ایک جانب چاندنی - احمد فواد

سندباد نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 25, 2007

  1. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    خاک کو خاک میں ملا دے گا
    اور تُو کیا مجھے سزا دے گا

    دل میں پوشیدہ وہ جہنّم ہے
    سب زمیں آسماں جلا دے گا

    تیرے چہرہ کا رنگ مجھ سے ہے
    تو مجھے کس طرح مٹا دے گا

    چاہنے والے سارے جھوٹے ہیں
    دل بھی اک دن تجھے بُھلا دے گا

    تو بھی دنیا میں ہو گیا شامل
    اب مجھے کون حوصلہ دے گا

    خاک ہو جائیں گے گلاب تمام
    سب ستارے کوئی بجھا دے گا

    ذرّے ذرّے کا دل ٹٹولا ہے
    کوئی سوچا ترا پتہ دے گا

    تو کہ ناواقفِ محبت ہے
    تو محبت کا کیا صلہ دے گا

    تجھ سے آباد ہے یہ ویرانہ
    دل ہمیشہ تجھے دعا دے گا

    زندگی سخت کام ہے اک دن
    سانس لینا تجھے تھکا دے گا

    پوری قوّت سے دل اگر رویا
    ان ستاروں کے دل ہلا دے گا

    دیکھ کر دن نثار ہو جائے
    ایسی ہر رات وہ ضیاء دے گا

    وہ تو سیلاب ہے محبت کا
    خس و خشاک کو بہا دے گا

    آؤ اس دل سے دوستی کرلو
    تم کو جینے کے گُر سکھا دے گا

    نیند سے سب کو جو اٹھاتا ہے
    سب کو اک روز وہ سلا دے گا

    چھین کر دھوپ کا جلا ملبوس
    چاندنی کی نئی ردا دے گا

    جن کی آنکھوں میں صبح ہنستی ہے
    ایسے پھولوں کے ہار لادے گا

    تونے اُس شخص کو بھی مار دیا
    اب تجھے کون یاں صدا دے گا

    یہ محبت نہیں عبادت ہے
    دل تجھے دیوتا بنا دے گا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  2. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    آگیا آج وہ زمانہ بھی
    کفر ٹھہرا ہے دل لگانا بھی

    جس کو ہم آسمان کہتے تھے
    پھٹ گیا ہے وہ شامیانہ بھی

    دیکھ کر تو یقیں نہیں آتا
    بند ہوگا یہ کارخانہ بھی

    قیس و فرہاد اٹھ گئے اک دن
    ختم ہوگا ترا فسانہ بھی

    تجھ سے مل کر اداس ہوتا ہے
    ہوگا دل سا کوئی دوانہ بھی

    چاہے جانا بھی تجھ کو مشکل ہے
    اور مشکل ہے بھول جانا بھی

    یوں تو پہلے بھی کونسا گھر تھا
    چھن گیا آج وہ ٹھکانہ بھی

    ایک پل بھی کہیں قرار نہیں
    کیا مصیبت ہے دل لگانابھی

    جو بنانے میں اتنا وقت لگا
    کیا ضروری ہے وہ مٹانا بھی

    جب تعلق نہیں رہا تجھ سے
    چھوڑ دے اب یہ آزمانا بھی

    کیا کریں اب تو اُس سے ملنے کا
    کوئی ملتا نہیں بہانہ بھی

    جب صبا ساتھ ساتھ چلتی تھی
    آہ کیسا تھا وہ زمانہ بھی

    اتنی کم گوئی بھی نہیں اچھی
    سُن کے سب کی انہیں سنانا بھی

    اب تو ممکن نظر نہیں آتا
    دل کو اس راہ سے ہٹانا بھی

    چوٹ کھانا تو کوئی بات نہ تھی
    لیکن اُس پر یہ مسکرانا بھی

    کیا تمہارے لئے ضروری ہے
    ساری مخلوق کو ستانا بھی

    ٹھیک ہے سب سے دل لگی لیکن
    آکے پھر مجھ کو سب بتانا بھی

    تیری آنکھوں نے بھی کہا مجھ سے
    کچھ طبعیت تھی شاعرانہ بھی

    دل بھی کچھ خوش یہاں نہیں رہتا
    اٹھ گیا یاں سے آب و دانہ بھی

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  3. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy


    کوئی اس سے یہاں بچا بھی ہے
    اس مرض کی کوئی دوا بھی ہے

    ان ستاروں میں ان نظاروں میں
    دیکھنا اُس کا نقشِ پا بھی ہے

    ڈوب کر اُس سے کیا گلہ کرتے
    وہ خدا بھی ہے نا خدا بھی ہے

    صرف تو ہی یہاں نہیں موجود
    کوئی لگتا ہے دوسرا بھی ہے

    ایک انساں کے کتنے چہرے ہیں
    وہ جو اچھا ہے وہ بُرا بھی ہے

    اتنا پاگل نہیں رہا اب دل
    سوچتا بھی ہے بولتا بھی ہے

    کچھ دنوں سے تو ایسا لگتا ہے
    کوئی دل میں تیرے سوا بھی ہے

    جس سے روشن ہیں روز و شب میرے
    وہ محبت ہی اک سزا بھی ہے

    تو جو سرچشمہ ہے مسرت کا
    تجھ سے مل کر یہ دل دکھا بھی ہے

    صرف یہ نیلا آسمان نہیں
    بیچ میں اور فاصلہ بھی ہے

    ایک اک لمحہ سب بدلتا ہے
    جو پرانا ہے وہ نیا بھی ہے

    جس سے ملنے سے دل گریزاں ہے
    ہر گھڑی اُس کو ڈھونڈتا بھی ہے

    ۔۔۔٭٭٭۔۔۔​
     
  4. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    بس یہی سوچ کر گلہ بھی ہے
    آپ نے حالِ دل سنا بھی ہے

    ہر طرف ایک آہ و زاری ہے
    اس نظر سے کوئی بچا بھی ہے

    آپ کو کیا خبر محبت کی
    آپ نے دل کبھی دیا بھی ہے

    ایک سے دن ہیں ایک سی راتیں
    تیری دنیا میں کچھ نیا بھی ہے

    اب بھی یہ دل اُسی پہ مرتا ہے
    ظلم کی کوئی انتہا بھی ہے

    اے ستارو اسی فضا میں کہیں
    دل کا ٹوٹا ہوا دیا بھی ہے

    آؤ رہ جائیں اُس کی آنکھوں میں
    دھوپ بھی ہے یہاں گھٹا بھی ہے

    اس تغافل کا کیا سبب ہوگا
    جب وہ سب حال جانتا بھی ہے

    کچھ تو عادت ہے لڑکھڑانے کی
    کچھ تری آنکھ میں نشہ بھی ہے

    تیری خاطر جو خود کو ہار آیا
    اُس دوانے کا کچھ پتہ بھی ہے

    دن کی آنکھیں جو چھین لیتے ہیں
    ان میں شامل وہ دلربا بھی ہے

    چھوڑو اب جان سے بھی جاؤگے
    کیا بچھڑ کر کوئی ملا بھی ہے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  5. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    دل تجھے دیکھ دیکھ ڈولے گا
    منہ سے اک لفظ بھی نہ بولے گا

    دیکھنا یہ حقیر پُر تقصیر
    سارے اسرار تیرے کھولے گا

    چل بسا رات وہ ستارہ بھی
    اب یہ کھڑکی کوئی نہ کھولے گا

    خاک پر خاک کچھ اثر ہوگا
    چھوڑ موتی کہاں یہ رولے گا

    کس کو معلوم تھا کہ خود یہ دل
    میری دنیا میں زھر گھولے گا

    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ​
     
  6. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    شاعری کو دکاں بنا دوں گا
    میں تجھے داستاں بنا دوں گا

    چاند تارے سمیٹ کر سارے
    اک نیا آسماں بنا دوں گا

    تیرا چہرہ اتار کر دل میں
    خود کو میں جاوداں بنا دوں گا

    تو یہاں خوش نہیں تو تیرے لئے
    کوئی تازہ جہاں بنا دوں گا

    چھیڑ کر نغمۂ محبت پھر
    دل کو میں نوجواں بنا دوں گا

    شاعری کے لطیف لہجہ سے
    پھر تجھے مہرباں بنادوں گا

    اپنا دل بانٹ کر ہواؤں میں
    سب کو پھر نغمہ خواں بنا دوں گا

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  7. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    کچھ تو ظالم تری نگہ بھی ہے
    دل کو مرنے کا شوق سا بھی ہے

    موت اُس قصرِ ناز کی جانب
    کیا کوئی اور راستہ بھی ہے

    جو تجھے ڈھونڈنے گیا خود سے
    اُس بچارے کا کچھ پتہ بھی ہے

    ڈوب جا اُس کی گہری آنکھوں میں
    اس مرض کی یہی دوا بھی ہے

    ہر طرف تجھ کو ڈھونڈتا پھرتا
    چاند تاروں کا قافلہ بھی ہے

    میں نہیں خاک میں کھلا تنہا
    اور پھولوں کا سلسلہ بھی ہے

    تجھ کو شاید یقیں نہ آئے مگر
    کوئی دل میں ترے سوا بھی ہے

    اس کمینی ذلیل دنیا میں
    دل کا غنچہ کبھی کھلا بھی ہے

    اب فقط دیکھنے کا شوق نہیں
    بات کرنے کا حوصلہ بھی ہے

    عشق کی سب نئی کتابوں میں
    دیکھ اب اپنا تذکرہ بھی ہے

    خاک میں اس طرح میں کیوں ملتا
    اس میں شامل تری رضا بھی ہے

    دیکھتے رہنا رات دن آنکھیں
    یہ نظر کے لئے شفا بھی ہے

    بس یہی سوچ کر خموش رہے
    راہزن ہی تو رہنما بھی ہے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  8. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    دل اسی بات پر خفا بھی ہے
    آپ سے میں نے سب کہا بھی ہے

    آج پھر وہ نظر اٹھی ہوگی
    اس لئے درد کچھ سوا بھی ہے

    دیکھ کر سب نے موند لیں آنکھیں
    کوئی دنیا سے خوش گیا بھی ہے

    جانے کیوں اجنبی سا لگتا ہے
    وہ جو کم بخت آشنا بھی ہے

    توڑ کر دل کہاں پہ جاؤ گے
    اس سے اچھی کوئی جگہ بھی ہے

    جان سے تو گذر ہی جائیں گے
    مشکل اک اور مرحلہ بھی ہے

    سخت ناراض ہے یہ دل جس سے
    ٹوٹ کر اُس کو چاہتا بھی ہے

    تیری شفّاف گہری آنکھوں میں
    اک جہاں اس سے ماورا بھی ہے

    دل کو تاراج کرنے والے سُن
    اس حویلی میں تو رہا بھی ہے

    رات دن تجھ کو تکتا رہتا ہوں
    اور بندے کی کچھ خطا بھی ہے

    سانس لینے کی اس مشقّت میں
    تلخ و شیریں سا اک مزہ بھی ہے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  9. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    کس نے اس طرح مرے دل کی طرح ڈالی ہے
    پہلے دن سے یہ کرایہ کے لئے خالی ہے

    اس تغافل سے تو لگتا ہے کہ اب اپنے لئے
    کائنات اُس نے کوئی اور بنا ڈالی ہے

    تیرے آنے کی تو صورت ہے نہ امید کوئی
    بھیج دے کوئی کرن رات بہت کالی ہے

    تم تو پاگل ہو چلو جاؤ کہیں اور مرو
    نام لینا بھی محبت کا یہاں گالی ہے

    آپ مجرم ہیں نہیں اس میں کسی کا بھی قصور
    ہم نے خود جان کے یہ دل کی بلا پالی ہے

    تجھ کو دیکھے گا نہ سوچے گا نہ اب چاہے گا
    آج اِس دل نے کوئی ایسی قسم کھالی ہے

    جانے کیا سوچ کے اس پیڑ کو اپنایا تھا
    پھول ہیں اس میں نہ پتّے نہ کوئی ڈالی ہے

    دل کو ہم سارے زمانہ سے جدا جانتے تھے
    اب کھلا ہے کہ یہی سب سے بڑا جعلی ہے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  10. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    بجھ گئے ہیں جو دئے جلتے تھے اُن گالوں میں
    اب کوئی بھی نہیں آئے گا تری چالوں میں

    ایک ہی پَل میں وہ کس طرح زمیں بوس ہوئی
    وہ عمارت جو بنائی تھی کئی سالوں میں

    کل تو تقدیر ترے ساتھ پھرا کرتی تھی
    آج پوچھے گا تجھے کون بُرے حالوں میں

    وقت جس نے انہیں بچپن میں لگایا تھا خضاب
    کرنے آیا ہے سفیدی بھی ترے بالوں میں

    نکتہ سنجی نہیں آواز کی لے دیکھتے ہیں
    شاعری آکے کہاں پھنس گئی قوّالوں میں

    اپنے ہونے پہ ندامت کا وہ احساس رہا
    کٹ گئی عمر جلوسوں میں کچھ ہڑتالوں میں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  11. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    نہیں یہ ذہن تنہا الجھنوں میں
    ہے میرا دل بھی مشکل مرحلوں میں

    مرا پھولوں سے مطلب پھول وہ ہیں
    جو کھلتے ہیں ہمیشہ آئینوں میں

    میں اُن اشکوں کا ماتم کررہا ہوں
    جو دب کر رہ گئے ہیں قہقہوں میں

    نکل کر خود سے تجھ کو ڈھونڈتے ہیں
    ہے میرا نام بھی اُن پاگلوں میں

    یہ سارے چاند تارے اجنبی ہیں
    کوئی اپنا نہیں ان جمگھٹوں میں

    نہ جانے کس طرف سے آئے گا وہ
    بکھر کر رہ گیا ہوں راستوں مں

    سمجھتا ہی نہیں ہے بات کوئی
    یہ بھیجا ہے مجھے کن جاہلوں میں

    جو تیرے راستہ میں جل رہے ہیں
    ہے میرا دل بھی اُن ٹوٹے دیوں میں

    جلا کرتے تھے جن سے چاند تارے
    وہ چہرے بجھ گئے ہیں مقبروں میں

    کہاں ہمراہ دنیا چل رہی تھی
    کہاں تنہا کھڑا ہوں منزلوں میں

    بہار آکر گلی میں رک گئی ہے
    گلاب ایسے کھلے ہیں کھڑکیوں میں

    نئے غنچوں کے آؤ گیت گائیں
    دھرا کیا ہے پرانی چاہتوں میں

    تجھے پاکر بھی آنکھیں جاگتی ہیں
    مزہ دیکھا ہے ایسا رتجگوں میں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  12. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    نظر آیا ہے وہ آکر بنوں میں
    جسے ڈھونڈا سدا آبادیوں میں

    یہ اب کس کی سواری آرہی ہے
    درخت آئے کھڑے ہیں راستوں میں

    ستارے کیسی باتیں کر رہے ہیں
    یہ کس کا تذکرہ ہے تتلیوں میں

    پرندے کس کے نغمے گا رہے ہیں
    خموشی کیوں ہے اتنی پتھروں میں

    یہ دریا رات دن کیوں چل رہے ہیں
    یہ کس نے آگ بانٹی جگنوؤں میں

    زمیں کس کو خلا میں ڈھونڈتی ہے
    یہ کون آیا کھڑا ہے بادلوں میں

    پہاڑوں نے اِنہیں کیا کہہ دیا ہے
    یہ کیسا شور اٹھا ہے ندّیوں میں

    یہ سارے لفظ کس جانب رواں ہیں
    یہ کیا جھگڑا ہے سارے شاعروں میں

    ہَوا کس کے لئے یوں دربدر ہے
    کھلائے پھول کس نے دلدلوں میں

    کھڑی ہے شام کیوں یوں مضمحل سی
    سحر کیوں پھر رہی ہے جنگلوں میں

    کہاں جاتے ہیں گر کر زرد پتّے
    چھڑی ہے بحث یہ کیا بلبلوں میں

    سمندر روز و شب کیوں مضطرب ہے
    اترتا کون ہے یہ بارشوں میں

    صبا کیوں ہر کلی کو چومتی ہے
    یہ پاگل پن ہے کیسا پانیوں میں

    ہنسی میں گونجتے ہیں کس کے نغمے
    جلائے دیپ کس نے آنسوؤں میں

    جنوں کو جانے یہ کیا ہوگیا ہے
    یہ کیسی بے رخی ہے گلرخوں میں

    اجالے کیا ہوئے اُن عارضوں کے
    کمی کیسی ہے دل کی وحشتوں میں

    گلا کیوں گھٹ رہا ہے خواہشوں کا
    یہ سنّاٹا ہے کیسا ولولوں میں

    وہ پاس آکر بھی مجھ سے کیوں جدا ہے
    یہ دوری کیوں ہے اتنی قربتوں میں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  13. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy

    نہ اب شعلے بھڑکتے ہیں دلوں میں
    نہ وہ شوخی رہی ہے دلبروں میں

    بھری ہیں ہوشمندی کی کتابیں
    اڑی ہے خاک ایسی میکدوں میں

    میں ان لوگوں سے مل کر کیا کروں گا
    نہیں لگتا ہے یہ دل محفلوں میں

    اکیلا اس لئے میں گھومتا ہوں
    وہ آتا ہے ہمیشہ خلوتوں میں

    کھلی ہیں ہر طرف وہ درسگاہیں
    اضافہ ہو رہا ہے جاہلوں میں

    زمیں کا رنگ خاکی ہو گیا ہے
    بچاری کب سے ہے ان گردشوں میں

    سمندر کے سمندر پی گئے ہیں
    یہ کیسی پیاس ہے ان ساحلوں میں

    وہ آنکھوں کے پیالے بھول جاؤ
    شراب اب بک رہی ہے بوتلوں میں

    گلابوں میں وہ چہرہ جھانکتا ہے
    چمکتی ہیں وہ آنکھیں بجلیوں میں

    اب اس جلتے جہنم سے نکالو
    چھپالے مجھ کو اپنے بازوؤں میں

    گذر جاتا ہے جو آنکھیں چرائے
    وہی رہتا ہے دل کی دھڑکنوں میں

    مری ہر سانس جس کے واسطے تھی
    کھڑا ہے وہ بھی میرے قاتلوں میں

    حریمِ دل ہے قصرِ ناز جس کا
    اُسے کیا ڈھونڈتا ہے مسجدوں میں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  14. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    دل کے دروازہ پہ۔ ۔ ۔​

    دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے
    اِن دو آنکھوں کو سمندر کے کنارے لکھ دے
    گہری جھیلوں میں ستاروں کے دئے جلتے ہیں
    دھوپ نے سبز درختوں کے وطن لوٹ لئے
    دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے

    دونوں ہاتھوں میں نئے سرخ گلاب
    چودھویں رات کا مہتاب لئے
    دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے

    جیسے آفاق کے رخسار دھک اٹھتے ہیں
    جیسے صحراؤں میں گلزار مہک اٹھتے ہیں
    جیسے نغموں کو کوئی باندھ کے لے جاتا ہے
    جیسے دریا کسی ویرانے میں کھو جاتے ہیں
    دل کے دروازہ پہ اک نظم نے دستک دی ہے

    آنسوؤں میں نئے آلام کے پیوند لگے
    اس نئے درد کا درمان بھی مل جائے گا
    تتلیاں کس کے تصور میں یوں دیوانی بنی پھرتی ہیں
    خاک کے سینہ میں رنگوں کے کئی قریے ہیں
    سبز پتوں کو خزاں سے نہیں ملنے دینا
    دل کے دروازہ پہ

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  15. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ان دو آنکھوں ۔ ۔ ۔​

    ان دو آنکھوں میں بہت دور کہیں
    گذرے موھوم زمانوں کی خموشی پہنے
    ایک محجوب خوشی رہتی ہے

    صاف شفّاف فضاؤں میں
    نگاہوں کی حدوں سے آگے
    خواب آوارہ پرندوں کی طرح
    دھیمے لہجہ میں
    کسی گیت کا بازو تھامے
    پھر میرے دل کی طرف آتے ہیں

    ان دو آنکھوں سے کوئی جاکے کہے
    آسمانوں سے زمیں پر آئیں
    کوئی تارہ کوئی بادل کوئی نغمہ لے کر
    کوئی دریا کوئی چشمہ کوئی جھونکا لے کر

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  16. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    تازہ سینہ میں ۔ ۔ ۔​


    تازہ سینہ میں محبت کا فسوں جاگا ہے
    خواب زاروں سے ستاروں کے سفینے اترے
    گھنٹیاں ننگے قدم، خاک بسر، جانے کہاں جاتی ہیں

    اس نئے دکھ کے لئے کوئی نئی دنیا ہو
    ہوں نئے پیڑ نیا چاند نیا سورج ہو
    ہوں نئے حرف نئے لفظ نئی نظمیں ہوں

    چاندنی رات کا ملبوس نہ یوں میلا ہو
    دھوپ کے لہجہ میں نرمی ہو شرافت ہو
    محبت کی سی شیرینی ہو

    دو نئے ہاتھ نئے ہونٹ نئی آنکھیں ہوں
    ہو نیا ذہن نئی روح نئی صورت ہو
    اک نیا دل ہو
    جو پاگل ہو
    محبت کے لئے خود کو جلا سکتا ہو
    جس میں صحراؤں کی وسعت ہو
    سمندر کی سی گہرائی ہو
    جس میں خاموشی ہو
    ھیبت ہو پریشانی ہو

    خاک میں رفعت افلاک ملا سکتا ہو
    نیند سے مردہ پہاڑوں کو اٹھا سکتا ہو

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  17. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    یہ جو گہری اُداس۔ ۔ ۔​

    یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں
    ان میں خوابیدہ سب زمانے ہیں

    سارے پھول ان کے نام لیوا ہیں
    چاند تاروں میں ان کی باتیں ہیں

    ان کی باہوں میں سب سمندر ہیں
    گیت دریا انہی کا گاتے ہیں

    ان سے چلتی ہے عشق کی دنیا
    شعر سب ان کی وار داتیں ہیں

    آسماں ان کا اک تصور ہے
    وقت بے چارہ ان کا نوکر ہے
    ان کی ہربات مے کا پیالہ ہے
    ان سے ہر سمت پہ اجالا ہے

    ان میں گذرے دنوں کا جادو ہے
    ان میں آتی رُتوں کی خوشبو ہے

    چاندنی ان میں دھوپ ان میں ہے
    حسن کا سارا روپ ان میں ہے

    دکھ کی گہرائیاں بھی ان میں ہیں
    سکھ کی انگڑائیاں بھی ان میں ہیں

    ان میں خوابوں کی وہ کتاب بھی ہے
    دل کا ٹوٹا ہوا رباب بھی ہے

    میری ساری خوشی انہی سے ہے
    دل میں یہ روشنی انہی سے ہے
    یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔
     
  18. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    زندگی کیا ہے ۔ ۔ ۔ ​

    زندگی کیا ہے ان آنکھوں کی بشارت ہی تو ہے
    ورنہ دنیا تونرا گھپلہ ہے
    شہر کیا شورو شغب مکرو ریا جھوٹ کی تصویریں ہیں

    اک طرف جلتے ہوئے گھر ہیں
    جہاں بچوں کی کمھلائی ہوئی چیخیں ہیں
    خاک میں پھولوں کی مٹتی ہوئی تحریریں ہیں

    دوسری سمت فصیلوں میں کہیں قید خوشی
    جاں بلب ننگے بدن ہنستی ہے اک مفلس و قلاش ہنسی
    کھوکھلی سنگدل اوباش ہنسی

    اک طرف عرصۂ فرقت ہے محبت کی پرانی بستی
    ہر گلی کوچے میں اشکوں کے نئے جھگڑے ہیں
    دور تک آہوں کی پھیلی ہوئی جاگیریں ہیں
    دوسری سمت سیاست ہے
    جہاں چھوٹی بڑی توندوں کا بدمست ھجوم
    ریشمی سرخ لبادوں میں پڑی لاشوں پہ منڈلاتا ہے
    سب کے ہاتھوں میں خوشامد کی چمکتی ہوئی شمشیریں ہیں

    اک طرف خوابوں کے قصبہ میں
    کوئی درد کا اک تارہ لئے روتا ہے
    زرد رخساروں کے ویران دریچے کے قریب
    اک دیا بچھڑے ہوئے گیت لئے سوتا ہے

    دوسری سمت صداؤں کی نئی منڈی میں
    گونگے الفاظ پہ الفاظ چڑھے بیٹھے ہیں
    سب کے کانوں میں پڑی شور کی زنجیریں ہیں

    اور اُس سمت ان آنکھوں میں نئی صبح کے آثار نظر آتے ہیں
    روشنی کے لب و رخسار نظر آتے ہیں
    اجنبی لوگ بھی دلدار نظر آتے ہیں

    ہر نئی نظم مری اُس کی عنایت ہی تو ہے
    زندگی کیا ہے ان آنکھوں کی بشارت ہی تو ہے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  19. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    خوبصورت آشنا۔ ۔ ۔​

    خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
    زرد کلیاں سرخ شعلے سرد رات
    اجلی سندر ساعتوں کی جاگتی پیشانیاں
    قہقہوں کے ہاتھ پکڑے دور جاتی گھنٹیاں
    خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

    مردہ خوابوں کے کفن بچھڑے ہوئے نغموں کے گھر
    تازہ اشکوں کے علاقے بوڑھی آہوں کے دیار
    خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

    دور تنہا وادیوں میں گیت گاتی ندّیاں
    خوابگوں راہوں میں گھر کا راستہ بھولی ہوئی پگڈنڈیاں
    خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

    خاک کے آنگن میں ہنستے کھیلتے تازہ گلاب
    دھوپ کی شعلہ بیانی چاند کا شیریں کلام
    خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام
    بے حیا کوّوں کی باتیں نیک خوبارش کے گیت
    رات کے قدموں کی آھٹ سُن کے روتی زرد شام
    خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

    جنگجو شہروں کی گلیاں چیختی چلّاتی دھول
    چاندنی میں گم مہکتے چاھتوں کے سرخ پھول
    خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

    سبز پتّوں کو پکڑ کر چومتی عیاش دھوپ
    بے سبب گلیوں میں دن بھر جھومتی اوباش دھوپ
    خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

    آسماں کی جھیل میں بہتے ہوئے تاروں کے گیت
    تتلیوں کے رنگ پہنے اڑتے گلزاروں کے گیت
    خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

    گہرے نیلے پانیوں میں رقص کرتی کشتیاں
    شام کے آنگن میں کھلتی نیم پاگل کھڑکیاں
    خوبصورت آشنا آنکھوں کے نام

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     
  20. سندباد

    سندباد لائبریرین

    مراسلے:
    734
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    خودغرض​

    چاہے شب بے نقاب ہو جائے
    دن کی صورت خراب ہو جائے
    آسماں چاہے صرف گالی ہو
    یہ سمندر کا جام خالی ہو
    چاھے پھولوں کے دل پریشاں ہوں
    گاؤں برباد شہر ویراں ہوں
    سارے دریا کہیں پہ کھو جائیں
    چاند تارے یہ جا کے سو جائیں
    سب شعاعیں سیاہ ہو جائیں
    سارے نغمے تباہ ہو جائیں
    حرف اڑ جائیں لفظ مرجائیں
    پیڑ دنیا سے کوچ کر جائیں
    قہقہے آنسوؤں کے ساتھ رہیں
    راستے سارے خالی ہاتھ رہیں
    تتلیاں کیکڑوں کی صورت ہوں
    مکّھیاں حسن کی علامت ہوں
    سب کتابیں جہاں سے اٹھ جائیں
    فکر کے سب خزانے لُٹ جائیں
    زندگی موت کی سیاہی ہو
    ہر نئی سانس اک تباہی ہو
    خانہ جنگی ہو یا بغاوت ہو
    سب کواک دوسرے سے نفرت ہو
    صبح میں شام چاہے مدغم ہو
    نظمِ کُل کائنات برہم ہو
    وہ خدا ہو نہ یہ خدائی ہو
    حاکم وقت چاہے نائی ہو
    گرکے افلاک خاک ہو جائیں
    کہکشاں جل کے راکھ ہو جائیں
    بس مرا یار میرے ساتھ رہے
    یونہی ہاتھوں میں اُس کا ہاتھ رہے

    ۔ ۔ ۔ ٭٭٭۔ ۔ ۔ ​
     

اس صفحے کی تشہیر