انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ - نظام رامپوری

فرخ منظور

لائبریرین
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیے مسکرا کے ہاتھ

بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں
کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ

یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر
اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ

بے اختیار ہوکے جو میں پاؤں پر گرا
ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ

قاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹھہر گیا
گویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آ کے ہاتھ

اے دل، کچھ اور بات کی رغبت نہ دے مجھے
سننی پڑیں گی سینکڑوں اُس کے لگا کے ہاتھ

وہ کچھ کسی کا کہہ کے ستانا سدا مجھے
وہ کھینچ لینا پردے سے اپنا دکھا کے ہاتھ

دیکھا جو کچھ رکا مجھے تو کس تپاک سے
گردن میں میری ڈال دیے آپ آ کے ہاتھ

کوچے سے تیرے اُٹھّیں تو پھر جائیں ہم کہاں
بیٹھے ہیں یاں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ

پہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیں
پنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ

دینا وہ اس کا ساغرِ مے یاد ہے نظام
منہ پھیر کر اُدھر کو اِدھر کو بڑھا کے ہاتھ


(نظام رامپوری)
 

فاتح

لائبریرین
بہت خوب۔ اس کا مشہور زمانہ مطلع ہی سن رکھا تھا اور مدت سے میں‌اس غزل کی تلاش میں‌تھا۔ بہت شکریہ جناب۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
بہت خوب۔ اس کا مشہور زمانہ مطلع ہی سن رکھا تھا اور مدت سے میں‌اس غزل کی تلاش میں‌تھا۔ بہت شکریہ جناب۔

بہت شکریہ فاتح صاحب۔ مجھے بھی اسی غزل کی تلاش تھی اور اس غزل کے چکر میں پوری کلیاتِ نظام ہی خرید لی۔ :happy:
 
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیے مسکرا کے ہاتھ

بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں

کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ

یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر

اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ

بے اختیار ہوکے جو میں پاؤں پر گرا

ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ

قاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹھہر گیا

گویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آ کے ہاتھ

اے دل، کچھ اور بات کی رغبت نہ دے مجھے

سننی پڑیں گی سینکڑوں اُس کے لگا کے ہاتھ

وہ کچھ کسی کا کہہ کے ستانا سدا مجھے

وہ کھینچ لینا پردے سے اپنا دکھا کے ہاتھ

دیکھا جو کچھ رکا مجھے تو کس تپاک سے

گردن میں میری ڈال دیے آپ آ کے ہاتھ

کوچے سے تیرے اُٹھّیں تو پھر جائیں ہم کہاں

بیٹھے ہیں یاں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ

پہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیں

پنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ

دینا وہ اس کا ساغرِ مے یاد ہے نظام

منہ پھیر کر اُدھر کو اِدھر کو بڑھا کے ہاتھ
 
واہ! بہت خوب۔ آپ تو میرا پسندیدہ کلام ارسال کرتے جا رہے ہیں۔ یہ غزل میں بھی یہاں ارسال کر چکا ہوں۔
شکریہ جناب :)
مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ بھی یہ غزل ارسال کر چکے ہیں
بہر حال تیر کمان سے نکل چکا
ذرا اس دھاگے پر بھی نظرِ کرم فرمائیں
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/نہ-من-بیہودہ-گردِ-کوچہ-و-بازار-می-گردَم-از-مولانا-رُومی.60087/
 

فرخ منظور

لائبریرین
شکریہ جناب :)
مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ بھی یہ غزل ارسال کر چکے ہیں
بہر حال تیر کمان سے نکل چکا
ذرا اس دھاگے پر بھی نظرِ کرم فرمائیں
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/نہ-من-بیہودہ-گردِ-کوچہ-و-بازار-می-گردَم-از-مولانا-رُومی.60087/

عجیب بات ہے کہ آپ کا ارسال کردہ اکثر کلام محفل پر پہلے ارسال ہو چکا ہے۔ یہ کلام وارث صاحب یہاں ارسال کر چکے ہیں۔
 

تلمیذ

لائبریرین
واہ! بہت خوب۔ آپ تو میرا پسندیدہ کلام ارسال کرتے جا رہے ہیں۔ یہ غزل میں بھی یہاں ارسال کر چکا ہوں۔

فرخ صاحب، کیا اس غزل کچھ شعر پرانی انڈین فلم 'زندگی یا طوفان' میں شامل نہیں کئے گئے تھےاور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس فلم کے شاعرکے طور پر پرنخشب جارچوی کا نام دیا گیا تھا۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
فرخ صاحب، کیا اس غزل کچھ شعر پرانی انڈین فلم 'زندگی یا طوفان' میں شامل نہیں کئے گئے تھےاور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس فلم کے شاعرکے طور پر پرنخشب جارچوی کا نام دیا گیا تھا۔

مجھے اس بات کا علم نہیں تلمیذ صاحب۔ البتہ اب میں آپ کی بات کی تحقیق ضرور کروں گا۔ یوٹیوب بند ہونے سے ہماری تو دنیا ہی اجڑی ہوئی ہے۔ :)
 

مخلص انسان

محفلین
انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ

بیساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں
کیا منہ پہ اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ

یہ بھی نیا ستم ہے حِنا تو لگائیں غیر
اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ

بے اختیار ہو کہ جو میں پاؤں پر گرا
ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ

گر دل کو بس میں پائیں تو ناصح تری سنیں
اپنی تو مرگ و زیست ہے اس بیوفا کے ہاتھ

وہ زانوؤں میں سینہ چھپانا سمٹ کے ہائے
اور پھر سنبھالنا وہ دوپٹہ چھڑا کے ہاتھ

قاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹہر گیا
گویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آکے ہاتھ

اے دل کچھ اور بات کی رغبت نہ دے مجھے
سننی پڑے گی سیکڑوں اس کو لگا کے ہاتھ

وہ کچھ کسی کا کہہ کے ستانا سدا مجھے
وہ کھینچ لینا پردے سے اپنا دکھا کے ہاتھ

دیکھا جو کچھ رکا مجھے تو کس تپاک سے
گردن میں میری ڈال دیئے آپ آ کے ہاتھ

پھر کیوں نہ چاک ہو جو ہیں زور آزمائیاں
باندھوں گا پھر دوپٹہ سے اس بے خطا کے ہاتھ

کوچے سے تیرے اٹھیں تو جائیں پھر ہم کہاں
بیٹھے ہیں یاں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ

پہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیں
پنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ

دینا وہ اسکا ساغرِ مے یاد ہے نظام
منہ پھیر کر اُدھر کو اِدھر کو بڑھا کے ہاتھ
 
Top