اپنی پسند کا ایک شعر۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سیما علی

لائبریرین
کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہی زلفوں کو سنوارے


حبیب جالب
 

سیما علی

لائبریرین
شمعِ تنہا کی طرح، صبح کے تارے جیسے
شہر میں ایک دو ہی ہوں گے ہمارے جیسے

عرفان صدیقی
 

شمشاد

لائبریرین
جو بات شرطِ وصال ٹہھری، وہی ہے اب وجہِ بدگمانی
ادھر ہے اس بات پر خموشی، ادھر ہے پہلی سے بے زبانی
سیما آپی پہلے مصرعے میں لفظ "ٹھہری" ہے اور دوسرے مصرعے میں "پہلی سی" ہے۔ آپ سے ٹائپو ہوئی ہے، تدوین کر لیں۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
ہر تمنا پہ غم کا پہرہ تھا
پھر بھی کس کس طرف خیال گیا
دل سے رہ رہ کے ہم الجھتے ہیں
کس مصیبت میں کوئی ڈال گیا

باقی صدیقی
 

شمشاد

لائبریرین
دل کا کیا حال کہوں صبح کو جب اس بت نے
لے کے انگڑائی کہا ناز سے ہم جاتے ہیں
داغؔ دہلوی
 

شمشاد

لائبریرین
ایک انگڑائی سے سارے شہر کو نیند آ گئی
یہ تماشا میں نے دیکھا بام پر ہوتا ہوا
پریم کمار نظر
 

شمشاد

لائبریرین
زباں خاموش مگر نظروں میں اجالا دیکھا
اس کا اظہار محبت بھی نرالا دیکھا
توقیر احمد
 

سیما علی

لائبریرین
تھا منیرؔ آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا

منیر نیازی
 

شمشاد

لائبریرین
دل تو روتا رہے اور آنکھ سے آنسو نہ بہے
عشق کی ایسی روایات نے دل توڑ دیا
(سدرشن فاکر)
 
Top