ایک جانب چاندنی - احمد فواد

سندباد

لائبریرین

خاک کو خاک میں ملا دے گا
اور تُو کیا مجھے سزا دے گا

دل میں پوشیدہ وہ جہنّم ہے
سب زمیں آسماں جلا دے گا

تیرے چہرہ کا رنگ مجھ سے ہے
تو مجھے کس طرح مٹا دے گا

چاہنے والے سارے جھوٹے ہیں
دل بھی اک دن تجھے بُھلا دے گا

تو بھی دنیا میں ہو گیا شامل
اب مجھے کون حوصلہ دے گا

خاک ہو جائیں گے گلاب تمام
سب ستارے کوئی بجھا دے گا

ذرّے ذرّے کا دل ٹٹولا ہے
کوئی سوچا ترا پتہ دے گا

تو کہ ناواقفِ محبت ہے
تو محبت کا کیا صلہ دے گا

تجھ سے آباد ہے یہ ویرانہ
دل ہمیشہ تجھے دعا دے گا

زندگی سخت کام ہے اک دن
سانس لینا تجھے تھکا دے گا

پوری قوّت سے دل اگر رویا
ان ستاروں کے دل ہلا دے گا

دیکھ کر دن نثار ہو جائے
ایسی ہر رات وہ ضیاء دے گا

وہ تو سیلاب ہے محبت کا
خس و خشاک کو بہا دے گا

آؤ اس دل سے دوستی کرلو
تم کو جینے کے گُر سکھا دے گا

نیند سے سب کو جو اٹھاتا ہے
سب کو اک روز وہ سلا دے گا

چھین کر دھوپ کا جلا ملبوس
چاندنی کی نئی ردا دے گا

جن کی آنکھوں میں صبح ہنستی ہے
ایسے پھولوں کے ہار لادے گا

تونے اُس شخص کو بھی مار دیا
اب تجھے کون یاں صدا دے گا

یہ محبت نہیں عبادت ہے
دل تجھے دیوتا بنا دے گا

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

آگیا آج وہ زمانہ بھی
کفر ٹھہرا ہے دل لگانا بھی

جس کو ہم آسمان کہتے تھے
پھٹ گیا ہے وہ شامیانہ بھی

دیکھ کر تو یقیں نہیں آتا
بند ہوگا یہ کارخانہ بھی

قیس و فرہاد اٹھ گئے اک دن
ختم ہوگا ترا فسانہ بھی

تجھ سے مل کر اداس ہوتا ہے
ہوگا دل سا کوئی دوانہ بھی

چاہے جانا بھی تجھ کو مشکل ہے
اور مشکل ہے بھول جانا بھی

یوں تو پہلے بھی کونسا گھر تھا
چھن گیا آج وہ ٹھکانہ بھی

ایک پل بھی کہیں قرار نہیں
کیا مصیبت ہے دل لگانابھی

جو بنانے میں اتنا وقت لگا
کیا ضروری ہے وہ مٹانا بھی

جب تعلق نہیں رہا تجھ سے
چھوڑ دے اب یہ آزمانا بھی

کیا کریں اب تو اُس سے ملنے کا
کوئی ملتا نہیں بہانہ بھی

جب صبا ساتھ ساتھ چلتی تھی
آہ کیسا تھا وہ زمانہ بھی

اتنی کم گوئی بھی نہیں اچھی
سُن کے سب کی انہیں سنانا بھی

اب تو ممکن نظر نہیں آتا
دل کو اس راہ سے ہٹانا بھی

چوٹ کھانا تو کوئی بات نہ تھی
لیکن اُس پر یہ مسکرانا بھی

کیا تمہارے لئے ضروری ہے
ساری مخلوق کو ستانا بھی

ٹھیک ہے سب سے دل لگی لیکن
آکے پھر مجھ کو سب بتانا بھی

تیری آنکھوں نے بھی کہا مجھ سے
کچھ طبعیت تھی شاعرانہ بھی

دل بھی کچھ خوش یہاں نہیں رہتا
اٹھ گیا یاں سے آب و دانہ بھی

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین


کوئی اس سے یہاں بچا بھی ہے
اس مرض کی کوئی دوا بھی ہے

ان ستاروں میں ان نظاروں میں
دیکھنا اُس کا نقشِ پا بھی ہے

ڈوب کر اُس سے کیا گلہ کرتے
وہ خدا بھی ہے نا خدا بھی ہے

صرف تو ہی یہاں نہیں موجود
کوئی لگتا ہے دوسرا بھی ہے

ایک انساں کے کتنے چہرے ہیں
وہ جو اچھا ہے وہ بُرا بھی ہے

اتنا پاگل نہیں رہا اب دل
سوچتا بھی ہے بولتا بھی ہے

کچھ دنوں سے تو ایسا لگتا ہے
کوئی دل میں تیرے سوا بھی ہے

جس سے روشن ہیں روز و شب میرے
وہ محبت ہی اک سزا بھی ہے

تو جو سرچشمہ ہے مسرت کا
تجھ سے مل کر یہ دل دکھا بھی ہے

صرف یہ نیلا آسمان نہیں
بیچ میں اور فاصلہ بھی ہے

ایک اک لمحہ سب بدلتا ہے
جو پرانا ہے وہ نیا بھی ہے

جس سے ملنے سے دل گریزاں ہے
ہر گھڑی اُس کو ڈھونڈتا بھی ہے

۔۔۔٭٭٭۔۔۔​
 

سندباد

لائبریرین

بس یہی سوچ کر گلہ بھی ہے
آپ نے حالِ دل سنا بھی ہے

ہر طرف ایک آہ و زاری ہے
اس نظر سے کوئی بچا بھی ہے

آپ کو کیا خبر محبت کی
آپ نے دل کبھی دیا بھی ہے

ایک سے دن ہیں ایک سی راتیں
تیری دنیا میں کچھ نیا بھی ہے

اب بھی یہ دل اُسی پہ مرتا ہے
ظلم کی کوئی انتہا بھی ہے

اے ستارو اسی فضا میں کہیں
دل کا ٹوٹا ہوا دیا بھی ہے

آؤ رہ جائیں اُس کی آنکھوں میں
دھوپ بھی ہے یہاں گھٹا بھی ہے

اس تغافل کا کیا سبب ہوگا
جب وہ سب حال جانتا بھی ہے

کچھ تو عادت ہے لڑکھڑانے کی
کچھ تری آنکھ میں نشہ بھی ہے

تیری خاطر جو خود کو ہار آیا
اُس دوانے کا کچھ پتہ بھی ہے

دن کی آنکھیں جو چھین لیتے ہیں
ان میں شامل وہ دلربا بھی ہے

چھوڑو اب جان سے بھی جاؤگے
کیا بچھڑ کر کوئی ملا بھی ہے

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

دل تجھے دیکھ دیکھ ڈولے گا
منہ سے اک لفظ بھی نہ بولے گا

دیکھنا یہ حقیر پُر تقصیر
سارے اسرار تیرے کھولے گا

چل بسا رات وہ ستارہ بھی
اب یہ کھڑکی کوئی نہ کھولے گا

خاک پر خاک کچھ اثر ہوگا
چھوڑ موتی کہاں یہ رولے گا

کس کو معلوم تھا کہ خود یہ دل
میری دنیا میں زھر گھولے گا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

شاعری کو دکاں بنا دوں گا
میں تجھے داستاں بنا دوں گا

چاند تارے سمیٹ کر سارے
اک نیا آسماں بنا دوں گا

تیرا چہرہ اتار کر دل میں
خود کو میں جاوداں بنا دوں گا

تو یہاں خوش نہیں تو تیرے لئے
کوئی تازہ جہاں بنا دوں گا

چھیڑ کر نغمۂ محبت پھر
دل کو میں نوجواں بنا دوں گا

شاعری کے لطیف لہجہ سے
پھر تجھے مہرباں بنادوں گا

اپنا دل بانٹ کر ہواؤں میں
سب کو پھر نغمہ خواں بنا دوں گا

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

کچھ تو ظالم تری نگہ بھی ہے
دل کو مرنے کا شوق سا بھی ہے

موت اُس قصرِ ناز کی جانب
کیا کوئی اور راستہ بھی ہے

جو تجھے ڈھونڈنے گیا خود سے
اُس بچارے کا کچھ پتہ بھی ہے

ڈوب جا اُس کی گہری آنکھوں میں
اس مرض کی یہی دوا بھی ہے

ہر طرف تجھ کو ڈھونڈتا پھرتا
چاند تاروں کا قافلہ بھی ہے

میں نہیں خاک میں کھلا تنہا
اور پھولوں کا سلسلہ بھی ہے

تجھ کو شاید یقیں نہ آئے مگر
کوئی دل میں ترے سوا بھی ہے

اس کمینی ذلیل دنیا میں
دل کا غنچہ کبھی کھلا بھی ہے

اب فقط دیکھنے کا شوق نہیں
بات کرنے کا حوصلہ بھی ہے

عشق کی سب نئی کتابوں میں
دیکھ اب اپنا تذکرہ بھی ہے

خاک میں اس طرح میں کیوں ملتا
اس میں شامل تری رضا بھی ہے

دیکھتے رہنا رات دن آنکھیں
یہ نظر کے لئے شفا بھی ہے

بس یہی سوچ کر خموش رہے
راہزن ہی تو رہنما بھی ہے

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

دل اسی بات پر خفا بھی ہے
آپ سے میں نے سب کہا بھی ہے

آج پھر وہ نظر اٹھی ہوگی
اس لئے درد کچھ سوا بھی ہے

دیکھ کر سب نے موند لیں آنکھیں
کوئی دنیا سے خوش گیا بھی ہے

جانے کیوں اجنبی سا لگتا ہے
وہ جو کم بخت آشنا بھی ہے

توڑ کر دل کہاں پہ جاؤ گے
اس سے اچھی کوئی جگہ بھی ہے

جان سے تو گذر ہی جائیں گے
مشکل اک اور مرحلہ بھی ہے

سخت ناراض ہے یہ دل جس سے
ٹوٹ کر اُس کو چاہتا بھی ہے

تیری شفّاف گہری آنکھوں میں
اک جہاں اس سے ماورا بھی ہے

دل کو تاراج کرنے والے سُن
اس حویلی میں تو رہا بھی ہے

رات دن تجھ کو تکتا رہتا ہوں
اور بندے کی کچھ خطا بھی ہے

سانس لینے کی اس مشقّت میں
تلخ و شیریں سا اک مزہ بھی ہے

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

کس نے اس طرح مرے دل کی طرح ڈالی ہے
پہلے دن سے یہ کرایہ کے لئے خالی ہے

اس تغافل سے تو لگتا ہے کہ اب اپنے لئے
کائنات اُس نے کوئی اور بنا ڈالی ہے

تیرے آنے کی تو صورت ہے نہ امید کوئی
بھیج دے کوئی کرن رات بہت کالی ہے

تم تو پاگل ہو چلو جاؤ کہیں اور مرو
نام لینا بھی محبت کا یہاں گالی ہے

آپ مجرم ہیں نہیں اس میں کسی کا بھی قصور
ہم نے خود جان کے یہ دل کی بلا پالی ہے

تجھ کو دیکھے گا نہ سوچے گا نہ اب چاہے گا
آج اِس دل نے کوئی ایسی قسم کھالی ہے

جانے کیا سوچ کے اس پیڑ کو اپنایا تھا
پھول ہیں اس میں نہ پتّے نہ کوئی ڈالی ہے

دل کو ہم سارے زمانہ سے جدا جانتے تھے
اب کھلا ہے کہ یہی سب سے بڑا جعلی ہے

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

بجھ گئے ہیں جو دئے جلتے تھے اُن گالوں میں
اب کوئی بھی نہیں آئے گا تری چالوں میں

ایک ہی پَل میں وہ کس طرح زمیں بوس ہوئی
وہ عمارت جو بنائی تھی کئی سالوں میں

کل تو تقدیر ترے ساتھ پھرا کرتی تھی
آج پوچھے گا تجھے کون بُرے حالوں میں

وقت جس نے انہیں بچپن میں لگایا تھا خضاب
کرنے آیا ہے سفیدی بھی ترے بالوں میں

نکتہ سنجی نہیں آواز کی لے دیکھتے ہیں
شاعری آکے کہاں پھنس گئی قوّالوں میں

اپنے ہونے پہ ندامت کا وہ احساس رہا
کٹ گئی عمر جلوسوں میں کچھ ہڑتالوں میں

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

نہیں یہ ذہن تنہا الجھنوں میں
ہے میرا دل بھی مشکل مرحلوں میں

مرا پھولوں سے مطلب پھول وہ ہیں
جو کھلتے ہیں ہمیشہ آئینوں میں

میں اُن اشکوں کا ماتم کررہا ہوں
جو دب کر رہ گئے ہیں قہقہوں میں

نکل کر خود سے تجھ کو ڈھونڈتے ہیں
ہے میرا نام بھی اُن پاگلوں میں

یہ سارے چاند تارے اجنبی ہیں
کوئی اپنا نہیں ان جمگھٹوں میں

نہ جانے کس طرف سے آئے گا وہ
بکھر کر رہ گیا ہوں راستوں مں

سمجھتا ہی نہیں ہے بات کوئی
یہ بھیجا ہے مجھے کن جاہلوں میں

جو تیرے راستہ میں جل رہے ہیں
ہے میرا دل بھی اُن ٹوٹے دیوں میں

جلا کرتے تھے جن سے چاند تارے
وہ چہرے بجھ گئے ہیں مقبروں میں

کہاں ہمراہ دنیا چل رہی تھی
کہاں تنہا کھڑا ہوں منزلوں میں

بہار آکر گلی میں رک گئی ہے
گلاب ایسے کھلے ہیں کھڑکیوں میں

نئے غنچوں کے آؤ گیت گائیں
دھرا کیا ہے پرانی چاہتوں میں

تجھے پاکر بھی آنکھیں جاگتی ہیں
مزہ دیکھا ہے ایسا رتجگوں میں

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

نظر آیا ہے وہ آکر بنوں میں
جسے ڈھونڈا سدا آبادیوں میں

یہ اب کس کی سواری آرہی ہے
درخت آئے کھڑے ہیں راستوں میں

ستارے کیسی باتیں کر رہے ہیں
یہ کس کا تذکرہ ہے تتلیوں میں

پرندے کس کے نغمے گا رہے ہیں
خموشی کیوں ہے اتنی پتھروں میں

یہ دریا رات دن کیوں چل رہے ہیں
یہ کس نے آگ بانٹی جگنوؤں میں

زمیں کس کو خلا میں ڈھونڈتی ہے
یہ کون آیا کھڑا ہے بادلوں میں

پہاڑوں نے اِنہیں کیا کہہ دیا ہے
یہ کیسا شور اٹھا ہے ندّیوں میں

یہ سارے لفظ کس جانب رواں ہیں
یہ کیا جھگڑا ہے سارے شاعروں میں

ہَوا کس کے لئے یوں دربدر ہے
کھلائے پھول کس نے دلدلوں میں

کھڑی ہے شام کیوں یوں مضمحل سی
سحر کیوں پھر رہی ہے جنگلوں میں

کہاں جاتے ہیں گر کر زرد پتّے
چھڑی ہے بحث یہ کیا بلبلوں میں

سمندر روز و شب کیوں مضطرب ہے
اترتا کون ہے یہ بارشوں میں

صبا کیوں ہر کلی کو چومتی ہے
یہ پاگل پن ہے کیسا پانیوں میں

ہنسی میں گونجتے ہیں کس کے نغمے
جلائے دیپ کس نے آنسوؤں میں

جنوں کو جانے یہ کیا ہوگیا ہے
یہ کیسی بے رخی ہے گلرخوں میں

اجالے کیا ہوئے اُن عارضوں کے
کمی کیسی ہے دل کی وحشتوں میں

گلا کیوں گھٹ رہا ہے خواہشوں کا
یہ سنّاٹا ہے کیسا ولولوں میں

وہ پاس آکر بھی مجھ سے کیوں جدا ہے
یہ دوری کیوں ہے اتنی قربتوں میں

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین

نہ اب شعلے بھڑکتے ہیں دلوں میں
نہ وہ شوخی رہی ہے دلبروں میں

بھری ہیں ہوشمندی کی کتابیں
اڑی ہے خاک ایسی میکدوں میں

میں ان لوگوں سے مل کر کیا کروں گا
نہیں لگتا ہے یہ دل محفلوں میں

اکیلا اس لئے میں گھومتا ہوں
وہ آتا ہے ہمیشہ خلوتوں میں

کھلی ہیں ہر طرف وہ درسگاہیں
اضافہ ہو رہا ہے جاہلوں میں

زمیں کا رنگ خاکی ہو گیا ہے
بچاری کب سے ہے ان گردشوں میں

سمندر کے سمندر پی گئے ہیں
یہ کیسی پیاس ہے ان ساحلوں میں

وہ آنکھوں کے پیالے بھول جاؤ
شراب اب بک رہی ہے بوتلوں میں

گلابوں میں وہ چہرہ جھانکتا ہے
چمکتی ہیں وہ آنکھیں بجلیوں میں

اب اس جلتے جہنم سے نکالو
چھپالے مجھ کو اپنے بازوؤں میں

گذر جاتا ہے جو آنکھیں چرائے
وہی رہتا ہے دل کی دھڑکنوں میں

مری ہر سانس جس کے واسطے تھی
کھڑا ہے وہ بھی میرے قاتلوں میں

حریمِ دل ہے قصرِ ناز جس کا
اُسے کیا ڈھونڈتا ہے مسجدوں میں

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین
دل کے دروازہ پہ۔ ۔ ۔​

دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے
اِن دو آنکھوں کو سمندر کے کنارے لکھ دے
گہری جھیلوں میں ستاروں کے دئے جلتے ہیں
دھوپ نے سبز درختوں کے وطن لوٹ لئے
دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے

دونوں ہاتھوں میں نئے سرخ گلاب
چودھویں رات کا مہتاب لئے
دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے

جیسے آفاق کے رخسار دھک اٹھتے ہیں
جیسے صحراؤں میں گلزار مہک اٹھتے ہیں
جیسے نغموں کو کوئی باندھ کے لے جاتا ہے
جیسے دریا کسی ویرانے میں کھو جاتے ہیں
دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے

آنسوؤں میں نئے آلام کے پیوند لگے
اس نئے درد کا درمان بھی مل جائے گا
تتلیاں کس کے تصور میں یوں دیوانی بنی پھرتی ہیں
خاک کے سینہ میں رنگوں کے کئی قریے ہیں
سبز پتوں کو خزاں سے نہیں ملنے دینا
دل کے دروازہ پہ

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین
ان دو آنکھوں ۔ ۔ ۔​

ان دو آنکھوں میں بہت دور کہیں
گذرے موھوم زمانوں کی خموشی پہنے
ایک محجوب خوشی رہتی ہے

صاف شفّاف فضاؤں میں
نگاہوں کی حدوں سے آگے
خواب آوارہ پرندوں کی طرح
دھیمے لہجہ میں
کسی گیت کا بازو تھامے
پھر میرے دل کی طرف آتے ہیں

ان دو آنکھوں سے کوئی جاکے کہے
آسمانوں سے زمیں پر آئیں
کوئی تارہ کوئی بادل کوئی نغمہ لے کر
کوئی دریا کوئی چشمہ کوئی جھونکا لے کر

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین
تازہ سینہ میں ۔ ۔ ۔​


تازہ سینہ میں محبت کا فسوں جاگا ہے
خواب زاروں سے ستاروں کے سفینے اترے
گھنٹیاں ننگے قدم، خاک بسر، جانے کہاں جاتی ہیں

اس نئے دکھ کے لئے کوئی نئی دنیا ہو
ہوں نئے پیڑ نیا چاند نیا سورج ہو
ہوں نئے حرف نئے لفظ نئی نظمیں ہوں

چاندنی رات کا ملبوس نہ یوں میلا ہو
دھوپ کے لہجہ میں نرمی ہو شرافت ہو
محبت کی سی شیرینی ہو

دو نئے ہاتھ نئے ہونٹ نئی آنکھیں ہوں
ہو نیا ذہن نئی روح نئی صورت ہو
اک نیا دل ہو
جو پاگل ہو
محبت کے لئے خود کو جلا سکتا ہو
جس میں صحراؤں کی وسعت ہو
سمندر کی سی گہرائی ہو
جس میں خاموشی ہو
ھیبت ہو پریشانی ہو

خاک میں رفعت افلاک ملا سکتا ہو
نیند سے مردہ پہاڑوں کو اٹھا سکتا ہو

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین
یہ جو گہری اُداس۔ ۔ ۔​

یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں
ان میں خوابیدہ سب زمانے ہیں

سارے پھول ان کے نام لیوا ہیں
چاند تاروں میں ان کی باتیں ہیں

ان کی باہوں میں سب سمندر ہیں
گیت دریا انہی کا گاتے ہیں

ان سے چلتی ہے عشق کی دنیا
شعر سب ان کی وار داتیں ہیں

آسماں ان کا اک تصور ہے
وقت بے چارہ ان کا نوکر ہے
ان کی ہربات مے کا پیالہ ہے
ان سے ہر سمت پہ اجالا ہے

ان میں گذرے دنوں کا جادو ہے
ان میں آتی رُتوں کی خوشبو ہے

چاندنی ان میں دھوپ ان میں ہے
حسن کا سارا روپ ان میں ہے

دکھ کی گہرائیاں بھی ان میں ہیں
سکھ کی انگڑائیاں بھی ان میں ہیں

ان میں خوابوں کی وہ کتاب بھی ہے
دل کا ٹوٹا ہوا رباب بھی ہے

میری ساری خوشی انہی سے ہے
دل میں یہ روشنی انہی سے ہے
یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔
 

سندباد

لائبریرین
زندگی کیا ہے ۔ ۔ ۔​
زندگی کیا ہے ان آنکھوں کی بشارت ہی تو ہے
ورنہ دنیا تونرا گھپلہ ہے
شہر کیا شورو شغب مکرو ریا جھوٹ کی تصویریں ہیں

اک طرف جلتے ہوئے گھر ہیں
جہاں بچوں کی کمھلائی ہوئی چیخیں ہیں
خاک میں پھولوں کی مٹتی ہوئی تحریریں ہیں

دوسری سمت فصیلوں میں کہیں قید خوشی
جاں بلب ننگے بدن ہنستی ہے اک مفلس و قلاش ہنسی
کھوکھلی سنگدل اوباش ہنسی

اک طرف عرصۂ فرقت ہے محبت کی پرانی بستی
ہر گلی کوچے میں اشکوں کے نئے جھگڑے ہیں
دور تک آہوں کی پھیلی ہوئی جاگیریں ہیں
دوسری سمت سیاست ہے
جہاں چھوٹی بڑی توندوں کا بدمست ھجوم
ریشمی سرخ لبادوں میں پڑی لاشوں پہ منڈلاتا ہے
سب کے ہاتھوں میں خوشامد کی چمکتی ہوئی شمشیریں ہیں

اک طرف خوابوں کے قصبہ میں
کوئی درد کا اک تارہ لئے روتا ہے
زرد رخساروں کے ویران دریچے کے قریب
اک دیا بچھڑے ہوئے گیت لئے سوتا ہے

دوسری سمت صداؤں کی نئی منڈی میں
گونگے الفاظ پہ الفاظ چڑھے بیٹھے ہیں
سب کے کانوں میں پڑی شور کی زنجیریں ہیں

اور اُس سمت ان آنکھوں میں نئی صبح کے آثار نظر آتے ہیں
روشنی کے لب و رخسار نظر آتے ہیں
اجنبی لوگ بھی دلدار نظر آتے ہیں

ہر نئی نظم مری اُس کی عنایت ہی تو ہے
زندگی کیا ہے ان آنکھوں کی بشارت ہی تو ہے

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین
خوبصورت آشنا۔ ۔ ۔​

خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
زرد کلیاں سرخ شعلے سرد رات
اجلی سندر ساعتوں کی جاگتی پیشانیاں
قہقہوں کے ہاتھ پکڑے دور جاتی گھنٹیاں
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

مردہ خوابوں کے کفن بچھڑے ہوئے نغموں کے گھر
تازہ اشکوں کے علاقے بوڑھی آہوں کے دیار
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

دور تنہا وادیوں میں گیت گاتی ندّیاں
خوابگوں راہوں میں گھر کا راستہ بھولی ہوئی پگڈنڈیاں
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

خاک کے آنگن میں ہنستے کھیلتے تازہ گلاب
دھوپ کی شعلہ بیانی چاند کا شیریں کلام
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
بے حیا کوّوں کی باتیں نیک خوبارش کے گیت
رات کے قدموں کی آھٹ سُن کے روتی زرد شام
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

جنگجو شہروں کی گلیاں چیختی چلّاتی دھول
چاندنی میں گم مہکتے چاھتوں کے سرخ پھول
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

سبز پتّوں کو پکڑ کر چومتی عیاش دھوپ
بے سبب گلیوں میں دن بھر جھومتی اوباش دھوپ
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

آسماں کی جھیل میں بہتے ہوئے تاروں کے گیت
تتلیوں کے رنگ پہنے اڑتے گلزاروں کے گیت
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

گہرے نیلے پانیوں میں رقص کرتی کشتیاں
شام کے آنگن میں کھلتی نیم پاگل کھڑکیاں
خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 

سندباد

لائبریرین
خودغرض​
چاہے شب بے نقاب ہو جائے
دن کی صورت خراب ہو جائے
آسماں چاہے صرف گالی ہو
یہ سمندر کا جام خالی ہو
چاھے پھولوں کے دل پریشاں ہوں
گاؤں برباد شہر ویراں ہوں
سارے دریا کہیں پہ کھو جائیں
چاند تارے یہ جا کے سو جائیں
سب شعاعیں سیاہ ہو جائیں
سارے نغمے تباہ ہو جائیں
حرف اڑ جائیں لفظ مرجائیں
پیڑ دنیا سے کوچ کر جائیں
قہقہے آنسوؤں کے ساتھ رہیں
راستے سارے خالی ہاتھ رہیں
تتلیاں کیکڑوں کی صورت ہوں
مکّھیاں حسن کی علامت ہوں
سب کتابیں جہاں سے اٹھ جائیں
فکر کے سب خزانے لُٹ جائیں
زندگی موت کی سیاہی ہو
ہر نئی سانس اک تباہی ہو
خانہ جنگی ہو یا بغاوت ہو
سب کواک دوسرے سے نفرت ہو
صبح میں شام چاہے مدغم ہو
نظمِ کُل کائنات برہم ہو
وہ خدا ہو نہ یہ خدائی ہو
حاکم وقت چاہے نائی ہو
گرکے افلاک خاک ہو جائیں
کہکشاں جل کے راکھ ہو جائیں
بس مرا یار میرے ساتھ رہے
یونہی ہاتھوں میں اُس کا ہاتھ رہے

۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔​
 
Top