ایک جانب چاندنی - احمد فواد

سندباد نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 25, 2007

  1. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ايک جانب چاندني




    احمد فواد
     
  2. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    انتساب​

    دُنیا کو خوب صورت بنانے میں لگے
    سلیقہ مند ہاتھوں کے نام​
     
  3. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    صحرا کی طرف اس لیے جاتا ہے مِرا دل
    دُنیا میں یہ دُنیا سے بغاوت کی جگہ ہے

    جاتے ہوئے کہتے ہیں ہر اِک بار پرندے
    کچھ شرم کرو یہ بھی سکونت کی جگہ ہے​
     
  4. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    احمد فواد ، ایک تعارف
    [align=justify:71ed419cb3]احمد فواد کا اصل نام فرید احمد ہے۔ 1954ء میں سوات کے شگہ، شانگلہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ میں حاصل کی۔ حیدرآباد بورڈ سے میٹرک کیا۔ بی اے (آنرز)، تاریخ اور انگریزی میں ایم اے کراچی یونی ورسٹی سے کئے۔ ان کی مادری زبان پشتو ہے لیکن اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔ فرانسیسی زبان سے بھی تھوڑی بہت شناسائی ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کا آغاز ساتویںجماعت سے کیا ہے۔ کراچی یونی ورسٹی کے مشاعروں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے اور اپنی منفرد شاعری کی وجہ سے پوری یونی ورسٹی میں خاص شہرت رکھتے تھے۔ اس طرح کراچی یونی ورسٹی سے باہر بھی ادبی حلقوں میں ان کی شاعری کو اپنی جدت اور انفرادیت کی وجہ سے ہمہ گیر شہرت مل گئی تھی۔ اپنے منفرد اُسلوب کی وجہ سے ان کو ادبی حلقوں میں ایک خاص مقام دیا جاتا ہے۔


    زمانہء طالب علمی میں کراچی سے شائع ہونے والے اخبارات روزنامہ جسارت، نوائے وقت اور پندرہ روزہ وقت کے ساتھ منسلک رہے۔روزنامہ امت کراچی میں کافی عرصہ تک کالم لکھتے رہے ہیں۔ آج کل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج سیدو شریف، سوات میں انگریزی ڈیپارٹمنٹ کے چئیرمین کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔


    احمد فواد کے زیرِ نظر شعری مجموعے سمیت ان کے تین شعری مجموعے زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکے ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں۔ یہ کوئی کتاب نہیں ، دل ورق ورق تیرا اور ایک جانب چاندنی۔ ان کا ایک شعری مجموعہ پشتو زبان میں بھی ’’کہ تہ راغلے زہ بہ گل شم‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ انھوں نے اردو میں ایک ناول بھی لکھا ہے جب کہ ان کا چوتھا شعری مجموعہ زیرِ طبع ہے۔


    ان کی شاعری میں تازگی اورنیا پن ہے۔ خصوصاً اچھی نظم لکھتے ہیں۔ احمد فواد اپنی شاعری میں کائنات کے خوب صورت عناصر مثلاً آسمان، زمین، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، دریا، بیل بوٹے، پھول اور سمندر وغیرہ بہت عمدگی سے تشبیہات اور استعاروں کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔


    ان کا نیا شعری مجموعہ ’’ایک جانب چاندنی‘‘ اردو محفل کی لائبریری میں بطور خاص پوسٹ کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کے ناشر کی حیثیت سے اس کے حقوق میں اردومحفل کی لائبریری کو تفویض کرتا ہوں۔ تاہم اس کی کتابی صورت میں اشاعت کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔[/align:71ed419cb3]


    [align=left:71ed419cb3]فضل ربی راہی
    25 مئی 2007ء[/align:71ed419cb3]
     
  5. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    کچھ اپنی زباں میں
    [align=justify:70be7e98a1]خوش قسمتی سے میرے لیے دنیا میں آتے ہوئے دروازہ ایسی جگہ سے کھولا گیا جہاں منظر بڑا خوب صورت تھا۔ اوپر آسمان کی نیلی جھیل اور نیچے دور تک نظر آتا اباسین کا شفاف نیلا پانی۔ اس لیی مشکل میں پڑ گئے۔[/align:70be7e98a1]


    دل کہاں جائے بچارہ زندگی مشکل میں ہے
    ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ​


    [align=justify:70be7e98a1] اس سے پہلے بھی اپنے اندر کی یہ دُنیا دکھانے کے لیی ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘، ’’دل ورق ورق تیرا‘‘ اور ’’کہ تہ راغلے زہ بہ گل شم‘‘ جیسے دروازے کھولے ہیں۔ ’’ایک جانب چاندنی‘‘ کی صورت ایک نیا دروازہ کھول رہا ہوں۔[/align:70be7e98a1]


    صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے​

    [align=left:70be7e98a1]احمد فواد[/align:70be7e98a1]
     
  6. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    جب کلی نے لیا تیرا نام
    پھول بن کر ِکھلا تیرا نام

    جس سے ہے چار ُسو روشنی
    ہے وہ روشن دیا تیرا نام

    دل میں لاکھوں دئیے جل اٹھے
    جب بھی میں نے لیا تیرا نام

    پھر یہاں میں جہاں بھی گیا
    ساتھ چلتا رہا تیرا نام

    غنچۂ دل سے لپٹا ہوا
    مثلِ موجِ صبا تیرا نام

    یہ جہاں خاک کا ڈھیر ہے
    اس میں رنگ و نوا تیرا نام

    سانس لیتا ہوں بس اس لئے
    ہے ہوا میں گھلا تیرا نام

    تیری تعریف میں کیا کہوں
    ہے خود اپنی ثنا تیرا نام

    ذرّہء خاک خورشید ہے
    جب سے اس پر کھلا تیرا نام

    سب زمیں آسماں چھوڑ کر
    میں نے اپنالیا تیرا نام

    ہر مسرت کی تمہید ہے
    ہر مرض کی دوا تیرا نام

    باقی سب نام مر کھپ گئے
    ہر طرف چھا گیا تیرا نام

    رات دن ڈھونڈتا ہوں تجھے
    ہے لبوں پر سدا تیرا نام

    آنسوؤں میں ترا ذکر ہے
    قہقہوں میں ملا تیرا نام
    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  7. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    دھوپ ہو کر بچھا تیرا نام
    تتلی بن کر اڑا تیرا نام

    میں تو مسکین و محتاج تھا
    پھر مجھے مل گیا تیرا نام

    تو ہی آغاز و انجام ہے
    مبتدا منتہا تیرا نام

    میں کسی کو نہیں جانتا
    جب سے ہے آشنا تیرا نام

    پیاس سے کیا تعلّق مجھے
    لمحہ لمحہ پیا تیرا نام

    میری ہر سانس بیمار تھی
    ہو گیا ہے شفا تیرا نام

    اور اب کچھ نہیں چاہئے
    ہے بہت اے خدا تیرا نام

    جب بھی دنیا کی یورش ہوئی
    میں نے آگے کیا تیرا نام

    سب سے ملنے پہ مجبور ہوں
    ہے یہاں جابجا تیرا نام

    پھر زمیں پر بہار آگئی
    ہر طرف ہنس پڑا تیرا نام

    یہ جہاں وہ جہاں کچھ نہیں
    سب سے اچھا صِلہ تیرا نام

    خود بخود زخم بھرنے لگے
    ہے وہ حرفِ دعا تیرا نام

    اب وہ دن بھی ضرور آئے گا
    لیں گے شاہ و گدا تیرا نام

    زندگی کیا رہے نا رہے
    اب نہ ہوگا جدا تیرا نام

    آنسوؤں کے بڑے شہر میں
    مسکراتا رہا تیرا نام
    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  8. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بن کے چھایا نشہ تیرا نام
    چاندنی میں ڈھلا تیرا نام

    لوگ دنیا میں مشغول ہیں
    میرے ارض و سما تیرا نام

    خود کو اُس پر نچھاور کیا
    جس کے منہ سے سنا تیرا نام

    چھوڑ کر سب جہاں چل دیا
    ہے مجسّم وفا تیرا نام

    پیاسے صحرا گلستان ہیں
    ہے برستی گھٹا تیرا نام

    اب چھپانے سے کیا فائدہ
    لے لیا برملا تیرا نام

    مسکراہٹ کی تفصیل ہے
    آنسوؤں میں دُھلا تیرا نام

    ہم تو فانی ہیں مرجائیں گے
    بس رہے گا سدا تیرا نام

    ہم جو مجبور و لاچار تھے
    ہم نے اونچا کیا تیرا نام

    ڈھونڈتے ہیں ستارے تجھے
    پوچھتی ہے ضیاء تیرا نام

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  9. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    مجھ سے پھر وہ جدا ہو رہا ہے
    اے زمانے یہ کیا ہو رہا ہے

    زندگی اب ترِا کیا بنے گا
    لمحہ لمحہ فنا ہو رہا ہے

    کیسی پاگل ہوا چل پڑی ہے
    ہر کوئی مبتلا ہو رہا ہے

    پہلے ہوتا ہو شاید روا بھی
    اب تو سب ناروا ہو رہا ہے

    کچھ خبر بھی ہے تجھ کو خدایا
    تیری دنیا میں کیا ہو رہا ہے

    آگ کیسی لگی پانیوں میں
    کیوں سمندر ہوا ہو رہا ہے

    کیوں زمانہ ہے یہ گردشوں میں
    اس میں کس کا بھلا ہو رہا ہے

    وہ جو کرتے تھے سب سے چھپا کے
    اب وہ سب برملا ہو رہا ہے
    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  10. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    فقط اک بار وہ صورت دکھا دے
    پھر اُس کے بعد یہ دنیا جلا دے

    اگر رکھی ہے دل میں آگ اتنی
    کہیں سے چند آنسو بھی دِلا دے

    نہیں ہے گر کوئی جینے کی صورت
    تو مرنے کا ہی تھوڑا حوصلہ دے

    تری دنیا میں اب لگتا نہیں دل
    اٹھا دے اب مجھے یاں سے اٹھادے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  11. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    میں کن چشموں سے ان کا حال پوچھوں
    وہ دریا جو زمیں میں کھو گئے ہیں

    تمہیں اب کون آئے گا منانے
    مری آنکھوں کے نغمے سو گئے ہیں

    کہوں کیا کیسے کیسے ہنستے چہرے
    مرے سینہ میں آنسو بو گئے ہیں

    نہ راس آئی انہیں پھر کوئی محفل
    تری محفل سے اٹھ کر جو گئے ہیں

    خوشا یہ آنسوؤں کے تازہ چشمے
    دلوں کے زخم سارے دھو گئے ہیں

    تمہارا ہاتھ کیا ہاتھوں میں آیا
    وہ سارے خواب پورے ہو گئے ہیں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  12. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    کہکشاں میں جگہ بنا لوں گا
    میں بھی کچھ دیر ٹمٹما لوں گا

    تم سمندر کا دل بڑھاتے رہو
    آسمانوں کو میں بچالوں گا

    گر تمہاری خوشی اسی میں ہے
    دل کو دنیا سے میں اٹھالوں گا

    تیرے جانے سے کچھ نہیں ہوتا
    شہر یہ پھر سے میں بسا لوں گا

    تجھ کو فرصت نہیں تو رہنے دے
    کام دنیا کا میں چلا لوں گا

    اب یہ یادوں کے دیپ بجھنے دے
    میں ستارہ کوئی جلا لوں گا

    آرزوئیں عزیز ہیں ساری
    تم سے میں سب کا خوں بہا لوں گا

    اب محبت سے ہوگئی نفرت
    تُو ملا گر تو زہر کھالوں گا

    لے یہ دنیا تجھے مبارک ہو
    میں نیا اک جہاں بنالوں گا

    دل تو اپنا میں تجھ کو دے دیتا
    اس کے بدلہ میں تجھ سے کیا لوںگا

    آج کل تو نہیں ذرا فرصت
    پھر کسی دن تجھے منا لوں گا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  13. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    کوئی غم یا خوشی نہیں ہوگی
    اب یہاں زندگی نہیں ہوگی

    وہ جو اس دل میں امڈی رہتی تھی
    وہ خوشی اب کبھی نہیں ہوگی

    ہر طرف ایسی دھوپ پھیلی ہے
    جیسے اب رات ہی نہیں ہوگی

    تم کسی اور کو تلاش کرو
    مجھ سے یہ دل لگی نہیں ہوگی

    چاند تارے سب اپنے گھر جائیں
    ان سے اب روشنی نہیں ہوگی

    تیرا غم جب تلک سلامت ہے
    آنسوؤں میں کمی نہیں ہوگی

    اب تو روٹھے ہیں اس طرح گویا
    اب کبھی بات ہی نہیں ہوگی

    ۔۔۔٭٭٭۔۔۔​
     
  14. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    اور اُس کا نہ انتظار کرو
    جو بھی مل جائے اُس سے پیار کرو

    چاند کے ساتھ شب میں سویا تھا
    آؤ سب مجھ کو سنگسار کرو

    صرف دامن کا چاک کیا معنی
    سب لباس اپنا تار تار کرو

    عشق سودا ہے صرف گھاٹے کا
    اب کوئی اور کاروبار کرو

    جس پہ رکھّا نہ ہو کسی نے قدم
    راستہ ایسا اختیار کرو

    تم بھی جھوٹے ہو وہ بھی جھوٹا ہے
    اب کسی کا نہ اعتبار کرو

    چاک دامن یہاں ہزاروں ہیں
    تم سے جو بھی کہے بہار کرو

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  15. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    میرے دل میں اگر نہ گھر کرتا
    تو کہاں زندگی بسر کرتا

    کون اس راستہ سے گذرا ہے
    چاند تارے ادھر ادھر کرتا

    پھر وہ بدمست آفتاب آیا
    سب گھٹاؤں کو دربدر کرتا

    کس کی تصویر کو میں دن کہتا
    کس کے خوابوں میں شب بسر کرتا

    جاؤں ہونے سے پھر نہ ہونے میں
    آسمانوں کو رہگذر کرتا

    اپنا دل بھی اُسی کو دے آیا
    اور کیا میرا نامہ بر کرتا

    اک حسیں چشم دل میں آیا ہے
    ساری دنیا اِدھر اُدھر کرتا

    کیا خدائی میں فرق آجاتا
    میری جانب اگر نظر کرتا

    تیرے سینہ میں دل اگر ہوتا
    تجھ پہ نالہ کوئی اثر کرتا

    کون پلکیں جھکائے گذرا ہے
    خود سے ہر شے کو بے خبر کرتا

    تو نہ آتا تو اس خرابے میں
    پھر کوئی شاعری کدھر کرتا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  16. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    بجھ گئے تیری راہ تکتے ہوئے
    آنسوؤں کے کئی ہزار دیئے

    وہ جو معصوم بھولا بھالا ہے
    اُس نے اس دل پہ کتنے ظلم کئے

    خواب میں بھی وہ لڑ کھڑاتا ہے
    تیری آنکھوں سے جو شراب پئے

    ہو گئے پیشہ ور رفوگر ہم
    زندگانی میں اتنے زخم سیئے

    تجھ سے ملنے کی کوئی آس نہیں
    ہے یہی زندگی تو کون جیئے

    یوں تو لاکھوں حسین صورت ہیں
    دل دھڑکتا ہےِصرف تیرے لئے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  17. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    جو کبھی کہہ سکا نہ کہنے دے
    آج لفظوں سے خون بہنے دے

    اب کوئی اور بات کر مجھ سے
    یہ فراق و وصال رہنے دے

    ایک ہی جیسے رات دن کب تک
    کوئی تازہ عذاب سہنے دے

    جن کی خوشبو نہ وقت چھین سکے
    ایسے کلیوں کے مجھ کو گہنے دے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  18. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    لمحہ لمحہ کی آنکھ پُرنم ہے
    کون کہتا ہے وقت مرہم ہے

    موت کے منہ کو خوں لگا ایسا
    ہر طرف زندگی کا ماتم ہے

    میرا ہر لفظ گونگا بہرا ہے
    اس کی ہر اک نگاہ مبہم ہے

    پھر کوئی حادثہ ہوا ہوگا
    دل کی آواز کتنی مدّھم ہے

    شوق کا آج امتحاں ہوگا
    دیکھیں کتنا نگاہ میں دم ہے

    ٹھیک ہے داستانِ یوسف بھی
    میرا محبوب کیا کوئی کم ہے

    اس زمیں آسماں کی خیر نہیں
    آج اُس کا مزاج برہم ہے

    سب دئیے اُس کے سامنے گُل ہیں
    کون شعلہ ہے کون شبنم ہے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  19. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    اُس پر اس کا اثر تو کیا ہوگا
    دیکھ کر اور خوش ہُوا ہوگا

    کیسے اس بات کا یقیں آئے
    تو بھی اس خاک سے بنا ہوگا

    جو بھی ملتا ہے پوچھ لیتا ہوں
    سوچتا ہوں اسے پتا ہوگا

    صرف ہم جان سے ہی جائیں گے
    تیرے جانے سے اور کیا ہوگا

    راستہ میں کہیں کھڑا ہوگا
    پھر خلاؤں میں تک رہا ہوگا

    رہگذاروں میں آج بھی تنہا
    کوئی دیوانہ گھومتا ہوگا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  20. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    میں اپنا درد ہوا کے سپرد کرتا رہا
    سماعتوں کا دریچہ کھلا نہ در کوئی

    تم اپنے نالہ و فریاد سے ہی جاؤ گے
    یہاں کسی پہ بھی ہوتا نہیں اثر کوئی

    ہر ایک سانس میں اس راستہ میں ہار آیا
    تِرا پتہ ہے نہ اپنی ملی خبر کوئی

    یہ آسمان و زمیں سب اُسی کے لگتے ہیں
    اٹھے یہاں سے مگر جائے گا کدھر کوئی

    کہاں نہ جانے وہ خوشیوں کا باب کُھل جائے
    اسی خیال میں پھرتا ہے دربدر کوئی

    میں جانتا ہوں یہ تاروں کا سلسلہ کیا ہے
    جلا کے بھول گیا دیپ بام پر کوئی

    ہوا کے ساتھ نہ لڑتے تو اور کیا کرتے
    نہ اپنا دوست نہ غمخوار ہے نہ گھر کوئی

    نہ جانے کب سے کھلی ہیں یہ کھڑکیاں دونوں
    اٹھے ہماری طرف بھی ذرا نظر کوئی

    تمہاری آنکھوں کی جنّت سے جو نکالا گیا
    نہ اُس کو شام ملی ہے نہ پھر سَحر کوئی

    ہر ایک سمت وہ جلوہ فروش بیٹھا ہے
    بچائے رکھے گا کب تک دل و نظر کوئی

    فواد ایسے کھلونوں سے کب بہلتا ہے
    اٹھا کے طاق پہ رکھ دے یہ بحروبر کوئی

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     

اس صفحے کی تشہیر