ایک شعر ایک خواہش جو کاش کبھی پوری ہو۔۔ نیا سلسلہ

مغزل

محفلین
شعر لوگوں کے بہت یاد ہیں اورروں کے لیے
تو ملے تو میں تجھے شعر سناؤں اپنے

انور شعور
 

مغزل

محفلین
شام آئے اور گھر کے لیے دل مچل پڑے
شام آئے اور دل کے لیے کوئی گھر نہ ہو
اختر عثمان
 

مغزل

محفلین
کہاں کہاں نہ پھرا روئے یار کی خاطر
کہ خوا ب میں سہی اس کو دیکھتا تو سہی
خاکسار کی ایک غزل کا شعر
 

غ۔ن۔غ

محفلین
کاش ایسا ہو کہ اپنی دوستی قائم رہے
روز ہم ملتے رہیں اور تشنگی قائم رہے
لفظ خوشبو ہی رہیں میری سماعت کے لئے
تیری باتوں میں ہمیشہ تازگی قائم رہے
 

غ۔ن۔غ

محفلین
الله کرے جہاں کو میری یاد بھول جائے
الله کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو
میرے سوا کسی کی نہ ہو تم کو جستجو
میرے سوا کسی کی تمنا نہ کر سکو
 

کاشفی

محفلین
یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرُو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
(خواجہ حیدر علی آتش)
 

کاشفی

محفلین
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلال روزِ حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا

(جوش ملیح آبادی)
 

کاشفی

محفلین
سب سے چُھپتے ہیں چھُپیں، مجھ سے تو پردا نہ کریں
سیرِ گلشن وہ کریں شوق سے، تنہا نہ کریں
(سید فضل الحسن حسرت موہانی)
 

مغزل

محفلین

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفت گو کرتے
خواجہ حیدر علی آتش
 
Top