اگر کمپیوٹر سسٹم پنجابی میں ہوتا تو

نیلم

محفلین
اگر کمپیوٹر سسٹم پنجابی میں ہوتا تو:

Welcome= جی آیا نوں

Ok= آہو

Insert= پاؤ جی

Send= سٹّو

Download= تھلّے لاؤ

Delete= مٹی پاؤ

Search= لبّو

Run= نسّو جی :mad:

Syntax Error= دُر فٹّے منہ

Cntrl Alt Del= سیاپا ہی مُکاؤ
 

تلمیذ

لائبریرین
مین تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کے ترجمے سے ضرور مزاح پیدا ہوا ہے اور یقیناً چند لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ بھی آگئی ہوگئی، تاہم، بے ادبی معاف، مجھے ایک گذارش کرنی ہے کہ یہی ترجمہ سنجیدہ اور ثقہ الفاظ پر بھی مشتمل ہو سکتا تھا جو یقیناً لوگوں کے علم میں اضافے کا باعث ہوتا۔ ایسے ہی اقدامات کی بنا پر ناپختہ اذہان پنجابی زبان کو محض لطائف پر مشتمل ایک پھکڑاور غیرسنجیدہ زبان تصور کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اپنی مادری زبان کو تضحیک و استہزا کا نشانہ بنانے کی بجائے اس کی عزت بناتے ہوئے اس کی ترویج اور ترقی میں حصہ ڈالنے کی کوشش کریں تاکہ اس کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہو۔
ان سطور سے میرا مقصد ہرکز آپ کی دل آزاری نہیں لیکن میری کوئی بات ناگوار گذری ہو تو میں معذرت کا خواستگار ہوں۔
 
مین تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کے ترجمے سے ضرور مزاح پیدا ہوا ہے اور یقیناً چند لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ بھی آگئی ہوگئی، تاہم، بے ادبی معاف، مجھے ایک گذارش کرنی ہے کہ یہی ترجمہ سنجیدہ اور ثقہ الفاظ پر بھی مشتمل ہو سکتا تھا جو یقیناً لوگوں کے علم میں اضافے کا باعث ہوتا۔ ایسے ہی اقدامات کی بنا پر ناپختہ اذہان پنجابی زبان کو محض لطائف پر مشتمل ایک پھکڑاور غیرسنجیدہ زبان تصور کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اپنی مادری زبان کو تضحیک و استہزا کا نشانہ بنانے کی بجائے اس کی عزت بناتے ہوئے اس کی ترویج اور ترقی میں حصہ ڈالنے کی کوشش کریں تاکہ اس کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہو۔
ان سطور سے میرا مقصد ہرکز آپ کی دل آزاری نہیں لیکن میری کوئی بات ناگوار گذری ہو تو میں معذرت کا خواستگار ہوں۔
میرے بھائی کسی قسم کی احساسِ کمتری کی قطعی گنجائش نہیں، مزاح ادب کا حصہ ہے اور ادب زبان کی روح ہے۔ ضروری نہیں کہ ایک زبان خشک مضامین میں تو ترویج پا رہی ہو جو کہ بزرگوں میں مقبول ہوں لیکن نوجوانوں میں نا مقبول اور تنقید کی وجہ سے نوجوانوں میں مقبول ادب کی طرف کوئی جائے نا، تو وہ زندہ مضامین انہی بزرگوں کے ساتھ درگور ہو جائیں گے۔ نوجوان اگر مزاح اور تفریح پسند کرتے ہیں اور اس کی گنجائش ان کے ہاں پائی جاتی ہے تو ہر زبان کے دانشوروں کو چاہیے کہ اس گنجائش کا فائدہ اٹھائیں اور جتنا ہو سکے زباں کو رائج کریں۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
عرصہ دراز کے قبل جب موبائل کمپنیز نے نئے نئے پیکج متعارف کروائے تھے تو اس دور میں نوجوانوں کی تخلیق عروج پر تھی۔۔ یہ میسج جو اوپر نیلم نے شئیر کیا اسی دور کی پیداوار ہے۔۔۔ پنجابی میں محض لہجے کے اتار چڑھاؤ اور چند حروف کی ترتیب سے اک مزاح کا تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔ جو کہ ذہن پر جمی گرد اتارنے میں موثر ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ زبان کو محض لطائف کی زبان بنا کر پیش کر دیا جائے۔ تلمیذ سر نے بڑے عمدہ پیرائے میں بہت اعلیٰ جانب توجہ دلائی ہے کہ زبان کا استہزاء مناسب نہیں۔۔ پنجابی اک بہت خوبصورت اور اعلیٰ زبان ہے جو علم و ادب کا اک وسیع سمندر سموئے ہوئے ہے۔ لیکن عہد حاضر کے چند مسخروں نے اس کو محض پھکڑ پن تک محدود کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔
عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ احباب دوران گفتگو اردو کا استعمال کرتے ہیں۔ کوئی لطیفہ بیان کرنے کو پنجابی کا سہارا لیتے ہیں۔ اور پھر بقیہ گفتگو اردو میں شروع کر دیتے ہیں۔ مجھے لطیفہ گوئی پر اعتراض نہیں۔ لیکن محض لطیفہ سنانے کو زبان کا سہارا لینا انتہائی نامناسب ہے۔ اس سلسلے میں جو پنجابی کو بےحد نقصان پہنچایا ہے وہ پنجاب کے اپنے باسیوں نے تھیٹر کی شکل میں پہنچایا ہے۔ جہاں لغو باتیں کر کے ہر بات کو ذومعنی رنگ دے کر زبان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔
ذاتی طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ نیلم نے محض تفریح طبع کے لیے اس کو پیش کیا ہوگا۔۔۔ لیکن اصغر صاحب کی یہ بات دل کو لگی ہے کہ گر واقعی ہی ہم ان رموز کا پنجابی میں کوئی متبادل پیش کر سکیں۔۔۔ میری تلمیذ سر زبیر مرزا بھائی اور فلک شیر چیمہ صاحب سے استدعا ہے کہ پنجابی فورم کے اندر اک نئی لڑی کا آغاز کر کے اس جانب توجہ دی جائے۔ بہت شکریہ۔۔
 
آخری تدوین:

نیرنگ خیال

لائبریرین
میرے بھائی کسی قسم کی احساسِ کمتری کی قطعی گنجائش نہیں، مزاح ادب کا حصہ ہے اور ادب زبان کی روح ہے۔ ضروری نہیں کہ ایک زبان خشک مضامین میں تو ترویج پا رہی ہو جو کہ بزرگوں میں مقبول ہوں لیکن نوجوانوں میں نا مقبول اور تنقید کی وجہ سے نوجوانوں میں مقبول ادب کی طرف کوئی جائے نا، تو وہ زندہ مضامین انہی بزرگوں کے ساتھ درگور ہو جائیں گے۔ نوجوان اگر مزاح اور تفریح پسند کرتے ہیں اور اس کی گنجائش ان کے ہاں پائی جاتی ہے تو ہر زبان کے دانشوروں کو چاہیے کہ اس گنجائش کا فائدہ اٹھائیں اور جتنا ہو سکے زباں کو رائج کریں۔
امجد صاحب تلمیذ سر ہمارے بزرگ ہیں۔ میری آپ سے استدعا ہے کہ مناسب القابات کا استعمال کریں۔۔ بہت شکریہ۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
مین تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کے ترجمے سے ضرور مزاح پیدا ہوا ہے اور یقیناً چند لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ بھی آگئی ہوگئی، تاہم، بے ادبی معاف، مجھے ایک گذارش کرنی ہے کہ یہی ترجمہ سنجیدہ اور ثقہ الفاظ پر بھی مشتمل ہو سکتا تھا جو یقیناً لوگوں کے علم میں اضافے کا باعث ہوتا۔ ایسے ہی اقدامات کی بنا پر ناپختہ اذہان پنجابی زبان کو محض لطائف پر مشتمل ایک پھکڑاور غیرسنجیدہ زبان تصور کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اپنی مادری زبان کو تضحیک و استہزا کا نشانہ بنانے کی بجائے اس کی عزت بناتے ہوئے اس کی ترویج اور ترقی میں حصہ ڈالنے کی کوشش کریں تاکہ اس کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہو۔
ان سطور سے میرا مقصد ہرکز آپ کی دل آزاری نہیں لیکن میری کوئی بات ناگوار گذری ہو تو میں معذرت کا خواستگار ہوں۔
متفق
ہمارے ہاں یہی مسئلہ ہے جیسے ہم نے اچھی خاصی پٹھان قوم کو لطیفوں میں ڈال کر ان کا مذاق اڑایا ہے حالانکہ وہ مہمان نواز اور محب وطن قوم ہے اسی طرح ہم اپنی زبانوں کو کمتر سمجھ کر دوسری زبانوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں
 

عاطف بٹ

محفلین
مین تسلیم کرتا ہوں کہ آپ کے ترجمے سے ضرور مزاح پیدا ہوا ہے اور یقیناً چند لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ بھی آگئی ہوگئی، تاہم، بے ادبی معاف، مجھے ایک گذارش کرنی ہے کہ یہی ترجمہ سنجیدہ اور ثقہ الفاظ پر بھی مشتمل ہو سکتا تھا جو یقیناً لوگوں کے علم میں اضافے کا باعث ہوتا۔ ایسے ہی اقدامات کی بنا پر ناپختہ اذہان پنجابی زبان کو محض لطائف پر مشتمل ایک پھکڑاور غیرسنجیدہ زبان تصور کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اپنی مادری زبان کو تضحیک و استہزا کا نشانہ بنانے کی بجائے اس کی عزت بناتے ہوئے اس کی ترویج اور ترقی میں حصہ ڈالنے کی کوشش کریں تاکہ اس کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہو۔
ان سطور سے میرا مقصد ہرکز آپ کی دل آزاری نہیں لیکن میری کوئی بات ناگوار گذری ہو تو میں معذرت کا خواستگار ہوں۔
صد فی صد متفق!!!
سر، میں آپ کی بات کو ہی آگے بڑھاتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ میں نے کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں جو چھ سات برس ملک کے مختلف شہروں میں ’تقریر گردی‘ کرتے ہوئے گزارے ان میں یہ دیکھ کر بہت ہی تکلیف ہوتی تھی کہ ہمارے ہاں اردو اور انگریزی کے مباحثے اور تقریری مقابلے تو سنجیدگی سے منعقد کروائے جاتے ہیں مگر پنجابی ٹاکرے کو محض ٹھٹھے اور ہنسی مزاح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ حد تو یہ تھی کہ سنجیدہ ترین موضوع پر بھی پنجابی میں مزاحیہ بلکہ استہزائیہ تقریریں ہورہی ہوتی تھیں۔ اس رجحان کی وجہ سے اول تو کوئی پنجابی میں سنجیدہ تقریر کرتا نہیں تھا اور اگر کوئی ہم جیسا سرپھرا ایسا کرنے کی جرات کر بیٹھے تو اسے انعام سے نہیں نوازا جاتا تھا۔
اب جب مجھے خود مقرر کی بجائے منصف کی حیثیت میں کبھی کسی ادارے میں جانے کا موقع ملتا ہے تو میں اس رحجان کی سختی سے حوصلہ شکنی کرتا ہوں تاکہ لوگوں کو یہ اندازہ ہوسکے کہ پنجابی کوئی گری پڑی زبان نہیں ہے کہ اس میں کسی سنجیدہ اور علمی و فکری موضوع پر بحث نہ کی جاسکے۔
 

تلمیذ

لائبریرین
جناب امجد صاحب، گستاخی معاف، اپنی مادری زبان کی تضحیک نہ کرنےکی گذارش کرنے کو میں ہرگز احساس کمتری نہیں سمجھتا بلکہ اس کی سربلندی کے لئے تو ہمیں سر اٹھا کر اس کی حمایت میں بات کرنی چاہئے۔ میں نے اپنی گزارش میں مزاح کو ادب کا حصہ یا ادب کو زبان کی روح قرار دینے سے انکار والی کوئی بات نہیں کی۔ اس عاجز نے تو فقط یہ عرض کیا ہے کہ جس زبان میں ہماری ماؤں نے ہمیں لوریاں دی ہیں اور جس کے لوک گیت ہماری ثقافت اور رہن سہن کی نمائندگی کرتے ہیں، اس کو یوں بازاری اور سستا بنا کر اس کی قدر کو نہ گھٹایا جائے۔ رہا 'مقبول ادب' اور 'خشک ادب' تو اس میں نوجوانی اور کبر سنی کوئی معیار نہیں ہے۔ ضروری نہیں کہ مزاح اور تفریح صرف نوجوان ہی پسند کریں، اگر یہ معیاری اور شائستہ ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ عمر کے چند زیادہ سال گذار لینے والوں کی طرف سے اسے تنقید کا ہی سامنا کرنا پڑے۔ پنجابی صرف خشک مضامین میں ترویج نہیں پا رہی بلکہ اس کا اعلیٰ مزاحیہ ادب خصوصاً شاعری، مقبولیت کے لحاظ سے کسی دوسری زبان کے فکاہیہ ادب سے پیچھے نہیں بشرطیکہ شائستہ اور معیاری ہو۔آپ ذرا غیر جانبداری سے تجزیہ کریں کہ مذکورہ بالا ترجمے کے الفاط سے پنجابی زبان و ادب کی کون سی خدمت ہوئی ہے۔
میں اپنے نقطۂ نظر یا پسند کو دوسروں پر مسلط کرنے کا بالکل قائل نہیں ہوں۔ لوگ 'چرکیں مرادآبادی' جیسے شاعر کو بھی تو پڑھتے ہیں اور مزاح اور تفریح کے حصول کے لئے ان کا اور ان جیسے دیگر حضرات کا کلام بھی مقبول عام ہے۔ بہر حال، یہ فقیر کج بحثی اور خلطِ مبحث سے دور بھاگتا ہے۔ بس ایک بات میرے دل کو اچھی نہیں لگی تھی تو میں نے اس گزارش کے ساتھ اس کا اظہار کر دیا کہ اپنی ماں بولی کا احترام کرتے ہوئے اس کی تضحیک سے گریز کیا جائے۔

میں عاطف بٹ جی، خرم جی اور نین جی کا شکر گزار ہوں کہ وہ میری بات کو سمجھے اور بفضل باری تعالےٰان کے دل میں اپنی ماں بولی کی قدر اور احترام موجود ہے۔ جزاک اللہ۔
 
آخری تدوین:

تلمیذ

لائبریرین
ہمارے ہاں اردو اور انگریزی کے مباحثے اور تقریری مقابلے تو سنجیدگی سے منعقد کروائے جاتے ہیں مگر پنجابی ٹاکرے کو محض ٹھٹھے اور ہنسی مزاح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
میں اس رحجان کی سختی سے حوصلہ شکنی کرتا ہوں تاکہ لوگوں کو یہ اندازہ ہوسکے کہ پنجابی کوئی گری پڑی زبان نہیں ہے کہ اس میں کسی سنجیدہ اور علمی و فکری موضوع پر بحث نہ کی جاسکے۔

یہ قباحت آج کے دور میں ہی نہیں بلکہ آج سے چالیس سال پہلے سے (بلکہ ہو سکتا ہے پہلے سے بھی) پائی جاتی ہے، جب ہم سٹیج پر تقاریر کرتے تھے۔ مجھےیاد ہے کہ زرعی یونیورسٹی کے 1972 کے پنجابی ٹاکرے میں موضوع بحث تھا 'رانجھا پاگل سی' اور میں 'پرھیا دا موہری' یعنی قائد ایوان تھا یعنی مجھے ہیر رانجھا کے قصے کی عام روش کے خلاف بولنا تھا۔ مہمان خصوصی جناب مرزا سلطان بیگ (ریڈیو پاکستان کے نظام دین) مرحوم تھے۔الحمدللہ، میری تقریر پنجابی کے اعلیٰ معیار اشعار سے مزین ایک ادبی مرقع تھی، جس کی داد جناب نظام دین نے بھی دی تھی۔ (شاید میرے کاغذات میں ابھی تک کہیں پڑی ہو، اگر مل گئی تو آپ کو ارسال کرنے کی کوشش کروں گا)۔
بہر حال ان برسوں میں پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور معاشرے کے طور اطوار بالکل کافی بدل چکے ہیں۔ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ مزید چالیس برس گزرنے کے بعد حالات کیا ہوں گے۔
 
آخری تدوین:

عاطف بٹ

محفلین
جناب امجد صاحب، گستاخی معاف، اپنی مادری زبان کی تضحیک نہ کرنےکی گذارش کرنے کو میں ہرگز احساس کمتری نہیں سمجھتا بلکہ اس کی سربلندی کے لئے تو ہمیں سر اٹھا کر اس کی حمایت میں بات کرنی چاہئے۔ میں نے اپنی گزارش میں مزاح کو ادب کا حصہ یا ادب کو زبان کی روح قرار دینے سے انکار والی کوئی بات نہیں کی۔ اس عاجز نے تو فقط یہ عرض کیا ہے کہ جس زبان میں ہماری ماؤں نے ہمیں لوریاں دی ہیں اور جس کے لوک گیت ہماری ثقافت اور رہن سہن کی نمائندگی کرتے ہیں، اس کو یوں بازاری اور سستا بنا کر اس کی قدر کو نہ گھٹایا جائے۔ رہا 'مقبول ادب' اور 'خشک ادب' تو اس میں نوجوانی اور کبر سنی کوئی معیار نہیں ہے۔ ضروری نہیں کہ مزاح اور تفریح صرف نوجوان ہی پسند کریں، اگر یہ معیاری اور شائستہ ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ عمر کے چند زیادہ سال گذار لینے والوں کی طرف سے اسے تنقید کا ہی سامنا کرنا پڑے۔ پنجابی صرف خشک مضامین میں ترویج نہیں پا رہی بلکہ اس کا اعلیٰ مزاحیہ ادب خصوصاً شاعری، مقبولیت کے لحاظ سے کسی دوسری زبان کے فکاہیہ ادب سے پیچھے نہیں بشرطیکہ شائستہ اور معیاری ہو۔آپ ذرا غیر جانبداری سے تجزیہ کریں کہ مذکورہ بالا ترجمے کے الفاط سے پنجابی زبان و ادب کی کون سی خدمت ہوئی ہے۔
میں اپنے نقطۂ نظر یا پسند کو دوسروں پر مسلط کرنے کا بالکل قائل نہیں ہوں۔ لوگ 'چرکیں مرادآبادی' جیسے شاعر کو بھی تو پڑھتے ہیں اور مزاح اور تفریح کے حصول کے لئے ان کا اور ان جیسے دیگر حضرات کا کلام بھی مقبول عام ہے۔ بہر حال، یہ فقیر کج بحثی اور خلطِ مبحث سے دور بھاگتا ہے۔ بس ایک بات میرے دل کو اچھی نہیں لگی تھی تو میں نے اس گزارش کے ساتھ اس کا اظہار کر دیا کہ اپنی ماں بولی کا احترام کرتے ہوئے اس کی تضحیک سے گریز کیا جائے۔
متفق علیہ!
کہنے کو تو جعفر زٹلی کا ’زٹل نامہ‘ بھی ادب کا حصہ ہے مگر کیا کوئی بھی ادب کا سنجیدہ قاری اسے جعفر کے دور کے ہی کسی شاعر کے دیوان کی طرح عام بحث کا موضوع بنانے کی جرات کرسکتا ہے؟ اس جرات کے سوال کی وجہ محض کوئی اخلاقی جواز نہیں بلکہ وہ ادبی اور فکری قدریں بھی ہیں جن کی بنیاد پر کسی بھی معاشرے میں علمیت اور اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر عملیت کے صحت مند رجحانات پروان چڑھتے ہیں۔
 
امجد صاحب تلمیذ سر ہمارے بزرگ ہیں۔ میری آپ سے استدعا ہے کہ مناسب القابات کا استعمال کریں۔۔ بہت شکریہ۔
جناب نیرنگ صاب،
میں قریباََ 6 ماہ سے محفل کا رکن ہوں کوئی ایک عام عنوان کی ایسی لڑی اس عرصہ کی لا دیجیے جس میں میرے محترم تلمیذ صاحب کا سن یا بزرگی پتہ چلی ہو مجھے، یہاں تو جب لوگوں نے اپنے پوتوں اور بچوں کی تصاویر پروفائل سے ہٹائیں تو پتہ چلا کہ یہ نوخیز لڑکا نہیں بلکہ نانا یا دادا تھے۔ میں کئی ایک جگہوں پہ تلمیذ صاحب سے بھائی کہہ کر ہی مخاطب ہوا ہوں بلکہ بہت سوں سے، ہماری کبھی کسی مراسلے میں بحث بھی نہیں رہی کہ میں وہاں کا کینہ یہاں پورا کرتا۔

پھر میرے مراسلے میں کسی بھی ناشائستہ لقب کی نشاندہی کر دیجیے جو الہڑ پنے، گستاخی یا شوخی میں بھی آتا ہو۔

تیسرے انہوں نے ایک بات پہ اعتراض کیا ان کا یہ حق تھا، اور مجھے اس اعتراض پہ اعتراض ہے یہ میرا حق ہے۔

میں نہیں سمجھتا کہ طنز و مزاح کے زمرے میں پیش کی جانے والی پیروڈی، طنز یا مزاح وہ بھی بجائے کسی ذات پات، برادری یا گروہ پہ تنقید یا تمسخر کے صرف ایک مزاحیہ پیرائے میں کیا گیا ترجمہ تھا جس میں سے آدھے الفاظ کا تو سنجیدہ ترجمہ بھی یہی تھا جو مزاح میں پیش کیا گیا، کیسے اتنی بڑی زبان کی تضحیک سمجھا جا سکتا ہے جس میں اتنے بڑے بڑے کلام اور کہنے لکھنے والےگذرے اور موجود ہوں، ہاں البتہ پنجابی یا پنجابیوں کا مذاق اڑانا ظاہر ہوتا تو میں بھی سب سے پہلے نقادوں میں شامل ہوتا ، جیسے پچھلے دنوں نیرنگ خیال صاحب کے ایک مراسلے میں چائے کی تصویر کو پنجابیوں کی پسند اور کھاوا بتا کر مہدی اعجاز نقی بھائی نے مذاق کیا تھا وہ مجھے برا لگا اور میں نے اظہار بھی کیا تھا جبکہ نیرنگ صاحب کی ریٹنگ مزاح کی تھی۔

باقی اس سب کے باوجود اگر میری باتوں سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معافی کا خواستگار ہوں اس اثر کے لیے جو پڑا، نا کہ اپنی تحریر کا۔
 

نایاب

لائبریرین
اگر کمپیوٹر سسٹم پنجابی میں ہوتا تو:

Welcome= جی آیا ں نوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بسم اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جی کراں ۔

Ok= آہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چنگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ودیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Insert= پاؤ جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Send= سٹّو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گھلو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Download= تھلّے لاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھلے لا لوو ۔۔۔۔۔۔۔۔

Delete= مٹی پاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Search= لبّو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈھونڈو

Run= نسّو جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھجو :mad:

Syntax Error= دُر فٹّے منہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاھڈا رولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Cntrl Alt Del= سیاپا ہی مُکاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم دوستو " ملحوظ " رہے کہ یہ پوسٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ "اگر " کے صیغے سے شروع ہوتی ہے ۔
اور پوسٹ کے مصنف نے انگلش سے پنجابی ترجمہ کرنے کی کوشش کی تو ایسی پوسٹ سامنے آئی جو کہ بلا مبالغہ پڑھتے ہی قاری کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھیرتے اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی " ماں بولی " زبان کے ذخیرہ الفاظ کو چھانے اور درست الفاظ سامنے لائے ۔۔۔۔۔
کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اس پوسٹ پر اپنی " ماں بولی " زبان کے ذخیرہ الفاظ کو ہنستے کھیلتے سامنے لائیں ۔ اور اپنی " ماں بولی " کی شان بڑھائیں ۔
مجھے جو متبادل درست محسوس ہوئے تحریر کر دیئے اب آپ سب بھی اس میں حصہ ڈالیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ثابت کر دیں کہ پانچ پانیوں سے گندھی ہماری " ماں بولی " سے ابھرے الفاظ " ونج دی رسی دے لعل بن چمکدے نیں "
 
محترم دوستو " ملحوظ " رہے کہ یہ پوسٹ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ "اگر " کے صیغے سے شروع ہوتی ہے ۔
اور پوسٹ کے مصنف نے انگلش سے پنجابی ترجمہ کرنے کی کوشش کی تو ایسی پوسٹ سامنے آئی جو کہ بلا مبالغہ پڑھتے ہی قاری کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھیرتے اسے مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی " ماں بولی " زبان کے ذخیرہ الفاظ کو چھانے اور درست الفاظ سامنے لائے ۔۔۔ ۔۔
کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اس پوسٹ پر اپنی " ماں بولی " زبان کے ذخیرہ الفاظ کو ہنستے کھیلتے سامنے لائیں ۔ اور اپنی " ماں بولی " کی شان بڑھائیں ۔
مجھے جو متبادل درست محسوس ہوئے تحریر کر دیئے اب آپ سب بھی اس میں حصہ ڈالیں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
اور ثابت کر دیں کہ پانچ پانیوں سے گندھی ہماری " ماں بولی " سے ابھرے الفاظ " ونج دی رسی دے لعل بن چمکدے نیں "
بہت عمدہ
تو میری طرف سے یہ رہا

Welcome= جی آیا ں نوں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ بسم اللہ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ جی کراں، خیری آؤ

Ok= آہو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ چنگا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ودیا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ خیر اُو

Insert= پاؤ جی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔

Send= سٹّو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ گھلو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ پئیجو

Download= تھلّے لاؤ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ تھلے لا لوو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔

Delete= مٹی پاؤ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ مکاؤ

Search= لبّو ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ڈھونڈو----

Run= نسّو جی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ بھجو :mad:-----نساؤ

Syntax Error= دُر فٹّے منہ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ڈاھڈا رولا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ کم خراب ہویا جی

Cntrl Alt Del= سیاپا ہی مُکاؤ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ جان چھڈاؤ
 

نیلم

محفلین
عرصہ دراز کے قبل جب موبائل کمپنیز نے نئے نئے پیکج متعارف کروائے تھے تو اس دور میں نوجوانوں کی تخلیق عروج پر تھی۔۔ یہ میسج جو اوپر نیلم نے شئیر کیا اسی دور کی پیداوار ہے۔۔۔ پنجابی میں محض لہجے کے اتار چڑھاؤ اور چند حروف کی ترتیب سے اک مزاح کا تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔ جو کہ ذہن پر جمی گرد اتارنے میں موثر ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ زبان کو محض لطائف کی زبان بنا کر پیش کر دیا جائے۔ تلمیذ سر نے بڑے عمدہ پیرائے میں بہت اعلیٰ جانب توجہ دلائی ہے کہ زبان کا استہزاء مناسب نہیں۔۔ پنجابی اک بہت خوبصورت اور اعلیٰ زبان ہے جو علم و ادب کا اک وسیع سمندر سموئے ہوئے ہے۔ لیکن عہد حاضر کے چند مسخروں نے اس کو محض پھکڑ پن تک محدود کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔
عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ احباب دوران گفتگو اردو کا استعمال کرتے ہیں۔ کوئی لطیفہ بیان کرنے کو پنجابی کا سہارا لیتے ہیں۔ اور پھر بقیہ گفتگو اردو میں شروع کر دیتے ہیں۔ مجھے لطیفہ گوئی پر اعتراض نہیں۔ لیکن محض لطیفہ سنانے کو زبان کا سہارا لینا انتہائی نامناسب ہے۔ اس سلسلے میں جو پنجابی کو بےحد نقصان پہنچایا ہے وہ پنجاب کے اپنے باسیوں نے تھیٹر کی شکل میں پہنچایا ہے۔ جہاں لغو باتیں کر کے ہر بات کو ذومعنی رنگ دے کر زبان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔
ذاتی طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ نیلم نے محض تفریح طبع کے لیے اس کو پیش کیا ہوگا۔۔۔ لیکن اصغر صاحب کی یہ بات دل کو لگی ہے کہ گر واقعی ہی ہم ان رموز کا پنجابی میں کوئی متبادل پیش کر سکیں۔۔۔ میری تلمیذ سر زبیر مرزا بھائی اور فلک شیر چیمہ صاحب سے استدعا ہے کہ پنجابی فورم کے اندر اک نئی لڑی کا آغاز کر کے اس جانب توجہ دی جائے۔ بہت شکریہ۔۔
تلمیذ بھائی کی تو خیر ہے وہ تو بڑے ہیں
آپ کیوں سیریئس ہوگئے :beating:
 

عاطف بٹ

محفلین
تلمیذ بھائی کی تو خیر ہے وہ تو بڑے ہیں
آپ کیوں سیریئس ہوگئے :beating:
میں تو پہلے ہی سوچ رہا تھا کہ اتنی لمبی چوڑی بحث پڑھنے کے بعد نیلم مصلے پر اللہ سے گڑگڑا گڑگڑا کر معافی مانگ رہی ہوگی کہ یا مولا، اسے میرا آخری دھاگہ سمجھ کر میری غلطی معاف فرمادے، آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گی! :ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
 

نیلم

محفلین
میں تو پہلے ہی سوچ رہا تھا کہ اتنی لمبی چوڑی بحث پڑھنے کے بعد نیلم مصلے پر اللہ سے گڑگڑا گڑگڑا کر معافی مانگ رہی ہوگی کہ یا مولا، اسے میرا آخری دھاگہ سمجھ کر میری غلطی معاف فرمادے، آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گی! :ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
ہی ہی ہی ہی ،،،:p
 

تلمیذ

لائبریرین
میں تو پہلے ہی سوچ رہا تھا کہ اتنی لمبی چوڑی بحث پڑھنے کے بعد نیلم مصلے پر اللہ سے گڑگڑا گڑگڑا کر معافی مانگ رہی ہوگی کہ یا مولا، اسے میرا آخری دھاگہ سمجھ کر میری غلطی معاف فرمادے، آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گی! :ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
نہیں ایسا کچھ نہیں ہونا چاہئے۔ گمان غالب ہے کہ یہ پوسٹ کرتے وقت، ہو سکتا ہے، ان کا ارادہ صرف ہلکا سا مزاح پیدا کرنا ہو اور ان کے ذہن میں یہ سب باتیں نہ ہوں۔ جو مادری زبان کے حوالے سے کی گئی ہیں اورجن کا مقصدصرف اس طرف توجہ دلانا ہے کہ دیگر اقدار کی طرح ماں بولی بھی احترام کی مستحق ہے۔
چنانچہ درخواست ہے کہ اس مباحثے کو یہیں پر ختم کردیا جائے۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
صد فی صد متفق!!!
سر، میں آپ کی بات کو ہی آگے بڑھاتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ میں نے کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں جو چھ سات برس ملک کے مختلف شہروں میں ’تقریر گردی‘ کرتے ہوئے گزارے ان میں یہ دیکھ کر بہت ہی تکلیف ہوتی تھی کہ ہمارے ہاں اردو اور انگریزی کے مباحثے اور تقریری مقابلے تو سنجیدگی سے منعقد کروائے جاتے ہیں مگر پنجابی ٹاکرے کو محض ٹھٹھے اور ہنسی مزاح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ حد تو یہ تھی کہ سنجیدہ ترین موضوع پر بھی پنجابی میں مزاحیہ بلکہ استہزائیہ تقریریں ہورہی ہوتی تھیں۔ اس رجحان کی وجہ سے اول تو کوئی پنجابی میں سنجیدہ تقریر کرتا نہیں تھا اور اگر کوئی ہم جیسا سرپھرا ایسا کرنے کی جرات کر بیٹھے تو اسے انعام سے نہیں نوازا جاتا تھا۔
اب جب مجھے خود مقرر کی بجائے منصف کی حیثیت میں کبھی کسی ادارے میں جانے کا موقع ملتا ہے تو میں اس رحجان کی سختی سے حوصلہ شکنی کرتا ہوں تاکہ لوگوں کو یہ اندازہ ہوسکے کہ پنجابی کوئی گری پڑی زبان نہیں ہے کہ اس میں کسی سنجیدہ اور علمی و فکری موضوع پر بحث نہ کی جاسکے۔
متفق پنجابی میں میں نے ایک تقریر سنی تھی "سانوں ساڈے وڈے مار گے نے" کے عنوان سے بہت کمال کی تھی
 
Top