پانچویں سالگرہ ایک صفحہ کتنی دیر میں ۔ ۔ ۔

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 137

یہہ انسانی کوششونکا ایسا نتیجہ ہے جو ابد الاباد تک قائم رہتا ہے۔ بجز کتابونکے جملہ یادگار کیا تعمیرات کیا تصویرات سب غائب و معدوم ہو جاتی ہین۔ لیکن صرف مصنفون کے خیالات باقی رہتے ہین اور اوسی تازگی سے اسوقت تک ہمسے کلام کرتے ہین جیسا کہ صدہا سال پیشتر بطرز جدید اپنے مصنف کے دماغ مین گزرے تہے۔ البتہ وقت کا اتنا اثر ہوتا ہے کہ بُرے نتائج کی جانچ و آزمایش کرنی چاہیے کیونکہ علوم مین ہمیشہ صرف وہی باتین قائم رہتی ہین جو فی الحقیقت عمدہ ہوتی ہین۔

کتابین ہمکو بہترین سوسایٹی مین داخل کرتی ہین اور اون عالی دماغ آدمیونکے حضور مین پیش کرتی ہین جو کسیوقت دنیا مین رہ چکے ہین۔ ہمکو اونکے اقوال و افعال سے واقفیت ہوتی ہے اور وہ خود اسطرح ہمارے پیش نظر ہوتے ہین کہ گویا فی الحقیقت زندہ ہین۔ ہم اونکے خیالات میں حصہ لیتے ہین اونکے ساتھ ہمدردی کرتے ہین اونکے عیش و رنج مین شریک ہوتے ہین اونکے تجربہ سے فائدے اوٹہاتے ہین اور ایک گونہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ گویا ہم بہی اون واقعات پر ہو بہو عمل کرتے ہین جسے وہ بیان کر رہے ین۔ کتابونکی تصنیف سے نیک اور عالی مرتبہ لوگ اس دنیا سے کبہی مفقود نہین ہو جاتے بلکہ اونکی روحین کتابونکے ذریعہ سے ہمارے درمیان سیر و تفریح کرتی ہین جسمین ایک ایسی قوت ہوتی ہے کہ لوگ اونکی آوازونکو جو بالکل غیر فانی ہین برابر سنتے ہین۔

دنیا کے بیش بہا اور عمدہ ترین خیالات جسطرح سابق مین مشہور و معروف تہے اوسیطرح اب بہی موجود و زندہ ہین۔ گو ہومر کا جسم تہ خاک ہے لیکن وہ اب تک زندہ ہے اور اوسکے اشعار اسوقت بہی اوسیدرجہ مین جدید و لطیف ہین جسطرح کہ ابتدا مین مطبوع و دلپسند تہے۔ فلاطون ابتک ہمکو اپنا افضل و اعلٰے فلسفہ تعلیم کئے جاتا ہے۔ ہوریس۔ ورجل۔ ٹینٹی اسوقت تک اوسیطرح کلام کرتے ہین جسطور پر کہ
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 138

زندگی مین۔ 1616ء مین اگرچہ شیکسپیر کا جسم زمین مین دفن کر دیا گیا لیکن انگلستان مین اوسکے خیالات اب بہی اوسیطرح موجود ہین اور ویسی ہی شہرت ہے جیسی کہ ٹیوڈر والونکے زمانہ مین تہی۔ ادنٰے درجہ کے لوگ بہی بلند خیال آدمیونکی سوسایٹی مین بلا کسی روک ٹوک کے داخل ہو سکتے ہین بشرطیکہ اونہین پڑہنے کی قابلیت ہو اور ہر مذاق کے مضامین عیش و رنج و غم کے اونہین حاصل ہو سکتے ہین۔ ہمکو کتابونکے ذریعہ سے جسمین بڑے بڑے بزرگونکی روحین معطر کر کے رکہی گئی ہین حسرت و مسرت عُسرت۔ فراغدستی کے حالت مین تسلی۔ دلبستگی اور واقفیت حاصل ہوتی ہے۔

فی الحقیقت سوانح عمری مین انسان کو بہت زیادہ دلچسپی ہوتی ہے کیونکہ قصص و حکایات کو لوگ نہایت شوق سے پڑہتے ہین جو صرف خیالی تذکرے ہوتے ہین۔ ڈراما جسکے دیکہنے کو لوگ جوق در جوق جمع ہوتے ہین محض واقعات کی نقل ہے۔

لیکن تاہم کسی انسانکی واقعات زندگی اور تجربات کے سچے خاکہ مین بہ نسبت خیالی تذکرونکے زیادہ تر دلچسپی اسوجہ سے ہوتی ہے کہ اوسمین ایک قسم کی حقیقی عمدگی موجود ہے۔

ہر شخص کو لازم ہے کہ وہ دوسرونکی سوانح عمری سے مستفید ہو اور چہوٹے چہوٹے اقوال و افعال مین بھی دلچسپی حاصل کرے۔

خاصکر نیک آدمیونکے واقعات زندگی بہت مفید اور کارآمد ہین۔ اونکے دیکہنے سے طبیعت پر ایک طرحکا اثر ہوتا ہے۔ جوش پیدا ہوتا ہے اور ہمارے سامنے گویا تمثیلین موجود رہتی ہین۔ اور جب دنیا مین کسی شخص نے اپنے انجام فرائض منصبی کو بوجوہ احسن انجام دیا تو ممکن نہین کہ اوسکا اثر باالکلیتہ ضایع ہو جاے۔ جارج ہیربرٹ کا قول ہے کہ " نیک زندگی کبہی بے موقع نہین ہوتی۔"

گویتہ کا بیان ہے کہ کوئی عقلمند آدمی ایسا نہین ہے کہ وہ کسی معمولی جگہہ پر گزرے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 139

اور عام شخص سے ملاقات کرے اور اوس سے کوئی بات نہ حاصل کرے۔

سر والٹر اسکاٹ کبہی اسطرحپر سفر نہین کرتا تہا کہ وہ کوئی جدید واقفیت و معلومات نہ پیدا کر لے اور اپنے رفیق کی عادت و اطوار مین کوئی نہ کوئی بات ضرور دریافت کر لیتا تہا۔

ڈاکٹر جانسن نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ گلی کوچہ مین کوئی شخص ایسا نہین گرنے پاتا تہا جسکی نسبت اسکاٹ کا یہہ خیال نہوتا کہ وہ اوسکی سوانح عمری سے واقفیت حاسل کر لے۔ اوسکی زندگی کے تجربات صعوبات۔ و تکلیفات۔ کامیابی اور ناکامیونسے آگاہی پیدا کر لے کسقدر صداقت سے یہ بات اون لوگونکی نسبت کہی جا سکتی ہے جو دنیا کی تاریخ میں اپنا نام قایم کر گئے ہین اور ہمارے واسطے ارث مین تہذیب و شایستگی پیدا کر گئے ہین جسپر آج ہم قابض ہین۔ ایسے لوگونکے متعلق جتنی باتین ہین یعنی اونکے عادات و اطوار۔ طرز معاشرت۔ طریق تمدن۔ کلام و گفتگو۔ مقولات و تمثیلات عظمت و نیکیان سب ہمارے لئے دائماً فوائد و واقفیت سے مالا مال ہین اور تقلید کے واسطے نمونہ ہین۔

سوانح عمر کا اصلی مقصد یہہ ہے کہ اوس سے اس قسم کے امور ظاہر کئے جائین کہ انسان کیا ہو سکتا ہے اور اپنی بہتری کے لئے کیا کر سکتا ہے۔ عمدہ سوانح عمری اگر خوبی کے ساتھ قلمبند کی جاے تو اوس سے دوسرونکو تحریک ہوتی ہے اور اوس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کونسی باتین ہین جسے زندگی مین انسان کو کرنا لازم ہے۔ اس سے ہم مین ہمت و جرات امید و دیانت پیدا ہوتی ہے۔ ہمارے تمناؤن کو جوش ہوتا ہے اور ارادون کو رغبت ہوتی ہے کہ ہم بہی اونکے اقبال مین شریک ہون۔ پس ایسے آدمیون کی سوانح عمری کا مطالعہ کرنا اور اونکی تمثیلونسے طبیعت مین جوش کا پیدا کرنا مثل اسکے ہے کہ گویا ہم بہترین مخلوقات کے ساتھہ زندگی بسر کرتے ہین اور عمدہ ترین سوسایٹی مین داخل ہین۔×××
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 121

خود ستائی۔ وہم اور خود غرضی انسان کی زندگی مین نہایت خرابی پیدا کرتی ہین اور گو قدرتی طور پر یہ باتین ہوتین لیکن تاہم ہمیشہ خیال کرنے سے اسکی ایک صورت قائم ہو جاتی ہے۔ خود ستائی قریب قریب کفر کے ہے کیونکہ اس سے اپنی خواہشات و خیالات۔ و توجہات کل اپنی ہی جانب رجوع کرتا ہے جسکے سبب سے وہ خود اپنے دل مین ایک علٰحدہ چہوٹا سا خدا قائم کر لیتا ہے۔

بدترین انسان مین سے وہ شخص ہے جو اپنی قسمت سے ناراض رہے ہمیشہ برا بہلا کہے لیکن کبہی اوسکی درستی کی جانب نہ متوجہ ہو۔ اس قسم کے شکایت کرنے والے آدمی کبہی اپنی زندگی مین کوئی فائدہ کا کام نہین کرتے اور چونکہ کاہل ہوتے ہین اسوجہ سے ہمیشہ شکوہ و شکایت کے واسطے مستعد رہتے ہین کیونکہ وہی پہیا خراب سمجہا جاتا ہے جسمین سے آواز آتی ہے۔

سینت ڈی فرسنس کا قول ہے کہ انسان کو ہمیشہ نیکیان کرنی چاہیین۔ لوگون نے اوس سے پوچہا کہ نیکیونسے آپ کا کیا مطلب ہے۔ اوس نے جواب دیا کہ تحمل۔ بردباری۔ مہربانی۔ خوش اخلاقی۔ نرمی۔ رحمدلی۔ ہمدردی۔ عنایت و زندہ دلی۔ اور پہر اوس نے کہا کہ انسان کو کسی حالت مین ہو لیکن اوسکو نرمی و مہربانی سے کبہی باز رہنا نہین چاہیے کیونکہ انسان کے طبیعت کی ایسی ساخت واقع ہے کہ وہ غیظ و غضب کا تحمل کرے۔ جسطرح پانی سے آگ کا شعلہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ اوسیطرح نرم و ملائم جواب سے غیظ و غضب بہی فرو ہو جاتا ہے۔

برائیونکی صرف پیشبندی کر لینی بہی ایک طریقہ فتحیابی کا نہین ہے بلکہ جب کوئی ایسا امر واقع ہو تو نہایت دلیری اور مستعدی سے اوسپر عملدرآمد کرنا چاہیے۔ پرتہس نے ایک نوجوان کو جو افسردگی و پژمردگی کی حالت مین تہا بہت عمدہ نصیحت کی۔ "امید اور اعتبار کے ساتہہ اپنا کام شروع کرو" اور پہر اوس نے کہا کہ۔ ایک ایسے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۱۲۲

شخص کی نصیحت تمہارے حق مین ہے جسنے زمانہ کا گرم و سرد بہت کچہہ دیکہا ہے پس جو کوئی امر واقع ہو جاے تو اوسپر ن ہایت استقلال اور زندہ دلی سے ثابت قدم رہنا چاہیے۔

زندہ دلی مین تحمل بہی مشتمل ہے جس دنیاوی کاروبار مین کامیابی و کامگاری کی امید ہو سکتی ہے۔ جارج ہربرٹ کا قول ہے کہ جو شخص اپنی مقصد براری چاہتا ہے اوسکو صبر کرنا چاہیے۔ نارلبرو نے ۱۷۰۲ عیسوی میں جب وہ اپنی فوج کے ساتھہ ایک کشمکش و صعوبت کی حالت مین گرفتار تہا لکہا کہ جملہ کوششونکے بعدہمکو صبر کرنا چاہیے۔

اخیر اور آسان ترین برکت انسان کے واسطے امید ہے جو عام طور سے ہر شخص کے قبضہ مین رہتی ہے۔ تہلس جو ایک فلاسوفر تہا اوسکا قول ہے کہ جن لوگونکے پاس کچہہ بہی نہین ہے تاہم امید ہے اور یہہ غریبونکی مددگار ہے اور اسکا دوسرا نام مفلسونکی قوت ہے۔ سکندر اعظم کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ جب وہ میگڈن مین تخت نشین ہوا تو اوس نے اپنے باپ کی جائداد کا بڑا حصہ اپنے دوستونکو تقسیم کر دیا چنانچہ جب پرڈلکاس نے اوس سے پوچہا کہ آپنے اپنے واسطے کیا رکہا تو سکندر نے جواب دیا کہ مین نے اپنے واسطے افضل ترین مقبوضات مین سے رکہہ چہوڑا ہے اور وہ امید ہے۔

طبیعت کی جملہ مسرتین امید پر منحصر ہین اور یھہ کل محنتون و کوششونکی بنیاد ہے اور جملہ امور دنیاوی امید ہی پر منحصر ہین۔

***************************************
***************************​
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 123

نوان باب

آداب و اطوار

چال چلن کی ظاہری فضیلت کے واسطے ادب کا ہونا بہی بہت ضروری و مقدم ہے۔ اسکی وجہ سے جملہ امور و خدمات مین ایک قسم کی عمدگی اور خوش اسلوبی پیدا ہو جاتی ہے۔ انصرام امور کے واسطے یہ ایک ایسا پسندیدی طریقہ ہے جس سے زندگی کے ادنٰی ادنٰے کام بہی خوشنما۔ مقبول و مطبوع معلوم ہوتے ہین۔

ادب کوئی خفیف و بے وقعت فعل نہین ہے جیسا کہ بعض لوگ خیال کرتے ہین کیونکہ جسطرح اس سے باہمی برتاؤ مین نرمی و سنجیدگی پیدا ہوتی ہے اوسی طرح کاروبار زندبی مین بہی آسانی ہوتی ہے۔

نوع انسان کے ساتھہ جسکا تعلق اوس مناسبت سے رکہا گیا ہے جس حساب سے کہ انسان خود دنیا کےکسی طبقہ مین شمار ہے۔ کسی خاص صفت کے بہ نسبت دوسرونکے ساتھہ برتاؤ مین اسکا زیادہ اثر ہونا ہے۔ پس آداب حمیدہ و پسندیدہ سے کامیابیونمین بہت زیادہ مدد ملتی ہے اور برخلاف اسکے اکثر لوگ اس وصف کی عدم موجودگی سے ناکام و نامراد رہتے ہین۔ کیونکہ یہہ زیادہ تر ابتدائی تعلیم پر منحصر ہے اور عام طور پر ہر شخص کی انسانیت و شایستگی کے مطابق ہے۔

جسطرح سختی و بیہودگی کی وجہہ سے طبیعت منحرف و برگشتہ ہو جاتی ہے اوسیطرح اخلاق و مہربانی کے ذریعہ سے ہر جگہہ و ہر شخص کے دل مین آمد و رفت ہو جاتی ہے اور ہر ایک کام مین آسانی کی امید ظاہر ہوتی ہے۔

ہچنس کی بی اپنے شوہر کے خصایل حمیدہ و اوصاف پسندیدہ کے نسبت
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 140

سوانح عمری کی اعلٰے ترین اور افضل ترین کتابونمین بلکہ دنیا کی کُل تصنیفات سے بڑہکر انجیل مقدس ہے جسمین انبیا اوصیا باشاہون اور عدالت پسندونکے تذکرے مندرج ہین۔ یھہ کتاب بوڑہے اور جوان سب کی معلم و رہنما ہے ہر قسم کی نیکیان و خوبیان اسی کے پڑہنے سے حاصل ہوتی ہین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

xxx مصنف نے اپنی مذہبی کتاب انجیل مقدس کو کل کتابونپر فضیلت دی ہے اور اپنے ملک کے پڑہنے والونکو اسکے مطالعہ کی ترغیب دی ہے مذہب کے لحاظ سے یہ خیال مصنف کا بیشک صحیح ہے اور بلکہ اسوجہ سے زیادہ تر قابل تعریف ہے کہ فلسفی آدمی ہو کر اپنی مذہبی کتاب پر اس عقیدتمندی کے ساتہہ پابند ہے۔ اس زمانہ مین صرف ایک مذہب اسلام ہے جو انجیل کو آسمانی کتاب صدق دل سے تسلیم کرتا ہے لیکن نزول قرآن کے بعد اسکے قبل کی کل آسمانی کتابین منسوخ ہو گئین اور صرف فرقان حمید کی تقلید و پیروی باقی رہ گئی۔ اس نوٹ سے مین اپنے ہم قوم کے تعلیم یافتہ نوجوان کو یہہ دکہلانا چاہتا ہون کہ مغربی فلاسفر قیود مذہب کے کسقدر پابند گزرے ہین۔ اور کیا آپ لوگ بہی کچہہ پابندی کرتے ہین۔ میرے خیال مین شاید بہت ہی کم۔ اور کیا یہہ افسوس کی بات نہین ہے۔ بلا شبہ بڑی حسر کی جگہہ ہے۔ مذہب سے آزاد ہو کر کوئی قوم کبہی ترقی نہین کر سکتی۔ پس خوبیان مصنف نے انجیل مین بیان کی ہین وہ سب اور اوس سے بہت کچہہ زیادہ تر ہماری آسمانی اور مقدس کتاب قرآن مجید مین موجود ہین آپ لوگونکو لازم ہے کہ اوسے پڑہئے اوسپر عملدرآمد کیجیے اور اپنی آیندہ نسلونکو تعلیم کیجیئے۔

نصحیت گوش کن جانان کہ از جان دوست ترداند
جوانان سعادت مند پند پیر دانا را​

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بڑے اور عالی مرتبت لوگونکی سوانح عمری پڑہنے سے جو طبیعت پر اثر ہوتا ہے اوسکا اندازہ کرنا البتہ ایک مشکل کام ہے۔ اساک ڈشرائیلی کا قول ہے کہ عمدہ تذکرات کے دیکہنے سے چال چلن مین ترقی اور انسان کی حالت مین ایک اعلٰے درجہ کی عمدگی پیدا ہوتی ہے۔ یہہ امر ناممکن ہے کہ کوئی شخص کسی نیک آدمی کا تذکرہ دیکہے اور اوسکے دل مین تحریک و ترغیب نہ پیدا ہو حتٰے کہ جو لوگ ادنٰے درجہ کے ہین اونکی
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 141

سوانح عمری کے مطالعہ سے بہی آیندہ نسلونکی چال چلن مین ایک ترقی پذیر اثر ظاہر ہوتا ہے۔

تاریخ و سوانح عمری قریب قریب ایک چیز ہے صرف یہ فرق ہے کہ سوانح عمری مین ایک شخص کے تذکرے مندرج رہتے ہین اور تاریخ مین متعدد اشخاص کے حالات لکہے جاتے ہین۔ کتب تواریخ مین ہمکو اسوجہ سے خاصکر دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ کتاب اون لوگونکے واقعات و مصائب سے مملو رہتی ہے جنکے اونمین تذکرے ہوتے ہین۔ تاریخ مین وہ لوگ ہمارے پیش نظر رہتے ین جنکو مرے ہوئے ایک زمانہ دراز گزر چکا ہے لیکن اونکے کلام و افعال ابتک باقی ہین۔ اونکی آوازین سنتے ہین اور جو کام اونہون نے کئے ہین گویا اوسی سے تاریخ مرتب کی گئی ہے۔

گذشتہ مصنفین مین دو شخص ایسے لایق گزرے ہین جنہون نے اپنے عمدہ خیالات و مقولات سے دوسرونکے چال چلن پر بہت عمدہ اثر پیدا کیا۔ ایک پلوٹارک اور دوسرا مان ٹین ایک نے تو تقلید کے واسطے دلیرانہ تمثیلین قایم کین اور دوسرے نے اون نقیضانہ سوالات سے خیالات پیدا کئے جس سے کہ ہر زمانہ مین انسان کو بہت کچہہ دلچسپی ہوتی ہے۔ اور دونون کی تصنیفات زیادہ تر سوانح عمری کے طرز پر ہین جنمین نہایت دلچسپ تمثیلین چال چلن اور تجربونکی مندرج ہین۔

اگرچہ اٹہارہ سو برس ہوئے کہ پلو ٹارک کی سوانح عمری لکہی گئی تہی لیکن اپنے طبقہ میں اوسکی بنیاد ایک اعلٰے درجہ پر ابتک قایم ہے۔ مان ٹین اس کتاب کو بہت عزیز رکہتا اور شیکسپیر کے برے بڑے ڈراما بہی خاصکر اسی کے متعلق ہین۔ مان ٹین اوسکو اس قسم کی تحریرات مین بڑا عالم و فاضل بیان کرتا ہے۔

الفیری پلو ٹارک کی انشا پردازیونکو بڑے شوق اور نہایت سرگرمی سے پڑہتا تہا۔ وہ لکہتا ہے کہ مین نے مفصلہ ذیل اشخاص کی سوانح عمری چہہ مرتبہ سے زیادہ پڑہی ہین۔ ٹمولین۔ سیزر۔ بروٹس۔ پلو پیڈنس لیکن ہر مرتبہ پڑہتے وقت
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
صفحہ : 142

Tadbeer_page_0146.jpg

 
Top