ایران میں بہار کا سماں

ایران کی آبادی آٹھ کروڑ پر مشتمل ہے۔ آج سے 38سال پہلے یہاں انقلاب اسلامی کے نام سے امام خمینی کی قیادت میں ایک انقلاب آیا۔ یوں ایرانی عوام نے ڈھائی سو سالہ شہنشائیت کا خاتمہ کرکے98فیصدووٹوں کے ساتھ موجودہ دستوری ڈھانچے کو قبول کیا۔ ان کے دستوری ڈھانچے کے شق نمبر6 کے مطابق اس ملک کے صدر سے لیکر نیشنل اسمبلی اور دیگر تمام عہدوں پر افراد کا تعین عوامی ووٹوں سے ہوتا ہے۔ چار دہائیوں سے یہ لوگ امریکا اور اسرائیل سے برسرپیکار ہیں۔ ہر ظالم کی مخالفت اور ہر مظلوم کی حمایت ان کی خارجہ پالیسی میں مستقل طور پر شامل ہے۔ اس سسٹم کو بچانے کے لیے انھوں نے کافی قربانیاں دی ہیں۔ امریکا کے اشارے سے اس انقلاب کے آتے ہی صدام کی وساطت سے ان پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کی گئی، لاکھوں قربانیاں دیں لیکن آخر کار انھوں نے میدان مار دیے۔مظلوموں کی مدد کرنے کے جرم میں آئے روز نت نئی پابندیوں کے ذریعے استعماری طاقتوں کی جانب سے یہ کوشش جاری ہے کہ ان کو گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے لیکن ان کی ایک خصوصیت نے ان کو شکست سے بچا لیا۔ وہ خصوصیت ہے ان کا عظیم قائد کی قیادت میں اتحاد۔ اگرچہ دوسرے ممالک کی مانند مختلف نظریات کے حامل لوگ یہاں بھی ہیں لیکن جب امریکا اور اسرائیل کے مقابلے کا وقت آتا ہے تو سب یک زبان ہوکر میدان میں اتر آئے ہیں اور مرگ بر امریکہ، مرگ بر اسرائیل کے نعرے لگانے لگتے ہیں۔اگر ایران صرف حماس کی حمایت ترک کرنے کا اعلان کردے تو ان سے تمام تر پابندیاں اسی وقت ٹل جائیں گی لیکن یہ سودا انہیں کسی قیمت گوارا نہیں۔ اب مملکت خداداد پاکستان بھی آرمی سپہ سالار کی قیادت میں امریکا کے مقابلے کے لیے تلے آیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب آٹھ کروڑ ایرانی چالیس سال تک امریکا کا مقابلہ کرسکتا ہے تو 21کروڑ کی آبادی ہونے کے باوجود ہم کیوں نہیں کرسکتے، انھوں نے آیت اللہ خامنہ اورآیت اللہ سیستانی کو اپنے لیے آئیڈیل شخصیات قرار دیا ہے۔
انقلاب کے بعد انھوں نے مختلف شعبوں میں خاطرخواہ ترقی بھی کی ہیں۔ انقلاب سے پہلے کھانے پینے کی تمام چیزیں باہر سے آتی تھیں۔ مرغی فرانس سے، گوشت اسٹریلیا سے، انڈے اسرائیل سے، سیب لبنان سےاور دودھ وغیرہ ڈنمارک سے آتے تھے، ملک کے اندر صرف 33دن تک کے لیے غذائی سٹاک موجود ہوتاتھا، اس وقت 1000 بچوں میں سے 111بچے پیدائش کے بعد مختلف وجوہات کی بناپر لقمہ اجل بنتے تھے، صرف پچیس فیصد دوائیاں دوسرے ممالک کے تعاون سےملک کے اندر بنتی تھیں اور اکثر مریضوں کو علاج معالجے کی خاطر بیرون ملک جانا پڑتا تھا، 70فیصد تک عمر رسیدہ لوگ ناخواندہ تھےاور چالیس فیصد سے بھی کم بچے سکول جاتے تھے، صرف 154000ہزار طلبا چند بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں اور دوسرے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم تھے۔ جبکہ تین سال پہلے کی ایک رپورٹ کے مطابق آبادی دو برابرہونے کے باوجود اب 300دنوں تک کے لیے غذائی سٹاک موجود ہے، مرور زمان کے ساتھ ساتھ یہ سوفیصد تک ہوگا۔ اب 1000بچوں میں سے صرف 26بچے بچپنے میں مرجاتے ہیں، نارمل انسان کی عمر 58سال سے بڑھ کر 72سال ہوگئی ہے، یہ صحت کے شعبے میں ان کی پیشرفت کی دلیل ہے۔اب چھانوے فیصد دوائیاں ملک کے اندر بنتی ہیں اور دوائیاں برآمد بھی کرتا ہے، لیٹریسی ریٹ سوفیصد کے قریب ہے،اس وقت ان کے ہاں119سرکاری یونیورسٹیاں، 28سائنسی مراکز، 550پیام نور یونیورسٹی کے کیمپس، 385آزاد اسلامی یونیورسٹی کےکیمپس، 739فنی علوم کے مراکز کے علاوہ 274پروفیشنل ٹیکنیکل ادارے پائے جاتے ہیں۔ان مختلف تعلیمی اداروں میں اس وقت چار ملین سے زیادہ طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں، گیس کے زخائر کے اعتبار سے دنیا میں روس کے بعد دوسرا نمبر ایران کا ہے۔ملکی ضروریات پوری کرکے ایران بجلی برآمد کرتا ہے، سائنسی میدان میں اس وقت ایران بارھویں نمبر پر ہے، اس وقت ایران اٹامک ملک سمجھا جاتا ہے اور اٹامک انرجی کا ممبر ملک بھی ہے، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کا شمار سات آٹھ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ اس وقت دیسی ساخت کے مصنوعی سیارے سیٹلائٹ پر بھیجا جا چکا ہےاور عنقریب مزید بھیجنے والے ہیں اور ان کا شمار دنیا کے ان چھے ممالک میں ہوتا ہے جن کے پاس اسے بنانے اور لانچ کرنے کی ٹیکنالوجی پائی جاتی ہے۔ (1)۔ تیل کےذخائر کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہونے کے علاوہ انجنئرینگ کے شعبے میں تعدادکے اعتبار سے اس وقت ایران تیسرے نمبر پر ہے اور تین لاکھ تئیس ہزار سے زائد طلبا انجنیرنگ مکمل کرکےفارغ ہوچکے ہیں۔
اس وقت ان کی سرکاری فوج میں 545000افراد حاضر سروس ہیں اور 65000ریزرو فوج ہیں، سپاہ پاسداران کے 125000 افراد ہیں اور چند سال قبل بسیج کے سربراہ کی رپورٹ کے مطابق 23ملین 8لاکھ بسیجی ہیں۔(2) ان کے ہر شہری پر اٹھارہ سال کی عمر میں دو سالہ فوجی ٹرینیگ لینا ضروری ہے۔ یوں اس وقت ایران ایک بہت طاقتور دفاعی نظام رکھتا ہے، اسی وجہ سے امریکا اور اسرائیل ابھی تک ان پر حملہ کرنے کی جرائت نہ کرسکے، اسرائیل کے مقابلے میں سنی مسلمان تنظیم حماس کو سب سے زیادہ مدد ایران فراہم کرتا ہے، اب ایران کی مداخلت نے شام اور عراق سے بھی داعش کا خاتمہ کردیا ہے، اگر نیابتی جنگ یہ لوگ شام میں نہ لڑتے تو ہمیں افغان بارڈر پر لڑنا پڑتا، مسلم ممالک میں وحدت کے حوالے سے ایران نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پیغمبر اکرم ؐ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے دنیا بھر کے مسلم سربراہوں کو تہران مدعو کرکے پورا ایک ہفتہ وحدت کے عنوان سے مناتے آئے ہیں، دوسرے بعض اسلامی ممالک کے برخلاف انھوں نے تنگ نظری، دہشتگردی اور تکفیری سوچ کو پروان چڑھنے نہیں دیا۔ بلکہ ہمیشہ مسلمانوں کو قریب لانے کی کوشش کی ، بعض افراد نے گلبھوشن معاملے میں انہیں ملوث کرنے کی ناکام کوشش کی جس کی قلعی ان کے انٹرویو منظر عام پر آنے کے بعد مکمل طور پرکھل گئی، جب ان سے استفسار کیا گیا کہ تم نے پاسپورٹ کیوں ہمراہ لے آیا جبکہ پکڑے جانے کا خطرہ لاحق تھا، تب جواب دیا کہ ایران میں چیکنگ سسٹم پاکستان کے برعکس بہت ہی سخت ہے اس لیے مجھے مجبورا اسے لے کےآنا پڑا۔ اگر ایران ملوث ہوتا تو بغیر کسی سفری دستاویزات کے اسے چھوڑ دیتا، ایسا انھوں ہرگز نہیں کیا۔ پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلے ایران نے اسے تسلیم کیا، اٹامک تجربے کے وقت بحرانی وقت میں ایران نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور انڈیا کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا، ایران کا موازنہ بالکل عرب ممالک سے نہیں کیا جاسکتا، عرب ممالک اس وقت مکمل امریکہ اور اسرائیل کی گود میں پناہ لے چکا ہے۔ ان کے پاس جنگی طاقت ، عوامی طاقت ، فوجی طاقت ہے اورنہ ہی ان کی اپنی کوئی آئیڈیالوجی ہے، بلکہ یہ ممالک امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے کو فالو کررہے ہیں۔ جس کاواضح ثبوت قبلہ اول کے بارے صدر ٹرمپ کے حالیہ خطرناک فیصلہ کے بعد سعودی عرب کا اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت نہ کرنا اور اپنے ہم نواؤںکو شرکت کرنےسے روکنا ہے، علاوہ ازیں سعودی شہزادے نے برملا کہا کہ فلسطین اسرائیل جنگ ہونےکی صورت میں ہم اسرائیل کا ساتھ دیں گے۔داعش کو نابود کرنا اگر ایران کے جارحانہ عزائم کی دلیل ہے تو ہم سب بھی اس میں شامل ہیں کیونکہ ہم بھی عرصہ دراز سے طالبان اور القاعدہ سے لڑتے آئے ہیں اورداعشیوں سے مقابلے کے لیے پاک فوج کمربستہ ہیں، ان کے ہاتھوں70ہزار سے زائد پاکستانی مسلمان جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر اگرایران سے کسی کو خطرہ ہےتو صرف تکفیری اور داعشی سوچ رکھنے والوں، فلسطین کے بے گناہ سنی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں، یمن میں بے گناہ 70٪سنی شافعی اور30٪زیدی مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہانے والوں، پوری دنیا کے مسلمانوں کا خون چوسنے والوں اور ان کو سپورٹ کرنے والوں کے لیے ہے ورنہ انھوں نے نہ خود سےآج تک کسی ملک پر چڑھائی کی ہے اور نہ آئندہ ارادہ رکھتے ہیں۔اس جمہوری دور میں بادشاہت ہی وہ بدترین لوڑا لنگڑا نظام حکومت ہے جسے بچانے کے لیے سعودی اور ان کے ہم نواؤں کو امریکا اور اسرائیل کے تلوے چاٹنا پڑ رہا ہےاور یہ تمام مسلمانوں کے لیے باعث ننگ و عار ہے۔
بعض افراد رواں ہفتے مہنگائی کے خلاف ایران کے بعض مقامات پر احتجاجات ہونے کو بہار عربی سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ انہیں خواب غفلت میں نہیں رہنا چاہیے، یہی تو حقیقی جمہوریت کی علامت ہے کہ محض انڈے کی قیمتیں بڑھنے پر لوگ سڑکوں پر نکلنے کا حق رکھتے ہیں،البتہ اس عوامی احتجاج سے ایران دشمن عناصر نے فائدہ اٹھاکر حالات خراب کرنے کی کوشش کی اور چند افراد جان سے گئے، لیکن نہ یہاں کی پولیس نے کسی پر گولی چلائی اور نہ ہی فوج میدان میں اترآئی،بلکہ سنجیدگی سے حالات کو کنٹرول میں لیا گیا۔ ایرانی جمہوریت پر قدغن لگانے والوں کو اب اس بات کا اقرار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوناچاہیے کہ اگر کہیں حقیقی جمہوریت ہے تو وہ ایران ہے، چار عشروں سے یہ ملک جنوبی ایشیا میں امن کا گہوارہ چلا آرہا ہے، ہر میدان میں ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے اور اب بھی یہاں بہار کا سماں ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی رہے گا۔
Tasnimnews.com/fa/news/263933
Sook.ir/fa/news/174620
 

زیک

تکنیکی معاون
عین اس وقت جب ایران میں مظاہرے ہو رہے ہیں یہاں ایران کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں
 

فاخر رضا

محفلین
تمام احباب کی خدمت میں السلام علیکم
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ علیہ وبرکاۃ
بہت محنت سے لکھی ہے آپ نے یہ تحریر
اب حملوں کے لئے تیار ہوجائیے. بہت جلد آپ کو بہت کچھ پڑھنے کو ملے گا، جیسے امریکہ کے نمائندے فواد کو ملتا ہے. نہ وہ باز آیا نہ آپ آئیں گے
 
برادران ذرا علمی انداز میں اور صحافتی رولز کے مطابق محاسن و معائب کو ملحوظ خاطر رکھ کر تبصرہ کیا کیجیے۔ کیونکہ وسعت نظری سنجیدہ اور مہذب ہونے کی علامت ہوا کرتی ہے۔
 

فاخر رضا

محفلین
سلام
جب ہم امریکہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں سے باہر جاکر دوسرے ملکوں کے معاملات میں دخل اندازی کررہا ہے تو کس طرح یہی کام ایران کے لئے مستحسن قرار دیا جاسکتا ہے
میں اس بات کا قائل ہوں کہ اسلام نہ تو تلوار کے ذریعے پھیلا ہے اور نہ اسے ان جنگوں سے کوئی فائدہ ہوا جو اسلامی سرحدیں بڑھانے کے لئے لڑی گئیں. اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور یہ توسیع پسندی کو پسند نہیں کرتا
تمام دنیا ایک مصلح اور عادل حکومت کے انتظار میں ہے مگر اس کے لئے خود تیاری کرنی چاہیے اور اپنی حدود میں اسلام نافذ کرنا چاہیے نہ کہ پوری دنیا کا ٹھیکا اٹھا لیا جائے. ایران کی لبنان، یمن، شام، بحرین، سعودی شیعہ علاقوں میں suspected involvement اور ان کی اخلاقی سے بڑھ کر امداد ایک سوالیہ نشان ہے. سعودی ایران پراکسی کسی اور زمین پر کس طرح جائز ہے.
میں سعودی کے یمن، شام وغیرہ میں مداخلت کے بھی خلاف ہوں اور اسی طرح امریکہ برطانیہ اور کسی بھی توسیع پسند عزائم رکھنے والے ملک کے ان عزائم کے خلاف ہوں
اس مراسلے کو ذاتی تنقید مت سمجھیں بلکہ ایک طالبعلم کی معاملہ سمجھنے کی ایک کوشش سمجھیں
 
میں سعودی کے یمن، شام وغیرہ میں مداخلت کے بھی خلاف ہوں اور اسی طرح امریکہ برطانیہ اور کسی بھی توسیع پسند عزائم رکھنے والے ملک کے ان عزائم کے خلاف ہوں
یعنی آپ ایران کے لبنان، شام، عراق، یمن وغیر میں ہ مداخلت کے بھی خلاف ہیں؟
 
ایران کی آبادی آٹھ کروڑ پر مشتمل ہے۔ آج سے 38سال پہلے یہاں انقلاب اسلامی کے نام سے امام خمینی کی قیادت میں ایک انقلاب آیا۔ یوں ایرانی عوام نے ڈھائی سو سالہ شہنشائیت کا خاتمہ کرکے98فیصدووٹوں کے ساتھ موجودہ دستوری ڈھانچے کو قبول کیا۔ ان کے دستوری ڈھانچے کے شق نمبر6 کے مطابق اس ملک کے صدر سے لیکر نیشنل اسمبلی اور دیگر تمام عہدوں پر افراد کا تعین عوامی ووٹوں سے ہوتا ہے۔ چار دہائیوں سے یہ لوگ امریکا اور اسرائیل سے برسرپیکار ہیں۔ ہر ظالم کی مخالفت اور ہر مظلوم کی حمایت ان کی خارجہ پالیسی میں مستقل طور پر شامل ہے۔ اس سسٹم کو بچانے کے لیے انھوں نے کافی قربانیاں دی ہیں۔ امریکا کے اشارے سے اس انقلاب کے آتے ہی صدام کی وساطت سے ان پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کی گئی، لاکھوں قربانیاں دیں لیکن آخر کار انھوں نے میدان مار دیے۔مظلوموں کی مدد کرنے کے جرم میں آئے روز نت نئی پابندیوں کے ذریعے استعماری طاقتوں کی جانب سے یہ کوشش جاری ہے کہ ان کو گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے لیکن ان کی ایک خصوصیت نے ان کو شکست سے بچا لیا۔ وہ خصوصیت ہے ان کا عظیم قائد کی قیادت میں اتحاد۔ اگرچہ دوسرے ممالک کی مانند مختلف نظریات کے حامل لوگ یہاں بھی ہیں لیکن جب امریکا اور اسرائیل کے مقابلے کا وقت آتا ہے تو سب یک زبان ہوکر میدان میں اتر آئے ہیں اور مرگ بر امریکہ، مرگ بر اسرائیل کے نعرے لگانے لگتے ہیں۔اگر ایران صرف حماس کی حمایت ترک کرنے کا اعلان کردے تو ان سے تمام تر پابندیاں اسی وقت ٹل جائیں گی لیکن یہ سودا انہیں کسی قیمت گوارا نہیں۔ اب مملکت خداداد پاکستان بھی آرمی سپہ سالار کی قیادت میں امریکا کے مقابلے کے لیے تلے آیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب آٹھ کروڑ ایرانی چالیس سال تک امریکا کا مقابلہ کرسکتا ہے تو 21کروڑ کی آبادی ہونے کے باوجود ہم کیوں نہیں کرسکتے، انھوں نے آیت اللہ خامنہ اورآیت اللہ سیستانی کو اپنے لیے آئیڈیل شخصیات قرار دیا ہے۔
انقلاب کے بعد انھوں نے مختلف شعبوں میں خاطرخواہ ترقی بھی کی ہیں۔ انقلاب سے پہلے کھانے پینے کی تمام چیزیں باہر سے آتی تھیں۔ مرغی فرانس سے، گوشت اسٹریلیا سے، انڈے اسرائیل سے، سیب لبنان سےاور دودھ وغیرہ ڈنمارک سے آتے تھے، ملک کے اندر صرف 33دن تک کے لیے غذائی سٹاک موجود ہوتاتھا، اس وقت 1000 بچوں میں سے 111بچے پیدائش کے بعد مختلف وجوہات کی بناپر لقمہ اجل بنتے تھے، صرف پچیس فیصد دوائیاں دوسرے ممالک کے تعاون سےملک کے اندر بنتی تھیں اور اکثر مریضوں کو علاج معالجے کی خاطر بیرون ملک جانا پڑتا تھا، 70فیصد تک عمر رسیدہ لوگ ناخواندہ تھےاور چالیس فیصد سے بھی کم بچے سکول جاتے تھے، صرف 154000ہزار طلبا چند بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں اور دوسرے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم تھے۔ جبکہ تین سال پہلے کی ایک رپورٹ کے مطابق آبادی دو برابرہونے کے باوجود اب 300دنوں تک کے لیے غذائی سٹاک موجود ہے، مرور زمان کے ساتھ ساتھ یہ سوفیصد تک ہوگا۔ اب 1000بچوں میں سے صرف 26بچے بچپنے میں مرجاتے ہیں، نارمل انسان کی عمر 58سال سے بڑھ کر 72سال ہوگئی ہے، یہ صحت کے شعبے میں ان کی پیشرفت کی دلیل ہے۔اب چھانوے فیصد دوائیاں ملک کے اندر بنتی ہیں اور دوائیاں برآمد بھی کرتا ہے، لیٹریسی ریٹ سوفیصد کے قریب ہے،اس وقت ان کے ہاں119سرکاری یونیورسٹیاں، 28سائنسی مراکز، 550پیام نور یونیورسٹی کے کیمپس، 385آزاد اسلامی یونیورسٹی کےکیمپس، 739فنی علوم کے مراکز کے علاوہ 274پروفیشنل ٹیکنیکل ادارے پائے جاتے ہیں۔ان مختلف تعلیمی اداروں میں اس وقت چار ملین سے زیادہ طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں، گیس کے زخائر کے اعتبار سے دنیا میں روس کے بعد دوسرا نمبر ایران کا ہے۔ملکی ضروریات پوری کرکے ایران بجلی برآمد کرتا ہے، سائنسی میدان میں اس وقت ایران بارھویں نمبر پر ہے، اس وقت ایران اٹامک ملک سمجھا جاتا ہے اور اٹامک انرجی کا ممبر ملک بھی ہے، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کا شمار سات آٹھ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ اس وقت دیسی ساخت کے مصنوعی سیارے سیٹلائٹ پر بھیجا جا چکا ہےاور عنقریب مزید بھیجنے والے ہیں اور ان کا شمار دنیا کے ان چھے ممالک میں ہوتا ہے جن کے پاس اسے بنانے اور لانچ کرنے کی ٹیکنالوجی پائی جاتی ہے۔ (1)۔ تیل کےذخائر کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہونے کے علاوہ انجنئرینگ کے شعبے میں تعدادکے اعتبار سے اس وقت ایران تیسرے نمبر پر ہے اور تین لاکھ تئیس ہزار سے زائد طلبا انجنیرنگ مکمل کرکےفارغ ہوچکے ہیں۔
اس وقت ان کی سرکاری فوج میں 545000افراد حاضر سروس ہیں اور 65000ریزرو فوج ہیں، سپاہ پاسداران کے 125000 افراد ہیں اور چند سال قبل بسیج کے سربراہ کی رپورٹ کے مطابق 23ملین 8لاکھ بسیجی ہیں۔(2) ان کے ہر شہری پر اٹھارہ سال کی عمر میں دو سالہ فوجی ٹرینیگ لینا ضروری ہے۔ یوں اس وقت ایران ایک بہت طاقتور دفاعی نظام رکھتا ہے، اسی وجہ سے امریکا اور اسرائیل ابھی تک ان پر حملہ کرنے کی جرائت نہ کرسکے، اسرائیل کے مقابلے میں سنی مسلمان تنظیم حماس کو سب سے زیادہ مدد ایران فراہم کرتا ہے، اب ایران کی مداخلت نے شام اور عراق سے بھی داعش کا خاتمہ کردیا ہے، اگر نیابتی جنگ یہ لوگ شام میں نہ لڑتے تو ہمیں افغان بارڈر پر لڑنا پڑتا، مسلم ممالک میں وحدت کے حوالے سے ایران نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پیغمبر اکرم ؐ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے دنیا بھر کے مسلم سربراہوں کو تہران مدعو کرکے پورا ایک ہفتہ وحدت کے عنوان سے مناتے آئے ہیں، دوسرے بعض اسلامی ممالک کے برخلاف انھوں نے تنگ نظری، دہشتگردی اور تکفیری سوچ کو پروان چڑھنے نہیں دیا۔ بلکہ ہمیشہ مسلمانوں کو قریب لانے کی کوشش کی ، بعض افراد نے گلبھوشن معاملے میں انہیں ملوث کرنے کی ناکام کوشش کی جس کی قلعی ان کے انٹرویو منظر عام پر آنے کے بعد مکمل طور پرکھل گئی، جب ان سے استفسار کیا گیا کہ تم نے پاسپورٹ کیوں ہمراہ لے آیا جبکہ پکڑے جانے کا خطرہ لاحق تھا، تب جواب دیا کہ ایران میں چیکنگ سسٹم پاکستان کے برعکس بہت ہی سخت ہے اس لیے مجھے مجبورا اسے لے کےآنا پڑا۔ اگر ایران ملوث ہوتا تو بغیر کسی سفری دستاویزات کے اسے چھوڑ دیتا، ایسا انھوں ہرگز نہیں کیا۔ پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلے ایران نے اسے تسلیم کیا، اٹامک تجربے کے وقت بحرانی وقت میں ایران نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا اور انڈیا کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا، ایران کا موازنہ بالکل عرب ممالک سے نہیں کیا جاسکتا، عرب ممالک اس وقت مکمل امریکہ اور اسرائیل کی گود میں پناہ لے چکا ہے۔ ان کے پاس جنگی طاقت ، عوامی طاقت ، فوجی طاقت ہے اورنہ ہی ان کی اپنی کوئی آئیڈیالوجی ہے، بلکہ یہ ممالک امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے کو فالو کررہے ہیں۔ جس کاواضح ثبوت قبلہ اول کے بارے صدر ٹرمپ کے حالیہ خطرناک فیصلہ کے بعد سعودی عرب کا اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت نہ کرنا اور اپنے ہم نواؤںکو شرکت کرنےسے روکنا ہے، علاوہ ازیں سعودی شہزادے نے برملا کہا کہ فلسطین اسرائیل جنگ ہونےکی صورت میں ہم اسرائیل کا ساتھ دیں گے۔داعش کو نابود کرنا اگر ایران کے جارحانہ عزائم کی دلیل ہے تو ہم سب بھی اس میں شامل ہیں کیونکہ ہم بھی عرصہ دراز سے طالبان اور القاعدہ سے لڑتے آئے ہیں اورداعشیوں سے مقابلے کے لیے پاک فوج کمربستہ ہیں، ان کے ہاتھوں70ہزار سے زائد پاکستانی مسلمان جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر اگرایران سے کسی کو خطرہ ہےتو صرف تکفیری اور داعشی سوچ رکھنے والوں، فلسطین کے بے گناہ سنی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں، یمن میں بے گناہ 70٪سنی شافعی اور30٪زیدی مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہانے والوں، پوری دنیا کے مسلمانوں کا خون چوسنے والوں اور ان کو سپورٹ کرنے والوں کے لیے ہے ورنہ انھوں نے نہ خود سےآج تک کسی ملک پر چڑھائی کی ہے اور نہ آئندہ ارادہ رکھتے ہیں۔اس جمہوری دور میں بادشاہت ہی وہ بدترین لوڑا لنگڑا نظام حکومت ہے جسے بچانے کے لیے سعودی اور ان کے ہم نواؤں کو امریکا اور اسرائیل کے تلوے چاٹنا پڑ رہا ہےاور یہ تمام مسلمانوں کے لیے باعث ننگ و عار ہے۔
بعض افراد رواں ہفتے مہنگائی کے خلاف ایران کے بعض مقامات پر احتجاجات ہونے کو بہار عربی سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ انہیں خواب غفلت میں نہیں رہنا چاہیے، یہی تو حقیقی جمہوریت کی علامت ہے کہ محض انڈے کی قیمتیں بڑھنے پر لوگ سڑکوں پر نکلنے کا حق رکھتے ہیں،البتہ اس عوامی احتجاج سے ایران دشمن عناصر نے فائدہ اٹھاکر حالات خراب کرنے کی کوشش کی اور چند افراد جان سے گئے، لیکن نہ یہاں کی پولیس نے کسی پر گولی چلائی اور نہ ہی فوج میدان میں اترآئی،بلکہ سنجیدگی سے حالات کو کنٹرول میں لیا گیا۔ ایرانی جمہوریت پر قدغن لگانے والوں کو اب اس بات کا اقرار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوناچاہیے کہ اگر کہیں حقیقی جمہوریت ہے تو وہ ایران ہے، چار عشروں سے یہ ملک جنوبی ایشیا میں امن کا گہوارہ چلا آرہا ہے، ہر میدان میں ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے اور اب بھی یہاں بہار کا سماں ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی رہے گا۔
Tasnimnews.com/fa/news/263933
Sook.ir/fa/news/174620
:D:D
کیا یہ بات صحیح ہے کہ عنقریب ایران امریکہ کے دو بڑے شہروں "نیویارک اور واشنگٹن" پر ایٹم بم برسانے والا ہے۔۔ اور دو سال تک حماس کے تعاون سے ایران آخری یہودی کو بھی اسرائیل سے نکال دے گا؟
:p
 

فاخر رضا

محفلین
:D:D
کیا یہ بات صحیح ہے کہ عنقریب ایران امریکہ کے دو بڑے شہروں "نیویارک اور واشنگٹن" پر ایٹم بم برسانے والا ہے۔۔ اور دو سال تک حماس کے تعاون سے ایران آخری یہودی کو بھی اسرائیل سے نکال دے گا؟
:p
یہ کیسی بات کی آپ نے۔ اسکا کا کیا سر پیر ہے۔
 
عبید انصاری صاحب ذرا تعصب کی عینک اتار کر اور تہذیب کا لبادہ پہن کر بحث کرنے کی عادت کیجیے شکریہ۔ میرے بیان کیے ہوئے ہر بات کا ثبوت میرے پاس ہے۔ ہم کسی کی رضامندی مول لینے کے لیے کسی کی یاکسی ملک کی تعریف نہیں کیا کرتے۔ حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دیتے ہیں۔ آپ خود۔جواب دیں کیا سعودی عرب فلسطینیوں کی کوئی مدد کر رہا ہے? کیا وہ لوگ داعش کو بھرپور سپورٹ نہیں کر رہا? کیا ہمارے ملک کے خلاف طالبان اور القاعدہ بنانے والے امریکہ اور سعودی نہیں ہے?اس حوالے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد جاوید چوہدری کے تین قسطوں پر مشتمل کالم پڑھ لیجیے۔ کیا سعودی عرب پاکستان کے اندر تکفیری سوچ اور تنگ نظری کو فروغ دینے کے لیے وہابی مدارس کو اربوں روپے فراہم نہیں کررہا ہے? اس حوالے سے کامران خان اور مبشر لقمان کے ٹاک شوز ملاحظہ کیجیے۔ اپنی معومات بڑھائیے اور تعمیری اور علمی تنقید کی روش اپنائیے۔
 

فاخر رضا

محفلین
سلام
جب ہم امریکہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں سے باہر جاکر دوسرے ملکوں کے معاملات میں دخل اندازی کررہا ہے تو کس طرح یہی کام ایران کے لئے مستحسن قرار دیا جاسکتا ہے
میں اس بات کا قائل ہوں کہ اسلام نہ تو تلوار کے ذریعے پھیلا ہے اور نہ اسے ان جنگوں سے کوئی فائدہ ہوا جو اسلامی سرحدیں بڑھانے کے لئے لڑی گئیں. اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور یہ توسیع پسندی کو پسند نہیں کرتا
تمام دنیا ایک مصلح اور عادل حکومت کے انتظار میں ہے مگر اس کے لئے خود تیاری کرنی چاہیے اور اپنی حدود میں اسلام نافذ کرنا چاہیے نہ کہ پوری دنیا کا ٹھیکا اٹھا لیا جائے. ایران کی لبنان، یمن، شام، بحرین، سعودی شیعہ علاقوں میں suspected involvement اور ان کی اخلاقی سے بڑھ کر امداد ایک سوالیہ نشان ہے. سعودی ایران پراکسی کسی اور زمین پر کس طرح جائز ہے.
میں سعودی کے یمن، شام وغیرہ میں مداخلت کے بھی خلاف ہوں اور اسی طرح امریکہ برطانیہ اور کسی بھی توسیع پسند عزائم رکھنے والے ملک کے ان عزائم کے خلاف ہوں
اس مراسلے کو ذاتی تنقید مت سمجھیں بلکہ ایک طالبعلم کی معاملہ سمجھنے کی ایک کوشش سمجھیں
عبداللہ شاہ
میری اس جسارت پر بھی تبصرہ کردیں
 
عبید انصاری صاحب ذرا تعصب کی عینک اتار کر اور تہذیب کا لبادہ پہن کر بحث کرنے کی عادت کیجیے شکریہ۔ میرے بیان کیے ہوئے ہر بات کا ثبوت میرے پاس ہے۔ ہم کسی کی رضامندی مول لینے کے لیے کسی کی یاکسی ملک کی تعریف نہیں کیا کرتے۔ حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دیتے ہیں۔ آپ خود۔جواب دیں کیا سعودی عرب فلسطینیوں کی کوئی مدد کر رہا ہے? کیا وہ لوگ داعش کو بھرپور سپورٹ نہیں کر رہا? کیا ہمارے ملک کے خلاف طالبان اور القاعدہ بنانے والے امریکہ اور سعودی نہیں ہے?اس حوالے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد جاوید چوہدری کے تین قسطوں پر مشتمل کالم پڑھ لیجیے۔ کیا سعودی عرب پاکستان کے اندر تکفیری سوچ اور تنگ نظری کو فروغ دینے کے لیے وہابی مدارس کو اربوں روپے فراہم نہیں کررہا ہے? اس حوالے سے کامران خان اور مبشر لقمان کے ٹاک شوز ملاحظہ کیجیے۔ اپنی معومات بڑھائیے اور تعمیری اور علمی تنقید کی روش اپنائیے۔
ہمیں ایران کی کسی ترقی سے نہ کوئی جلن ہے نہ ہی کوئی مطلب۔ خوب سمجھ لیجیے۔
اور نہ ہی ہم کوئی تنقید کرنا چاہتے ہیں۔
البتہ آپ نے جس انداز سے "فضائل ایران" تحریر فرمائے اس سے ہم بہت محظوظ ہوئے اور تھوڑا سا ان فضائل میں اضافہ کرنے کی "شرارت"کی۔:)
 
ممنون برادر فاخر رضا صاحب
البتہ میں ذاتی طور پر یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ امریکی جنگوں کے ساتھ ایران کو تشبیہ دینا شاید درست نہ ہو کیونکہ امریکا ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے سے آکر مشرق وسطی میں مسلمانوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ جبکہ ایرانی پالیسی ایسی نہیں۔ آپ شام کا معاملہ لیجیے۔ اصل میں امریکا اور اسرائیل کی پالیسی یہ تھی اور ہے کہ اسرائیل کے لیے مشرق وسطی میں زمین ہموار کیا جائے۔ نیل تا فرات کا خواب پورا ہو۔ جبکہ اسرائیلی توسیع پسند نظریے کو کوئی بھی اسلامی ملک تسلیم نہیں کرتا۔ اسرائیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حزب اللہ اور ایران ہے۔ امریکا اور اسرائیل ڈائریکٹ نہ حزب اللہ پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں تھا کیونکہ امریکا نے 8سالہ ایران عراق جنگ میں ایران کو شکست دینے کا ہر حربہ استعمال کیا لیکن ناکام رہا۔ جس کا اقرار سابق امریکی صدر بش بھی کر چکا ہے۔ ان کے بقول ہم نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ تقریبا نوے فیصد حتمی کر دیا تھا لیکن جب ہم نے ایران عراق 8سالہ جنگ پر نظر دوڑائی تب ہم نے اپنا فیصلہ تبدیل کردیا(کیونکہ یہ قوم شکست پانے والی نہیں). اسی طرح 2006میں آپ حزب اللہ اسرائیل 33روزہ جنگ کی تاریخ پڑھئے۔ جس اسرائیل کا مقابلہ تمام عرب ممالک نہیں کر پائے تھے حزب اللہ نے مختصر مدت میں اسے گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ تب امریکا اور اسرائیل نے بھانپ لیا کہ کسی اور طریقے سے ان کو شکست دی جائے۔ اس نے پراکسی وار کے لیے شام کا انتخاب کیا جس کے ساتھ ایران کا بہت قدیمی دفاعی معاہدہ تھا جس کے تحت ایران عراق جنگ میں شام نے ایران کی بھرپور مدد کی تھی۔ تاکہ پہلے وہاں سے حزب اللہ کو شکست دی جاسکے پھر وہاں پر ایران کو کمزور کرکے ان کے انقلاب کا بھی خاتمہ کیا جاسکے۔ ان سب سے بڑھ کر داعش نے آتے ہی سب سے پہلا نشانہ حضرت زینب س کے حرم کو بنایا جو کہ اہل بیت میں سے ہیں۔ ان کا دفاع تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ داعشی حرم سے صرف ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے تک پہنچ گئے تھے۔ لہذا اگر ایران و حزب اللہ اس پراکسی وار میں خاموشی اختیار کرلیتے تب نہ حضرت زینب س کا حرم بچ جاتا اور نہ ہی یہ ممالک محفوظ رہ سکتے تھے۔ لہذا حزب اللہ اور ایران نے اس جنگ کو اپنے حدود میں پہنچنے سے پہلے ہی ختم کر دیا۔ اب شام کے بچے کھچے 10000داعشی افغانستان پہنچ چکے ہیں۔ جو ہمارے لیے بھی بہت بڑی خطرے کی گھنٹی ہے۔ یمن میں کوئی ایرانی فورس موجود نہیں۔ اگر یمنیوں کو اپنے ملک کے دفاع کے لیے مدد کیا بھی ہے تو یہ جرم نہیں بلکہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی مدد ہےجو ہر مسلمان کا اخلاقی اور شرعی فریضہ ہے۔ آپ خود ذرا تحقیق کیجیے کہ آج تک ایران نے یا حزب اللہ نے کسی اسلامی ملک پر چڑھائی کی دھمکی نہیں دی۔ ساتھ ہی ایران کی حماس' شام اور یمن کے لیے مدد ہرگز مسلکی نہیں۔ ان تینوں ممالک میں سارے کے سارے سنی مذہب مسلمان آباد ہیں۔ شیعہ امامیہ ان ممالک میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ آپ خود گوگل سرچ کے ذریعے میری اس بات کی تائید لے سکتے ہیں۔یہ شوشا محض امریکی اسرائیلی پراپیگنڈے ہیں۔لہذا ہمیں ان کے دھوکوں میں آنے کے بجائے خود تحقیق کرنی چاہیے۔
 
Top