آئی ایم ایف میں جانا نہیں چاہتے تھے، ملک چلانے کیلئے 28 ارب ڈالرز چاہئیں: فواد چوہدری

جاسم محمد

محفلین
آئی ایم ایف میں جانا نہیں چاہتے تھے، ملک چلانے کیلئے 28 ارب ڈالرز چاہئیں: فواد چوہدری
191195_6641035_updates.jpg

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی پریس کانفرنس: اسکرین گریب جیونیوز
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کاکہنا ہےکہ معیشت کے حوالے سے سخت فیصلے لیے ہیں اور آئی ایم ایف کے پاس جانا نہیں چاہتے تھے لیکن 28 ارب ڈالر اس سال ملک کو چلانے کے لیے چاہئیں۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نےکہا کہ ایک طبقہ امیر سے امیر ترین ہوتا چلا گیا اور دوسرا طبقہ غریب سے غریب ترین ہوتاگیا، ایک طبقہ نزلہ زکام پر ہارلی اسٹریٹ کے اسپتال میں علاج کراتا ہے، لوگوں کو کھانسی بھی آجائے تو لندن جاکر علاج کراتے تھے اور ہمارے ہاں ایک ایک بیڈ پر دو دو مریض ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا نہیں چاہتے تھے، یہ ہماری پالیسی نہیں تھی لیکن ایک ماہ 16 دن کے ذخائر رہ گئے ہیں، قرضہ 28 ہزار ارب پر چلا گیا ہے، ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا ہے، 8 ارب ڈالر قرضوں کی مد میں ادا کرنے ہیں اور 28 ارب ڈالر اس سال ملک کو چلانے کے لیے چاہئیں۔

پاکستان کو معمول کے مطابق اور سب کو خوش کرکے نہیں چلایا جاسکتا:
وفاقی وزیر اطلاعات
وزیر اطلاعات کا کہنا تھاکہ پاکستان کو معمول کے مطابق اور سب کو خوش کرکے نہیں چلایا جاسکتا، ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ ملک لوٹنے والوں سے پیسے نکال سکیں، جنہوں نے ملک لوٹا ان سے پیسا نکلوا رہے ہیں اس پر اب شور اٹھ رہا ہے، جتنا مرضی رو دھولیں، احتساب کا عمل جاری رہے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کے ہوتے ہوئے کسی کی جرات نہیں کہ پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کرے، ملکی حالات کو مستحکم کرنا ہے تو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا، یہ نہیں ہوسکتا ہے اداروں کو رقم مل رہی ہو اور وہ خسارے میں جارہے ہوں، آج قوم کو مہنگائی کا سامنا ہے تو یہ ہمارا قصور نہیں، مہنگائی موجودہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے نہیں ہورہی، معیشت کے حوالے سے سخت فیصلے لیے ہیں، مشکل مرحلہ ہے، جب بھی آگے بڑھتے ہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مشکلات سے نکل کر ہی قومیں بنتی ہیں۔

وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ دوست ممالک سے بات چیت ہوئی ہے، پاکستان ایک مستحکم ملک بنے گا، اس کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے، ملک کو طاقتور اور مستحکم ملک بناکر چھوڑیں گے۔

فواد چوہدری نے سابق وزیر ریلوے پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید نے بتایا کہ سعد رفیق نے اپنے حلقے کے 8 ہزار لوگوں کو ریلوے میں بھرتی کیا، ایسے بھرتی کرانے پر تو انتخابات جیتنا ہی ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے مطالبے پر انہوں نے کہاکہ اپوزیشن 90 اراکین کے دستخط کے ساتھ ریکوزیشن جمع کرائے تو اجلاس بلالیں گے۔

وفاقی وزیر کی صحافیوں سے بات چیت

بعد ازاں تقریب سے خطاب کے بعدصحافیوں نے فواد چوہدری سے سوالات کیے، ایک صحافی نے سوال کیا کہ علی زیدی نے کہا ہے کہ ڈالر 140 تک جائے گا، اس پر وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ میرا خیال علی زیدی کے برعکس ہے، میرےخیال میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت کم ہوگی، ڈالر کے حوالے سے لوگ ابھی تو جوا ہی کھیل رہے ہیں، روپے کی مزید قدر کم کرانے کے لیے آئی ایم ایف سے متعلق قیاس آرائی ہو رہی ہیں، لوگ سمجھ رہے ہیں آئی ایم ایف کے پاس جانے سے ڈالرمزید مہنگا ہوگا، ایسا نہیں ہے۔

کڑوے گھونٹ پی لیے، بڑے فیصلے کرلیے اب تگڑا سفر شروع ہوگیا: فواد چوہدری
وزیر اطلاعات کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف سے ملنے والے فنڈز کے ساتھ دوبڑے پیکج بھی آئیں گے ، چین، سعودی عرب اور یو اے ای سے بھی 3 پیکج آئیں گے اور ان میں سرمایہ کاری بھی ہوگی، ڈالر پاکستان میں زیادہ ہوجائےگا تو اس کی قدر کم ہوجائےگی۔

فوادچوہدری نے کہا کہ کڑوے گھونٹ پی لیے، بڑے فیصلے کرلیے اب تگڑا سفر شروع ہوگیاہے۔

وزیراطلاعات نے بتایاکہ وزیراعظم نومبر میں چین کا دورہ کریں گے۔
 

فرقان احمد

محفلین
یہ سب کام تو کوئی بھی حکومت بخوبی کر سکتی تھی۔ تحریکِ انصاف نے بھی یہی کچھ کرنا تھا تو پھر حکومت میں آنے کی ضرورت کیا تھی؟ سچ بات یہ ہے کہ اگر کوئی دوسری حکومت اس طرح کے وعدے وعید کر کے ایسا کرتی تو تحریکِ انصاف 'سڑکوں' پر آ جاتی۔
 

جاسم محمد

محفلین
تحریکِ انصاف نے بھی یہی کچھ کرنا تھا تو پھر حکومت میں آنے کی ضرورت کیا تھی؟
اچھا سوال ہے۔ البتہ اس کے طویل جواب کی بجائے یہ روپے کی قدر کا چارٹ دیکھ لیں:
Pakistani_Currency.png

پچھلے 28 سالوں میں پاکستانی کرنسی کے ساتھ کھلواڑ لیگیوں اور جیالوں کا کارنامہ ہے۔ صرف مشرف کی ڈکٹیٹرشپ میں روپیہ 60 روپے پر مستحکم تھا۔ اس سے پہلے اور بعد کے جمہوری حُسن آپ کے سامنے ہیں۔ لیکن پھر بھی سارا قصور فوج کا ہے جو جمہوریت چلنے نہیں دیتی۔
 

فرقان احمد

محفلین
اچھا سوال ہے۔ البتہ اس کے طویل جواب کی بجائے یہ روپے کی قدر کا چارٹ دیکھ لیں:
Pakistani_Currency.png

پچھلے 28 سالوں میں پاکستانی کرنسی کے ساتھ کھلواڑ لیگیوں اور جیالوں کا کارنامہ ہے۔ صرف مشرف کی ڈکٹیٹرشپ میں روپیہ 60 روپے پر مستحکم تھا۔ اس سے پہلے اور بعد کے جمہوری حُسن آپ کے سامنے ہیں۔ لیکن پھر بھی سارا قصور فوج کا ہے جو جمہوریت چلنے نہیں دیتی۔
لیگیوں کو اقتدار میں لانے والے دراصل کون تھے؛ شاید وہی جو پچاس کی دہائی سے ملک پر راج کر رہے ہیں؛ کبھی سامنے آ کر، کبھی پیچھے بیٹھ کر۔ اس طرح سے جواز ڈھونڈیں گے تو پھر، چل چکا کام؟
 

جاسم محمد

محفلین
سچ بات یہ ہے کہ اگر کوئی دوسری حکومت اس طرح کے وعدے وعید کر کے ایسا کرتی تو تحریکِ انصاف 'سڑکوں' پر آ جاتی۔
یہ وعدہ خلافی نہیں ہے۔ ملک کے معاشی استحکام کے لئے حکومتی مجبوری ہے۔ اگر مخالف جماعتیں سمجھتی ہیں ایسا کرناملک کے مفاد میں نہیں تو خوشی سے آئیں دھرنا احتجاج کریں۔ کنٹینر خان صاحب فراہم کردیں گے۔
اسٹاک مارکیٹ میں سال کی بدترین مندی، 238 ارب روپے کا نقصان
ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اتار چڑھاؤ، اوپن مارکیٹ میں 138 روپے میں فروخت
 

فرقان احمد

محفلین
یہ وعدہ خلافی نہیں ہے۔ ملک کے معاشی استحکام کے لئے حکومتی مجبوری ہے۔ اگر مخالف جماعتیں سمجھتی ہیں ایسا کرناملک کے مفاد میں نہیں تو خوشی سے آئیں دھرنا احتجاج کریں۔ کنٹینر خان صاحب فراہم کردیں گے۔
خان صاحب کا کنٹینر کا بزنس ہے کیا؟ :)

اب آپ حکومت میں ہیں صاحب! یہ لہجے اپوزیشن کے ساتھ سجتے اور جچتے ہیں۔۔۔!
 

جاسم محمد

محفلین
لیگیوں کو اقتدار میں لانے والے دراصل کون تھے
مشرف اور ایوب کو اقتدار سے باہر نکالنے والے کون تھے؟ شاید وہی جمہوریے جنہیں ماضی میں اسٹیبلشمنٹ بناتی اور توڑتی رہی ہے۔ جب ڈکٹیٹر آکر جمہوریوں کے فرسودہ معاشی نظام میں استحکام لاتا ہے توعوام کو جمہوری دن یاد آجاتے ہیں۔
 

فرقان احمد

محفلین
مشرف اور ایوب کو اقتدار سے باہر نکالنے والے کون تھے؟ شاید وہی جمہوریے جنہیں ماضی میں اسٹیبلشمنٹ بناتی اور توڑتی رہی ہے۔ جب ڈکٹیٹر آکر جمہوریوں کے فرسودہ معاشی نظام میں استحکام لاتا ہے توعوام کو جمہوری دن یاد آجاتے ہیں۔
جنہوں نے نکالنے کی کوشش کی، اُن کا کیا حشر کیا گیا؟ ایوب اور مشرف فوج پر تو شاید بوجھ ہی بن چکے تھے، اس لیے ان سے جان چھڑا لی گئی ہو گی۔
 

جاسم محمد

محفلین
خان صاحب کا کنٹینر کا بزنس ہے کیا؟
بھائی اب حکومت کو اپوزیشن کے احتجاج کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ملک کے معاشی استحکام کے لئے مشکل فیصلے نہ کر سکنے کا طعنہ بہت مل چکا۔ اس آئی ایم ایف والے فیصلہ پر یوٹرن ناگزیر ہے۔ اپوزیشن اپنے احتجاج کا شوق بھی پورا کر لے۔
 

فرقان احمد

محفلین
بھائی اب حکومت کو اپوزیشن کے احتجاج کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ملک کے معاشی استحکام کے لئے مشکل فیصلے نہ کر سکنے کا طعنہ بہت مل چکا۔ اس آئی ایم ایف والے فیصلہ پر یوٹرن ناگزیر ہے۔ اپوزیشن اپنے احتجاج کا شوق بھی پورا کر لے۔
ٹھیک ہے جناب! قرض ضرور لیجیے۔ ہم کڑوی گولی نگلنے کے لیے تیار ہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
پاکستان کو اب قرض لیے بعیر کوئی جِن بھی نہیں چلا سکتا
ٹھیک ہے جناب! قرض ضرور لیجیے۔ ہم کڑوی گولی نگلنے کے لیے تیار ہیں۔
بھائی قرضے لینے میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ قرضے لینے کے ساتھ ساتھ ایسی پالیسی بھی بنائی جائے جس کے تحت قرضوں کا بوجھ ملک کی معیشت پر کم سے کم پڑے۔
اقتصادی اعداد و شمار جھوٹ نہیں بولتے۔ بینظیر اور نواز شریف کے پہلے جمہوری دور میں قرضے مجموعی داخلی پیداوار کا 87 فیصد بن چکے تھے۔ جنہیں مشرف دور کی پالیسیاں کم کرکے 57فیصد تک لے کر گئیں۔ جمہوریوں نے واپس آکر دوبارہ اسے 67 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔
Capture.png

دوسری جانب مشرف دور میں ملک کا بیرونی قرضہ مستحکم رہا۔ جبکہ جمہوری دور میں مسلسل بڑھتا ہی چلا گیا ۔
Capture.png

جمہوریوں کواپنی نااہلی چھپانے کیلئے بار بار فوج کے پیچھے چھپنا پڑتا ہے۔ حالانکہ ڈکٹیٹرشپس میں پاکستان کی معیشت کہیں زیادہ مستحکم رہی۔
 

فرقان احمد

محفلین
قرضے لینے میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے
اعتراض قرضے لینے سے زیادہ اس بات پر ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے وعدے کے برعکس یہ قدم اٹھایا۔اس کا ایک واضح مطلب ہے کہ تحریک انصاف نے حکومت میں آنے سے پہلے مناسب 'ہوم ورک' نہیں کیا تھا۔ اب آپ بے کار میں اس معاملے کو الجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اقتباس پر اقتباس لیے جا رہے ہیں۔ قرض لے لیا نا، اب بخش دیجیے؛ ہمیں کوئی اعتراض نہیں اس پر۔
 

ربیع م

محفلین
مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے خوب فائدہ اٹھایا اور صرف مشرف ہی نہیں بلکہ ہر ڈکٹیٹر نے.
 

جاسم محمد

محفلین
اعتراض قرضے لینے سے زیادہ اس بات پر ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے وعدے کے برعکس یہ قدم اٹھایا۔اس کا ایک واضح مطلب ہے کہ تحریک انصاف نے حکومت میں آنے سے پہلے مناسب 'ہوم ورک' نہیں کیا تھا۔
درست ہے۔ حکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانا ایک واضح یوٹرن اور وعدہ خلافی ہے۔
البتہ جہاں تک ہوم ورک کا سوال ہے تو یہ شاید غلط ہوگا۔ کیونکہ ہوم ورک مکمل کر لینے کا یہ مطلب نہیں کل کلاس میں ٹیسٹ آپ کی توقعات کے مطابق آئے گا۔ تحریک انصاف حکومت بلاشبہ اس اقتصادی بحران کے لئے تیار نہیں تھی جسے سابقہ جمہوری حکومتیں چھوڑ کر گئی تھیں۔ اگر تحریک کو مشرف دور کے بعد حکومت ملتی تو حالات یکسر مختلف ہوتے۔
 

جاسم محمد

محفلین
مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے خوب فائدہ اٹھایا اور صرف مشرف ہی نہیں بلکہ ہر ڈکٹیٹر نے.
کچھ عرصہ قبل ایک پروگرام میں مشرف کا انٹرویو دیکھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم نے معیشت ملک کی فسکل پالیسی ٹھیک کر کے بہتر کی۔ یعنی خرچے کم کئے اور آمدن بڑھائی۔ جس کے بعد رفتہ رفتہ قرضوں کا بوجھ مجموعی خاص پیداوار کے 87 فیصد سے کم ہوکر 57 فیصد تک آگیا۔ یہ محض چند سالوں کی کاکردگی تھی۔ اس کا واضح ثبوت مشرف دور میں ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 60 روپے پر مستحکم رہنا ہے۔
 

ربیع م

محفلین
کچھ عرصہ ایک قبل ایک پروگرام میں مشرف کا انٹرویو دیکھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم نے معیشت ملک کی فسکل پالیسی ٹھیک کر کے بہتر کی۔ یعنی خرچے کم کئے اور آمدن بڑھائی۔ جس کے بعد رفتہ رفتہ قرضوں کا بوجھ مجموعی خاص پیداوار کے 87 فیصد سے 57 فیصد تک آگیا۔ یہ محض چند سالوں کی کاکردگی تھی۔ اس کا واضح ثبوت مشرف دور میں ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 60 روپے پر مستحکم رہنا ہے۔
صرف مشرف کا انٹرویو سن کر یہ رائے قائم کرنا کافی پرمزاح ہے.
اگر صرف ڈالر کے ایکسچینج ریٹ مستحکم کرنے کی بنیاد پر بات کرنی ہے تو پھر تو اسحاق ڈار بھی قابل تحسین ہے.
مشرف دور میں جو لوٹ مار ہوئی وہ ریکارڈ ہے.
ق لیگ نے خوب لوٹا قوم کو.
مجھے ابھی تک چوہدری مونس الہی کی کرپشن کے قصے یاد ہیں جو اس وقت زبان زد عام تھے.
شوکت عزیز نے الگ لوٹا اور اس کے بعد پاکستان واپس نہیں لوٹا.
مشرف کی ذاتی کرپشن الگ ہے اور فوجیوں کی لوٹ مار الگ.
اور مسلم فروشی کی شرمناک داستان الگ.
خیر اکثر تحریک انصاف والوں کی مجبوری ہے مشرف کا دفاع کرنا.
 

جاسم محمد

محفلین
اگر صرف ڈالر کے ایکسچینج ریٹ مستحکم کرنے کی بنیاد پر بات کرنی ہے تو پھر تو اسحاق ڈار بھی قابل تحسین ہے.
مشرف دور میں ڈالر کا مستحکم رہنا حکومت کی کامیاب فسکل پالیسی کی بدولت تھا۔ جبکہ اس کے بعد آنے والے جمہوری دور معاشی فراڈ”پمپ اینڈ ڈمپ“ کی عمدہ مثال تھا۔ جہاں ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھا جاتا ہے۔ جو بعد میں بہرحال کریش ہوکر ملک کی معیشت کو بحران میں ڈال جاتی ہے۔

 
Top