ان سے دیکھا نہ گیا مجھ سے دکھایا نہ گیا

بہت خوب! واہ ! کیا اچھی غزل ہے نمرہ صاحبہ !
؎ واقعہ عام نہ تھا دل کے اجڑ جانے کا
کیا اچھا مصرع ہے ! واہ!

ساتویں شعر کو ایک مرتبہ دیکھ لیجئے۔ اس میں ٹائپو لگ رہا ہے ۔
حسنِ اتفاق دیکھے کہ اسی سے ملتی جلتی زمین میں میری بھی ایک پرانی غزل ہے ۔ اس کے ردیف قافیے بنائے نہ گئے اور سنائے نہ گئے وغیرہ تھے۔ آپ کی غزل پڑھ کر وہ یاد آگئی۔ اب ڈھونڈ کر نکالتا ہوں ۔ :)
خوش آمدید :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
جی۔ بہت ہی خوش خوش آمدم ۔

اتنے عرصے بعد آنے والے عام طور پر چپکے سے تو نہیں آتے، باقاعدہ "انٹری" مارتے ہیں۔ :)

عبید بھائی ،چپکے سے کہاں آیا ہوں ۔ دن دھاڑے دھڑلے سے داد دے رہا ہوں شاعروں کو ۔
 

نمرہ

محفلین
جی ہاں ۔ مفہوم کو لفظوں میں سمایا جاتا ہے ۔ مفہوم خود تو کوئی چیز لفظوں میں نہیں سماتا ۔
مفہوم سے اگر لکھا جائے تو تعقید پیدا ہوتی ہے ۔ یعنی وہ کیا ہے جو مفہوم سے لفظوں میں سمایا نہ گیا ۔
میری مراد تھی کہ مفہوم سے خود الفاظ میں سمایا نہ گیا۔ یہ استعمال غلط ہے کیا؟
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
میری مراد تھی کہ مفہوم سے خود الفاظ میں سمایا نہ گیا۔ یہ استعمال غلط ہے کیا؟
سننے والوں کا رہا اپنا تخیل شامل
ورنہ مفہوم سے لفظوں میں سمایا نہ گیا

سمانا اور سماجانا دونوں فعل لازم ہیں ۔ یعنی انہیں کسی مفعول کی ضرورت نہیں ۔ درست صورتیں یوں ہوں گی: مفہوم لفظوں میں سماگیا ۔ مفہوم لفظوں میں سما نہ سکا ۔ محولہ بالا صورت میں تعقید پیدا ہوتی ہے یعنی فعلِ متعدی کی سی صورت پیدا ہورہی ہے ۔ یعنی وہ کیا چیز ہے جو مفہوم سے لفظوں میں سمائی نہ گئی ۔
 
آخری تدوین:

نمرہ

محفلین
سننے والوں کا رہا اپنا تخیل شامل
ورنہ مفہوم سے لفظوں میں سمایا نہ گیا

سمانا اور سماجانا دونوں فعل لازم ہیں ۔ یعنی انہیں کسی مفعول کی ضرورت نہیں ۔ درست صورتیں یوں ہوں گی: مفہوم لفظوں میں سماگیا ۔ مفہوم لفظوں میں سما نہ سکا ۔ محولہ بالا صورت میں تعقید پیدا ہوتی ہے یعنی فعلِ متعدی کی سی صورت پیدا ہورہی ہے ۔ یعنی وہ کیا چیز ہے جو مفہوم سے لفظوں میں سمائی نہ گئی ۔
درست لیکن ہم یوں بھی تو کہتے ہیں، مجھ سے وہاں بیٹھا نہ گیا۔ اسی طرز میں کہا تھا مفہوم کے لیے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
درست لیکن ہم یوں بھی تو کہتے ہیں، مجھ سے وہاں بیٹھا نہ گیا۔ اسی طرز میں کہا تھا مفہوم کے لیے۔
لیکن اگر آپ یوں کہیں کہ مجھ سے وہاں بٹھایا نہ گیا تو یہاں فعل متعدی کی صورت پیدا ہوگی ۔ یہی تعقید پیدا ہورہی ہے مصرع میں ۔

اپنے مصرع میں جو لفظ آپ نے استعمال کیاوہ سمانا نہیں بلکہ سماجانا ہے ۔ اگر سمانا استعمال کیا جائے تو یہ صورتیں ہوں گی ۔ خیال دل میں سمارہا ہے ۔ خیال دل میں سما یا ۔ خیال دل میں سمائے گا ۔ وغیرہ اس کے برعکس سماجانا کی صورتیں یہ ہوں گی ۔ خیال دل میں سماجاتا ہے ۔ دل میں سماگیا ۔ دل میں سما جائے گا وغیرہ۔

آپ کا مصرع غلط تو شاید نہیں ہے ۔ لیکن ’’سے‘‘ کے استعمال سے تعقید پیدا ہورہی ہے ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اور دیگر مدیران اس درخواست کو نامنظور کر دیں گے! :)
ارے ، یعنی آپ بھی !!
بہت مبارک ہو یہ منصب! ماشاء اللہ لاقوۃ الاباللہ۔ خوشی ہوئی کہ آپ نے یہ ذمہ داری اٹھائی ۔ اللہ آپ کے لئے آسانیاں عطا فرمائے ۔ آمین ۔
 

نمرہ

محفلین
لیکن اگر آپ یوں کہیں کہ مجھ سے وہاں بٹھایا نہ گیا تو یہاں فعل متعدی کی صورت پیدا ہوگی ۔ یہی تعقید پیدا ہورہی ہے مصرع میں ۔

اپنے مصرع میں جو لفظ آپ نے استعمال کیاوہ سمانا نہیں بلکہ سماجانا ہے ۔ اگر سمانا استعمال کیا جائے تو یہ صورتیں ہوں گی ۔ خیال دل میں سمارہا ہے ۔ خیال دل میں سما یا ۔ خیال دل میں سمائے گا ۔ وغیرہ اس کے برعکس سماجانا کی صورتیں یہ ہوں گی ۔ خیال دل میں سماجاتا ہے ۔ دل میں سماگیا ۔ دل میں سما جائے گا وغیرہ۔

آپ کا مصرع غلط تو شاید نہیں ہے ۔ لیکن ’’سے‘‘ کے استعمال سے تعقید پیدا ہورہی ہے ۔
مجھ سے وہاں بٹھایا نہ گیا کی طرز پر تو بات تب ہوتی اگر میں کہتی ، مفہوم کو لفظوں میں سمویا نہ گیا۔ یہاں تعقید کا مسئلہ ہے۔

لفظ تو میں نے سمانا ہی استعمال کیا ہے، سما جانا نہیں۔ خیال دل میں سمایا سے یہی جملہ نہیں بنتا کیا کہ خیال سے دل میں سمایا نہ گیا ؟
مصرعے کی تو یوں بھی خیر ہے۔ میرا گرائمر کا سوال بن چکا ہے ، اور جینوئن والا، صاحب دلاں خدارا
:)
ذرا دھیان سے غور کرتی ہوں اس پر۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
مجھ سے وہاں بٹھایا نہ گیا کی طرز پر تو بات تب ہوتی اگر میں کہتی ، مفہوم کو لفظوں میں سمویا نہ گیا۔ یہاں تعقید کا مسئلہ ہے۔

لفظ تو میں نے سمانا ہی استعمال کیا ہے، سما جانا نہیں۔ خیال دل میں سمایا سے یہی جملہ نہیں بنتا کیا کہ خیال سے دل میں سمایا نہ گیا ؟
مصرعے کی تو یوں بھی خیر ہے۔ میرا گرائمر کا سوال بن چکا ہے ، اور جینوئن والا، صاحب دلاں خدارا
:)
ذرا دھیان سے غور کرتی ہوں اس پر۔
سمونا تو بالکل ہی الگ لفظ ہے ۔ میرے خیال میں یہ سمانا کا فعلِ متعدی نہیں ہے ۔

میرے خیال میں مسئلہ سمانا کی لفظی ساخت کا ہے ۔ عام طور پر فعل لازم الف پر ختم نہیں ہوتے ۔ مثلاً بیٹھنا ، اٹھنا ، اچھلنا ، کودنا، لیٹنا ( یاد رہے کہ ان میں نا علامتِ مصدر ہے )۔ عام طور پر ان لازم افعال کے آخر میں الف لگا کر فعل متعدی بنالیا جاتا ہے ۔ جیسے اٹھنا سا اٹھانا ، بیٹھنا سے بٹھانا ، لٹانا ، کدوانا وغیرہ ۔ اس کے برعکس سمانا گرچہ فعلِ لازم ہے لیکن الف پر ختم ہوتا ہے ۔ اس لئے سمایا نہ گیا کو ہم اٹھایا نہ گیا ، بٹھایا نہ گیا کی طرز پر پڑھتے اور سمجھتے ہیں ۔ اسی لئے تعقید کی بات کی ۔ مفہوم سے بھی ٹھیک ہے اور مفہوم تو بھی ۔ میری رائے میں مفہوم تو سے تعقید دور ہوجاتی ہے ۔ :):):)
واللہ اعلم بالصواب۔
 
ایسے شاعروں کے کلام پر کیا داد دینا جو ہمیشہ با کمال ہی لکھتے ہوں! :) :) :)

"ورنہ مفہوم سے لفظوں میں سمایا نہ گیا" والے قضیے میں ہمارے خیالات نمرہ بٹیا والے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہاں "سے" کا استعمال خوب ہے۔ جیسے جیسے ہم اس لڑی کو پڑھتے جا رہے تھے اور محترم ظہیراحمدظہیر کے موقف کے جوابات سوچتے جا رہے تھے، آگے جا کر وہ سارے جوابات و دلائل پہلے سے موجود پا کر خوش ہو رہے تھے کہ مجھ کاہل کی تن آسانی کا سامان ہو گیا۔ :) :) :)
 

نمرہ

محفلین
ایسے شاعروں کے کلام پر کیا داد دینا جو ہمیشہ با کمال ہی لکھتے ہوں! :) :) :)

"ورنہ مفہوم سے لفظوں میں سمایا نہ گیا" والے قضیے میں ہمارے خیالات نمرہ بٹیا والے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہاں "سے" کا استعمال خوب ہے۔ جیسے جیسے ہم اس لڑی کو پڑھتے جا رہے تھے اور محترم ظہیراحمدظہیر کے موقف کے جوابات سوچتے جا رہے تھے، آگے جا کر وہ سارے جوابات و دلائل پہلے سے موجود پا کر خوش ہو رہے تھے کہ مجھ کاہل کی تن آسانی کا سامان ہو گیا۔ :) :) :)
شکریہ ، ووٹ کے لیے :D شاعری پڑھنا اور پسند کرنا تو ظاہر ہے کہ ایک فرض ہے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
میرا خیال ہے کہ ہم سب ایک ہی بات کررہے ہیں ۔ تعقید معنوی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جملے کی گرامر ٹھیک نہیں ہے بلکہ اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ الفاظ کا چناؤ اور (یا) ان کی ترتیب کچھ اس طرح کی ہے کہ پہلی نظر میں وہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ جو مقصود نہیں ۔ لیکن ذرا غور کرنے پر جملے کا اصل مدعا اخذ کیا جاسکتا ہے ۔ شدت کے لحاظ سے تعقید کے کئی درجات ہوسکتے ہیں۔ نیز کوئی کوئی تعقید اس قسم کی بھی ہوتی ہے جو کچھ مخصوص ذوق اور علاقے کے لوگوں ہی کو محسوس ہوتی ہے، سب کو نہیں ( بسبب علاقائی لسانی تفاوت وغیرہ)۔ اور بعض تعقید عمومی نوعیت کی ہوتی ہے۔ مصرع زیر بحث میں تو انتہائی معمولی درجہ کی تعقید ہے ۔ مجھے پہلی قرات میں ایسا محسوس ہوا کہ یہاں مفہوم سے نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے سےکے بجائے تو کا مشورہ دیا ۔ وجہ اس کی اوپر بیان بھی کردی کہ سمایا کی لفظی ساخت پہلی نظر میں فعل متعدی کا تاثر دیتی ہے جبکہ حقیقتا ایسا نہیں ہے۔ اب یہ میری ہی نظر کا قصور ہے یا کچھ اور قاریوں کو بھی یہ گمان گزر سکتا ہے میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ بہرحال بات اب واضح ہو گئی ہے۔ آپ مفہوم سے کو برقرار رکھئے کہ گرامر کے لحاظ سے درست ہے۔ تعقید شاید مجھے ہی محسوس ہوئی۔ اور یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں۔ چلیے اسی بہانے کچھ غور وفکر کا موقع ملا اور کچھ باتیں ہو گئیں۔:):):)
 

الف عین

لائبریرین
مابدولت محظوظ ہوئے، نہیں عزیزی صدیق کی بات نہیں کر رہا، تعقید کی دلچسپ بحث مجھے ہی اچھی لگی!
کسی غلطی کا احساس تو مجھے نہیں ہوا تھا، شاید اس لیے کہ میں نے سمایا کی نحوی ترکیب پر غور نہیں کیا ۔ اب غور کیا تو پتہ چلا کہ 'سمایا' لفظ ہی کچھ خاص ہے ۔ اور شاید ایسے اور فعل بھی ہوں گے جن کا مختلف استعمال ہو سکتا ہے
 
میرا خیال ہے کہ ہم سب ایک ہی بات کررہے ہیں ۔ تعقید معنوی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جملے کی گرامر ٹھیک نہیں ہے بلکہ اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ الفاظ کا چناؤ اور (یا) ان کی ترتیب کچھ اس طرح کی ہے کہ پہلی نظر میں وہ مطلب لیا جاسکتا ہے کہ جو مقصود نہیں ۔ لیکن ذرا غور کرنے پر جملے کا اصل مدعا اخذ کیا جاسکتا ہے ۔ شدت کے لحاظ سے تعقید کے کئی درجات ہوسکتے ہیں۔ نیز کوئی کوئی تعقید اس قسم کی بھی ہوتی ہے جو کچھ مخصوص ذوق اور علاقے کے لوگوں ہی کو محسوس ہوتی ہے، سب کو نہیں ( بسبب علاقائی لسانی تفاوت وغیرہ)۔ اور بعض تعقید عمومی نوعیت کی ہوتی ہے۔ مصرع زیر بحث میں تو انتہائی معمولی درجہ کی تعقید ہے ۔ مجھے پہلی قرات میں ایسا محسوس ہوا کہ یہاں مفہوم سے نہیں ہونا چاہئے۔ اس لئے سےکے بجائے تو کا مشورہ دیا ۔ وجہ اس کی اوپر بیان بھی کردی کہ سمایا کی لفظی ساخت پہلی نظر میں فعل متعدی کا تاثر دیتی ہے جبکہ حقیقتا ایسا نہیں ہے۔ اب یہ میری ہی نظر کا قصور ہے یا کچھ اور قاریوں کو بھی یہ گمان گزر سکتا ہے میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ بہرحال بات اب واضح ہو گئی ہے۔ آپ مفہوم سے کو برقرار رکھئے کہ گرامر کے لحاظ سے درست ہے۔ تعقید شاید مجھے ہی محسوس ہوئی۔ اور یہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں۔ چلیے اسی بہانے کچھ غور وفکر کا موقع ملا اور کچھ باتیں ہو گئیں۔:):):)
ہمارا خیال ہے کہ فطری زبانوں میں اتنی لچک پائی جاتی ہے کہ کئی دفعہ کچھ باتیں نہ تو مطلقاً درست کہی جا سکتی ہیں اور نہ ہی غلط۔ کئی دفعہ بعض الفاظ کے استعمال میں علاقائی لہجوں کا فرق ہوتا ہے تو کئی دفعہ دوسری زبانوں کے اصلوب غالب آ جاتے ہیں۔ مثلاً اس قضیے میں ہماری اپنی سمجھ یہ رہی ہے کہ سمانا ان مصادر میں شمار ہوتا ہے جن کے فعل کا فاعل ہی مفعول بھی ہوتا ہے مثلاً، دیکھتے ہی دیکھتے وہ دیو قامت زمین میں سما گیا۔ اس کے بر عکس سمونا اس مصدر کا وہ فعل ہے جس میں فاعل اور مفعول الگ الگ ہو سکتے ہیں مثلاً، وہ اپنی چھوٹی سی اٹیچی میں اپنی ضرورت کا سارا سامان سمو کر کسی بھی وقت سفر کو نکل جایا کرتے تھے۔ یعنی سما جانا درست ہے، لیکن سما دینا نہیں۔ اس کے بر عکس سمو دینا درست ہے، لیکن سمو جانا نہیں۔ بہر کیف یہ ہمارا علاقائی انداز بھی ہو سکتا ہے۔ البتہ اس پورے قضیے کا سب سے خوبصورت پہلو اس موضوع پر ہونے والی گفتگو ہے جس کے چلتے کچھ کھوجنے کھنگالنے کا موقع ہاتھ لگ گیا۔ :) :) :)
 
Top