اھلآ و سہلآ یا امریکہ

Do you think that America will be sincere for development of Pakistan?

  • Yes

    Votes: 1 11.1%
  • No

    Votes: 7 77.8%
  • Do Not Know

    Votes: 1 11.1%

  • Total voters
    9

پرویز

محفلین
ہمارے ملک کے عام شہری ہوں یا صنعت کار، سیاست دان ہو یا سفارت کار۔ سب کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح امریکہ میں کام یا کاروبار کرنے کا موقع مل جائے۔ آج اگر امریکہ کو بُرا بھلا کہنے والوں کو جمع کر کے خفیہ رائے شماری کرائی جائے تو %99 امریکہ جانے کے خواہش مند نکلیں گے۔ لیکن چونکہ موقع نہیں ملتا تو کھسیانی بلی کھمبا ہی نوچے گی۔

عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ چین ہمارا سب سے بہترین، بے لوث اور مخلص دوست ہے اور اسی لئے گوادر کی بندرگاہ ہو یا تھر کول پراجیکٹ، چین ہی کو ترجیح دی جاتی ہے جو کہ عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے نزدیک ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور اسی لئے یہ طاقتیں ایسے پراجیکٹس کو سبوتاژ کرنے میں مصروف رہتی ہیں۔ نتیجہ ڈھاک کے تین پات۔ ہمارا کوئی بھی پراجیکٹ مکمل نہیں ہو پاتا ہے۔

گوادر پورٹ کا تمام ترقیاتی کام چین نے کیا اور بعد میں آپریشنل ٹھیکہ سنگاپور کو دے دیا گیا حالانکہ کئی امریکی کمپنیاں بھی اس ٹھیکے کو حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ کیا یہ کام امریکہ انجام نہیں دے سکتا تھا؟

یاد رکھیں کہ جب آپ مکمل طور پر امریکی امداد پر زندہ ہیں تو پھر اُس کی مرضی بھی جانئے۔ اگر وہ نہیں چاہتا کہ تھر کول پراجیکٹ پر چین کام کرے تو ٹھیک ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ یہ پراجیکٹ امریکہ کے حوالے کر دے کہ لو بھائی! کوئلہ ہمارا، پیسہ تمہارا۔ کانیں کھودو، ہمارے افراد کو ملازمتیں دو، کوئلہ نکالو، بجلی گھر لگاو اور ہمیں بیچ دو۔ بس اپنی آمدنی پر ٹیکس ادا کرتے رہو۔اس سے ایک طرف تو ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مد میں حکومتی آمدنی میں اضافہ ہو گا اور دوسری جانب ملک بھر میں جاری بجلی کا بحران بھی ختم ہو جائے گا۔ جس کے نتیجے میں صنعتوں کا پہیہ رواں دواں ہو جائے گا۔ زندگی چلتی رہے گی اور ملک کی معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ حکومتی آمدنی میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔ اسی طرح سیندک، ریکوڈک اور دوسرے ترقیاتی منصوبے بھی مناسب شرائط کے ساتھ امریکہ کے حوالے کر دیئے جائیں۔

یاد رکھیں کہ امریکہ کی مرضی اور مدد کے بغیر ہم اپنے ملک میں موجود قدرتی ذخائر سے ایک دھیلے کا فائدہ بھی نہیں اُٹھا سکتے کیونکہ اللہ پر بھروسہ کرنا اور اس سے مدد مانگنا تو ہم نے چھوڑ ہی دیا ہے۔ گوادر پورٹ کی مثال سامنے ہے۔ کب سے آپریشنل ہے لیکن ایک دھیلا آج تک کما کر نہیں دیا۔ دیں ذرا امریکہ کو ٹھیکہ کہ لو بھائی! گوادر پورٹ آج سے اتنے سال کے لئے تمہاری۔ بس شہر بھر کا ترقیاتی کام اور تمام رابطہ کی موٹر ویز بنانا آپ کا کام ہے۔اور پھر دیکھیں۔ دو سال کے اندر اندر گوادر کراچی کو پیچھے نہ چھوڑ جائے تو جو چور کی سزا وہ میری سزا۔

یہ جو سیاست دان امریکہ کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرتے ہیں درحقیقت یہی سیاست دان اپنے مفادات کی خاطر اسی امریکہ کے تلوے چاٹتے ہیں۔ امریکہ آج کی دینا کی ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے جس سے منہ پھیر کر یا ناراض رہ کر اس کرہ ارض پر رہنا آسان نہیں ہے۔ وہ ہمارے ملک کا بُرا نہیں چاہتا کیونکہ ہمارے ملک کی سلامتی اور امن میں امریکہ کی ہی بہتری ہے لیکن کس کو اچھا لگتا ہے کہ اُسکا دیا ہوا راتب کھانے والے اُسی کو کاٹنے کو دوڑیں۔ آپ کو کیسا لگے گا جب آپ کا کتا آپ کو کاٹنے کی کوشش کرے تو؟

ہمیں اور ہماری حکومتوں کو زمینی حقیقتوں اور مسائل کا ادراک کرتے ہوئے حقیقت پسندی سے کام لینا چاہیے اور ابتدائی طور پر مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ تھر کول پراجیکٹ امریکہ کے حوالے کر دینا چاہیےَ

۱۔ امریکہ تھر کول پراجیکٹ کے تمام ترقیاتی اخراجات کا ذمہ دار خود ہو گا۔
۲۔ تھر کے تمام علاقے میں پانی، اسکول، اسپتال اور دیگر عوامی سہولیات بھی امریکہ فراہم کرے گا۔
۳۔ کوئلے کی ٹرانسپورٹیشن کے لئے درکارتمام انفرا اسٹرکچر کی فراہمی اور تنصیب امریکہ کی اپنی ذمہ داری ہو گی۔
۴۔ کوئلے کی ایک مخصوص مقدار سے زیادہ برآمد کرنے پر پابندی ہو گی۔
۵۔ کوئلے سے بجلی تیار کرنے کے اور تقسیم کرنے کے لئے تمام انفرا اسٹرکچر کی فراہمی اور تنصیب امریکہ کی اپنی ذمہ داری ہو گی۔
۶۔ امریکہ حکومت پاکستان کی ضروریات کے مطابق بجلی مہیا کرنے کا پابند ہو گا۔
۷۔ امریکہ اپنی تمام آمدنی پر ٹیکسز اور درآمدی سامان پر لاگو حکومتی ٹیکسز ادا کرنے کا پابند ہو گا۔

وغیرہ وغیرہ

کہیے دوستو! آپ سب کا کیا خیال ہے؟
 
امریکہ کیا اپکانوکر ہے؟
اپنی ڈیلوپمنٹ اپنے ہاتھ۔ کوئی دوسرا کیوں آپکی ڈیلوپمنٹ چاہے گا؟
امریکہ یا امریکی کوئی کام اپنے فائدہ کے بغیر نہیں کرتے ۔ یہ تو سیدھی سی بات ہے
 

ساجد

محفلین
امریکہ ہو یا چین دونوں ہی "اول خویش بعد درویش" کا مطلب ہم سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ جب تک ہم "درویش" بنے رہیں گے ہمارا یہی حال رہے گا ۔
 
Top