ایسی تو کوئی بات نہیں

ایسی تو کوئی بات نہیں

روشنی تھی نہ اُسکا سایہ تھا
ہر طرف اک سکوت چھایا تھا۔ ۔
یاد ہے پتھروں کی بارش میں
پہلا پتھر اُسی نے پھینکا تھا
اور اب مدتوں کے بعد اُس نے
مسکراتے ہوئے یہ پوچھا ہے
"آپ مجھ سے کہیں خفا تو نہیں؟"
اپنا ہر کرب چھپا کر میں نے۔ ۔ ۔
جانے کیسے یہ کہہ دیا میں نے
"نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں"
 

الف عین

لائبریرین
بہت اچھی نظم ہے محمود۔۔ یہ آپ کی پسندیدہ بحر ہے شاید، اور اسی میں دوسری بحر کے پیوند اچھے نہیں لگتے۔
اپنا ہر کرب چھپا کر میں نے۔ ۔ ۔
یہ مصرع اس بحر میں نہیں ہے۔
جن دو بحروں میں کنفیوژن ہوتا ہے، ان کی تفصیل یہ ہے
فاعلاتن مفاعلن فعلن
اور
فاعلاتن فِعِلاتن فعلن
اس پر رھوڑا دھیان دیں کہ بحر یا تو یہ ہو یا وہ۔
 

الف عین

لائبریرین
لیکن محمود ’گہر‘ میں بھی وہی مسئلہ ہے۔ عصر کے وزن پر ہے یہ۔ ہ پر حرکت یعنی آسان لفظوں میں زبر ہے
 
Top