1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

مجاز ایک غمگین یاد

فہد اشرف نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 10, 2017

  1. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,542
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    ایک غمگین یاد

    مرے پہلو بہ پہلو جب وہ چلتی تھی گلستاں میں
    فراز آسماں پر کہکشاں حسرت سے تکتی تھی
    محبت جب چمک اٹھتی تھی اس کی چشم خنداں میں
    خمستان فلک سے نور کی صہبا چھلکتی تھی

    مرے بازو پہ جب وہ زلف شب گوں کھول دیتی تھی
    زمانہ نکہتِ خلد بریں میں ڈوب جاتا تھا
    مرے شانے پہ جب سر رکھ کے ٹھنڈی سانس لیتی تھی
    مری دنیا میں سوز و ساز کا طوفان آتا تھا

    وہ میرا شعر جب میری ہی لَے میں گنگناتی تھی
    مناظر جھومتے تھے بام و در کو وجد آتا تھا
    مری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جب مسکراتی تھی
    مرے ظلمت کدے کا ذرہ ذرہ جگمگاتا تھا

    امنڈ آتے تھے جب اشکِ محبت اس کی پلکوں تک
    ٹپکتی تھی در و دیوار سے شوخی تبسم کی
    جب اس کے ہونٹ آ جاتے تھے از خود میرے ہونٹوں تک
    جھپک جاتی تھیں آنکھیں آسماں پر ماہ و انجم کی

    وہ جب ہنگامِ رخصت دیکھتی تھی مجھ کو مڑ مڑ کر
    تو خود فطرت کے دل میں محشر جذبات ہوتا تھا
    وہ محو خواب جب ہوتی تھی اپنے نرم بستر پر
    تو اس کے سر پہ مریم کا مقدس ہاتھ ہوتا تھا

    خبر کیا تھی کہ وہ اک روز مجھ کو بھول جائے گی
    اور اس کی یاد مجھ کو خون کے آنسو رلائے گی
    1941​
    (مجموعۂ کلام : آہنگ)​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,616
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm


    ایک غمگین یاد

    مِرے پہلوُ بہ پہلوُ جب وہ چلتی تھی گُلِستاں میں
    فراز ِآسماں پر کہکشاں حسرت سے تکتی تھی
    محبّت جب چمک اُٹھتی تھی اُس کی چشمِ خنداں میں
    خمِستان ِفلک سے نوُر کی صہبا چھلکتی تھی

    مِرے بازُو پہ جب وہ زُلف ِشَب گُوں کھول دیتی تھی
    زمانہ نکہتِ خُلدِ بَرِیں میں ڈُوب جاتا تھا
    مِرے شانے پہ جب سر رکھ کے ٹھنڈی سانس لیتی تھی
    مِری دُنیا میں سوز و ساز کا طوُفان آتا تھا

    وہ میرا شعر جب میری ہی لَے میں گُنگُناتی تھی
    مناظر جھوُمتے تھے بام و در کو وجد آتا تھا
    مِری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جب مُسکراتی تھی
    مِرے ظُلمت کدے کا ذرّہ ذرّہ جگمگاتا تھا

    اُمنڈ آتے تھے جب اشکِ محبّت اُس کی پلکوں تک
    ٹپکتی تھی دَر و دِیوار سے شوخی تبسّم کی
    جب اُس کے ہونٹ آ جاتے تھے از خود میرے ہونٹوں تک
    جھپک جاتی تھیں آنکھیں آسماں پر ماہ و انجُم کی

    وہ جب ہنگامِ رُخصت دیکھتی تھی مجھ کو مُڑ مُڑ کر
    تو خود فِطرت کے دِل میں محشر ِجذبات ہوتا تھا
    وہ محوِ خواب جب ہوتی تھی اپنے نرم بِستر پر
    تو اُس کے سر پہ مریّم کا مُقدّس ہات ہوتا تھا

    خبر کیا تھی کہ وہ اِک روز مجھ کو بُھول جائے گی
    اور اُس کی یاد مجھ کو خُون کے آنسو رُلائے گی


    مجاؔز لکھنوی


     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر