کاشفی

محفلین
جئے الطاف حسین
زندہ باد اہلِ کراچی - جیوے پاکستان

Historical Celebration At Jinnah Ground Azizabad
 

کاشفی

محفلین
جئے الطاف حسین
11217160_10153051873066373_8455421997653996891_n.jpg
 

کاشفی

محفلین
جئے الطاف حسین
جیوے کراچی پاکستان


was allowed just one minute to speak but i tried my best put my words —
at United Nations Human Rights
 

کاظمی بابا

محفلین
ہر پاکستانی جذبہ حب الوطنی سے سر شار ہے جس کا اظہار ہر اہم موقعہ پر امڈ امڈ کر کیا جاتا ہے۔
ایم کیو ایم بھی پاکستانیوں پر مشتمل جماعت ہے اور آزمائش کی حالیہ کٹھالی سے وہ یقیناُ کندن بن کر نکلے گی۔
 

کاشفی

محفلین
سانحہ 30 ستمبر1988ء پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے جسے فراموش نہیں کیاجاسکتا۔الطاف حسین
AltafHussain-29-9-15.jpg

30 ستمبر 88ء کو مسلح دہشت گردوں نے حیدرآبادکے مختلف علاقوں میں داخل ہوکرمعصوم وبے گناہ مہاجروں پرگولیاں برسائیں
سانحہ میں300سے زائدبے گناہ مہاجرماؤں بہنوں، بزرگوں،خواتین اوربچوں کوبیدردی سے شہید اورسینکڑوں کوزخمی کردیاگیا
آدھاگھنٹہ تک یہ قتل عام ہوتارہا لیکن فوج، رینجرز ، پولیس یاکوئی بھی قانون نافذ کرنے والا ادارہ مہاجروں کوبچانے نہیں آیا
اس سانحہ کوآج 27برس گزرگئے ہیں لیکن آج تک نہ تو سفاک قاتلوں کوگرفتارکرکے سزادی گئی اورنہ ہی اس قتل عام کی تحقیقات کی گئیں
ہمارے نوجوانوں کوتو برسوں پرانے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرلیا جاتا ہے لیکن مہاجروں کے وحشیانہ قتل عام میں ملوث قاتلوں کوگرفتارنہیں کیاجاتا
سانحہ 30 ستمبر کے شہداء کاخون رائیگاں نہیں جائے گا اورسفاک قاتلوں پر اللہ تعالیٰ کاعذاب نازل ہوگا۔ الطاف حسین

لندن ۔۔۔ 29 ستمبر 2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ سانحہ 30 ستمبر1988ء پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے جسے فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ سانحہ 30ستمبر کی 27 ویں برسی کے موقع پر اپنے ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ 30 ستمبر1988ء کو کئی گاڑیوں میں سوارمسلح دہشت گردوں نے حیدرآبادکے مختلف علاقوں کے بازاروں میں داخل ہوکردکانداروں،فٹ پاتھوں اورگھروں اوردکانوں کے باہربیٹھے لوگوں اور راہگیروں پر اندھا دھندگولیوں برسائیں، آدھاگھنٹہ تک قتل عام اورظلم و بربریت کایہ وحشیانہ کھیل جاری رہاجس کے دوران300سے زائدمعصوم وبے گناہ مہاجرماؤں بہنوں، بزرگوں،خواتین اوربچوں کوبیدردی سے شہیدکردیاگیااورسینکڑوں کوزخمی کردیاگیا۔ آدھاگھنٹہ تک یہ قتل عام ہوتارہا لیکن فوج، رینجرز ، پولیس یاکوئی بھی قانون نافذ کرنے والا ادارہ مہاجروں کوبچانے نہیں آیااوردہشت گردقتل عام کرکے آسانی کے ساتھ فرارہوگئے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سانحہ 30 ستمبرمعصوم وبے گناہ مہاجروں کے قتل عام اور ظلم وبربریت کاایسادردناک واقعہ ہے جسے بھلایانہیں جاسکتا۔انہوں نے کہاکہ اس سانحہ کوآج 27برس گزرگئے ہیں لیکن آج تک نہ تو اتنے بڑے قتل عام میں ملوث سفاک قاتلوں کوگرفتارکرکے سزادی گئی اورنہ ہی اس قتل عام کی تحقیقات کی گئیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے نوجوانوں کو تو جھوٹے اورمن گھڑت الزامات لگاکرانہیں برسوں پرانے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرلیا جاتا ہے لیکن مہاجروں کے بڑے پیمانے پر ہونے والے وحشیانہ قتل عام میں ملوث قاتلوں کوگرفتارنہیں کیاجاتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ سانحہ 30 ستمبر 1988ء کے شہداء کاخون رائیگاں نہیں جائے گا اورسفاک قاتلوں پر اللہ تعالیٰ کاعذاب نازل ہوگا۔ جناب الطاف حسین نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیااوردعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کواپنی جواررحمت میں جگہ دے اوران کے درجات بلندفرمائے اورتمام لواحقین کو صبرجمیل عطاکرے۔
 
Top