اپنے ہومیو پیتھی تجربات شئیر کریں!

رانا نے 'طب اور صحت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 7, 2018

  1. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    1,678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    سائنس کے نام پر یہ جہالت کتنی نسلوں تک؟
     
  2. محمد عمر

    محمد عمر محفلین

    مراسلے:
    26
    اسی سال برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس نے ہومیو پیتھی طریقۂ علاج کی فنڈنگ روک دی ہے۔NHS homeopathy ending in London
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  3. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,527
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    یقیناً تمام امراض دماغی قوت سے ٹھیک نہیں ہو سکتے مثلاً کینسر وغیرہ لیکن بہت سے ایسے (جسمانی) امراض ہیں جن میں صرف دماغی قوت یا سوچ کی مدد سے افاقہ ہو جاتا ہے۔
    یہ پڑھیے:
    Why do placebos work?
    اور اگر مقالہ پڑھنے کا موڈ ہو تو یہ دیکھیے:
    Prescribing “placebo treatments”: results of national survey of US internists and rheumatologists
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  4. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    1,678
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    اب کوئی شک باقی رہا؟
     
  5. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,662
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    ایک کیس اور سننے میں آیا ہے۔ ایک ۲۵ سالہ کرکٹر کی ٹانگ پر چوٹ لگی۔ چھوٹا سا زخم تھا۔ اس لڑکے کے والد اسے ہاسپٹل لے کر گئے، ہاسپٹل والوں نے سخت اینٹی بائیوٹک کورس بتایا۔ والدہ راضی نہیں ہوئیں۔ ایک مہینے اسے ہومیوپیتھی کی دوائیں کھلاتی رہیں مگر اس کی تکلیف بڑھتی ہی رہی۔ آخر میں جب اس کی حالت بہت زیادہ خراب ہوئی تو اسے ایڈمٹ کروایا۔ ٹیسٹس سے معلوم ہوا کہ MRSA بیکٹیریا تھا۔ باقی MRSA کے بارے میں جو لوگ جانتے ہیں وہ خود ہی سمجھ جائیں گے کہ یہ کتنا خطرناک کیس تھا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • غمناک غمناک × 1
  6. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,175
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    کیا آپ کے علم میں ایسا کوئی کیس آیا ہے جس میں ایک ایلوپیتھک ڈاکٹر نے مرض کی غلط تشخیص کی اور پھر دوسرے ایلوپیتھک ڈاکٹر نے درست تشخیص کردی؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,662
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    بالکل ہیں۔ بلکہ کافی ہیں۔

    مگر آپ کا اشارہ اگر یہاں اس کیس میں ڈائیگنوسز کی جانب ہے تو ہومیوپیتھی میں کوئی ٹیسٹس وغیرہ کا کانسپٹ نہیں ہے۔ کس قسم کا بیکٹیریا ہے یا وائرس اس کے بارے میں نہیں دیکھا جاتا ہے بلکہ صرف symptoms پر غور کر کے ایک ایسی دوا دی جاتی ہے جو کہ وہی symptoms جسم میں پیدا کرتی ہے اور اس طرح بیماری کا جسم علاج کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ ہومیوپیتھی کا دعوہ ہے۔

    اور دوا میں کہا جاتا ہے اصل دوا کی روح موجود ہے کیونکہ اسے اس قدر dilute کیا جاتا ہے۔

    symptoms بہت ساری بیماریوں کے تقریباً ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ ایسے میں آپ خود سوچئے کتنے فیصد ٹھیک علاج کے چانسز ہوتے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کسی کو برڈ فلو ہو لیکن ایک عام بخار سمجھ کر دوا دے دی جائے تو پھر؟ برڈ فلو کے لئے ویکسین موجود ہے اور لوگ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اگر برڈ فلو کا علاج نہ ہو تو انسان مر بھی سکتا ہے۔ باقی شفا دینے والا اللہ ہے۔

    ایلوپیتھی اس بارے میں کیا کہتی ہے اسے اٹھا کر کچھ دیر کے لئے الگ رکھ دیتے ہیں۔ سارا مسئلہ یہ ہے کہ ہومیوپیتھی ہو سکتا ہے کام کرتی ہو پر اس کو جس طرح آج تک چلایا گیا ہے تکوں پر، تو کیا خطرناک بیماریوں کا علاج واقعی ہومیوپیتھی سے کروانا چاہئے؟ اس پر ٹھیک طرح ریسرچ نہیں کی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے آگے ہو جائے تو یہ قابلِ اعتبار علاج کے طور پر سامنے آئے مگر بدقسمتی ایسا ہو نہیں رہا ہے۔

    کوئی چھوٹی موٹی بیماریاں ہوں یا کسی ڈر و خوف کی وجہ سے کوئی چھوٹی موٹی بیماری ہو تو چلیں آپ ٹرائے کر لیجئے لیکن میرے نزدیک یہی بہتر ہے کہ ایک بار آپ ڈاکٹر کے پاس ضرور جائیں۔ اپنے ٹیسٹس کروائیں اور پھر فیصلہ کریں کہ آپ کو کرنا کیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  8. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,662
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    اگر ایک ڈاکٹر کوئی بیماری غلط ڈائیگنوز کرتا ہے تو یہ اس کی بھول ہو سکتی ہے یا پھر غفلت اور قابلیت میں کمی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک ڈاکٹر نہ سہی دوسرے کے پاس چلے جائیں کیونکہ ایلوپیتھی میں کم از کم چانس پر علاج تو نہیں ہوتا ہے نا۔ یہ تو نہیں ہے نا کہ معلوم کرنے کا کوئی طریقہ ہی موجود نہ ہو اور صرف symptoms کی بنیاد پر دوا دی جاتی رہے اور سوچا جاتا رہے کہ یہ ٹھیک ہو جائے گا۔

    ایلوپیتھی میں بھی ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ ابھی بہت بیماریاں ہیں جن کا کامیاب علاج معلوم کرنا باقی ہے۔ ایلوپیتھی میں بھی مسلسل ریسرچ جاری رہتی ہے تاکہ بہتر سے بہتر طریقہ علاج معلوم کیا جا سکے۔ پرانے طریقوں کی جگہ نئے طریقے آجاتے ہیں۔

    صحت اور شفا، موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن انسان کو اپنے لئے سب سے بہترین راستہ آخری وقت تک استعمال کرنا چاہئے۔ کوشش پوری کرنی چاہئے۔
     
    • متفق متفق × 1
  9. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,175
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    مراسلہ لکھ کر ڈیلیٹ کیا گیا تاکہ سکون کی نیند آسکے۔ :):):)
     
  10. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,662
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    اگر آپ اختلاف رکھتے ہیں تو ہزار بار اختلاف کیجئے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ :) جس کو جو بات سمجھ آئے گی وہ اسے درست سمجھ لے گا۔
     
  11. عبید انصاری

    عبید انصاری محفلین

    مراسلے:
    2,175
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    کچھ خاص اختلاف نہیں۔
    مختصر یہ کہ جزئی مثالوں سے کچھ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اسی انداز کی کوشش اوپر ہومیو پیتھی کے لیے کی جاچکی ہے۔
    اصل چیز اصولی تجزیہ ہے، میں نے اسی طرف آپ کو متوجہ کیا۔ :)
    اور اسی پر آکر یہاں بار بار بات اٹک رہی ہے۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. سین خے

    سین خے محفلین

    مراسلے:
    1,662
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Aggressive
    تجزیہ ہر کسی کے ذاتی معیارات کے مطابق اصولی ہوتا ہے۔ بات جہاں آکر اٹک رہی ہے وہاں پر خود سوچنا سمجھنا پڑتا ہے اور فیصلہ کرنا پڑتا ہے :)

    جہاں تک ایلوپیتھی اور ہومیوپیتھی کے تقابلی جائزے کی بات ہے تو دونوں کے mode of action کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں طرف کے دلائل پڑھیں جہاں جھول ہوئے تو سمجھ آہی جائیں گے۔ یہ کافی محنت طلب کام ہے :D یعنی اتنا ترجمہ کرنا میرے لئے تو کافی مشکل ہوگا۔ البتہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ دونوں طرف کی اپنے اپنے طریقہ علاج پر ریسرچز کے لنکس دے دئیے جائیں :) کہ کونسی دوا جسم میں کیا کام کرتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر