1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

ایک تاریخی واقع کی تصدیق

کنول بنت جمیل نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 18, 2018

  1. کنول بنت جمیل

    کنول بنت جمیل محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اسلام و علیکم ! محترم آپ سب سے مدد درکار ہے

    دراصل میں نے ایک فورم پر علامہ اقبال اور حکیم نور الدین قادیانی کے بارے میں ایک واقع پڑھا تھا اس کا ریفرنس نہی مل رہا ۔ واقع کچھ یوں ہے ! اس میں کتنی صداقت ہے ؟

    ناموسِ رسالت ﷺاور غیرتِ اقبال

    ایک دفعہ سیدآغا صدر چیف جسٹس نے لاہور کے عمائدین اور مشاہیر کو کھانے پر مدعوکیا، جس میں مفکر اسلام شاعر مشرق علامہ محمداقبال بھی رونق افروز تھے۔ اتفاق سے اس محفل میں مرزاقادیانی کا خلیفہ حکیم نور الدین بھی بن بلائے اور بلادعوت آٹپکا تھا۔ جب عاشق رسول علامہ اقبال کی نظر اس کذاب پر پڑی توغیرتِ ایمانی سے علامہ اقبال کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور ماتھے پر شکنیں پڑگئیں۔ فوراً اٹھے اور میزبان کو مخاطب کرکے کہا آغا صاحب! آپ نے یہ کیا غضب کیا کہ باغی ختم نبوت اور دشمن رسول کو بھی مدعو کیا اور مجھے بھی …… اور فرمایا کہ میں جارہاہوں،میں ایسی محفل میں ایک لمحہ بھی نہیں بیٹھ سکتا۔ حکیم نورا لدین چور کی طرح حالات بھانپ گیا اورفوراً نودو گیارہ ہو گیا۔اس کے بعد میزبان نے علامہ اقبال سے معذرت کی اور کہا میں نے اُسے کب بلایا تھا ،وہ تو خود ہی گھس آیا تھا‘‘۔(بحوالہ: تحریک ختم نبوت اورجے یوپی کا کردار)


    اسی فورم کے ایک ممبر سعید الرحمن سعید نے بھی اس واقع کا زکر کیا ہے ایک پوسٹ میں ، "اقبال اور احمد یت " میں براے مہربانی اس واقع کا ریفرنس فراہم کردیں
     
  2. م حمزہ

    م حمزہ محفلین

    مراسلے:
    4,474
    موڈ:
    Cool
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    3,978
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    واقعے کی صحت کا تو نہیں پتہ مگر اگر ایسا ہوا بھی ہے تو اقبال جیسے بیدار مغز اور مفکر اور عشقِ رسول میں ڈوبے ہوئے بندے سے اس طرح کا ری ایکشن کچھ بعید بھی نہیں۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. کنول بنت جمیل

    کنول بنت جمیل محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
  5. کنول بنت جمیل

    کنول بنت جمیل محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    یہی تو جاننا ہے کے اس واقع میں کتنی صداقت ہے۔ جیسا کے میں نے اوپر حوالہ دیا کے اسی فورم کے ایک ممبرسعید الرحمن سعید نے ایک لڑی جو اقبال اور احمدیت کے نام سے ارسال کی گئی تھی اس میں نے اس واقع کا حوالہ دیا ۔اب کہاں سے تصدیق ہو ۔
     
  6. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    ایک حوالہ یہ ملا ہے اس میں کسی کتاب کا حوالہ نہیں البتہ شخصیات کے نام لکھے ہیں۔

     
  7. کنول بنت جمیل

    کنول بنت جمیل محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بہت خوب ۔آپ کی کاوش قابلِ ستائش ہے مدد گار بھی !
    لیکن اس واقع پر جو اعتراض کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کے 1920 تک کسی بھی دیسی شخص کو لا ہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس نہی لگایا گیا تھا اور نور الدین قادیانی 1914 میں فوت ہوگئے تھے ؟ کا بات کو صحیح مانا جائے ؟
     
  8. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    میری ذاتی رائے میں ایسے کسی واقعہ کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا بہتر ہے جس کی کوئی مستند روایت نہ ملے۔ جیسا زیدی صاحب نے فرمایا کہ اقبال مرحوم کے مزاج سے یہ بعید نہیں کہ ایسا ہوا ہو لیکن اس واقعے کو نقل تب ہی کیا جائے جب اس کی سند موجود ہو۔ کچھ حضرات کے لیے زبانی بیان کردہ الفاظ بھی سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ جیسے کسی معتبر شخص نے کوئی واقعہ روایت کیا ہو وغیرہ۔ احتیاط بہرحال بہتر ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. کنول بنت جمیل

    کنول بنت جمیل محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm


    بجا فرمایا ۔ شُکریہ
     

اس صفحے کی تشہیر