ایک جانب چاندنی - احمد فواد

سندباد نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 25, 2007

  1. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اور​

    اور ہم نے ایک دوسرے کو کھو دیا
    بادل دور سمندر کی آغوش میں پڑے سوتے رہے
    بلیاں برسرِ عام
    ہم بستری کے حق میں پر تشدد مظاہرے کرتی رہیں
    شہر گالم گلوچ میں مصروف رہے
    پہاڑ احمقوں کی طرح کھڑے آسمان کا منہ تکتے رہے
    دریا ڈھلانوں پر پھسلتے رہے
    گاؤں لاپرواہی سے سرجھکائے اونگھتے رہے
    کسی نے ہماری طرف توجہ نہیں دی
    جیسے ناخن کو گوشت سے الگ کردیا جائے
    وہ چیخ کسی نے نہیں سنی
    کوئی دروازہ نہیں کھلا
    بس
    ایک چھوٹے سے پرندہ نے اس درد کو سمیٹ لیا
    اور
    ایک گیت بن کر ان خالی صفحات میں اڑنے لگا
    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  2. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    سبا تینی سبا تینی* ​


    تری آنکھیں زمیں کی آخری سرحد کی نگراں ہیں
    محبت کی نگہباں ہیں
    سباتینی سباتینی

    سمندر کی جواں لہروں کا بہتا خواب ہیں دونوں
    کسی کی جستجو میں رات دن بے تاب ہیں دونوں
    مئے نایاب ہیں دونوں
    سباتینی سباتینی

    محبت کرنے والوں کی طرح ہر وقت لڑتی ہیں
    کسی نوکیلے خنجر کی طرح سینہ میں گڑتی ہیں
    سباتینی سباتینی

    * ارجنٹائن کی ایک ٹینس کھلاڑی
    یہ گہرے پانیوں کا عکس بن کر مسکراتی ہیں
    زمیں کی بندشوں کو بھول جاتی ہیں
    سباتینی سباتینی

    میں نیرودا* کی نظمیں لیکے تیرے پاس آیا ہوں
    جنوبی ایشیا کے جنگلوں میں رہنے والے خواب لایا ہوں
    سباتینی سباتینی

    مرے پہلو میں اک دریا ہے
    جس کا
    مضطرب بے چین پانی تیری تصویر یں بناتا ہے
    مٹاتا ہے
    سباتینی سباتینی

    یہ دل اک آئینہ ہے جس میں تجھ کو باندھ رکھا ہے
    ترے ہونٹوں کو لاکھوں بار چکھا ہے
    مگر یہ پیاس ہر دم آس
    کا پیالہ لئے کہتی ہے وہ تو اک سمندر ہے
    سباتینی سباتینی

    مجھے تو یہ زمیں ٹینس کا کوئی بال لگتی ہے
    تری آنکھوں کی کوئی چال لگتی ہے
    سباتینی سباتینی
    کسی پچھلے جنم میں ایسا لگتا ہے
    میں تیرے ساتھ گھوما ہوں
    اجالوں سے بھی اُجلے یہ لب و رخسار چومے ہیں
    سباتینی سباتینی

    تری باھوں میں زخمی بجلیوں کی داستانیں ہیں
    ہواؤں کی کمانیں ہیں
    سباتینی سباتینی
    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​


    * چلّی سے تعلق رکھنے والا ہسپانوی زبان کامشہور شاعر
     
  3. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    گھوڑا گلی میں ایک شام ​

    جب دھوپ مر رہی تھی
    شام آہیں بھر رہی تھی
    گذرے ہوئے دنوںکے چہرے بجھے ہوئے تھے
    آنکھیں دھواں دھواں تھیں
    غنچے جلے ہوئے تھے
    دور آسماں کے دل میں خنجر گڑے ہوئے تھے
    ہر دن چلا گیا تھا ہر رات سو گئی تھی
    ایسے میں تم نے آکر اس دل کو گدگدایا
    انجاں مسرتوں نے دروازہ کھٹکھٹایا
    برسوں کی وحشتوں کو اک دم قرار آیا
    دیکھا تجھے تو ہرسو پھر سے بہار آئی
    چہرہ تو جانتا ہوں کیا نام بھی وہی ہے
    آنکھوں کو میرے دل سے کیا کام بھی وہی ہے
    اے اجنبی شناسا
    برسوں سے پھر رہا تھا میں اس طرح سے پیاسا
    اے پہلی مسکراہٹ
    تھوڑا سا دے دلاسہ

    دیدے مجھے اجازت خود میں تجھے ملا لوں
    اس بند کارخانے کاکام پھر چلا لوں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  4. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    پانیوں کو جانے کیوں
    اس طرح کی جلدی ہے
    یہ زمیں کے چہرہ پر
    کس نے خاک مَل دی ہے
    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  5. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    آفاق کے کنارے ۔ ۔ ۔​

    سورج کے بہتے خوں سے گلنار ہوگئے ہیں
    وہ دھوپ کی صراحی ٹوٹی ہوئی پڑی ہے
    پھر شام کی سیاہی دہلیز پر کھڑی ہے
    کیا رات ہوگئی ہے
    ڈرتے تھے جس سے سارے
    وہ بات ہو گئی ہے
    مہجور وادیوں میں
    متروک راستوں پر
    گمنام جنگلوں میں
    روتی ہوئی شعاعیں اک خواب بُن رہی ہیں
    ظلمت کی د استاں کا اک باب سن رہی ہیں
    تیری تلاش میں پھر نکلیں گے چاند تارے
    مجھ سے نہ جانے کتنے پھرتے ہیں مارے مارے

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ​
     
  6. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یہ دل پاگل۔ ۔ ۔​

    یہ دل پاگل
    سدا بے کل
    نظر آتی ہے ہر بستی اسے جنگل
    یہ دل پاگل

    حسیں چہروں پہ مرنے کے لیے ہر وقت آمادہ
    بظاہر دیکھنے میں ہے بہت بھولا بہت سادہ
    دھڑکتا ہے بہت مدّہم بہت کومل
    یہ دل پاگل

    محبت کی کہانی میں ہمیشہ مرکزی کردار کرتاہے
    نہیں جو تھوکتا اس پر یہ اُس سے پیار کرتا ہے
    ہمیشہ سے یہی گھاٹے کا کاروبار کرتاہے
    ازل سے ہے بچارہ عقل سے پیدل
    یہ دل پاگل
    نہ اس کی بھوک مٹتی ہے نہ اس کی پیاس مرتی ہے
    جھپٹ کر کھولتا ہے ہر حسیں آنکھوں کا دروازہ
    بھگتتا ہوں میں اس کے بعد خمیازہ
    مرے اعصاب اس نے کردے ہیں شل
    یہ دل پاگل

    بہت شوقین ہے وحشت کدے آباد کرنے کا
    نئی ہنستی ہوئی آبادیاں برباد کرنے کا
    سدا گزرے ہوئے لمحوں کو بیٹھا یاد کرنے کا
    کبھی ہنستا ہوا شعلہ کبھی روتا ہوا بادل
    یہ دل پاگل

    کبھی شفاف نیلی جھیل سی آنکھوں پہ روتا ہے
    کبھی کالی سیہ آنکھوں کے نقشے یاد کرتا ہے
    کبھی ہونٹوں کا پیمانہ کبھی نظروں سے یارانہ
    اٹھالیتا ہے مستی میں سبُو مل جائے یا بوتل
    یہ دل پاگل

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ​
     
  7. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    بہہ رہی ہے قریہ قریہ کوبکو
    چاندنی کی نرم شیریں گفتگو

    جس کو بارش کی کتابیں یاد تھیں
    پیاس کے صحرا میں ہے وہ آبجو

    تو نہیں ہے گر تو دل کو رات دن
    مضطرب رکھتی ہے کس کی جستجو

    کس کو آنکھیں ڈھونڈتی ہیں ہر طرف
    پل رہی ہے دل میں کس کی آرزو

    تجھ سے ملنے کا اگر امکاں نہیں
    کیا کروں گا میں جہانِ رنگ و بو

    میں گرا دوں گا یہ دیواریں تمام
    بات ہو گی تجھ سے اک دن روبرو

    کس کی خاطر ہے یہ ہنگامہ بپا
    کون ہے وہ کس کے ہیں یہ کاخ و کو

    اب جدائی کی شکایت کیا کروں
    اب تو ہر جانب نظر آتا ہے تو

    آؤ میرے دل کے سایہ میں رہو
    دیکھ باھر چل رہی ہے تیز لُو

    کھل کے ہو جاتا ہے وہ ہنستا گلاب
    خوں سے کرلیتا ہے جو غنچہ وضو

    تیرا اک خاکہ بنانے کے لئے
    پی رہا ہے کب سے دل اپنا لہو

    یوں تو سب پھولوں میں تیرا عکس ہے
    کوئی بھی تجھ سا نہیں ہے ہو بہو

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  8. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    تجھ تک آنے کے لئے ہے یہ نشانی کافی
    مسکراتے ہوئے اک شاخ پہ دو رنگ کے پھول

    دیکھو یہ جوش نمو کیسی قیامت شے ہے
    لب آھن پہ کھلا دیتی ہے یوں زنگ کے پھول

    کوئی موسم ہو انہیں اس سے سروکار نہیں
    ہنستے رہتے ہیں ہر اک حال میں یہ سنگ کے پھول

    آئینہ دیکھ کے یوں ناز سے شرماؤ نہیں
    دیکھنا اور بھی ہوں گے کہیں اس ڈھنگ کے پھول

    چاھنے والوں کی یہ فوج بکھر جائے گی
    خواب ہو جائیں گے اک روز یہ اورنگ کے پھول

    صرف عارض کے گلابوں کا نہیں مجھ پہ طواف
    چومنا فرض ہے میرے لئے ہر رنگ کے پھول

    ان کے آنگن میں بھی بربادی سدا راج کرے
    بوتے رہتے ہیں جو ہر وقت یہاں جنگ کے پھول

    آؤ سب مل کے کریں موت کی ایسی تیسی
    توڑتی رہتی ہے بیدرد یوں ہر رنگ کے پھول ​

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  9. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    اپنے گھر کو بھی کہیں آگ لگاتا ہے کوئی
    دل میں رہنے کا نرالا ہے یہ دستور ترا

    اور کیا تجھ سے محبت کا صلہ چاہے گا
    ساری دنیا میں دوانہ ہوا مشہور ترا

    وہ تو رہتا ہے کہیں تیرے رگ جاں کے قریب
    اب بھی تو دور ہے اُس سے تو یہ مقدور ترا

    کبھی تاروں کبھی پھولوں کی طرف جاتا ہوں
    ہر طرف ڈھونڈ رہا ہوں رخ مستور ترا

    تجھ پہ لاکھوں ہیں دل و جاں سے گذرنے والے
    چاھنے والا ہر اک شخص ہے منصور ترا

    دل ہے کم بخت یہ کہتے ہیں زمانے والے
    میرے سینہ میں دھڑکتا ہے جوناسور ترا

    تو کہے گر تو جھنّم بھی ہے ہروقت قبول
    مجھ کو ہر فیصلہ اے دوست ہے منظور ترا

    آسماں آکے درسنگ پہ جھک جاتے ہیں
    ایسے رہتا ہے زمانہ میں یہ مغرور ترا

    جب سے دیکھا ہے تجھے چین نہیں دل کو نصیب
    رات دن یونہی دھڑکتا ہے یہ مزدور ترا​

    تجھ کو پاکر بھی وہی زرد ہے رنگت اُس کی
    اب بھی مغموم نظر آتا ہے مسرور ترا

    میں نے گر ایک غزل بھی ترے ہونٹوں پہ لکھی
    نام آفاق میں ہو جائے گا مشہور ترا

    لوگ یہ بات نہ سمجھیں تو قصور ان کا ہے
    میرے کس شعر میں ہوتا نہیں مذکور ترا

    جانے کیا چیز نگاہوں سے پلا دیتا ہے
    ہوش میں پھرنہیں آیا کوئی مخمور ترا

    چاند تارے بھی اُسی وصف کے پیرائے ہیں
    وہ جو کرتی ہے بیاں سورئہ النور ترا

    چھوڑ اس بات پہ دن رات پریشاں رہنا
    خود وہ کردے گا کسی روز یہ دکھ دور ترا

    ہر طرف بکھرے ہوئے درد کے افسانے ہیں
    شہر کا شہر نظر آتا ہے مہجور ترا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  10. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    چھوڑ کر وہ جہاں چلا آیا
    تجھ سے ملنے یہاں چلا آیا

    یہ تو سوداگروں کی بستی ہے
    سوچتا ہوں کہاں چلا آیا

    عقل مجھ کو نہیں خرید سکی
    ہو کے میں بدگماں چلا آیا

    بچھ گئی ہے زمیں ضیافت کو
    کون یہ میہماں چلا آیا

    پھر فضاؤں سے وجد برسے گا
    پھر وہی نغمہ خواں چلا آیا

    ڈھونڈنے کس کو ان خلاؤں میں
    نور کا کارواں چلا آیا

    کون یوں رات کے اندھیرے میں
    لیکے یہ کہکشاں چلا آیا

    پھر ستاروں کو کون پوچھے گا
    گر مِرا مہرباں چلا آیا

    کیوں زمیں اس طرح ہے گردش میں
    کیوں یہاں آسماں چلا آیا

    سُن کے شہرت تمہاری آنکھوں کی
    حلقۂ میکشاں چلا آیا

    دیکھتے رہ گئے وہ سب طوفاں
    کھول کے بادباں چلا آیا

    شرم سے سرخ ہو گئیں کلیاں
    کون یہ درمیاں چلا آیا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  11. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    عالمِ نزع میں اب تیرہ شبی لگتی ہے
    آج سورج کی ہر اک بات کھری لگتی ہے

    چاندنی حسن کا بازار لگا ہو گویا
    مجھ کو یہ تاروں بھری رات بھلی لگتی ہے

    ایک ٹوٹا ہوا پیمانہ لئے ہاتھوں میں
    روز آتی ہے سحر روز نئی لگتی ہے

    موت سے اب کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا
    اب مجھے اس کی ہر اک بات بُری لگتی ہے

    یہ جو مٹی سے نکلتے ہیں گلابی چہرے
    اُسی فنکار کی سب کاریگری لگتی ہے

    دن کی قسمت میں تو لے دے کے یہی سورج ہے
    جو سمجھتے ہیں انہیں رات غنی لگتی ہے

    یہ جو ہر وقت یوں بولائے ہوئے پھرتے ہو
    ہو نہ ہو یہ تو وہی دل کی لگی لگتی ہے

    جسم و دل جس کے لئے سارے زمانے سے لڑے
    اب اُسی بات پہ دونوں میں ٹھنی لگتی ہے

    اب تو ہر شہر ترا شہر نظر آتا ہے
    اب تو ہر ایک گلی تیری گلی لگتی ہے

    دل کو کس کس سے کہاں تک میں بچائے رکھتا
    ہر حسیں آنکھ یہاں جادو بھری لگتی ہے

    دل کے جانے کا ہی خطرہ تھا مجھے پہلے پہل
    عشق میں اب تو مِری جاں پہ بنی لگتی ہے

    اس سے بڑھ کر کوئی تعریف بھلا کیا ہوگی
    اچھی صورت ہے نگاہوں کو بھلی لگتی ہے

    دل کی بے چینی تجھے پاکے ذرا کم نہ ہوئی
    اب بھی دنیا میں کسی شے کی کمی لگتی ہے

    سانس لینے میں جو اک لطف تھا باقی نہ رہا
    زندگی اب فقط اک دردِ سری لگتی ہے

    آپ چاہیں تو زمانہ کو بدل کر رکھ دیں
    آپ کے ہاتھ میں جادو کی چھڑی لگتی ہے

    شہر وحشت ابھی آباد رہے گا کچھ دن
    ابھی قسمت میں مری دربدری لگتی ہے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  12. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    دل میں پوشیدہ کیا خزینے ہیں
    آنسو نکلے ہیں یا نگینے ہیں

    آسماں تیری جھیل میں کب سے
    روشنی کے رواں سفینے ہیں

    جس پہ مرتے ہیں اس سے ڈرتے ہیں
    چاھتوں کے عجب قرینے ہیں

    تم بھی کچھ بے وفا سے لگتے ہو
    دوست احباب بھی کمینے ہیں

    جن کی اشکوں سے آبیاری کی
    بیٹھ کر اب وہ زخم سینے میں

    پھول ہنستے ہیں جب بھی آتے ہیں
    خاک میں کس کے یہ دفینے ہیں

    یا جدائی گراں تھی لمحوں کی
    راہ میں یا کھڑے مہینے ہیں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  13. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    تری نگاہ کا نیلم ترے لبوں کے عقیق
    سوادِ غم میں سدا سے مرے جنوں کے رفیق

    زمانہ اس لئے سب تجھ پہ جان دیتا ہے
    تری نگاہ عنایت تری زبان خلیق

    یہ آسمان کی ہم عصر نیلگوں آنکھیں
    نظر ملائیں تو گہرے سمندروں سے عمیق

    جو لوگ دور کھڑے ہم پہ مسکراتے ہیں
    انہیں بھی حد سے گذرنے کی اب ملے توفیق

    تری نگاہ بھی ناکام لوٹ جائے گی
    کتاب عشق کا کھلتا ہے اب وہ باب دقیق

    زمین ماں کی طرح سب سے پیار کرتی ہے
    شفیق باپ سے بڑھ کر ہے آسمان شفیق

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  14. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    چاہنے والے خوب جیتے ہیں
    زخم کھاتے ہیں اشک پیتے ہیں

    تری یاد یں بھی ساتھ چھوڑ گئیں
    ایسے لمحے بھی ہم پہ بیتے ہیں

    ایسے لوگوں کی اب ضرورت ہے
    وہ دلوں کے جو چاک سیتے ہیں

    کیا عجب کھیل ہے محبت بھی
    ہارنے والے لوگ جیتے ہیں

    جب سے آنکھوں کی یہ دکان کھلی
    رات دن ہم شراب پیتے ہیں

    دل سے سب کو لگا کے رکھوں گا
    آپ کے سارے غم چہیتے ہیں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  15. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    بدل گیا ہے وہ فرسودہ عاشقی کا نظام
    چُنا ہے مُجھ کو نئے عاشقوں نے اپنا امام

    جہاں سے سیکھ کے آتے ہیں گفتگو دریا
    وہیں سے مجھ پہ اتارا گیا یہ درد کلام

    کُھلا ملا تھا وہ آنکھوں کا میکدہ شب بھر
    نہ پوچھ کیسے چڑھائے ہیں ہم نے جام پہ جام

    نہ ڈھنگ سے کبھی عقل و خِرد کی بات سنی
    نہ اختیار کیا ہے رہِ جنوں کو تمام

    جو ترے ذکر سے لمحوں کا پیٹ بھرتے ہیں
    اُن احمقوں میں نمایاں کھڑا ہے اب مرا نام

    اب آکے بات کرے ہم سے وصل کا سورج
    بہت سنا ہے شبِ ہجر کا سیاہ کلام

    جو دھوپ بن کے مری زندگی میں پھیل گئی
    ہمیشہ دل میں رہے گا اب اُس نظر کا قیام

    جہاں پہ دل میں بھڑکتے تھے آگ کے شعلے
    وہاں سے دور نہ تھا آنسوؤں کا صدر مقام

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  16. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    اب آسمان کے آگے نہ ہاتھ پھیلانا
    زمیں کے حسن کی خود پاسبان ہے مٹی

    کہیں گلاب سے چہروں کو روند ڈالا ہے
    کہیں پہ ماں کی طرح مہربان ہے مٹی

    کوئی بھی آئے سکندر ہو یا قلندر ہو
    ہر اک کے واسطے جائے امان ہے مٹی

    زمانہ چھین سکا ہے نہ اس کی شادابی
    اُسی طرح سے ابھی تک جوان ہے مٹی

    کوئی بھی آکے یہاں سے کہیں نہیں جاتا
    عجیب جادو بھری داستان ہے مٹی

    نکل کے اس سے میں باھر قدم نہ رکھّوں گا
    مری زمین میرا آسمان ہے مٹی

    خموش ہو گئے وہ ساز وہ جلال و جمال
    اب اُن دنوں کی فقط ترجمان ہے مٹی

    جو آسمان سے نیچے قدم نہ رکھتے تھے
    اب اُن ستاروں کا نام و نشان ہے مٹی

    قدم قدم پہ یہاں بستیاں ہیں پھولوں کی
    حسین لوگوں کی اک ایسی کان ہے مٹی

    کسی کے دور کے جلوؤں سے مجھ کو کیا لینا
    مرا یقین ہے مرا گمان ہے مٹی

    یہ گفتگو کا سلیقہ مجھے اسی سے ملا
    دُکھی دلوں کی ازل سے زبان ہے مٹی

    کھلا ہوا ہے ہر اک کے لئے یہ دروازہ
    ہو میسہمان کوئی میزبان ہے مٹی

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  17. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    ہے سمندر کہیں چلّاتی ہوا ہے پانی
    کہیں دریا ہے کہیں اڑتی گھٹا ہے پانی

    اُس کے رخساروں میں بن جاتا ہے یہ سرخ گلاب
    جلتی آہوں کی مرے دل میں چتا ہے پانی

    کہیں شاداب درختوں کا نیا سبز لباس
    آسمانوں کی کہیں نیلی ردا ہے پانی

    سرخ پھولوں کے نئے شہر ہوئے ہیں آباد
    خاک سے جب بھی یہاں آکے ملا ہے پانی

    اس کی فرقت میں بیابانوں کے گھر جاگتے ہیں
    جانے کیا بات ہے کیوں ان سے خفا ہے پانی

    جس سے ملتا ہے اُسی رنگ میں ڈھل جاتا ہے
    کہیں نغمہ ہے کہیں ناز و ادا ہے پانی

    تازہ اشکوں کی روایات گواہی دیں گی
    آگ سے کس نے کہا ہے کہ جد اہے پانی

    ٹوٹ پڑتا ہے کہیں قہر و غضب کی صورت
    پیار ہے بس کہیں تسلیم و رضا ہے پانی
    ا
    ب وہی پیڑ بنے سر پہ چڑھے جاتے ہیں
    میں نے جن پودوں کو دن رات دیا ہے پانی

    یوں تو ریشم کی طرح پاؤں میں بچھ جاتاہے
    گر بپھر جائے تو پھر ایک بلا ہے پانی

    گنگناتا ہے کہیں ناز سے بل کھاتا ہے
    کس سے ملنے کے لئے گھر سے چلا ہے پانی
    ا
    س کی رگ رگ میں ترا عکس نظر آتا ہے
    بس شب و روز تری حمد و ثنا ہے پانی

    پیاسے ہونٹوں سے کبھی اس کی حقیقت نہ کُھلی
    بددعا ہے تو کبھی حرفِ دعا ہے پانی

    گردش وقت سے تصویر نہ یہ دھندلائی
    جب بھی ملتا ہے تو لگتا ہے نیا ہے پانی

    اپنی تخلیق کے اس حال پہ روتا ہوگا
    گرنہیں اشک تو کیا اور بتا ہے پانی

    اُس کو پانے کے لئے خود کو مٹانا ہوگا
    جان پر کھیل کے گلزار بنا ہے پانی

    جاکے افلاک سے ہر بار پلٹ آتا ہے
    خاک پر ایسے دل و جاں سے فدا ہے پانی

    شہر کے شہر اٹھے اس کی سواگت کے لئے
    جب کسی سمت محبت سے بڑھا ہے پانی

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  18. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    بارشوں کے گھر بساتے ہیں پرندے اور درخت
    دھوپ کی قلمیں لگاتے ہیں پرندے اور درخت

    چلتے چلتے ہر قدم پر لڑکھڑاجاتا ہوں میں
    مجھ کو گرنے سے بچاتے ہیں پرندے اور درخت

    کاغذی چہروں سے میری شاعری کو کیا غرض
    میرے سارے گیت گاتے ہیں پرندے اور درخت

    زندگی بے چین ہے دنیا سے جانے کے لئے
    یہ تو اُس کا دل بڑھاتے ہیں پرندے اور درخت

    سارے تنہائی کے قصّے بھول جاتا ہے یہ دل
    محفلیں ایسی سجاتے ہیں پرندے اور درخت

    آؤ کھل کر تم بھی اپنی داستانِ غم کہو
    ہر کسی کا غم بٹاتے ہیں پرندے اور درخت

    گنگناتے سرخ نغمے لہلہاتے سبز رنگ
    خاک سے کیا کیا اٹھاتے ہیں پرندے اور درخت

    کچھ نہیں کرتا میں ان کی میزبانی کے لئے
    اپنے موسم ساتھ لاتے ہیں پرندے اور درخت

    جب ہواؤں کو سناتا ہوں کوئی تازہ کلام
    ساتھ میرے گنگناتے ہیں پرندے اور درخت

    یہ ہوا بے چین پھرتی ہے یہاں کس کے لئے
    بات کیا سب سے چھپاتے ہیں پرندے اور درخت

    جب سے یادوں میں کھلی رکھی ہے دریا کی کتاب
    روز اُس کو پڑھنے آتے ہیں پرندے اور درخت

    وہ جو پہلی بار میں نے آنکھ کھولی تھی وہاں
    یاد وہ منظر دلاتے ہیں پرندے اور درخت

    خود سے کتنی بار میں ان راستوں میں گم ہوا
    جاکے مجھ کو ڈھونڈ لاتے ہیں پرندے اور درخت

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  19. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    گھر کے باھر گھر کے اندر جو بھی ہو
    دیکھتی ہیں سب بچاری کھڑکیاں

    دھوپ میں کرتی ہیں شامل چاندنی
    ایسی دیکھی ہیں لکھاری کھڑکیاں

    جن سے آتی ہے دلوں میں روشنی
    ہم نے کھولی ہیں وہ ساری کھڑکیاں

    دھوپ کے آنگن میں کھلتی ہیں تمام
    جانتا ہوں میں تمہاری کھڑکیاں

    چاند ہو سورج ہو یا بادِ نسیم
    ہار جاتی ہیں کنواری کھڑکیاں

    بند رکھنا ان کا اب ممکن نہیں
    کھول دو آکر ہماری کھڑکیاں

    ہاتھ پھیلائے کھڑی ہیں سامنے
    یہ ہمیشہ سے بھکاری کھڑکیاں

    لوٹ جاتی ہے جنہیں چھوکر صبا
    ہائے وہ قسمت کی ماری کھڑکیاں

    لطف اٹھالیتے ہیں دروازے تمام
    کرتی ہیں دن رات خواری کھڑکیاں

    مجھ کو لیجاتی ہیں خوابوں کے نگر
    اس لئے لگتی ہیں پیاری کھڑکیاں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  20. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    شہر کی اس تنگ دامانی سے یہ دل تنگ ہے
    مجھ کو رہنے کے لئے چھوٹا سا کوئی گاؤں دے

    اب تو اس بستی پہ نازل موسموں کا قہر ہو
    گرمیوں میں دھوپ ایسی سردیوں میں چھاؤں دے

    یہ تو ہر رستے پہ چلنے کے لئے تیار ہیں
    جو فقط تیری طرف اٹھیں مجھے وہ پاؤں دے

    ہم تمہارے ہیں ہمیں اس بات سے مطلب نہیں
    آنسوؤں کے شہر دے یا قہقہوں کے گاؤں دے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     

اس صفحے کی تشہیر