ایم کیو ایم کو شکست

ظفری بھائی میں اب نام اور موضوع دیکھ کر پڑھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ میری بھی یہ آخری آمد ہے ۔۔۔۔۔۔ :)
ایک اگنور لسٹ بھی نبیل نے بنائی ہے اس سے استفادہ کجیے کچھ ناموں‌کے ساتھ تو میں یہی کرتا ہوں
ویسے حب الطاف اپ کی بے مثل ہے۔
 

ظفری

لائبریرین
معاف کیجیےگا ظفری صاحب ۔ اگر دن کو تمام دنیا بھی مل کر رات کہتی رہے تو پھر بھی وہ دن ہی رہتا ہے۔ اگر سو اندھے بھی مل کر ہاتھی کو بکری کہتے رہیں تو وہ بکری نہیں بن جائے گا۔
ویسے بہت شکریہ پوسٹ کے جواب کا۔ میں تو بس اپ کے جواب کا انتظار ہی کرتا رہتا ہوں۔:)
میں معافی چاہوں گا کہ آپ کو میری یہ بات بری لگی ہے ۔ مگر یہ واضع رہے کہ مجھے آپ سے نہیں‌ بلکہ آپ کے دلائل سے اختلاف رہتا ہے ۔ :)
 
ایک اگنور لسٹ بھی نبیل نے بنائی ہے اس سے استفادہ کجیے کچھ ناموں‌کے ساتھ تو میں یہی کرتا ہوں
ویسے حب الطاف اپ کی بے مثل ہے۔

معافی چاہوں گا میں بھی ہمت علی صاحب ! آپ جیسی ہمت ہم میں نہیں ہے۔۔۔۔ للہ معاف فرما دیجیئے۔۔۔۔
 
سندھ میں‌ پی پی پی کی حکومت بالاخر بغیر شراکت کے بن رہی ہے۔
مرکز میں‌بھی متحدہ کا کوئی کردار نظر نہیں‌ اتا (سوائے بد کے)
اسطرح یہ فاشسٹ پارٹی اب صرف ڈھلتی عمر کے رکھیل کی حیثیت اخیتار کرتی جارہی ہے جس کے سائیں‌کے بھی کچھ لمحہ اقتدار ہی باقی ہیں۔
بدترین شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے متحدہ کو دھاندلی کے باوجود
 
السلام علیکم بہن جی آپ ایسا کریں کے ایک مفصل تحریر کی صورت میں جناب پرویز مشرف صاحب کی جو جو بھی خوبیاں آپکو پسند ہیں ۔ ان کا ذکر یہاں فرمادیں تاکہ ہمیں بھی آپکے ممدوح کی ذات کے اس پہلو سے کم از کم شناسائی تو ہو اور ہمیں موصوف کی تمام خوبیاں تلاش کرنے میں سہولت رہے ۔۔۔۔۔
جنرل ہے اور فوج کے رینکس ( درجات )‌ میں‌ اپنی محنت سے چڑھ کر اعلی ترین عہدے پر فائز ہوا۔ جملہ 8 سال سے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہے۔ تازہ ترین کارنامہ ملک میں انتخابات کروانا ہے۔
 

دوست

محفلین
متحدہ ایک حقیقت ہے۔
اس سے نظر چرانا مسائل پیدا کرے گا۔ مجھے لگ رہا ہے کہ کراچی کو آئندہ دنوں‌ میں نوے کی دہائی والے حالات پھر سے دیکھنے پڑسکتے ہیں۔ فتنوں نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے ابھی سے۔
 
:eek: ترقی
ملک بڑی طاقتوں کی داشتہ بنتا جارہا ہے۔ ملک میں‌آٹا، بجلی اور عدلیہ کا بحران ہے۔
ملک میں‌ بڑی طاقتوں کی ایجنسیاں روز دھماکے اور میزائل حملے کررہیں‌ہیں۔ یہ ترقی ہے۔
اگر ہے تو ترقی معکوس ہے۔
 

دوست

محفلین
بالکل جناب 8 سال میں بالکل ترقی کروائی ہے اس نے۔ کبھی ادھر آکر دیکھیے ہم آپ کو وہ ترقیاں‌ دکھائیں۔ بس منہ سے نوالہ چھیننے کی کسر رہ گئی ہے تھوڑی سی باقی تو بے حساب ترقی ہوئی ہے۔
 
متحدہ ایک حقیقت ہے۔
اس سے نظر چرانا مسائل پیدا کرے گا۔ مجھے لگ رہا ہے کہ کراچی کو آئندہ دنوں‌ میں نوے کی دہائی والے حالات پھر سے دیکھنے پڑسکتے ہیں۔ فتنوں نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے ابھی سے۔
اگر دیکھا جائے تو فتنہ یہی متحدہ ہے۔
پی پی پی سندھ اسمبلی میں واحد اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود ایک لمبے عرصے تک اپوزیشن میں‌بیٹھی ہے۔ اس نے تو کوئی ادھام نہیں‌مچائی۔
متحدہ کو اپنی دھشت گردیاں‌چھوڑ کر اچھے بچے کی طرح‌ایک لمبے عرصے تک اسمبلیوں‌میں‌ڈیسک بجانی چاہیے۔ اس کے سوا اسکے پاس کوئی چارہ نہیں‌ہے۔ دھشت گردیاں اب زیادہ نہیں چلیں گے۔
فکر نہ کریں‌انشاللہ کراچی پی پی ہی کے دور میں‌ترقی پر گامزن ہوگا۔ انشاللہ۔ اور متحدہ کے دھشت گرد جیل میں۔
 
جنرل ہے اور فوج کے رینکس ( درجات )‌ میں‌ اپنی محنت سے چڑھ کر اعلی ترین عہدے پر فائز ہوا۔ جملہ 8 سال سے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہے۔ تازہ ترین کارنامہ ملک میں انتخابات کروانا ہے۔
جی ہاں۔۔۔ بے شک ترقی ہی ترقی ہوئی ہے اس کے دور میں۔۔۔ بلکہ ترقی سے کچھ زیادہ ہی ہوگیا ہے۔ سب ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔۔۔!
اور انتخابات۔۔۔ ہاں ایک کارنامہ وہ 2002ء کے انتخابات بھی تھے۔۔۔!
 
ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت بری طرح اسپیکر کے عہدے پر شکست کھاچکیں‌ہیں۔
متحدہ کی ایک اور بدترین شکست۔
اگرچہ خوش بخت شجاعت مجھے بچپن سے پسند ہیں اور ان کی نعت پڑھنے کا انداز پسند ہے مگر متحدہ کی رکن بننے کے بعد سخت بری لگتی ہیں اور ان کی ہار پر خوشی ہوئی۔
 

ظفری

لائبریرین
اگرچہ خوش بخت شجاعت مجھے بچپن سے پسند ہیں اور ان کی نعت پڑھنے کا انداز پسند ہے مگر متحدہ کی رکن بننے کے بعد سخت بری لگتی ہیں اور ان کی ہار پر خوشی ہوئی۔

آپ شخصیت پرستی اور جماعت بندیوں کے قائل ہیں ۔ کسی شخص کو کسی خصوصیت کی بناء پر پسند کرنے کے بعد یہ کہہ کر اُسے رد کردینا کہ وہ آپ کے ناپسندیدہ لوگوں میں جا بیٹھا ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی اپنی کوئی نظریاتی سوچ نہیں ہے ۔ حالانکہ وہ شخص ابھی تک ان خصوصیت کا حامل ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ آپ کو پسند تھا ۔ آپ بس ایجنڈے پر کام کرنے والے شخص ہیں ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔
 
آپ شخصیت پرستی اور جماعت بندیوں کے قائل ہیں ۔ کسی شخص کو کسی خصوصیت کی بناء پر پسند کرنے کے بعد یہ کہہ کر اُسے رد کردینا کہ وہ آپ کے ناپسندیدہ لوگوں میں جا بیٹھا ہے ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی اپنی کوئی نظریاتی سوچ نہیں ہے ۔ حالانکہ وہ شخص ابھی تک ان خصوصیت کا حامل ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ آپ کو پسند تھا ۔ آپ بس ایجنڈے پر کام کرنے والے شخص ہیں ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔

حالانکہ واقعہ اس کے بلکل برخلاف ہے جو اپ نے بیان کیا ہے۔ مجھے ایک شخصیت پسند ہے مگر چونکہ اس کی نظریات پسند نہیں۔ لہذا اب ناپسند ہے۔
یہ شخصیت پسندی نہیں‌بلکہ نظریات پسندی کا کیس ہے۔
 
ایم کیو ایم کی تنزلی کی حد ختم ہونے میں‌ہی نہیں‌ارہی۔
متحدہ نے اب گھٹنے ٹیک کر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے چناو میں‌ ق لیگ کا ساتھ چھوڑ کر غیر مشروط طور پر پی پی پی کا ساتھ دیا۔
اس رجوع کی فاروق ستار نے جو واحد لاجکل توجیہہ پیش کی وہ یہ تھی کہ سندھ کی شہری اور دیہی ابادی میں تقسیم اور زیادہ نہ ہو۔ بالواسطہ طور پر یہ تسلیم کرلیا یہ متحدہ اب بھی وہی لسانی تنظیم ہےاور ایک قومیت کی ہی نمائندہ ہے (اگرچہ اپنے طور پر)۔ ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرلیا کہ متحدہ کی قومیت پرستی کی سیاست کے غلط نتائج ائے ہیں۔
متحدہ کے حامی اب ایک بند گلی میں‌کھڑے ہیں۔
متحدہ کے حامیوں‌کو اپنی پالیسیوں‌سے رجوع کرنا پڑے گا۔ بلکہ اگر میں‌اور اگے بڑھ کر کہوں تو کراچی کے عوام کو اب متحدہ سے جان چھڑانی پڑے گی۔ ورنہ تو یہ کراچی کے عوام کو بالاخر سمندرمیں‌دھکیل کر رکھ دے گی۔ کراچی کے باشندوں کے لیے ایک واحد نکاس کی راہ یہ ہے کہ وہ بڑی سیاسی جماعتوں میں اپنی جگہ بنائیں۔ بالخصوص اگر پیپلز پارٹی کے سیاست میں‌کراچی کے عوام اپنا حصہ ڈالیں تو نہ صرف وہ وحدت میں ضم ہوجائیں گے بلکہ سندھ کی دیہی و شہری تقسیم کے مسئلے سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارہ پالیں گے۔ کراچی کو عوام کو اپنی سوچ میں واضح تبدیلی لانی پڑے گی ورنہ شکست درشکست اسی طرح ان کا مقدر ہوگی۔
 

ظفری

لائبریرین
ایم کیو ایم کی تنزلی کی حد ختم ہونے میں‌ہی نہیں‌ارہی۔
متحدہ نے اب گھٹنے ٹیک کر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے چناو میں‌ ق لیگ کا ساتھ چھوڑ کر غیر مشروط طور پر پی پی پی کا ساتھ دیا۔
اس رجوع کی فاروق ستار نے جو واحد لاجکل توجیہہ پیش کی وہ یہ تھی کہ سندھ کی شہری اور دیہی ابادی میں تقسیم اور زیادہ نہ ہو۔ بالواسطہ طور پر یہ تسلیم کرلیا یہ متحدہ اب بھی وہی لسانی تنظیم ہےاور ایک قومیت کی ہی نمائندہ ہے (اگرچہ اپنے طور پر)۔ ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرلیا کہ متحدہ کی قومیت پرستی کی سیاست کے غلط نتائج ائے ہیں۔
متحدہ کے حامی اب ایک بند گلی میں‌کھڑے ہیں۔
متحدہ کے حامیوں‌کو اپنی پالیسیوں‌سے رجوع کرنا پڑے گا۔ بلکہ اگر میں‌اور اگے بڑھ کر کہوں تو کراچی کے عوام کو اب متحدہ سے جان چھڑانی پڑے گی۔ ورنہ تو یہ کراچی کے عوام کو بالاخر سمندرمیں‌دھکیل کر رکھ دے گی۔ کراچی کے باشندوں کے لیے ایک واحد نکاس کی راہ یہ ہے کہ وہ بڑی سیاسی جماعتوں میں اپنی جگہ بنائیں۔ بالخصوص اگر پیپلز پارٹی کے سیاست میں‌کراچی کے عوام اپنا حصہ ڈالیں تو نہ صرف وہ وحدت میں ضم ہوجائیں گے بلکہ سندھ کی دیہی و شہری تقسیم کے مسئلے سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارہ پالیں گے۔ کراچی کو عوام کو اپنی سوچ میں واضح تبدیلی لانی پڑے گی ورنہ شکست درشکست اسی طرح ان کا مقدر ہوگی۔
میرا خیال ہے آپ 70 کی دہائی کا بھٹو کا دور بھول گئے ۔ جب سندھی مہاجر فسادات پہلی بار ہوئے تھے ۔ کتنی خونریزی ہوئی تھی ۔ یہ ایم کیو ایم ، اسی واقعہ کا نتیجہ تھا کہ اس سے فائدہ اٹھا کر الطاف حسین نے یہ جماعت بنا ڈالی ۔ آپ پھر اسی دور میں لوٹ جانے کی بات کر رہے ہیں ۔
 
ایم کیو ایم کی تنزلی کی حد ختم ہونے میں‌ہی نہیں‌ارہی۔
متحدہ نے اب گھٹنے ٹیک کر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے چناو میں‌ ق لیگ کا ساتھ چھوڑ کر غیر مشروط طور پر پی پی پی کا ساتھ دیا۔
اس رجوع کی فاروق ستار نے جو واحد لاجکل توجیہہ پیش کی وہ یہ تھی کہ سندھ کی شہری اور دیہی ابادی میں تقسیم اور زیادہ نہ ہو۔ بالواسطہ طور پر یہ تسلیم کرلیا یہ متحدہ اب بھی وہی لسانی تنظیم ہےاور ایک قومیت کی ہی نمائندہ ہے (اگرچہ اپنے طور پر)۔ ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرلیا کہ متحدہ کی قومیت پرستی کی سیاست کے غلط نتائج ائے ہیں۔
متحدہ کے حامی اب ایک بند گلی میں‌کھڑے ہیں۔
متحدہ کے حامیوں‌کو اپنی پالیسیوں‌سے رجوع کرنا پڑے گا۔ بلکہ اگر میں‌اور اگے بڑھ کر کہوں تو کراچی کے عوام کو اب متحدہ سے جان چھڑانی پڑے گی۔ ورنہ تو یہ کراچی کے عوام کو بالاخر سمندرمیں‌دھکیل کر رکھ دے گی۔ کراچی کے باشندوں کے لیے ایک واحد نکاس کی راہ یہ ہے کہ وہ بڑی سیاسی جماعتوں میں اپنی جگہ بنائیں۔ بالخصوص اگر پیپلز پارٹی کے سیاست میں‌کراچی کے عوام اپنا حصہ ڈالیں تو نہ صرف وہ وحدت میں ضم ہوجائیں گے بلکہ سندھ کی دیہی و شہری تقسیم کے مسئلے سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارہ پالیں گے۔ کراچی کو عوام کو اپنی سوچ میں واضح تبدیلی لانی پڑے گی ورنہ شکست درشکست اسی طرح ان کا مقدر ہوگی۔
آپ کی ایسی غیر منطقی تنقیدات سے مجھے یہ خوف آتا ہے کہ کہیں میں ایم۔کیو۔ایم میں شمولیت ہی اختیار نہ کرلوں۔ کراچی والوں کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں، وہ خود بہتر سمجھتے ہیں۔ اس طرح کا انداز تعصب کو فروغ دینے کے سوا اور کچھ نہیں کرے گا۔
 
آپ کی ایسی غیر منطقی تنقیدات سے مجھے یہ خوف آتا ہے کہ کہیں میں ایم۔کیو۔ایم میں شمولیت ہی اختیار نہ کرلوں۔ کراچی والوں کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں، وہ خود بہتر سمجھتے ہیں۔ اس طرح کا انداز تعصب کو فروغ دینے کے سوا اور کچھ نہیں کرے گا۔

معذرت ۔ مگر کیا غیر منطقی بات ہے؟ ذرا وضاحت فرمایے۔
 

زینب

محفلین
ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت بری طرح اسپیکر کے عہدے پر شکست کھاچکیں‌ہیں۔
متحدہ کی ایک اور بدترین شکست۔
اگرچہ خوش بخت شجاعت مجھے بچپن سے پسند ہیں اور ان کی نعت پڑھنے کا انداز پسند ہے مگر متحدہ کی رکن بننے کے بعد سخت بری لگتی ہیں اور ان کی ہار پر خوشی ہوئی۔

پھر تو اب آپ کو زرداری بھی "سخت برا" لگنا چاہیے کہ اس نے ایم کیو ایم کو وزارتوں‌کا لالچ دے کے (امین فہیم کو مات دینے کے لیے )ساتھ ملا لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔:grin:
 
پھر تو اب آپ کو زرداری بھی "سخت برا" لگنا چاہیے کہ اس نے ایم کیو ایم کو وزارتوں‌کا لالچ دے کے (امین فہیم کو مات دینے کے لیے )ساتھ ملا لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔:grin:
زرداری برا لگنے لگے گا جب فوج اور امریکہ کے کہنے پر چلنے لگے گا۔
 
معذرت ۔ مگر کیا غیر منطقی بات ہے؟ ذرا وضاحت فرمایے۔
کچھ باتیں بیان نہیں کی جاتیں، صرف محسوس ہوتی ہیں۔ میں لسانی اور علاقائی تعصب کے خلاف ہوں اور ایم۔کیو۔ایم مخالف بھی لیکن کراچی کے بارے میں کچھ لوگ جب بلا وجہ تنقید کرتے ہیں تو مجھے زہر لگتی ہے کیونکہ مجھے کراچی سے محبت ہے۔۔۔ مجھے اپنے پاکستان سے محبت ہے۔

کراچی والوں سے اگر آپ کو یہ شکوہ ہے کہ وہ متحدہ کو کیوں ووٹ دیتے ہیں تو بھائی! اس بات کا افسوس مجھے بھی ہوتا ہے لیکن آیئے۔۔۔ آپ اور ہم مل کر سوچیں۔۔۔ اس سوال کا جواب تلاش کریں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ مجھے بتائیں کہ کراچی والے متحدہ کے علاوہ کس کو ووٹ دیں؟ کون سی ایسی سیاسی جماعت ہے جس پر کراچی والے بھروسہ کریں۔۔۔ جب تمام سیاسی جماعتیں اپنی اپنی لوٹ مار میں مصروف ہوں اور عوام کی پرواہ نہ کریں تو یہاں کے عوام کا فطری رد عمل یہ ہے کہ وہ ایک ایسی جماعت کو ووٹ دے رہے ہیں جو کراچی کے لیے آواز بلند کرتی ہے، اب اس جماعت کی کارکردگی اور کارنامے جو بھی ہیں، جیسے بھی ہیں۔۔۔ اس کی پرواہ نہیں کرتا کوئی۔

ہر کوئی میری طرح نہیں ہوتا کہ صرف ایم۔کیو۔ایم کی مخالفت میں جاکر "تیر" پر ٹھپہ لگادے، یہ جاننے کے باوجود کہ ایک ووٹ کوئی فائدہ نہیں دے گا اور یہ جاننے کے بعد بھی کہ نہ پتنگ نے مجھے فائدہ دینا ہے نہ تیر نے۔۔۔!

اس لیے پہلے آپ کراچی والوں کو کوئی ایک مناسب متبادل فراہم کریں۔۔۔ میرا نہیں خیال کہ ہم کراچی والے اتنے بے وقوف ہیں جو اپنے اچھے برے کی پہچان نہیں کرسکیں گے یا آنکھیں بند کرکے ایک جماعت کو ووٹ دیتے رہیں گے۔

میں معذرت خواہ ہوں، اگر کچھ برا لگے۔ مجھے یہ کراچی والے، سندھ والے، پنجاب والے۔۔۔ ایسے الفاظ کا استعمال قطعی پسند نہیں۔۔۔ میں ایک پاکستانی ہوں اور ایک سچا پاکستانی رہنا چاہتا ہوں۔۔۔ اس لیے، خدارا! مجھے پاکستانی رہنے دیجئے۔
 
Top