ایک جانب چاندنی - احمد فواد

سندباد نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 25, 2007

  1. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    جس کو اپنانے میں اک عرصہ لگا
    اجنبی ہونے میں بس لمحہ لگا

    لوگ تو پہلے سے تھے ناآشنا
    آج آئینہ بھی بیگانہ لگا

    اس لئے دل میں بلایا ہے تجھے
    اپنا اپنا سا تیرا چہرہ لگا

    ٹھیک ہے سب کچھ مگر اس کے بغیر
    یہ جہاں مجھ کو تو ویرانہ لگا

    سہمی سہمی جارہی ہے چاندنی
    پیچھے پیچھے ہے وہی لڑکا لگا

    سب کو دریا کے حوالہ کردیا
    پھر کنارہ سے سفینہ آلگا

    پہلے صحرا پر ہوا گھر کا گماں
    رفتہ رفتہ گھر بھی اک صحرا لگا

    کب اٹھالے ہاتھ سر سے آسماں
    ہے زمیں کو رات دن دھڑکا لگا

    اس قدر کھائے ہیں وعدوں سے فریب
    اب ترا آنا بھی اک دھوکہ لگا

    بارشوں کے بعد اُجلا آسماں
    تیری آنکھوں میں بہت اچھا لگا

    دیکھنے والوں کی حالت غیر ہے
    اور ان آنکھوں میں مت سرمہ لگا

    حسن ہو تو چاھنے والے بہت
    عاشقوں کا ہے یہاں میلہ لگا

    وہ جو پھولوں سے بھی نازک ہے اُسے
    چومنے میں جان کا خطرہ لگا

    چاندنی کے دیس سے آیا ہوا
    اجنبی تھا وہ مگر اپنا لگا

    اتنی آہیں اتنے آنسو چل بسے
    اس محبت پر بڑا پیسہ لگا

    عمر بھر کی ناتمامی کا صلہ
    ہے یہ اُس کو دیکھ کے ایسا لگا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  2. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    نہیں قبول مجھے آفتاب کی مرضی
    مری زمیں پہ چلے گی جناب کی مرضی

    یہ خودکشی نہیں تاثیر ہے محبت کی
    خود اپنا خون کرے گر گلاب کی مرضی

    اٹھا کے رات کی باھوں میں اُس کو ڈال دیا
    کسی نے پوچھی نہیں ماھتاب کی مرضی

    ہر ایک لفظ مقفل ہر ایک حرف خموش
    کسی پہ کیسے کھلے دل کتاب کی مرضی

    ہمیں تو پینے سے مطلب ہے خوب پیتے ہیں
    اثر کرے نہ کرے اب شراب کی مرضی

    سب آسمان و زمیں درد سے ہوئے بوجھل
    فضا میں پھیل گئی ہے رباب کی مرضی

    ہمیشہ دل کے خیالات کی حمایت کی
    کبھی نہ مانی گناہ و ثواب کی مرضی

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  3. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    یہاں ہر وقت یہ میلہ رہے گا
    مگر یہ دل یونہی تنہا رہے گا

    جلیں گے جب تلک یہ چاند تارے
    ہمارے عشق کا چرچا رہے گا

    یہ دل بھی ڈوب جائے گا کسی دن
    چڑھا جب حُسن کا دریا رہے گا

    خلاؤں میں زمیں گم ہو گئی ہے
    اکیلا آسماں روتا رہے گا

    تجھے یوں بھولنا ممکن نہیں ہے
    ابھی دل میں تِرا سودا رہے گا

    خوشی کی لاش کاندھوں پر اٹھائے
    یہ دکھ کا کارواں چلتا رہے گا

    ترے آنے کی کیا خوشیاں منائیں
    لگا جانے کا جب دھڑکا رہے گا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  4. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    محبت پر یہاں پہرہ رہے گا
    تو اس دنیا میں کوئی کیا رہے گا

    تری محفل سے اٹھ کر جارہے ہیں
    نہ ہم ہوں گے نہ یہ جھگڑا رہے گا

    رہے آنکھوں کی یہ جوڑی سلامت
    ہمیشہ دل میں یہ مجمع رہے گا

    بچھڑنا تیرا ایسا سانحہ ہے
    سدا ہونٹوں پہ یہ قصّہ رہے گا

    سدا اغیار کی باتیں سنیں گے
    سدا احباب سے ملنا رہے گا

    نہیں ہے وہ تو اُس کو بھول جاؤ
    کہاں تک ہاتھ یوں ملتا رہے گا

    تمہارا خوبصورت ہنستا چہرہ
    مرا قبلہ مرا کعبہ رہے گا

    اگر اس کے یہی لچھّن رہیں گے
    تو دل کا حال یہ ہوتا رہے گا

    نہ یہ جنگل نہ یہ صحرا رہیں گے
    یہاں باقی ترا چہرہ رہے گا

    ملیں گے خاک میں سب پست و بالا
    تمہارا نام بس اونچا رہے گا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  5. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    جانتا ہوں میں یہ سورج کا دیا بجھ جائے گا
    ہر طرف پھر رات کا آنچل کوئی لہرائے گا

    پھر مرے دل میں کھلیں گے زرد لمحوں کے گلاب
    بے طرح پھرسے وہی ظالم مجھے یاد آئے گا

    آسمانوں سے پرے منزل بلاتی ہے کوئی
    تو مجھے کب تک یہاں اس خاک میں بہلائے گا

    دل کو ان باتوں سے کوئی فرق تو پڑتا نہیں
    شوق سے کل پھر وہاں جائے گا جوتے کھائے گا

    ٹوٹ کر آیا ہے اس ظالم یہ کہتے ہیں شباب
    اب تو اُس کو دیکھ کے دل اور بھی للچائے گا

    ہر حسیں چہرہ پہ مرمٹنے کی عادت چھوڑ دے
    دل کو لیکن کیسے کوئی بات یہ سمجھائے گا

    وصل کا یہ لمحہ دل میں باندھ رکھونگا کہیں
    پھر ابد تک یہ مری تنہائیاں مہکائے گا

    میری آنکھیں بند ہونے کا ہے شاید منتظر
    رات دن پھر گیت میرے یہ زمانہ گائے گا

    تجھ سے کج رفتار پہلے بھی کئی آئے گئے
    آسماں اک روز تیرا دور بھی لد جائے گا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  6. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    دل کہاں جائے بچارہ زندگی مشکل میں ہے
    ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

    چاہنے والے پریشاں ہیں کہ کس کا ساتھ دیں
    ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

    اس لئے دل چسپ لگتی ہے محبت کی کتاب
    ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

    خود کو پاگل پن سے کیسے دور رکھ سکتا ہوں میں
    ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

    مجھ پہ تیرے حُسن کا سب راز آخر کھل گیا
    ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

    جانے اس کم بخت دل کو اور اب کیا چاہئے
    ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

    تیرا چہرہ حیرتوں کا اک طلسمی باب ہے
    ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

    تیرے ہونے کا یہاں کیا اور مانگیں گے ثبوت
    ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  7. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    چاند تارے ناچتے ہیں دف بجا کر خواب میں
    یوں وہ سینہ سے لگا ہے مسکرا کر خواب میں

    جاگتے میں جس کو چھونا بھی نہیں ممکن مجھے
    چوم لیتا ہوں میں اُس کو روز جاکر خواب میں

    کیسی کیسی اونچی دیواروں کا پہرہ توڑ کر
    اُس کو لایا ہوں زبردستی اٹھا کر خواب میں

    وہ جو دن کی روشنی میں سامنے آتا نہیں
    بیٹھ جاتا ہے وہ میرے ساتھ آکر خواب میں

    اب نہیں اٹھے گی اس جانب کوئی میلی نظر
    میں نے رکھا ہے اُسے سب سے چھپا کر خواب میں

    آنسوؤں کی داستانیں قہقہوں کے رتجگے
    سب کہوں گا تجھ سے پہلو میں بٹھا کر خواب میں

    نیند سے رہتا ہوں میں دست و گریباں رات دن
    جب چلا جاتا ہے تو صورت دکھا کر خواب میں

    دو قدم بھی ساتھ چلنے سے جو گھبراتا تھا میں
    آج اُسے لایا ہوں باتوں میں لگاکر خواب میں

    تجھ سے کب کہتا ہوں ظالم ساتھ رہنے کے لئے
    یونہی آکے ایک دو بوسے دیا کر خواب میں

    جس کی جانب دیکھنا بھی ان دنوں ممنوع ہے
    اس کو میں ہر رات لاتا ہوں بھگا کر خواب میں

    وہ جو کوشش سے بھی ہونٹوں پر کبھی آتی نہیں
    قید سے اُن ساری باتوں کو رِہا کر خواب میں

    دن میں جن سے بات کرنے کی تجھے مہلت نہیں
    ایک دو پل کے لئے اُن سے ملا کر خواب مں

    جس سے ملنے کا کوئی امکاں کوئی صورت نہ ہو
    اُس کو لے آتا ہوں میں اپنا بنا کر خواب میں

    جانے کیسے دھول وہ آنکھوں میں سب کی جھونک کر
    ہونٹ رکھ دیتا ہے ان ہونٹوں پہ آکر خواب میں

    صبح دم ظالم سے جاکر داد کا طالب ہوا
    رات اُس کو یہ غزل اپنی سنا کر خواب میں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  8. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    سوال ایک تھا لیکن ملے جواب بہت
    پڑھی ہے میں نے محبت کی یہ کتاب بہت

    گئی بہار تو پھر کون حال پوچھے گا
    کرو نہ چاھنے والوں سے اجتناب بہت

    یہ آسمان و زمیں سب تمہیں مبارک ہوں
    مرے لئے ہے یہ ٹوٹا ہوا رباب بہت

    یہاں پہ دیکھو ذرا احتیاط سے رہنا
    ملے ہیں پہلے بھی اس خاک میں گلاب بہت

    میں جانتا ہوں انہیں وقت کے حواری ہیں
    جو لوگ خود کو سمجھتے ہیں کامیاب بہت

    رہِ جنوں میں اکیلا نہیں میں خوار و زبوں
    مری طرح سے ہوئے ہیں یہاں خراب بہت

    کسی نے کاسۂ سائل میں کچھ نہیں ڈالا
    سمندروں سے میں کرتا رہا خطاب بہت

    کھلی ہوئی ہیں دکانیں کئی نگاہوں کی
    طلب ہو دل میں تو پینے کو ہے شراب بہت

    خدا کرے وہ مرا آفتاب آنکلے
    دلوں میں آگ لگاتا ہے ماھتاب بہت

    سنا کے قصّہ تمہیں کس لئے اداس کریں
    کہ ہم پہ ٹوٹے ہیں اس طرح کے عذاب بہت

    تلاشِ یار میں نکلے تھے جاں سے ہار گئے
    خبر نہ تھی کہ وہ ظالم ہے دیر یاب بہت

    کبھی وہ بھول کے بھی اس طرف نہیں آیا
    اگر چہ آتے ہیں آنکھوں میں اُس کے خواب بہت

    اسی لئے ترے کوچہ میں اب وہ بھیڑ نہیں
    کہ لطف کم ہے تری آنکھ میں عتاب بہت

    یہاں رہے گا ترے اقتدار کو خطرہ
    کہ آتے رہتے ہیں اس دل میں انقلاب بہت

    کسی کو بھیج کے احوال تو کیا معلوم
    مرے لئے تو یہی لطف ہے جناب بہت

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  9. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    میں سوچتا تھا کسی دن تجھے بھلا دوں گا
    یہ انتظار کے سارے دئے بجھا دوں گا

    تمہارے بعد بھی رونق لگی ہوئی ہے یہاں
    ذلیل شہر کو اب آگ میں لگا دوں گا

    ہمیشہ آتے ہیں اس سے مری زمیں پہ عذاب
    اس آسماں کو یہاں سے کہیں ہٹا دوں گا

    ہمارے بیچ زمانہ اگر کبھی آیا
    یہاں پہ خون کی میں ندیاں بہا دوں گا

    دھواں یہ دھول یہ ہر سمت منہ بسورتے لوگ
    تمہیں یہاں سے میں جانے کا مشورہ دوں گا

    غرور حسن تمہارا ہو یا انا میری
    یہ ساری بیچ کی دیواریں میں گرادوں گا

    مری طرح سے اُسے تم بھی بھول جاؤ گے
    ملول مت ہو وہ نسخہ تمہیں بتا دوں گا

    یہ دل کی ساری زمیں اب تری امانت ہے
    یہاں جو نقش ہیں تیرے سوا مٹا دوں گا

    تری تلاش رہے گی میں اب رہوں نہ رہوں
    حدودِ جاں سے نکل کر تجھے صدا دوں گا

    نہیں سنوں گا میں اس دل کی اور بات کوئی
    گراب یہ بولا تو اُس کا گلا دبا دوں گا

    یہ خود سے آگ میں جلنا ہے سوچ لو پیارے
    میں شاعری کے طریقے تمہیں سکھا دوں گا

    فقیرِ حُسن ہوں کچھ دے دلا کے رخصت کر
    ہر ایک بوسہ پہ دل کھول کے دعا دوں گا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  10. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    چھپا ملا تھا جو اک خواب کی رداؤں میں
    وہ شہر میں نظر آیا کہیں نہ گاؤں میں

    الم نصیبو! یہ دکھ سارے بھول جاؤگے
    بڑا سکوں ہے محبت کی ٹھنڈی چھاؤں میں

    کہیں پہ دھوپ میں صورت تری نظر آئی
    جھلک ملی ہے کبھی بھاگتی گھٹاؤں میں

    نہ اب وہ گالوں میں ہنستے ہوئے گلاب رہے
    نہ اب وہ کاٹ رہی ہے تری اداؤں میں

    مری طرح کے جنوں پیشہ بھی ہوئے نایاب
    تری طرح بھی نہیں کوئی دلرباؤں میں

    یہ کس نے شہر میں تنہائیاں بچھا دی ہیں
    یہ کس کو ڈھونڈنے آئے ہیں لوگ گاؤں میں

    خود اٹھ کے ساتھ چلا آئے وصل کا سورج
    ہو کوئی بات بھی اب ھجر کی دعاؤں میں

    ملا ہے آج جو اک اجنبی کی صورت میں
    یہ شخص تھا کبھی اس دل کے آشناؤں میں

    ذلیل کرکے جنہیں آپ نے نکال دیا
    وہ اپنا نام چلے لکھنے پارساؤں میں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  11. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    دریاؤں کی گپ شپ کا نشہ ایسا چڑھا ہے
    سنتا نہیں اب کوئی سمندر کی کہانی

    لے ڈوبی یہ سورج سے ملاقات کی خواہش
    دوپل میں ہوئی ختم گلِ تر کی کہانی

    یہ ہنستی حکایت تو زمانہ کے لئے ہے
    تم آؤ سنو اب مرے اندر کی کہانی

    یوں ناز سے اس خاک پہ چلنا نہیں اچھا
    تم نے بھی سُنی ہوگی سکندر کی کہانی

    مہتاب کی وادی سے نئے پھول چرا کر
    لکھوں گا کسی دن رخ انور کی کہانی

    تاریخ ہے اک چشمِ جفا کار کی یارو
    تلوار کا قصّہ ہے نہ خنجر کی کہانی

    شاہوں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رکھا
    لکھی ہے ہمیشہ دل ابتر کی کہانی

    دنیا میں حسینوں کی کمی اب بھی نہیں ہے
    لکھی ہے ہمیشہ اسی دلبر کی کہانی

    کب تک یہ زمیں گھومے گی اس طرح خلا میں
    کب تک میں سناؤں گا ستمگر کی کہانی

    پاگل ہوا جس کے لئے اک رات سمندر
    لکھنی ہے اُسی چاند سے پیکر کی کہانی

    سننی ہے تو اس فن میں قلم طاق ہے میرا
    شعلوں کی زباں میں کسی اخگر کی کہانی

    دل کیسے ہوا سُن کے یہ آمادئہ وحشت
    صحرا کا بیاں ہے نہ مرے گھر کی کہانی

    جیتے ہوئے لوگوں نے کیا اور بھی مایوس
    سنتا کسی ہارے ہوئے لشکر کی کہانی

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  12. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    مٹی سے اٹھا کر مجھے خورشید بنایا
    گو اہل نہ تھی اس کی کسی طور مری خاک

    تم روزِ ازل دے کے وچن بھول گئے ہو
    سہتی ہے ابھی تک ستم و جور مری خاک

    اس قید کی لعنت سے نکل جاؤں کسی طور
    دن رات لگاتی ہے بڑا زور مری خاک

    یہ وسعتِ افلاک تو میں ناپ چکا ہوں
    اب ڈھونڈنے جائے گی کہاں اور میری خاک

    یوں خاک میں تنہا وہ مجھے چھوڑ گیا ہے
    اس بات یہ کرتی ہے بہت شور مری خاک

    دیکھا ہے یہاں چاروں طرف ایک خلا ہے
    حیراں ہوں میں اب جائے گی کس اور مری خاک

    یہ پیار سے تکتی ہوئی آنکھیں نہ رہیں گی
    آجاؤ کہ پہنچی ہے لبِ گور مری خاک

    توتازہ جھانوں میں کہیں اپنے مگن ہے
    پھرتی ہے یہاں اب بھی کریکور* مری خاک

    میں کس کے لئے گھر سے یہاں دور پڑا ہوں
    کرتی نہیں اس بات پہ کیوں غور مری خاک

    جب چاروں طرف تیرے سوا کوئی نہیں تھا
    پھر ڈھونڈتی پھرتی ہے وہی دور مری خاک

    مجبور ہے مقہور ہے مردود ہے لیکن
    ہاتھوں سے نہ چھوڑے گی تری ڈور مری خاک

    واں سے تو دیا تو نے مجھے دیس نکالا
    اب یاں سے نہ لیجائے کوئی چور مری خاک

    یوں میری نگاہوں سے اگر دور رہو گے
    اس طرح تو بھٹکے گی یہاں اور مری خاک

    آوارہ ستاروں کی طرح کیسے رہوں گا
    پابندِ محبت ہے بہر طور مری خاک

    بادل سے سنوں گا کوئی بارش کی کہانی
    ہو جائے گی پھر اُس سے شرابور مری خاک

    میں رفعتِ افلاک سے مرعوب نہیں ہوں
    کنعاں ہے مدائن ہے کہیں ثور مری خاک​

    * کَرِیکور پشتو لفظ ہے جس کا مطلب ہے در بدر

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  13. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    نکلو گے مرے دل سے تو جل جاؤ گے فوراً
    اس دھوپ کی بستی میں کہاں چاند کا مسکن

    تم اٹھ کے ستاروں سے کہاں لڑنے چلے ہو
    میں نے تو کہی تھی فقط اک بات مذاقاً

    جس بات پہ کل دیدہ و دل ایک ہوئے تھے
    دونوں میں ہوئی آج اُسی بات پہ اَن بَن

    دنیا میں بھی اب چین سے رہنے نہیں دیتا
    جنّت سے بھی اک روز نکالا مجھے جبراً

    آنکھوں سے نہ ہونٹوں سے نہ ہاتھوں سے کُھلا تو
    سورج کا ہے دالان کہ مہتاب کا آنگن

    مل جائے گا آجاؤ تمہیں بھی کوئی گوشہ
    دل اتنی تمنّاؤں کا پہلے سے ہے مدفن

    تاروں کی طرح آؤ کرو تم بھی تماشہ
    پھر رات ہوئی آیا ہے پھر درد پہ جوبن

    یہ سوچ کے اب کوئی شکایت نہیں کرتا
    دنیا میں محبت پہ ہمیشہ سے ہے قدغن

    اب آکے ترے سامنے مبہوت کھڑا ہوں
    حیراں ہوں میں انگشت بدنداں ہے مرا فن

    مشکل ہے بتانا بھی چھپانا بھی ہے مشکل
    ٹوٹا ہے کچھ اس طور سے وہ پیار کا بندھن

    اس دل کا کوئی ٹھیک نہیں اتنا نہ پھولو
    تم پر بھی کسی روز چڑھا لائے گا سو تن

    معلوم ہے اب سارے زمانہ کو پتہ ہے
    ہاں تم سے تو کہتا نہیں یہ بات میں قصداً

    میں نے بھی بہت اچھی طرح سوچ لیا ہے
    اب تم پہ لُٹا دوں گا کسی روز یہ تن من

    یہ سارا تو اک عمرِ گذشتہ کا ہے قصہ
    اب اُس سے مرا کوئی تعلق نہیں قطعاً

    رو رو کے اُسے ہم نے کئی بار بلایا
    پھر لوٹ کے آیا نہیں اکبار بھی بچپن

    مجھ پر وہ کبھی جان کے یہ ظلم نہ کرتا
    معلوم ہے مجھ کو وہ بڑا نیک ہے طبعاً

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  14. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    [align=justify:5902375a94]

    تمہارے لئےدل میں اب بھی جگہ ہے تمہیں کیاپتہ ہے تمہیں کیا خبر
    ابھی مجھ پہ طاری وہی اک نشہ ہے تمہیں کیاپتہ ہے تمہیں کیا خبر

    تمہیں قہقہوں کی کہانی سے مطلب ہے ہنستے رہو گے
    کہاں آنسوؤں کا چلا قافلہ ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

    کوئی آسماں پر ستاروں کی شمعیں لئے منتظر ہے
    اکیلا نہ جانے وہ کب سے کھڑا ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

    ہر اک سانس میری شرابور آتی ہے خوشبو میں تیری
    یہ کیسی جدائی یہ کیا فاصلہ ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

    زمیں آسماں جیل خانہ ہے تیرا میں سب جانتا ہوں
    یہ جینانہیں ہے فقط اک سزاہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیاخبر ہے

    اذیت کے صحرا میں جل کر بھسم ہو گئی روح میری
    کوئی شعرجب مجھ پہ نازل ہواہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

    یہ سورج یہ سب چاند تارے پہنچ کے وہاں کھو گئے ہیں
    مرے دل میں اتنا بڑا اک خلا ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

    کہاں جائیں کس سے شکستہ دلی کو دلاسہ ملے گا
    کہ دشمن یہاںساری آب و ہوا ہے تمہیں کیا پتہ ہے تمہیں کیا خبر

    زمانہ کے پہلو میں چلتے ہوئے تم نے دیکھا نہیں اس طرف
    ابھی تک مرے دلمیں اسکا گلہ ہے تمہیں کیا پتہ ہےتمہیں کیا خبر
    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ [/align:5902375a94]
     
  15. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    بھولے سے بھی آئے نہ کوئی چاہنے والا
    اس شہر میں ہے حسن کا دستور نرالا

    اک رات کی دھشت کا ٹھکانہ ہے مرا دل
    تم ڈھونڈنے آئے ہو کہاں دن کا اجالا

    میرا تو چلو ٹھیک ہے مجرم ہوں تمہارا
    ان چاند ستاروں کو یہاں کس نے اچھالا

    اس طرح سے ٹوٹیں گے اگر روز یہاں دل
    نکلے گا بہت جلد محبت کا دِوالہ

    کرتے ہیں بہت آپ حسینوں کی وکالت
    اے کاش! پڑے ان سے کبھی آپکو پالا

    بس دل پہ حکومت کا طریقہ اسے آئے
    محبوب حقیقت میں نہ گورا ہے نہ کالا

    ممکن ہی نہ تھی اور ترے ناز کی تردید
    میں نے تو بہت چاہا بہت دل کو سنبھالا

    نظموں سے تو کھنچتی نہیں اس حسن کی تصویر
    لکھوں گا اب اس پر کوئی پُرزور مقالہ

    یہ سبزئہ خط حسن کی تنسیخ نہیں ہے
    دیکھا نہیں کیا تم نے کبھی چاند کا ھالہ

    اس طرح سے رو رو کے نہ کر عشق کی تذلیل
    اب جاکے کسی روز اسے گھر سے اٹھالا

    دل اٹھ کے ہر اک پیاس کی تردید کرے گا
    آئے گا جہاں بھی ترے ہونٹوں کا حوالہ

    اب لوٹ کے آنا وہاں اچھا نہیں لگتا
    جس گھر سے مجھے تو نے ہے اس طرح نکالا

    لگتا ہے یہ دل اب بھی تجھے بھولا نہیں ہے
    نکلا ہے تری یاد میں اک اور رسالہ

    پھر اٹھ کے یہاں سے وہ کہیں جانہیں سکتا
    اکبار جو ہونٹوں سے لگالے یہ پیالہ

    اس طرح گنوا ڈالو گے ہر ایک کی توقیر
    ہر ایک کی خدمت میں نہ آداب بجالا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  16. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    احمق ہیں جو کہتے ہیں محبت کی جگہ ہے
    دنیا تو فقط اہلِ تجارت کی جگہ ہے

    فرعونوں کی بستی ہے یہاں دب کے نہ رہنا
    نخوت کی تکبّر کی رُعونت کی جگہ ہے

    ظاہر ہے یہاں تم بھی کبھی خوش نہ رہو گے
    اک درد کا مسکن ہے اذیّت کی جگہ ہے

    آسانی سے ملتی نہیں جینے کی اجازت
    پھر سوچ لو دنیا بڑی ہمّت کی جگہ ہے

    اس شہر میں تم خوار و پریشان پھروگے
    یہ لوگ کمینے ہیں رِذالت کی جگہ ہے

    اے دل تجھے اک بوسہ بھی مشکل سے ملے گا
    یہ حسن کا بازار ہے دولت کی جگہ ہے

    یہ سوچ کے خاموشی سے ہر ظلم سہا ہے
    اپنوں سے نہ غیروں سے شکایت کی جگہ ہے

    خود اپنی ہی مخلوق کو برباد کرو گے
    افسوس کی یہ بات ہے حیرت کی جگہ ہے

    دل میرا کسی حال میں خوش رہ نہیں سکتا
    جلوت کا مکاں ہے نہ یہ خلوت کی جگہ ہے

    راحت کا یہاں کوئی تصور نہیں ملتا
    معلوم ہے سب کو یہ مصیبت کی جگہ ہے

    انجام کا سوچوگے تو بے چین پھروگے
    آرام سے سوجاؤ یہ غفلت کی جگہ ہے

    پاگل ہو جو کرتے ہو یہاں عشق کی تلقین
    دنیا تو ہر اک شخص سے نفرت کی جگہ ہے

    جاتے ہوئے کہتے ہیں ہر اک بار پرندے
    کچھ شرم کرو یہ بھی سکونت کی جگہ ہے

    بس شرط ہے یہ دل میں محبت ہو کسی کی
    صحرا ہی نہیں شہر بھی وحشت کی جگہ ہے

    جانے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں اب
    دیکھو یہ زمیں کیسی قیامت کی جگہ ہے

    آئے ہو تو جاؤگے یہاں بچ نہ سکو گے
    یہ موت کی منزل ہے ہلاکت کی جگہ ہے

    اے اہل جنوں آؤ یہاں کچھ نہیں رکھا
    ناداں ہیں یہ سب لوگ حماقت کی جگہ ہے

    کس بات پہ غمگین ہوں کس بات پہ میں خوش
    ذلت کی جگہ ہے نہ یہ عزت کی جگہ ہے

    صحرا کی طرف اس لئے جاتا ہے مرا دل
    دنیا میں یہ دنیا سے بغاوت کی جگہ ہے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  17. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    دنیاکی کسی بات کا قائل تو نہیں ہوں
    اب بھی میں تری یاد سے غافل تو نہیں ہوں

    مجھ سے تو مناسب نہیں اس طرح کا برتاؤ
    عاشق ہوں تمہارا کوئی سائل تو نہیں ہوں

    کرلوں گا کسی روز یقینا تجھے تسخیر
    میں آج کے حالات سے بد دل تو نہیں ہوں

    لوگوں سے تو پہلے بھی تعلق نہیں رکھا
    میں آج بھی اس بھیڑ میں شامل تو نہیں ہوں

    خورشید کا اک خاک کے ذرّہ سے ہے رشتہ
    اس لطف و عنایت کے میں قابل تو نہیں ہوں

    کس طرح کا انصاف ہے یہ داور محشر
    مقتول ہوں میں حسن کا قاتل تو نہیں ہوں

    اس قید سے نکلوں گا تو جاؤں گا بہت دور
    رستہ ہوں میں اپنی کوئی منزل تو نہیں ہوں

    سکھ چین سے رہنا مری فطرت میں نہیں ہے
    دریا ہوں کسی بحر کا ساحل تو نہیں ہوں

    دن رات جلوں گا تو شکایت بھی کروں گا
    انساں ہوں ترے رخ کا کوئی تل تو نہیں ہوں

    چاہو تو سمجھ جاؤگے اک دن مرا مطلب
    دشوار سہی اتنا بھی مشکل تو نہیں ہوں

    بدلی ہوئی نظروں کی نہ ہوگی مجھے پہچان
    ناداں ہوں مگر اتنا بھی جاھل تو نہیں ہوں

    کیا سوچ کے تم مجھ سے ہو اس طرح گریزاں
    کڑوا ہوں مگر زھرِ ھلاھل تو نہیں ہوں

    مجھ سے تو ہر اک طرح کی تقصیر ہوئی ہے
    ناقص ہوں بہت میں کوئی کامل تو نہیں ہوں

    تو جیت بھی جائے تو کوئی بات نہیں ہے
    میں کوئی برابر کا مقابل تو نہیں ہوں

    کردوں گا کسی روز یہ جاں تجھ پہ نچھاور
    صد شکر کہ دیوانہ ہوں بُزدل تو نہیں ہوں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  18. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    جب اونچے پہاڑوں سے اتر آتے ہیں دریا
    کاندھوں پہ سمندر کو اٹھالاتے ہیں دریا

    لگتے ہیں مگر ہم سے جنوں پیشہ کہاں ہیں
    صحراؤں میں جاتے ہوئے گھبراتے ہیں دریا

    سرگوشیاں کرتے ہوئے دن رات اچانک
    رستہ میں کوئی آئے تو چلّاتے ہیں دریا

    ہر وقت کی اس دوڑ سے تھک ہار کے اک روز
    پہلو میں سمندر کے سمٹ جاتے ہیں دریا

    معلوم ہے پھینکیں گے یہ سب ان میں غلاظت
    شہروں سے یہاں اس لئے کتراتے ہیں دریا

    چلتے ہوئے رکتے نہیں اک پل کے لئے بھی
    معلوم نہیں ایسا بھی کیا کھاتے ہیں دریا

    منزل سے سروکار نہ انجام کا ڈر ہے
    ہر راہ پہ بل کھاتے ہیں اٹھلاتے ہیں دریا

    اک روز تمہیں ساتھ لئے گھر کو چلیں گے
    ہر روز کناروں کو یہ سمجھاتے ہیں دریا

    اس طرح بھی پھرتا ہے کوئی اپنی خوشی سے
    احکام سمندر کے بجالاتے ہیں دریا

    میری تو کوئی لفظ سمجھ میں نہیں آتا
    اے کاش بتا دے کوئی کیا گاتے ہیں دریا

    لگتا ہے بچاروں کی نظر ٹھیک نہیں ہے
    چلتے ہوئے ہر چیز سے ٹکراتے ہیں دریا

    جانا ہے کہاں ان کو کوئی کہہ نہیں سکتا
    جس سمت بھی دل چاھے نکل جاتے ہیں دریا

    ہونٹوں پہ ہے ہر وقت کوئی تازہ کہانی
    یا ایک ہی قصہ ہے جو دھراتے ہیں دریا

    نزدیک چلے آتے ہیں گھبراکے کنارے
    غصّہ میں کچھ اس طرح سے غرّاتے ہیں دریا

    پتھر کی ہو تحریر تو شاید سمجھ آئے
    مٹی کی تو ہر بات کو ٹھکراتے ہیں دریا

    ڈرتے ہیں کہیں آگ نہ لگ جائے انہیں بھی
    اس طرح بیابانوں کو ترساتے ہیں دریا

    اڑنے کے لئے آج بھی رہتے ہیں پریشاں
    بارش کی طرف دیکھ کے للچاتے ہیں دریا

    گھر بار کے چکرّ میں کبھی یہ نہیں پڑتے
    آوارہ مزاجوں کو بہت بھاتے ہیں دریا

    یوں خاک میں منہ اپنا چھپاتے ہیں ہمیشہ
    کیا بات ہے کیوں اس طرح شرماتے ہیں دریا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  19. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    کہیں پہ جاکے محبت کو دفن کردوں گا
    پھر اُس کی قبر کو آہوں سے اپنی بھردوں گا

    سب آسمان و زمیں آج سے تمہارے ہیں
    یہ کائنات میں اب تیرے نام کردوں گا

    خزاں کے ڈر سے یہ چہرہ اگر ملول ہوا
    کہیں سے لاکے نئے رنگ اس میں بھردوں گا

    جو جل رہا ہوں تری آگ میں یہ کافی ہے
    میں خشک پیڑ ہوں کیا پھول کیا ثمر دوں گا

    تمہارے ساتھ وہ دل کی اداسیاں بھی گئیں
    کہاں سے اپنی دعاؤں کو میں اثر دوں گا

    میں جانتا ہوں کٹھن ہے تمہاری راہ بہت
    کہیں سے لیکے نئے دل کو بال و پر دوں گا

    تمہارے آنے سے دنیا بدل گئی ساری
    نئی ہے رات اب اس کو نئی سحر دوں گا

    کھلی فضاؤں میں یوں رات بھر بھٹکتے ہیں
    میں لیکے چاند ستاروں کو کوئی گھر دوں گا

    ہر ایک موڑ پہ بستی ہے سرخ پھولوں کی
    اکیلی جان یہ اپنی کدھر کدھر دوں گا

    قدم قدم پہ نئے حادثوں سے ملتا ہوں
    کہاں سے لاکے میں اچھی کوئی خبر دوں گا

    بہت امیر ہوں اس شاعری کی دولت سے
    ہر ایک بوسہ پہ تجھ کو یہ مال و زر دوں گا

    کوئی نہیں ہے یہاں جس سے دل کی بات کہوں
    میں اس جہان کو دیکھو تباہ کر دوں گا

    یہ انس و جن و ملائک کریں گے رشک تمام
    میں دیکھ لینا کسی دن وہ کام کردوں گا

    ملا کے دیکھ لے اس کو تمام حوروں سے
    مقابلہ کے لئے تجھ کو اک بشر دوں گا

    یہ مانتا ہوں تجھے دیکھنا ہلاکت ہے
    میں خود کو دیکھنا اکدن ہلاک کردوں گا

    مری طرح سے تجھے تاکہ سارے دیکھ سکیں
    میں کچھ دنوں کے لئے سب کو یہ نظر دوں گا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  20. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    وہ مہر منور ہے کہ یہ ماہ مبیں ہے
    پہلے کی طرح آج بھی تو سب سے حسیں ہے

    افلاک سے باقی نہیں اس کا کوئی رشتہ
    بس آج سے یہ ساری زمیں میری زمیں ہے

    اس ارض و سما پر ہے ہمارا بھی کوئی حق
    یہ آپ کے اجداد کی میراث نہیں ہے

    فرھاد کے گھر سے نہیں میرا بھی تعلق
    تیرا بھی کوئی چال چلن ٹھیک نہیں ہے

    اب تجھ سے ملاقات تو آسان ہے لیکن
    اب تجھ سے وہ پہلی سی محبت ہی نہیں ہے

    یہ وقت کا مرہم بھی میرے کام نہ آیا
    وہ درد ترا آج بھی اس دل میں مکیں ہے

    دل ٹوٹ نہ جائے ترے برتاؤ سے دیکھو
    دنیا میں یہی آج محبت کا امیں ہے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     

اس صفحے کی تشہیر