اِس کی بنیاد میں پتھر ہے پرانے گھر کا

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اِس کی بنیاد میں پتھر ہے پرانے گھر کا
قرض کتنا نئے گھر پر ہے پرانے گھر کا

چین سے سوتا ہوں یادوں کا بنا کر تکیہ
راس اب تک مجھے بستر ہے پرانے گھر کا

دوستو !میں تو نہیں بدلا ہوں گھر بدلا ہے
نئی چوکھٹ میں کُھلا در ہے پرانے گھر کا

نئی بستی کا کبھی نقطہء آغاز تھا یہ
شہر کے بیچ جو منظر ہے پرانے گھر کا

اِس نئے شہر کے موسم سے بہت ڈرتا ہے
آدمی جو مرے اندر ہے پرانے گھر کا

ویسے تو خوش نظر آتا ہے نئےگھر میں ظہیر
تذکرہ باتوں میں اکثر ہے پرانے گھر کا

ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۸
ٹیگ: سید عاطف علی محمد تابش صدیقی فاتح کاشف اختر
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
Top