے کر مسلمانوں کی پناہ میں آجاؤ۔
3- جنگ کیلئے تیار ہوجاؤ۔
 

قیصرانی

لائبریرین
دین میں جبر والی آیت کا یہ معنی نہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی کو دین میں زبردستی داخل نہیں کیا جائے گا ۔ اسی لیے جو لوگ اسلام لانا چاہتے ہیں ان کو سوچ سمجھ کر اسلام لانا چاہیے ۔
متفق۔ لیکن جو بندہ پیدائشی مسلمان ہے یعنی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہوئے، اس کے لئے یہ اصول ساقط ہوا؟
 

قیصرانی

لائبریرین
اگر مجھے معلوم نہ ہوتی تو میں پہلے اسے جا کر دیکھتی ۔ میرے بھائی آپ کدھر چل پڑے ہیں ؟
چونکہ یہ جواب الجواب سلسلہ طول پکڑ رہا ہے اس لئے میں یہیں آخری جواب لکھ رہا ہوں۔ اگر آپ کو آیت معلوم نہیں تو بھی ٹھیک، اگر معلوم ہے تو بھی ٹھیک۔ چونکہ اوپر میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کر دیا تھا اور آپ نے اسے جانتے ہوئے بھی اس کی وضاحت نہیں کی، اس لئے بہتر ہے کہ یہ سلسلہ یہیں روک دوں
 
لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے

اللّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُواْ يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوُرِ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْلِيَآؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُوْلَ۔ئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
اﷲ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے، اور جو لوگ کافر ہیں ان کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں (حق کی) روشنی سے نکال کر (باطل کی) تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں، یہی لوگ جہنمی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے
 
چونکہ یہ جواب الجواب سلسلہ طول پکڑ رہا ہے اس لئے میں یہیں آخری جواب لکھ رہا ہوں۔ اگر آپ کو آیت معلوم نہیں تو بھی ٹھیک، اگر معلوم ہے تو بھی ٹھیک۔ چونکہ اوپر میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کر دیا تھا اور آپ نے اسے جانتے ہوئے بھی اس کی وضاحت نہیں کی، اس لئے بہتر ہے کہ یہ سلسلہ یہیں روک دوں
بھائی میں اس موضوع پر ان شاءاللہ اسلامی تعلیمات سیکشن میں بات کروں گی ۔ آپ سے پہلے مجھے ملائکہ سسٹر کی وجہ سے ایسا کرنا تھا ۔
 
Top