آئی ایم ایف میں جانا نہیں چاہتے تھے، ملک چلانے کیلئے 28 ارب ڈالرز چاہئیں: فواد چوہدری

جاسم محمد نے 'معیشت و تجارت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 9, 2018

  1. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    1,330
    اب پی ٹی آئی حکومت کتنا قرضہ لے رہی ہے
     
  2. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
    ابھی تو تحریک انصاف حکومت نے صرف آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بات ہے تو اپوزیشن آپے سے باہر ہو گئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ وہی ہیں جو اپنے دور حکومت میں 40 ارب ڈالر سے زائد مہنگے قرضے لے کر ملک کی معیشت کو دیوالیہ کر چکے ہیں۔
    جب زرداری آیا تھا اس وقت بیرونی قرضہ 43 ارب ڈالر تھا۔ جب وہ گیا تو یہ 60 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ اب نواز شریف گیا ہے تو قرضہ ریکارڈ 92 ارب ڈالر سے تجاوزکر چکا ہے۔
    [​IMG]
    Government got record $40b loans
    Pakistan’s external debt soars to record $91.8b
    ان فوج مخالف ، تجربہ کار جمہوریوں نے حکومت سازی کیا خاک کرنی تھی۔ جو رہی سہی معیشت مشرف ٹھیک کر کے گیا تھا اسے بھی دس سالوں میں برباد کرکے عمران خان سے کہتے ہیں وہ آئی ایم ایف کیوں جا رہاہے۔
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 10, 2018
  3. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    1,330
    مطلب بات کی ہے ممکن ہے نا لے
    ڈاکٹر فرحان ورک صاحب بھی کل یہی فرما رہے تھے.
    حب مشرف بھی خوب ہے حالانکہ مشرف کی بیساکھیوں کو کسی دور میں آپ کے قائد پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا کرتے تھے.
    خیر وقت وقت کی بات ہے.
     
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
    مشرف دور میں بھی اتنے قرضے نہیں لئے۔ زرداری دو ر میں بھی نہیں۔ جتنے ایک اکیلے تجربہ کار شریف دور میں لئے گئے۔
    [​IMG]
    40 ارب ڈالر ڈکار مار کر کھا پی لئے۔ قومی خزانہ خالی کر گئے۔ لیکن قصور سارا تحریک انصاف کا ہے جس کو آئے جمعہ جمہ 8 دن ہوئے ہیں۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    1,330
    جی ہر آنے والی حکومت پچھلی حکومت سے زیادہ قرض لیتی ہے پی ٹی آئی بھی ایسا ہی کرے گی لکھ لیجیے.
    اور ہر حکومت ہی کرپٹ ہے بشمول مشرف و زرداری و نواز و عمران کے.
     
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
    پچھلی حکومت کا قرضہ ادا کرنے کیلئے نئی حکومت کو قرضے لینے پڑتے ہیں۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ مسئلہ تب ہوتا ہے جب لگاتار 5سالہ دور حکومت میں قرضے چڑھتے چلے جائیں۔ جیسا کہ سابقہ حکومت میں 40 ارب ڈالر یعنی ہر سال 8 ارب ڈالر کا قرضہ چڑھا ہے۔
    اس کا مستقل حل مجموعی ٹیکس نیٹ بڑھانا ہے۔ اس وقت پاکستان کی 20 کروڑ آبادی میں صرف 70،000 بڑے ٹیکس فائلرز ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس کا قانون سب سے زیادہ سخت ہوتاہے۔ جبکہ ہماری حتی الوسع کوشش ہوتی ہے کہ انکم ٹیکس سے چھوٹ ملے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت بھی وہاں ٹیکس سے بھاگتی ہے۔ جب تک یہ بنیادی کلچر میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ ملک کے معاشی مسائل ایسے ہی چلتے رہیں گے۔
     
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
    قوم کا ایک اور کارنامہ ملاحظہ فرمائیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی جو ہر سال اربوں ڈالرکی ترسیلات واپس بھیجتے ہیں۔ ان کی اکثریت بھی ٹیکس سے بچنے کیلئے ایسے ذرائع رسل استعمال کرتی ہے۔ جس سےقومی خزانے کو باقاعدگی سے نقصان ہوتا ہے۔ نئی حکومت انکم ٹیکس بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان چوروں کو بھی پکڑے تو مستقبل میں آئی ایم ایف سے مکمل چھٹکارا ہو سکتا ہے۔
     
  8. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    1,330
    جی ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیجنا یا اس کی ترغیب دینا واقعی قوم و ملک کے ساتھ خیانت ہے.
     
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
    جی ہاں۔ اور احتجاجا بل جلانا بھی۔ خان صاحب کی دھرنے کے دوران وہ کال ٹوٹل فلاپ ہوئی تھی۔ حکومت سے لڑائی میں اسٹیٹ کا نقصان نہیں کیا جا سکتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
    اس پر آج کا یہ بیان سن لیں۔ خان صاحب ملک میں اتنی دولت اکٹھی کرنا چاہتے ہیں کہ آئندہ آئی ایم ایف نہ جانا پڑے۔

    باقی اپوزیشن کی منطق سب کے سامنے ہے۔
     
  11. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    8,551
    جھنڈا:
    Pakistan
    جاسم بھائی ایسا ہی ایک گراف مہیا کریں جس میں بتایا گیا ہو کے کب کب اور کتنا قرضہ واپس کیا گیا ہے؟

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
    بھائی آپ کی لیگی حکومت نے ڈھیروں نئے قرضے لے کر کچھ پرانا قرضہ واپس کر دیا تو اس میں کیا خاص بات ہے؟ ملک کی معیشت تب بہتر تصور ہوتی ہے جب قرض اور مجموعی ملکی پیداوار کا تناسب کم ہو۔ جیسا کہ آپ ذیل کے اعداد و شمار میں دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں یہ تناسب 87 فیصد تک پہنچ کر مشرف دور میں واپس لا یا گیا۔ اور پھر ان جمہوریوں نے واپس اسے بلند ترین سطح پر پہنچا کر حکومت عمران خان کے حوالہ کر دی کہ لو اب ہماری تجربہ کارانہ نااہلی تمہارے حوالے:
    [​IMG]
    The debt-to-GDP ratio is simply a measure of a country's debt compared to its
    economic output. It also indicates the country's ability to pay back its debt.
    Basically, a low debt-to-GDP ratio indicates an economy that produces and sells goods and services sufficient to pay back debts without incurring further debt
    The debt-to-GDP ratio was 81 percent in 2000, 83 percent in 2001, 87.9 perent in 2002, 81.8 percent in 2003, 75.9 percent in 2004, 68.3 percent in 2005, 63.5 percent in
    2006, 57.5 perent in 2007, 54.9 per cent in 2008, 59.6 percent in 2009, 60.7 percent in 2010, 61.5 and 60.1 percent in 2012.
    By the end of 2004, the total external debt was resting at $33 billion.
    At the end of June 2007, when General Musharraf was still in power, the loans had soared to $40.5 billion.
    However, the country's real GDP had increased from $60 billion to $170 billion during 2000-07, while its per capita income had increased from under $500 to over $1000 during this period.
    یوں ثابت ہوگیا کہ معاشی لحاظ سے ملک کے لئے ایک مشرف جیسے آئین شکن آمر کا دور جمہوری دور سے بہت بہتر تھا۔
     
  13. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    8,551
    جھنڈا:
    Pakistan
    بھائی جو سادہ سی بات پوچھی ہے وہ بتا دیں شکریہ۔

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
    اس کا جواب اوپر ربط میں موجود ہے
    During the Musharraf regime from 2001 to 2008, the foreign donors had disbursed gross amount of $22.469 billion as loans and grants, but the country had to pay back $17.220 billion as debt servicing ($11.260 billion as principal amount and $5.595 billion as interest repayments)
    From 2009 to 2015, Pakistan's democratic governments had received gross foreign assistance of $27.483 billion, but had paid back $22.111 billion as debt servicing including $16.436 billion as principal repayment and $5.675 billion as interest repayment
    [​IMG]
    2017 اور 2018 کا ڈیٹا ایس بی کی سائٹ پر موجود ہے۔
    Pakistan to pay $9.3b in external debt servicing
     
  15. عبداللہ محمد

    عبداللہ محمد مدیر

    مراسلے:
    8,551
    جھنڈا:
    Pakistan
    but the country had to pay back
    لیکن کیا واپس کئے؟

     
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
    جی بھائی۔ مالیاتی اداروں کا ایک ہی اصول ہے کہ ڈیفالٹرز کو مزید قرضے نہیں دئے جاتے۔ اگر ماضی میں مشرف حکومت قرضے واپس نہ کرتی تو مستقبل کی حکومتوں کو نئے قرضے نہ ملتے۔ جیسے آجکل تحریک انصاف حکومت کو داخلی گردشی قرضوں کے لئے بینکوں سے مزید قرضے نہیں مل رہے۔ کیونکہ سابقہ حکومت نے ان پر ڈیفالٹ کیا ہے۔
     
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
    ہوسکتا ہے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے، دوست ممالک سے رابطہ کر رہے ہیں، وزیراعظم
    [​IMG]
    وفد کی ملاقات — فوٹو: عمران خان آفیشل پیج

    اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ہوسکتا ہے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے، مسائل کے حل کے لیے دوست ممالک سے رابطے کررہے ہیں۔

    وفاقی دارلحکومت میں وزیراعظم سے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر (سی پی این اے) کے وفد نے ملاقات کی۔

    ملاقات میں میڈیا انڈسٹری کو درپیش چیلنجز اور مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان نے نیوز پرنٹ پر عائد 5 فیصد ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا انڈسٹری کو سپورٹ کریں گے اور مسائل حل کیے جائیں گے۔

    [​IMG]
    وفد کا وزیر اعظم کے ساتھ گروپ فوٹو— فوٹو: پی آئی ڈی

    انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم، صحت اور ثقافت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے کیوں کہ چاہتے ہیں کہ عام آدمی کی مشکلات کو کم کیا جائے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے، مسائل کے حل کیلئے دوست ممالک سے رابطہ کر رہے ہیں اور توقع ہے اپنی پالیسیوں سے بہت جلد مسائل پر قابو پالیں گے۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملکی اقتصادی مسائل کی وجہ سے میڈیا کو بھی مشکلات درپیش ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت تنقید کا خیر مقدم کرتی ہے جب کہ میری کامیابی کی بڑی وجہ میڈیا ہے اور ہم میڈیا کو سپورٹ کریں گے۔
     
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218
    تحریک انصاف حکومت آنے سے قبل پاکستانی معیشت کا حال
    [​IMG]
     
  20. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    2,218

اس صفحے کی تشہیر