الف عین
محمد عبدالرؤوف
یاسر شاہ
عظیم
@محمٰد احسن سمیع؛راحل؛
--------------
اہلِ وفا جہاں میں مردود ہو گئے ہیں
رستے ہی جب وفا کے مسدود ہو گئے ہیں
----------یا، محدود ہو گئے ہں
کرتا نہیں کسی پر اب اعتبار کوئی
لوگوں کے دل ہوس میں آلود ہو گئے ہیں
---------
پھیلیں گی کس طرح سے اب نیکیاں جہاں میں
تبلیغ کے طریقے بے سود ہو گئے ہیں
--------
اب زندگی میں چاہت عنقا سی ہو گئی ہے
دشمن محبّتوں کے موجود ہو گئے ہیں
----------
انساں نے خود تراشے ہاتھوں سے اپنے بت جو
انسان کے وہ دیکھو معبود ہو گئے ہیں
-------------
دولت نہیں کسی کی کرنا نہ مان اس پر
کچھ لوگ اس کو پا کر نمرود ہو گئے ہیں
-----------
ہرگز نہ بھول جانا تم آخرت کو ارشد
کیوں مال و زر تمہارے مقصود ہو گئے ہیں
----------
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
الف عین
محمد عبدالرؤوف
یاسر شاہ
عظیم
@محمٰد احسن سمیع؛راحل؛
--------------
اہلِ وفا جہاں میں مردود ہو گئے ہیں
رستے ہی جب وفا کے مسدود ہو گئے ہیں
----------یا، محدود ہو گئے ہں
محدود یا مسدود دونوں متبادلات میں ایطا کا سقم ہے کہ پہلے مصرع میں مردود ہے، یعنی 'دود' مشترک ہے
مفہوم کے لحاظ سے بھی دو لخت لگتا ہے
کرتا نہیں کسی پر اب اعتبار کوئی
لوگوں کے دل ہوس میں آلود ہو گئے ہیں
---------
بے اعتباری کا ہوس سے تعلق؟
پھیلیں گی کس طرح سے اب نیکیاں جہاں میں
تبلیغ کے طریقے بے سود ہو گئے ہیں
--------
طریقے نہیں، کوششیں بے سود ہو سکتی ہیں
اب زندگی میں چاہت عنقا سی ہو گئی ہے
دشمن محبّتوں کے موجود ہو گئے ہیں
----------
موجود ہو جانا بھی درست محاورہ نہیں
انساں نے خود تراشے ہاتھوں سے اپنے بت جو
انسان کے وہ دیکھو معبود ہو گئے ہیں
-------------
پہلا مصرع رواں نہیں ، دوسرے مصرعے میں دیکھو بھرتی کا ہے
دولت نہیں کسی کی کرنا نہ مان اس پر
کچھ لوگ اس کو پا کر نمرود ہو گئے ہیں
-----------
یہ بھی دو لخت بلکہ سہ لخت لگتا ہے
ہرگز نہ بھول جانا تم آخرت کو ارشد
کیوں مال و زر تمہارے مقصود ہو گئے ہیں
----------
درست
 
Top