انٹر نیٹ سے چنیدہ

سیما علی

لائبریرین

جنگ آزادی ہند میں مسلم خواتین کا کردار​

برصغیر ہند و پاکستان کی تقسیم پر آج تک جتنا کچھ لکھا گیا، وہ اکثر مَردوں کے ہاتھوں سے لکھا گیا، شاید اسی وجہ سے جنگِ آزادی میں خواتین کا کردار پسِ پردہ ہی رہا، ویسے اس کی دیگر چند وجوہات بھی ہیں، جب کہ کانگریس ہو یا مسلم لیگ، ہر جگہ عورتوں نے مختلف خدمات سر انجام دیں۔ انھوں نے پرچم بنائے، لیڈروں کی خاطر داری کی، جہادِ آزادی میں شریک اپنے باپ، بھائی، بیٹے اور شوہر کی راحت رسانی کا کام کیا، اسی پربس نہیں بلکہ انھوں نے عملی جد و جہد میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور عورتیں بطور رضاکار مہم میں شامل ہوئیں۔اسی لیے اس مضمون میں ہم چند ایسی مسلم خواتیں کا ذکر کریں گے، جنھوں نے اپنے رشتے داروں کو جنگِ آزادی میں حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی اس میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ یہ بھی واضح کر دیں کہ مضمون کی طوالت کے مدِّنظر ہم نے چند کے ذکر پر اکتفا کیا ہے۔

بیگم حضرت محل زوجۂ واجد علی
بیگم حضرت محل کا نام زبان پرا ٓتے ہی جنگ آزادی کا تصور ذہن میں ابھر آتا ہے، وہ جنگِ آزادی کی اولین سرگرم عمل خاتون رہنما تھیں۔ ۱۸۵۷-۱۸۵۸ء کی جنگِ آزادی میں صوبۂ اودھ سے حضرت محل کی نا قابلِ فراموش جدو جہد تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں درج رہے گی کہ کس طرح ایک عورت ہوتے ہوئے انھوں نے بر طانوی سامراج و ایسٹ انڈیا کمپنی سے لوہا لیا اور آخر وقت یعنی اپنی موت (۱۸۷۹ء) تک تقریباً بیس سالہ زندگی انگریز حکومت کی مخالفت میں بسر کی۔جب ۱۸۵۶ء میں برطانوی حکومت نے نواب واجد علی شاہ کو جلا وطن کر کے کلکتے بھیج دیا، اس وقت حضرت محل نے زمامِ حکومت سنبھا لی اور وہ ایک نئے اوتار میں سامنے آئیں۔انھوں نے محل میں بیٹھ کر صرف پالیسیاں نہیں بنائیں بلکہ جنگ کے میدان میں اتر کر اپنے جوہر بھی دکھائےاور وہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے سبب جنگِ آزادی میں ایک عظیم قائد بن کر ابھریں۔ بیگم حضرت محل نے لکھنؤ چھوڑنے کے بعد نیپال میں پناہ لی اور وہیں ۱۸۷۹ء میں ان کی وفات ہوئی اور کاٹھ منڈو کی جامع مسجد کے قبرستان میں گمنام طور پر ان کو دفن کر دیا گیا ۔

بی امّاں والدۂ علی برادران
بی اماں عابدی بیگم زوجۂ عبدالعلی خان، ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں شریک رہیں اور کارہائے نمایاں انجام دیے۔ ان کی ایک بیٹی پانچ بیٹے تھے، جن میں سے دو؛ محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی تحریکِ آزادی کے علم بردار ہوئے۔ ۱۹۱۷ء کے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں بی اماں کی تقریر نے سامعین کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔جس وقت ان کے دونوں بیٹے محمد علی اور شوکت علی جیل میں تھے، اس دوران بی اماں نے تحریک ِخلافت کے لیے پورے ملک کا دورہ کیا اور اس تحریک کو جِلا بخشی۔ان کانعرہ تھا:

بولی محمد علی کی اماں کہ بیٹا خلافت کے لیے جان دے دو

دسمبر ۱۹۲۱ء کو جب علی برادران کو انگریز سپاہیوں کے ذریعے گرفتار کیے جانے کی خبر ان کی والدہ کو ملی تو وہ قطعاً پریشان نہیں ہوئیں بلکہ صبرو استقلال برقرار رکھا۔ اسی لیے گاندھی جی نے کہا تھا کہ گر چہ وہ ایک بزرگ خاتون تھیں لیکن ان کاحوصلہ جواں تھا۔جب خلافت تحریک ختم ہوگئی، اس کے بعد مختصر علالت کے چلتے ۱۳؍نومبر ۱۹۲۴ء کو ان کا انتقال ہو ا۔

امجدی بیگم زوجۂ محمد علی جوہر
مولانا محمد علی جوہر کی بیگم جن کا اصل نام امجدی بانو تھا،۵؍فروری ۱۹۰۲ء کو ان کا نکاح مولانا محمد علی جوہر سے ہوا۔۱۹۱۹ء میںجب مولانا کو خلافت تحریک کے سلسلے میں جیل بھیج دیا گیا، اس وقت امجدی بیگم نے عملی سیاست میں قدم رکھااور پھر اسی برس انھیں خود بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں، رہائی کے بعد وہ مزید فعال ہوگئیں اور۱۹۳۱ء میں مولانا محمد علی جوہر کی وفات کے بعد سیاسی میدان میں ان کی نیابت کرنے لگیں۔وہ مولانا کی فلسفیانہ اور سیاسی اصولوں کی معتقد تھیں اور ان کے تمام سفروں ،عوامی جلسوں اور سرگرمیوں میں شامل رہتی تھیں، انھوں نے ’ستیہ گرہ ‘ اور ’خلافت فنڈ‘ کے لیے روپیہ بھی جمع کیا ۔ان کا انتقال۲۸؍ مارچ۱۹۴۷ء کو ہوا۔

نشاط النساء بیگم زوجہ موہانی
نشاط النساء بیگم یعنی مولانا حسرت موہانی کی زوجہ محترمہ۔ وہ ایک پُر عزم خاتون اور تحریکِ آزادی کی فعال رُکن تھیں،۱۳؍اپریل۱۹۱۶ء ؁ کو مولانا حسرتؔ موہانی جب دوسری بار قید و بند میں محبوس ہوئے، اس وقت یہ باضابطہ سیاست میںنظر آئیں،انھوں نے انگریزی عدالتوں میں مولانا کے مقدمات کی پیروی بھی کی اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ تقریباً ہر جلسے میںشریک ہوتی رہیں۔قدرت نے خودداری اورغیرت ان کے مزاج میں اس قدر ودیعت کی تھی کہ مالی صعوبتوں سے نمٹنے کے لیے انھوں نے یہ کیا کہ شوہر جیل میں چکی چلایا کرتے اور یہ گھر میں لوگوں کا آٹا پیستیں۔انھوں نے کانگریس سبجکٹ کمیٹی کی نمائندگی کی، سودیشی تحریک میں شامل رہیں اور علی گڑھ میں خلافت تحریک کے قیام میں بھی انھوں نے تگ و دوکی۔مولانا حسرت موہانی نے اپنی آپ بیتی ’مشاہداتِ زنداں‘ میں لکھا ہے کہ ۲۳؍جون ۱۹۰۸ء کو اپنے رسالہ ’اردوئے معلی‘ میں ایک مضمون شائع کرنے پر بغاوت کے جرم میں انھیں گرفتار کر لیا گیا اور مقدمہ چلا کر دو سال قید با مشقت اور پچاس روپیے جرمانہ کی سزا سنائی گئی تو اپیل کرنے پر ان کی سزا ایک سال کر دی گئی اور جرمانے کی رقم ان کے بھائی نے ادا کردی۔ گرفتاری کے وقت ان کی شیرخوار بیٹی نعیمہ بے حد علیل تھی اور گھر ان کی زوجہ اور ایک خادمہ کے سوا اور کوئی موجود نہ تھا لیکن اس موقع پر بھی ان کی اہلیہ نشاط النساء نے بے حد حوصلے اورجرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگلے ہی روز سپرنٹنڈنٹ جیل کے ذریعے سے اپنے شوہر کو ایک خط لکھا جس میں یہ کہہ کر اپنے شوہر کا حوصلہ بڑھایا:’’تم پر جو افتاد پڑی ہے ، اسے مردانہ وار برداشت کرو، میرا یا گھر کا مطلق خیال نہ کرنا۔ خبردار! تم سے کسی قسم کی کمزوری کا اظہار نہ ہو۔‘‘

زلیخا بیگم زوجۂ مولانا آزاد
زلیخا بیگم یعنی مولانا ابو الکلام آزاد کی زوجۂ محترمہ بھی باحوصلہ خاتون تھیں، تمام مصاعب و مصائب برداشت کرنے کے باوجود اپنے شوہر کا دست و بازو بنی رہیں اور انھیں خانگی مسائل سے ہمیشہ بے فکر رکھا۔ ان حضرات کے نزدیک اپنے مشن میں تکلیفیں برداشت کرنا کتنا سہل تھا، اس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے، جو ۱۹۴۲ء میں جب مولانا کو ایک سال کی سزا ہوئی تو انھوں نے مہاتما گاندھی کو لکھا تھا، وہ لکھتی ہیں:

’’میرے شوہر کومحض ایک سال کی سزا ہوئی ہے جو ہماری امیدوں سے بہت کم ہے،اگر ملک وقوم سے محبت کے نتیجے میں یہ سزا ہے تو اس کو انصاف نہیں کہا جائے گا، یہ ان کی اہلیت کے لیے بہت کم ہے۔آج سے میں بنگال خلافت کمیٹی کا پورا کام دیکھوں گی۔۔۔‘‘
طاہرہ خاتون
 

سیما علی

لائبریرین
*گھر میں الماعون کی الماری رکھیں...* 🗳️

چند روز قبل ایک انکل جی کے گھر جاناہوا۔ میں انکے باغیچے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس دوران بیل بجی۔ ایک بچہ آیا اس نے بیلچہ مانگا، انکل نے ایک چھوٹا سا الماری نما کمرہ کھولا، جس کے دروازے پر بڑا کرکے *”الماعون“* لکھا ہوا تھا۔

بیلچہ نکالا اور دے دیا۔ ساتھ ہی ایک چھوٹی سے نوٹ بک نکالی اسمیں تاریخ، وقت لکھ کر پھر بچے کا نام اور ولدیت لکھ لی۔ کچھ دیر ہی گزری تھی پھر بیل بجی، ایک محلے دار آئے انہوں نے پانی والا پاٸپ مانگا، انکل نے کمرہ کھولا پاٸپ نکالا، دے دیا اور نوٹ بک پر اس صاحب کا نام لکھ لیا۔

میں یہ سارا منظر دیکھتارہا۔ پھر ہم ظہر کی نماز پڑھنے چلے گٸے۔ جب نماز پڑھ کر واپس آٸے تو ایک لڑکا کلہاڑی اور ”ترینگل“ لیے منتظر تھا۔ انکل نے دونوں چیزیں لیں، نوٹ بک نکالی، اس لڑکے کا نام تلاش کرکے ”وصول“ لکھا اور تاریخ ڈال دی۔
اب مجھ سے رہانہیں گیا۔ میں نے ان سے پوچھا ”آپ یہ چیزیں کرائے پر دیتے ہیں“۔ وہ مسکراٸے اور بولے”یہ سب چیزیں سارے محلے والوں کو ضرورت پڑنے پر دے دیتاہوں۔ انکا کرایہ بالکل ہے لیکن یہ کرایہ اللہ کے کھاتے میں ہے،

کیا تم نے سورہ *سورۃ الماعون* نہیں پڑھی۔ اللہ تعالیٰ کہتاہے:
*فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ*........... کہ افسوس ہے بربادی ہے ان نمازیوں کیلیے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں *وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ* .......... عام استعمال کی چیزیں مانگنے پر دوسروں کو نہیں دیتے۔ تو بیٹا! جب سے مجھے یہ آیت سمجھ آٸی ہے میں نے یہ اسٹور *”الماعون“* بنادیاہے۔
اور ساری عام استعمال کی چیزیں جیسے کلہاڑی، کدال،بیلچہ، کسی، ہتھوڑا، پاٸپ وغیرہ ساری چیزیں جو کہ پہلے سے میرے گھر موجود تھیں میں نے یہاں جمع کردی ہیں۔

اب محلے میں جس کو جو چیز چاہییئے وہ آکر لے جاتاہے، نوٹ بک پر انکا نام اورتاریخ لکھ دیتاہوں۔ جب چیز واپس آجاتی ہےتو وصولی بنا دیتاہوں۔۔“
میں خوشگوار حیرت سے انکی باتیں سن رہاتھا۔ انہوں نے چائے کاگھونٹ بھرا اور بولے” کچھ چیزیں میں نے خریدی ہیں، جبکہ بہت سی چیزیں تو محلے والے خود ہی مجھے دے گٸے کہ آپ انہیں *”الماعون“* میں رکھ لیں۔ جب ضرورت ہوگی لے جاٸیں گے، جب کسی اور کوضرورت ہوگی وہ لے جاٸیں گے“

احباب گرامی!
مجھے انکل کا یہ *”الماعون“* والا آٸیڈیا بہت پسند آیا۔ ہم بھی ہرروز ایک دوسرے سے چیزیں مانگتے ہیں لیکن اکثر ہم نہیں دیتے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ مالک کریم نے نمازیوں کو تو خاص طور سے مخاطب کرکے لین دین کرنے کا حکم دیا ہے اور نہ کرنے پر *”ویل“ یعنی جہنم کی آگ* سے ڈرایا ہے۔
چنانچہ آپس میں استعمال کی چیزیں ضرور ایک دوسرے کودینی چاہیں۔
البتہ ایک بڑی بیماری *”چیز واپس نہ کرنا“* کا علاج کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اسکا ایک فوری حل تو ”نوٹ بک“ ہے۔ تاکہ یاددہانی رہے۔ اور چیز واپس مانگ لی جائے۔
چیز مانگ کر لے جانے والے کو بھی سوچنا چاہیے۔ وقت پر واپس کردیں، ورنہ وعدہ خلافی اور دوسرے کو تکلیف میں ڈالنے کا گناہ ہوگا۔

آئیے! آج ہی ہم سب اپنے اپنے گھروں میں *"الماعون"* کی کم از کم ایک الماری اور ڈائری بناکر اس آیت کی عملی تفسیر کا آغاز کردیں۔
منقول
 

سیما علی

لائبریرین
ﻟﻮﮒ ﺗﺎﺝ ﻣﺤﻞ ﮐﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﯿﮟ

ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ
ﮐﮧ ﻋﺜﻤﺎﻧﯽ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼصلی الله عليه وسلم ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺗﻌﻤﯿﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﮐﯽ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﮬﮯ،ذﺭﺍ ﭘﮍﮬئے ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﺸﻖ
ﻧﺒﯽصلی الله عليه وسلم ﺳﮯ ﻣﻨﻮﺭ ﮐﺮﯾﮟ ۔ ﺗﺮﮐﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ
ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﺳﯿﻊ ﻋﺮﯾﺾ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮭﯿﮟ
ﻋﻤﺎﺭﺕ ﺳﺎﺯﯼ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻓﻨﻮﻥ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮬﯿﮟ، ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ
ﺩﯾﺮ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮬﺮ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﮯ ﮬﻮﮮٔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﻦ،
ﺳﻠﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺍﺳﺘﻨﺒﻮﻝ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺷﮩﺮ ﺑﺴﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ
ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻥ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﮐﻮ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ،
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﺎﺏ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮﺍ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻧﻈﯿﺮ ملنا
ﻣﺸﮑﻞ ﮬﮯ، ﺧﻠﯿﻔہ وﻗﺖ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻓﺮﻣﺎﻧﺮﻭﺍ ﺗﮭﺎ ، وہ نئے
ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮬﺮ ﺷﻌﺒﮯ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮ ﮐﻮ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺫﮬﯿﻦ ﺗﺮﯾﻦ
ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻓﻦ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮑﮭﺎﮮٔ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﯾﮑﺘﺎ ﻭ ﺑﯿﻤﺜﺎﻝ ﮐﺮ ﺩﮮ، ﺍسی
ﺍﺛﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﮎ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﺱ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ حافظ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺴﻮﺍﺭ ﺑﻨﺎﮮٔ ﮔﯽ،
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ کئی ﺳﺎﻝ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮬﺎ ، 25
ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﻮئی ﺟﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﮯ
ﺷﻌﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﺘﺎ ﮮٔ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﮬﺮ ﺷﺨﺺ حاﻓﻆ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﺎ ﻋﻤﻞ
ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ، ﯾﮧ ﻟﮓ ﺑﮭﮓ 500 ﻟﻮﮒ ﺗﮭﮯ، ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺗﺮﮐﻮﮞ ﻧﮯ
ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﯽٔ ﮐﺎﻧﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﮟ، ںئے ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮑﮍﯾﺎﮞ ﮐﭩﻮﺍئیں،
ﺗﺨﺘﮯ حاﺻﻞ ﮐﯿﮯٔ گئے ، ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺑﮩﻢ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ،
ﯾﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢصلی الله عليه وسلم ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺩﺏ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ
ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯٔ ﻣﺪیںہ منورہ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﺴﺘﯽ ﺑﺴﺎئی ﮔﯽٔ ﺗﺎ ﮐﮧ ﺷﻮﺭ
ﺳﮯ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی بارگاہ کی بے ادبی اور ﻣﺪینہ منورہ ﮐﺎ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﺧﺮﺍﺏ ﻧﮧ ﮬﻮ، ﻧﺒﯽصلی الله عليه وسلم ﮐﮯ ﺍﺩﺏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ انہیں حکم تھاﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ
ﮐﭩﮯ ﭘﺘﮭﺮ کو اپنی جگہ بٹھانے کے لئے چوٹ لگانےکی ضرورت پیش آئے تو موٹے کپڑے کو پتھر پرتہ بتہ یعنی کئی بار فولڈ کر کے رکھیں پھر لکڑی کے ہتھوڑے سے آہستہ آہستہ سے چوٹ لگائیں تاکہ آواز پیدا نہ ہو اور اگر ﺗﺮﻣﯿﻢ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ہو ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺍﺳﯽ ﺑﺴﺘﯽ
ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺟﺎئے وہاں اسے کاٹ کر درست کیا جائے، ﻣﺎﮬﺮﯾﻦ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮬﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﺎ ﻭﺿﻮ
ﺭﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺩ ﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﺗﻼﻭﺕ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﺭﮬﮯ، ﮬﺠﺮﮦ ﻣﺒﺎﺭﮎ
ﮐﯽ ﺟﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﻟﭙﯿﭧ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮔﺮﺩ ﻏﺒﺎﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﺭﻭﺿﮧ ﭘﺎﮎ
ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺟﺎﮮٔ، ﺳﺘﻮﻥ ﻟﮕﺎﮮٔ ﮔﯿﮯٔ ﮐﮧ ﺭﯾﺎﺽ ﺍلجنۃ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺿﮧ ﭘﺎﮎ ﭘﺮ
ﻣﭩﯽ ﻧﮧ ﮔﺮﮮ ، ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﭼﻠﺘﺎ ﺭﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻋﺎﻟﻢ ﮔﻮﺍﮦ ﮬﮯ
ﺍﯾﺴﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﺴﯽ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﺳﮯ ﮐﻮئی ﺗﻌﻤﯿﺮ ﻧﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﮩﻠﮯ ھوئیﺍﻭﺭ ﻧﮧ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﮔﯽ .
______________________________________
 

سیما علی

لائبریرین

ہم اور ہمارا معاشرہ​

ہمارے معاشرے کے اندر بہت سارے نظریات موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ جہاں پر بھی لفظ ”معاشرہ“ آئے گا، وہاں پر مختلف سوچیں، مختلف لوگ، مختلف نظریات ہونگے، ہمارے معاشرے کے اندر بہت ساری کمزوریوں کے ساتھ ہماری محدود اور تنگ نظر سوچ بھی ایک نقص ہے، جو ہر روز بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمیشہ منفی تنقید کے سامنے اب ہم سے اصلاح کی حِس تھم سی گئی ہے اور اسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر سوچ کو وسعت دے کر سوچنا ختم ہوگیا ہے۔
بہت دنوں سے ہمارے معاشرے کی موجودہ صورتحال پر کچھ تحریر کرنے کو دل کر رہا تھا، اس لئے سوچا کہ ایک وسیع عنوان کا انتخاب کیا جائے، جس میں معاشرے کے ہر ایک زوایئے پر اجمالی طور پر بحث کی جائے۔ معاشرے کی تعریف مختلف محققین اور دانشور حضرات نے کچھ اس طرح کی ہے: "معاشرے کو عربی زبان میں مُجۡتَمَع اور فارسی میں جامعہ کہتے ہیں، جو کہ لغوی طور پر اسم فاعل ہے۔“ لفظ مجتمع اور جامعہ ہر دو کے اصلی حروف ج-م-ع ہیں۔ جمع کے لغوی معنی جمع کرنا، اکٹھا کرنا، مہیا و فراہم کرنا اور اشیاء کا آپس میں ایک دوسرے میں ضم ہونا اور ملنا کے ہیں۔ انسانی معاشرہ انسانوں سے تشکیل پانے والے ایسے مجموعے کو کہتے ہیں، جہاں لوگ باہمی طور پر یکساں زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے میں اور زندگی کے مختلف امور کی انجام دہی میں ایک دوسرے کے محتاج ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عقائد و نظریات، مشترک آداب و عادات اور یکساں اہداف کے مالک ہوتے ہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد الٰہی ہوتا ہے: *
اِنَ اللٰہَ لَا یُغَیِرُ مَا بِقَومٍ حتیٰ یُغَیِرُوا مَا بِاَنفُسِھِم* ”
خدا کسی قوم کی حالت اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا، جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو تبدیل نہ کرے۔“ انسان سے گھر بنتا ہے اور گھر سے ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ انسان کا کردار اس کی فکر پر منحصر ہوتا ہے۔ انسان ایک معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ جب ایک شخص پیدا ہوتا ہے تو نہ وہ پیدائشی طور پر شریف ہوتا ہے اور نہ ہی مجرم بلکہ اس کے ایک اچھے انسان بننے اور مجرم بننے میں یہ معاشرہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بچہ اگر ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہو، جس جگہ کے افراد پڑھے لکھے، با شعور اور با اخلاق ہوں تو فطری طور پر وہ بچہ اچھے اخلاق کا مالک ہوگا۔ ایک اچھا انسان بنے گا، لیکن اس کے برعکس اگر ایک بچہ ایسے معاشرے میں آنکھ کھولتا ہے، جس جگہ کے لوگ بے شعور، بد اخلاق اور ان پڑھ ہوں تو یہ باتیں بچے پر منفی اثرات مرتب ضرور کریں گی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر وہ معاشرہ مختلف طرح کی برائیوں میں مبتلا ہو تو یہ سب باتیں چھوٹی چھوٹی برائیوں سے برے کاموں کی طرف لے جاتی ہیں اور ایک اچھے بھلے انسان کو مجرم بنا دیتی ہیں۔ اس لئے اکثر اوقات مختلف دانشورون نے معاشرے کو والدین کے بعد انسان کا مربی کہا ہے۔ ہمارے پاکستان کے موجودہ معاشرے کے اندر کچھ ایسی چیزیں ہیں، جو ہمارے معاشرے کے سکون کو برباد کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہم ہر لمحہ ایک مہذب قوم کی حیثیت کھو رہے ہیں۔
تنقید مگر راستہ بدلیں
تنقیدی چیزیں بیان کرنا یا اپنے اندر موجودہ چیزوں کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنا کسی بھی معاشرے کی خوبصورتی کی دلیل ہے اور تنقید کو اپنے لئے مشعل راہ بنا کر نقائص کو دور کرنا ایک زندہ معاشرہ کی دلیل ہے، مگر ہمارے معاشرے میں تنقید کرنے والے افراد بھی جو راستہ اختیار کرتے ہیں، وہ راستہ بھی بہت ہی تنگ راستہ ہوتا ہے۔ ہمارا چاہے مذہبی طبقہ ہو یا سماجی، ان سب کا تنقیدی انداز ہمیشہ جارحانہ ہوتا ہے، مثلاً آپ کسی بھی عمل کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو اس عمل میں موجود نقائص کو ختم کرنے اور اس کی جگہ جو بہتر چیز ہو، آپ اس کا تعارف کروائیں، تاکہ لوگ اس پر عمل کرکے پرانی چیزوں سے دور ہوں، مگر ہمارے یہاں بالکل ہی برعکس ہوتا ہے کہ ہم اکثر اوقات ان موجودہ پرانی چیزوں کو آتے ہی بْرا بَھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے اکثر لوگ ہمارے دشمن بن جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ہماری بہت ساری اصلاحی باتیں ہھی لوگ دشمنی کی وجہ سے سننا پسند نہین کرتے اور پھر اصلاح پسند لوگ متضاد بن جاتے ہیں۔ اس لئے ہمیں تنقید کرنی چاہیئے، مگر اصلاح کے لئے راستے کا انتخاب درست کرنا پڑے گا۔
وسیع سوچ کا ختم ہونا
ہمارے معاشرے کے اندر بہت سارے نظریات موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ جہاں پر بھی لفظ ”معاشرہ“ آئے گا، وہاں پر مختلف سوچیں، مختلف لوگ، مختلف نظریات ہونگے، ہمارے معاشرے کے اندر بہت ساری کمزوریوں کے ساتھ ہماری محدود اور تنگ نظر سوچ بھی ایک نقص ہے، جو ہر روز بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمیشہ منفی تنقید کے سامنے اب ہم سے اصلاح کی حِس تھم سی گئی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر سوچ کو وسعت دے کر سوچنا ختم ہوگیا ہے۔ آپ دیکھتے ہونگے کہ جب ہم کسی بھی چیز کے بارے میں منصوبہ بندی کرتے ہیں، اس وقت بھی یہی بات ذہن میں ہوتی ہے کہ دو سے تین سال کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اس لئے جب ہم اپنی سوچ کو وسیع نہیں کریں گے، تب تک ہم اسی بیماری میں سفر کریں گے، کیونکہ سوچ کی وسعت آپ کے اندر ہر تنقید کو برداشت کرنے کے لئے آمادگی پیدا کرے گی۔
فراخ دل اور اصلاح پسند نہ ہونا
ہمارے معاشرے کے اندر یہ عُنصر بہت پایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں اصلاح والی باتیں دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئی ہیں، اس کے اسباب اوپر بیان کی گئی دونوں چیزوں میں ہیں، منفی تنقید کے نتیجے میں انسان کے اندر تنگ سوچ پیدا ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انسان چیزوں کہ چھوٹا دیکھنا شروع کرتا ہے اور تنگ نظر ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے اندر وسعت نظری ختم ہو جاتی ہے اور وہ کبھی بھی اپنے موجودہ نظام میں بہتری کا خواہاں نہیں ہوتا اور نہ ہی اصلاح پسند بنتا ہے، یہ چیزیں آج کل ہمارے معاشرے میں بہت پائی جاتی ہیں۔ آپ دیکھیں اگر کسی بھی نظام میں چاہے وہ ہمارے معاشرے کا سماجی، مذہبی یا پھر سائنسی تعلیمی نظام ہو، اس میں آپ کو برسوں تک اس کا نصاب ہو یا پھر مدیریت کا نظام ہو، آپ کو تبدیلی نظر نہیں آئی گی، کیونکہ ہمارے معاشرے کے اندر تنقید کو اپنے لئے ایک راستہ سمجھ کر ایک اصلاح کے طور پر تسلیم ہی نہیں کرتے۔
منقول
 

سیما علی

لائبریرین
مختار مسعود بیوروکریٹ تھے اور مصنف بھی ، وہ دو ہزار سترہ میں انتقال کر گئے لیکن دو ہزار دو میں انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی اکٹھی کی جو کہ دس کروڑ روپیہ بنی اور اُسے آزاد کشمیر کی ایک فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا اور انہیں سکول بنانے کا کہا ، فاؤنڈیشن نے سکول بنا دیا اور مختار مسعود صاحب کو افتتاح کی دعوت دے دی ، مختار مسعود صاحب نے یہ دعوت تین شرائط کے ساتھ قبول کی ۔

ایک کہ افتتاح کی کوئی تقریب نہیں ہو گی ۔
دو کہ افتتاح چھٹی والے دن ہو گا ۔
تین کہ ڈونیشن کی کوئی تشہیر نہیں کی جائے گی ۔


یوں مختار مسعود صاحب ایک اتوار کو سکول کے افتتاح کے لئے چلے گئے ، وہ خالی کلاس روم میں گئے ، بلیک بورڈ پر “ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھا اور واپس آ گئے ۔
جب کسی نے مختار مسعود صاحب سے پوچھا کہ آپ نے یہ سکول کھولنے کے لئے چوکی ( گاؤں ) کا انتحاب کیوں کیا تو مختار مسعود صاحب نے جواب دیا “ میرے دادا کشمیر سے چوکی کے راستے پنجاب میں داخل ہوئے تھے ، وہ رات چوکی میں رکے تھے اور چوکی گاؤں کے لوگوں نے اُن کی بہت خدمت کی تھی ، اُن کے دادا ساری عمر چوکی کے لوگوں کی تعریف کرتے رہے اور میں اس گاؤں میں سکول بنا کر یہ احسان اتارنا چاہتا ہوں“

یہ واقعہ دو حصوں پر مشتمل ہے ، پہلا حصہ ڈونیشن ، سادگی اور تشہیر پر مشتمل ہے ، اُس بندے نے اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی ڈونیٹ کر دی اور کسی کے سامنے نام تک لینا گوارا نہیں کیا جبکہ دوسرا حصہ پہلے حصے کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے ، بڑے لوگ ایسے ہی بڑے نہیں ہوتے ، اُن کے دادا نے ایک رات گاؤں میں گزاری اور ساری عمر اُس گاؤں کی مہمان نوازی کی تعریف میں گزار دئیے جبکہ پوتے نے دادا کی وہ بات پلے باندھ لی اور ساری عمر کی جمع پونجی اُس گاؤں پہ لگا دی ۔ اللہ اللہ
آج ہم کسی غریب کو کچھ دیں بھی تو اُس کی تشہیر چاہتے ہیں ، فوٹو لگتی ہے ، بینر لگتے ہیں ، دوسروں کو واقعات سناتے اُس کا ذکر ہوتا ہے اور ایک وہ تھے کسی کو کان و کان خبر نا ہونے دی ۔
بات کردار کی ہوتی ہے جناب
ورنہ قد میں سائے بھی لمبے ہوتے ہیں۔
منقول
 

سیما علی

لائبریرین
معروف ڈراما نگار نورالہدی شاہ کی پر اثر تحریر...

پچھلی رات معافیوں کی رات کے طور پر منائی گئی۔ سب نے سب سے کھڑے کھڑے معافی مانگی اور صبح صبح ہوتے ہلکے پھلکے ہو کر سو گئے۔ سوشل میڈیا نے اسے اور بھی آسان کر دیا ہے۔ خدا کرے روزِ محشر بھی وائی فائی کام کرتا ہو اور ہم سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے یوں ہی رابطے میں ہوں۔ اتنی آسانی سے حقوق العباد کی اگر معافیاں روزِ محشر بھی ہو گئیں تو یقیناً حساب مختصر ہو جائے گا اور جلد از جلد ہم بہشت کے ائرکنڈیشنڈ ہال میں پہنچ چکے ہوں گے۔

معافیوں کی اُس گزر چکی رات میں حیدرآباد سے کراچی کا سفر کر رہی تھی۔ اسی سفر کے دوران سوشل میڈیا پر معافیوں کا لین دین پڑھتے ہوئے مجھے ایک ذاتی تجربہ یاد آ گیا۔

تقریباً چھ سال پہلے دبئی کے ہسپتال میں میری نواسی وقت سے بہت پہلے ساتویں مہینے کی ابتدا میں ہی پیدا ہو گئی۔ میرے گھر کا وہ پہلا بچہ تھی۔ شادی کے چار سال بعد میری بیٹی کے ہاں بچہ ہوا تھا مگر وہ بھی ان حالات میں کہ لگتا تھا کہ مکمل بنی بھی نہیں ہے۔ بالوں بھرا ننھا سا بندر کا بچہ جس کا پورا ہاتھ میری انگلی کی ایک پور پر آتا تھا۔

زندہ رہے گی یا نہیں؟ زندہ رہے گی تو نارمل ہوگی یا نہیں؟ ان سوالوں کا جواب ڈاکٹرز کے پاس بھی نہیں تھا سوائے اس جواب کے کہ سب اللہ کے اختیار میں ہے۔ ہر روز ڈاکٹرز بتاتے کہ بس ختم ہوا چاہتی ہے، فوراً پہنچو۔ بھاگے بھاگے پہنچتے۔ پھر کچھ سانسیں لینا شروع کرتی تو ایک امید کے ساتھ گھر لوٹتے۔ مگر اگلے دن امید پھر دم توڑ دیتی۔

کبھی بلڈپریشر ہائی اور کبھی لو۔ ہائی بھی اتنا کہ ہاتھوں پیروں کی انگلیاں نیلی پڑ جاتیں۔ پوچھنے پر بتایا جاتا کہ اگر بلڈ سرکیولیشن نارمل ہوگئی تو یہ ٹھیک ہو جائیں گی ورنہ جسم کا ناکارہ حصّہ بن جائیں گی۔ اسی طرح کبھی شوگر لیول ہائی اور کبھی لو ہو جاتا۔ وینٹ پر بے دم پڑی بچی نے ہماری سانسیں پھلا دیں۔ کبھی دماغ کا ٹیسٹ بتاتا کہ دماغی طور پر نارمل نہ ہوگی۔ کبھی دل میں سوراخ ملتا۔ کبھی آنکھوں کا معاملہ سامنے آ جاتا۔ اوپر سے خرچہ اتنا کہ تین لاکھ درہم پندرہ دن کا بل بن گیا۔ میرا حال یہ تھا کہ میرے سامنے میری اپنی بیٹی کے بھی آنسو تھے اور اس کے بچے کی ناممکن زندگی بھی۔ تھک کر چوُر ہو گئی۔ ایک بار تو ڈاکٹر کو بھی کہہ دیا کہ اس کو بچانے کی کوشش نہ کریں۔ بچ بھی گئی تو پتہ نہیں کس حال میں ہوگی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کون ہوتی ہیں زندگی چھیننے کا فیصلہ کرنے والی!

انہی حالات میں ایک دن نماز میں کھڑے ہوئے میں رو دی۔ اللہ کو بے بسی سے مخاطب کرکے کہا کہ یااللہ مجھ سے ایسا کیا گناہ ہو گیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے؟

بالکل ہی اگلے لمحے چھپاک سے ایک منظر کی تصویر اور اس میں ایک چہرہ صرف ایک سیکنڈ کے لیے میری نگاہ یا ذہن سے گزر گیا اور حیرت کی بات کہ اگلے سیکنڈ میں مجھے یاد بھی نہ رہا کہ میں نے کیا دیکھا تھا۔

پوری نماز اسی کشمکش میں گزری پر یاد ہی نہ آیا۔ اگلے دو دن، دبئی کی سڑکوں پر ہسپتال اور گھر کے بیچ آتے جاتے، رات کو بستر میں، میں اسی کشمکش سے گزرتی رہی۔ پر یاد ہی نہ آیا کہ دیکھا کیا تھا میں نے۔ اپنے جتنے بھی گناہوں اور خطاؤں کی فہرست میرے ذہن میں تھی، انہیں گنتی رہی مگر کسی سے اس منظر کا نشان نہیں مل رہا تھا۔

دو دن بعد اچانک یاد آ گیا کہ وہ کیا منظر اور چہرہ تھا۔

پندرہ برس پرانا وہ واقعہ مجھے کبھی بھی یاد نہ آیا تھا۔

میری ایک بہت ہی قریبی رشتہ دار لڑکی، شوہر اور حالات کے ہاتھوں ستائی ہوئی، دو بچوں کو ساتھ لیے چھوٹے سے ٹاؤن سے حیدرآباد شفٹ ہوئی تھی کہ اس کا تو مستقبل تاریک تھا ہی پر کسی طرح بچوں کا مستقبل سنور جائے۔ اس کے بیٹے بیٹی کو میں نے حیدرآباد کے بہت ہی اچھے اسکولوں میں داخل کروایا۔ اسے بچوں سمیت تب تک اپنے گھر میں رکھا جب تک ان کی رہائش کا بندوبست نہ ہوا۔ اسی دوران اس کی بیٹی کا نویں کلاس کا بورڈ کا امتحان بھی ہوا اور وہ بچی اے گریڈ مارکس لے کر پاس ہو گئی۔ رزلٹ کے اگلے دن وہ بچی روتی ہوئی اسکول سے لوٹی۔ پتہ چلا کہ کلاس ٹیچر مس حبیب النسا نے اسے پوری کلاس کے سامنے کہا ہے کہ تم تو اتنے نمبر لینے والی نہیں ہو۔ کس سے سفارش کروائی ہے؟ بھری کلاس میں اس بے عزتی پر وہ بچی بری طرح رو رہی تھی۔ بچی کی حالت دیکھ کر ماں بھی رو رہی تھی۔ اوپر سے بچی نے کہہ دیا کہ اب وہ اس اسکول نہیں جائے گی۔

میں ہمیشہ سے مظلوم کے حق کے لیے لڑنے مرنے پر تُل جانے والی رہی ہوں اور اس طرح کے جھگڑوں میں خدائی فوجدار کی طرح کوُد پڑنے کی عادت رہی ہے میری۔

فوراً گاڑی نکالی اور پہنچ گئی اسکول۔ حیدرآباد کے اکثر لوگ مجھے پہچانتے تھے۔ میں سیدھی پرنسپل کے آفس میں گئی اور ہنگامہ مچا دیا کہ ایک بچی اپنی محنت سے پڑھی ہے۔ ایک چھوٹے ٹاؤن سے مستقبل بنانے آئی ہے اور حالات کی وجہ سے پہلے سے ہی سہمی ہوئی ہے۔ اس کی اس طرح ٹیچر حبیب النسا نے پوری کلاس کے سامنے انسلٹ کی ہے!

میرے ہنگامے پر مس حبیب النسا کو حاضر کیا گیا۔ سادہ سی خاتون مگر چہرے پر ٹھہراؤ۔ کہنے لگیں ہاں میں نے کہا ہے، کیونکہ مجھے وہ بچی اتنی ہوشیار نہیں لگتی جتنے نمبر اس نے لیے ہیں۔ یقیناً یا سفارش کی ہے، یا کاپی کی ہے۔

مجھے پتہ تھا کہ وہ بچی بچاری سفارش کروانے کی طاقت نہیں رکھتی۔ نہ ہی اپنی سہمی ہوئی شخصیت کی وجہ سے کاپی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ رٹے مار کر اس نے امتحان دیا تھا اور اتفاق سے وہی سوال آگئے جن کے جواب اسے یاد تھے۔

میں مس حبیب النسا پر برس پڑی کہ یہ کہاں کا انصاف ہے! آپ صرف چھوٹے شہر کی بچی دیکھ کر اسے کمتر قرار دے رہی ہیں اور اس کا مستقبل برباد کر رہی ہیں۔ میری آواز یوں بھی بھاری ہے، اس میں مزید گرج آ گئی۔ مس حبیب النسا اسکول کی باقی ٹیچرز کی بھی ناپسندیدہ تھیں۔ سو ان کی کھنچائی کا تماشہ دیکھنے پرنسپل کے آفس کے باہر ٹیچرز جمع ہوگئیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ بھی خوش تھیں کہ چلو کوئی تو ہے مس حبیب النسا کو سنانے والا۔

قصہ مختصر کہ پرنسپل نے بھی انہیں کچھ سخت الفاظ کہے اور میرے ساتھ میرے گھر آ کر اس بچی کو سوری کہا۔ راستے بھر وہ بھی مس حبیب النسا سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتی آئیں۔۔۔۔۔۔ یوں یہ معاملہ تمام ہوا۔

یہ نیتاً میری ایک نیکی تھی۔ ایک مظلوم ماں اور اس کی بچی کی مدد۔

اس کے بعد کے برسوں میں اُس فیملی کے اور بھی کئی مسائل حل کرتے ہوئے اور دکھ سکھ بانٹتے ہوئے یہ واقعہ میرے ذہن سے بالکل ہی اتر گیا۔ یہاں تک کہ بعد میں جب میں خود زندگی کی ایک بہت بڑی آزمائش سے گزری اور اسی فیملی نے میرے ساتھ بُرا رویّہ رکھا تو بھی وہ بات ماضی میں اُن پر اپنے احسان کے طور پر بھی یاد نہ آئی۔ جس طرح انسان اپنے ساتھ برا کرنے والوں پر کیے گئے احسانات فطری طور پر یاد کرتا ہے۔

دبئی میں جب سسک کر نماز میں میں نے اللہ کو کہا کہ مجھ سے ایسی کیا غلطی ہوگئی ہے جس کی سزا میں مجھ پر اولاد کی تکلیف آ گئی ہے۔۔۔ جواب میں وہ حیات اسکول کی پرنسپل مس بِلو کے آفس کے اس منظر کی ایک سیکنڈ کی تصویری جھلک اور مس حبیب النسا کا چہرہ تھا۔

میں کراچی آئی۔

میری ایک کزن مس حبیب النسا کے ساتھ اسی اسکول میں پڑھاتی رہی تھیں اور وہ بھی مس حبیب النسا سے ناراض رہا کرتی تھیں، اور ان کی بیٹی سلویٰ مس حبیب النسا سے ان کے گھر پر جا کر قرآن بھی پڑھی تھی اور اسکول میں بھی پڑھی تھی۔ میں نے سلویٰ سے مس حبیب النسا کا نمبر مانگا اور اسے پوری بات بتائی۔
جواب میں اس نے کہا کہ آپ کو صحیح جواب ملا ہے۔ میں نے بچپن مس حبیب النسا کے پاس قرآن پڑھتے ہوئے گزارا ہے۔ وہ حافظِ قران ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ اور حدیث سنَد کے ساتھ پڑھی ہوئی ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے اپنے ضعیف والدین کی خدمت میں جوانی گزار دی مگر شادی نہ کی کہ والدین کو ان کی ضرورت تھی۔ اپنے آخری دنوں میں ان کے والد بہت ہی ضعیف اور مشکل ہو گئے تھے مگر وہ کبھی اس مشکل ڈیوٹی میں اُف تک نہ کہتی تھیں بلکہ والد کے پیچھے پیچھے دوڑی دوڑی پھرتی تھیں۔ ان کے غسل خانے کے کام بھی وہ اپنے ہاتھوں سے کرتی تھیں۔ مگر وہ لوگوں کو اس لیے پسند نہیں کہ منہ پر صاف صاف اور سچ بولتی ہیں۔
سلویٰ سے نمبر لے کر میں نے مس حبیب النسا کو فون کیا۔ میرا نام سن کر وہ خوش ہو گئیں۔ میں نے کہا کہ میں ایک ضروری کام کے سلسلے میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔ فوراً کہا کہ آ جائیے۔

اگلے دن صبح ہوتے ہی میں کراچی سے حیدرآباد سیدھی ان کے گھر ان کے آگے ایک ہی صوفہ پر بیٹھی تھی۔ وہ کچھ بوڑھی اور کمزور ہو چکی تھیں۔ اس بات پر خوش تھیں کہ ایک مشہور رائٹر خاص طور پر ان سے ملنے آئی ہے۔

خوش ہو کر کہنے لگیں کہ میں ریٹائر ہو چکی ہوں اور حیات اسکول چھوڑ چکی ہوں اور ایک پرائیویٹ اسکول میں پرنسپل ہوں۔ آپ کا فون آیا تو میں نے اپنی ٹیچرز کو بتایا کہ نورالہدیٰ شاہ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔ میری ٹیچرز نے کہا کہ ان کا بیوہ عورت کے حقوق سے متعلق ایک ڈرامہ چل رہا ہے۔ وہ اس موضوع پر آپ سے شرعی مشورہ کرنا چاہتی ہوں گی۔

میں نے کہا، آپ کو یاد ہے میں حیات اسکول میں آپ کی شکایت لے کر آئی تھی؟

انہوں نے لمحہ بھر سوچا، پھر انکار میں سر ہلا دیا کہ مجھے یاد نہیں۔

میں نے یاد دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ پرنسپل کے آفس میں میں بہت اونچی آواز میں سخت الفاظ کے ساتھ آپ سے لڑی تھی۔۔۔ آپ کو یاد ہے؟
ذرا سوچا، پھر انکار میں سر ہلا دیا۔

میں نے کہا کہ میں نے تقریباً آپ کی انسلٹ کی تھی، آپ کو یاد نہیں؟

کہنے لگیں کہ مجھے ایسا کچھ بھی یاد نہیں پڑتا۔

قریب ہی بیٹھے ہوئے میں نے جھک کر ان کے پیر چھو لیے اور ان کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میں نے ایسا کیا تھا اور میں آپ سے اپنے اس عمل کی معافی مانگنے آئی ہوں۔

مس حبیب النسا نے ایک دم سے معافی کے لیے جڑے میرے ہاتھوں کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔ یہ نہیں پوچھا کہ آج اتنے برسوں بعد کیسے یہ خیال آیا اور کس مجبوری نے تمہیں جھکایا ہے۔ انتہائی سنجیدگی سے کہا کہ میں نے آپ کو دل سے معاف کیا۔ اللہ میری معافی آپ کے لیے قبول فرمائے اور آپ جس بھی مشکل میں ہیں اسے آسان کرے اور آپ پر آئی ہوئی آزمائش کو معاف کرے۔۔۔

اس کے بعد انہوں نے بات بدل دی۔ بڑی دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتی رہیں۔ بڑے شوق سے مجھے کھلاتی پلاتی رہیں۔ دعاؤں کے ساتھ مجھے خدا حافظ کہا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات میں انہوں نے بات کا رُخ اس طرف آنے ہی نہیں دیا کہ میں اپنی مجبوری کی اصل کہانی انہیں سناتی۔

چند دنوں بعد میں واپس دبئی لوٹ گئی جہاں اینکیوبیٹر میں ایک ننھی سی جان میں ہماری جان پھنسی ہوئی تھی۔

میری وہ نواسی اس سال ستمبر میں چھ سال کی ہو جائے گی۔ ماشالله بہت ہی شرارتی ہے۔ بہت ہی ذہین اور باتونی۔ گھنگریالے بالوں اور بڑی بڑی آنکھوں کے ساتھ بالکل ہی گڑیا سی لگتی ہے۔ اللہ نے اسے ہر عیب سے بچا لیا۔ بس ایک ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی اوپر کی پور نیلی پڑنے کے بعد دوبارہ نارمل حالت میں نہیں آئی اور انگلی سے جھڑ گئی۔ اس ایک پور کی کمی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی تخلیق کا معاملہ کیا ہے اور کس کے ہاتھ میں ہے۔

مس حبیب النسا آج بھی حیات ہیں۔

مگر یہ تجربہ مجھے سکھا گیا کہ معافی دراصل کیا چیز ہوتی ہے اور نیکی کرنے کا تکبر انسان کو کس طرح سزا کا مستحق بناتا ہے اور یہ کہ نیکی خود ایک سوالیہ نشان ہے کہ وہ نیکی ہے بھی کہ نہیں۔۔۔ اسی لیے یہ دریا میں ڈالنے والی چیز ہے۔ اور یہ جانا کہ ہم محض اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہم رسمی معافی تلافی کرتے ہوئے پچھلی گلی سے بہشت کی طرف نکل جائیں گے۔

معافی آپ کی انا کے ٹکڑے ٹکڑے مانگتی ہے جو رب کو نہیں چاہیں، بلکہ اس انسان کے پیروں میں جا کر رکھنے ہوتے ہیں، جس کے ساتھ آپ نے زیادتی کی ہوتی ہے۔۔۔۔
 

جاسمن

لائبریرین
شادی ہال ، نکاح اور ولیمہ کی تقریب کے لیے رینٹ پہ لیے جاتے ہیں اور نکاح ایک شرعی حکم ہے مگر شادی ہال کا مالک پھر بھی پیسے مانگتا ہے

حج اور عمرہ ایک عبادت اور شرعی حکم ہے مگر ایئر لائن کمپنیز اور ٹریول ایجنٹس پھر بھی پیسے مانگتے ہیں

ختنے کروانے ایک فطری و شرعی حکم ہے مگر ڈاکٹرز پھر بھی پیسے مانگتے ہیں

قربانی ایک شرعی فریضہ ہے مگر قصائی پھر بھی پیسے مانگتا ہے

تعلیم ایک شرعی حکم ہے مگر ٹیچرز پھر بھی پیسے مانگتے ہیں

مسجد بنانا نیکی کا کام ہے مگر مستری و مزدور پھر بھی پیسے مانگتے ہیں

قرآن و حدیث کی اشاعت ایک اہم فریضہ ہے مگر پبلشرز پھر بھی قیمت مانگتے ہیں

تو نہ کسی کو ان کے تقوے پر شک ہوتا ہے نہ کوئی انہیں دنیا دار لالچی کہتا ہے نہ وہ دین فروش بنتے ہیں نہ ہی ریٹ فکس کرنے کو حرام کہا جاتا ہے

اور نماز پڑھنا
خطبہ جمعہ
عیدین
تراویح
درس و تقریر
یہ سب بھی شرعی احکام ہیں
مگر مگر مگر
جب امام، خطیب، مدرس، یا مقرر ہر طرف سےمجبور ہو کر، اپنے دل و ضمیر پر پتھر رکھتے ہوئے اپنی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کردے یا تنخواہ طے کر لے یا تنخواہ لیٹ ہونے پہ اظہارِ ناراضگی کردے
تو بس پھر

وہ دنیا دار بن جاتا ہے
دین فروش کہلواتا ہے
لالچی ہوتا ہے
تقوی سے خالی ہوتا ہے

اسلام کے شہزادو!
صرف علماء کرام اور ائمہ مساجد کے ساتھ ہی ہمارا دوہرا معیار کیوں ہے؟
حالانکہ مسجد خوبصورت ہو، مزین ہو، ہر سہولت اس میں ہو، مگر امام و خطیب نہ ہو
تو جانتے ہیں آپ!

وہ مسجد اصلاح کا مرکز نہیں بن سکتی
وہ تربیت گاہ نہیں کہلا سکتی
لوگ اس سے دین نہیں سیکھ سکتے
امام کے بغیر مسجد میں بھی پڑھی ہوئی نماز ایک ہی شمار کی جائے گی
مگر مسجد کچی ہو یا کجھور کے پتوں سے بنی ہو مگر امام وخطیب موجود ہو تو
*`امام کے ساتھ پڑھی ہوئی ایک نماز، 27 نمازوں کے برابر اجر دلواتی ہے`*
*وہ تربیت گاہ بھی بن جاتی ہے*
*دین کا مرکز بھی کہلواتی ہے*
*اور اسلامی تعلیمات کا سر چشمہ ہوتی ہے*
لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کا نظریہ ہے مسجد میں ٹائل لگوانا اے سی لگوانا ایسا صدقہ جاریہ ہے جو مسجد کے امام و خطیب پر خرچ کرنے سے افضل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
تو جناب عالی یہی سوچ ہے جس نے آج اسلام کا نام بدنام کر رکھا ہے
👈اس لیے اپنے علماء کرام اور ائمہ مساجد کی قدر کریں
انکی ضروریات کا پورا پورا خیال رکھیں...
*زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ لوگوں کی اصلاح ہو جائے، جزاك اللہُ خیراً*
بشکریہ
سید سعید الرحمن
 

سیما علی

لائبریرین
قلمی دوستی:

ایک زمانہ تھا جب سوشل میڈیا کا بےلگام گھوڑا ابھی سرپٹ دوڑنا شروع نہیں ھوا تھا۔ افراد کے پاس وقت کے ضیاع کیلیے یو ٹیوب، ٹک ٹاک، لائیکی جیسی چیزیں نہیں پہنچی تھیں، انجان لوگوں سے دوستی اور گپ شپیوں کیلیے انٹرنیٹ، آئی ایم او، وٹس ایپ، میسنجر، اسکائیپ وغیرہ کی ایجاد نہیں ھوئی تھی۔۔۔

تب انسان اپنی شخصیت کے خول سے باہر آنے اور معاشرے کے دوسرے افراد کے ساتھ زہنی ھم آہنگی، رابطہ کاری، معلومات کے حصول اور اظہار خیال کیلیے قلم کا سہارا لیتا تھا۔ عزیز و اقارب کے ساتھ ان کی خیریت جاننے کیلیے خط و کتابت اپنی جگہ وقت کی اھم ترین حیثیت رکھتی تھی۔۔۔

لیکن ایک اور بہت ہی دلچسپ عنصر تھا ڈائجسٹس اور رسالے وغیرہ کے زریعے ھم خیال لوگوں سے دوستی کیلیے خود کو (کبھی کبھار بمع ایک عدد پاسپورڑ سائز تصویر) پیش کرتے، ڈائجسٹ یا رسالے کا مطالعہ کرنے والے لوگ جن کو پیش کردہ افراد کی شخصیت سے کوئی دلچسپی معلوم ھوتی وہ پھر اس انسان سے خط کے ذریعے رابطہ کرتے۔۔۔

یوں یہ سلسلہِ خطوط بڑھتے بڑھتے ایک ان دیکھی دوستی کی شکل اختیار کر لیتا. کسی انجان مگر ھم خیال فرد سے یہ دوستی جو ملاقات کیلیے کاغذ اور قلم کی محتاج ھوتی اس کو قلمی دوستی کہا جاتا ھے۔ قلمی دوست ایک دوسرے کے ساتھ دینی، اخلاقی، ادبی، مزاحیہ، شعر و شاعری وغیرہ جیسے تمام باھمی دلچسپی کے موضوعات پر گپ شپ کرتے۔۔۔

یہاں تک کہ اس زمانے میں لوگ ہر وہ موضوع زیر بحث لاتے جو وہ عموماً کسی انسان کے روبرو نہیں بھی کر سکتے تھے۔ یوں ان کے دل و دماغ کا ایک غبار سا ہلکا ھو جاتا. کئی قلمی دوست تو خط و کتابت کے دوران اس حد تک ایک دوسرے کی شخصیت سے مانوس اور عادی ھو جاتے کہ دیوانگی کی حد تک ایک دوسرے کے خط کا انتظار کرتے۔۔۔

اگر یہ قلمی دوستی دو الگ جنسوں کے درمیان ھوتی تو بسا اوقات یہ قلمی دوستی ایک نہ ختم ھونے والی ایسی دلی کیفیت کی شکل بھی اختیار کر لیتی کہ جس کو محبت یا عشق بھی کہا جاتا ھے۔ اور اس بےلوث اور بے انتہا محبت کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا کہ کب تک کسی ایک فرد کی روح قفس عنصری سے پرواز نہ کر جاتی۔۔۔

یا دوسری صورت میں قلمی دوستی کے زریعے جنم لینے والی محبت کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا جب تک کہ کسی ایک فرد کا خط اس کے بڑے نہ پڑھ لیتے. اگر خط گھر کے کسی بڑے کے ہاتھ لگ جاتا تب پھر محبت کا وہ بھوت بھی کسی حد تک اتر جاتا۔ اور فرد مارے شرم کے پانی پانی ھو جاتا۔ اور اپنی اس غلطی کی پشیمانی زندگی بھر اپنی زات پر طاری رکھتا۔۔۔

وہ زمانے شرم و حیا کے زمانے تھے، کچھ انسانی اخلاقی اقدار کا پاس بھی تھا. کوئی ڈاکیا کسی کے خط غائب نہیں کرتا تھا، نہ کوئی کسی کا خط کھول کر پڑھتا تھا۔ افراد ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی اپنے من چوھے قلمی دوست سے کاغذ قلم کے زریرے ملاقات کر لیتا تھا۔ کبھی جب ایک دوسرے کو دیکھنے کی کسک بڑھ جاتی تو تصاویر کا تبادلہ بھی ھو جاتا۔ لیکن کبھی کوئی فرد کسی حوا کی بیٹی کو ان تصاویر کے بل پر بلیک میل نہ کرتا بلکہ سچے اور سادے زمانے تھے بس جذبات کے الفاظ کی حد تک رابطے تھے۔۔۔

بہت سے اخبارات و رسائل میں دیے گئے اشتہارات کے زریعے جو لوگ کسی قلمی دوست کی تلاش میں ھوتے وہ اپنی تصویر اپنے ضروری تعارف اور اپنا ایڈریس بھی لکھتے، کبھی کبھار تو کسی جیل کا ایڈریس بھی لکھا ھوا نظر سے گزرتا۔ تو جناب جان لیجیے کہ اس زمانے میں جیل کے قیدی بھی اس قلمی دوستی کے زریعے باہر کی دنیا سے رابطے میں ھوتے اور اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کرتے تھے۔۔۔

یقین کیجیے بالی ووڈ کی فلم "صرف تم" تو شاید 1996 میں ریلیز ھوئی لیکن عملی طور پر بغیر دیکھے اور بغیر ملاقات کیے ہزاروں لوگ قلمی دوستی کے اس انداز کو اختیار کرتے اور ان دیکھی محبت کے میٹھے جذبات کی دھن میں اپنے دن رات گزارتے تھے۔ اس کے علاوہ اپنی زندگی کے تلخ و شیریں تجربات شیئر کیے جاتے اور ایک دوسرے کو مسائل کے حل کیلیے مفید مشورے دیے جاتے۔ اسکے علاوہ اور بہت کچھ جو آج کے زمانے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے دنیا ترقی کر گئی، اور ترقی کے نام پر تمام سچے جذبات ، سچی دوستیاں، محبت و الفت سب کچھ یہ ترقی یافتہ دنیا کھا گئی۔ دنیا میں قدم قدم پر دھوکہ دہی، مکّاری، ایک ایک فرد کے کئی کئی چہرے اور چلتے پھرتے جھوٹ، فراڈ، نفرت، بغض، بلیک میلنگ، اخلاق و کردار کی گندگی ہر طرف پھیل گئی۔ اسی لیے آج لفظ دوستی، محبت اور دیانتداری کا مشورہ سب کچھ ناپید ھو چکا ھے۔۔۔

تو جناب یہ تھی "قلمی دوستی" جو کسی زمانے میں مروّج تھی، غالباً اسّی اور نوّے کی دہائی میں قلمی دوستی کا رجحان عروج پر تھا۔ جذبات سچے، محبتیں سچی، رابطے سچے سب کچھ سچا تھا۔ ظاہری آنکھوں سے نہ دیکھ کر بھی دل سے محبت و خلوص کسی کیلیے دل میں پیدا ھوتا تھا۔ آج سامنے دیکھ کر بھی اگر کوئی چیز ھمارے دلوں میں جاگتی ھے تو وہ ھے نفرت، بغض اور حسد۔ افسوس صد افسوس۔۔۔
منقول
 

وجی

لائبریرین

ہماری گاڑھی اُردو پر گاڑھا وقت

احمد حاطب صدیقی

حقی خاندان کی ایک دھان پان حق گو خاتون نے بڑا ہلکا پھلکا دلچسپ تبصرہ ہمارے کالموں پر کیا ہے۔ اس تبصرے سے معلوم ہوا کہ ہماری اُردو ’گاڑھی اُردو‘ ہے۔ گاڑھی اُردو والا گاڑھا فقرہ پڑھ کر ہمیں وہ قصہ پھر یاد آگیا جو پہلے بھی ہم کسی کالم میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔ آج مختصراً پڑھ لیجے۔ لکھنؤ کے ایک صاحب جنھیں گاڑھی اُردو بولنے کا شوق ہم سے زیادہ تھا، ایک روز شیرہ خریدنے کے شوق میں حلوائی کی دُکان پر جاپہنچے، وہاں پہنچ کر اُنھوں نے حلق کی گہرائی سے گاڑھی اُردو کاڑھی اور حلوائی سے پوچھا: ’’کیوں میاں ’شعیرہ‘ ہے؟‘‘

سوال سنتے ہی حاضر جواب حلوائی نے ہاتھ جوڑ دیے، بولا: ’’حضور! ہے تو سہی، مگر اتنا گاڑھا نہیں ہے‘‘۔

ہماری اُردو کو گاڑھی اُردو قرار دینے سے قبل عزیزہ فائزہ رضا حقی نے عزیزم وسیم بادامی کی طرح ایک ’معصومانہ سوال‘ بھی کیا:

’’کیا آپ عام اُردو زبان میں نہیں لکھ سکتے؟‘‘

نہ جانے ’’عام اُردو زبان‘‘ سے اُن کی کیا مراد ہے؟ اگر اُن کی مراد وہ اُردو زبان ہے جو عام طورپر سماجی ذرائع ابلاغ پر لکھی اور برقی ذرائع ابلاغ پر بولی جارہی ہے تو ہم معذرت چاہتے ہیں۔ ’گاڑھی اُردو‘ لکھ لکھ کر ایسی ’عام اُردو زبان‘ لکھنے کی صلاحیت ہم کھو بیٹھے ہیں۔

دنیا کی ہر ترقی یافتہ زبان کی کم از کم دو بڑی اقسام ضرور پائی جاتی ہیں۔ ایک بے سوچے سمجھے، محض دوسروں کی نقالی میں یا ’جو منہ میں آئے وہی بول دیا جائے‘ والی عام اور عامیانہ زبان، جسے اُردو میں ’’بازاری زبان‘‘کہا جاتا ہے اور انگریزی میں’Slang’ یا ‘Slanguage’۔ یہ زبان گلی کوچوں اور بازاروں میں بولی جاتی ہے۔ دوسری خوب سوچ کر، خوب سمجھ کر اور اچھی طرح تول کربولی یا لکھی جانے والی زبان، جس کو مزید کئی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، مثلاً ادبی زبان، علمی زبان، خطیبانہ زبان، تدریسی زبان اور تحقیق کی زبان وغیرہ وغیرہ۔ ایسی مُرصّع زبان ہمیں مضامین میں، کتابوں میں، ادبی شہ پاروں میں اور دل پر اثر کرجانے والے خطبوں میں ملتی ہے۔ اِن دونوں قسم کی زبانوں کی ساخت میں وہی فرق ہوتا ہے جو لوہار کے ڈھالے ہوئے لٹھ میں اور سُنار کے تراشے ہوئے زیور میں ہوتا ہے۔


زبان وہی اچھی لگتی ہے جو کانوں کو بھلی معلوم ہو۔ سن کریا پڑھ کر طبیعت میں فرحت پیدا ہو۔ کوئی لفظ سماعت پر گراں نہ گزرے۔ الفاظ بھاری بھرکم، نامانوس، عجیب اور اجنبی نہ ہوں۔ سنتے یا پڑھتے وقت ذہن پر بوجھ نہ محسوس ہوتا ہو۔ اندازِ بیان میں اُلجھاؤ یا پیچیدگی نہ پائی جائے۔ جملے طویل نہ ہوں۔ چھوٹے چھوٹے فقروں میں پوری بات کہہ دی جائے۔ ایسا نہ ہو جیسا آج کل ہورہا ہے۔ بولی اور لکھی جانے والی زبان میں ہر نامانوس انگریزی اصطلاح کو جوں کا توں جھونک دیا جاتا ہے۔ یہ اُردو کے مزاج سے ناواقفیت اور جہالت کا ثمرہ ہے۔ اُردو صرف اُن الفاظ کو جوں کا توں قبول کرتی ہے جن کا ترنم اُردو کے ترنم سے ہم آہنگ ہو۔ ’نل، بٹن، جج اور جُون‘ جیسے بہت سے الفاظ کو جوں کا توں قبول کرلیا گیا۔ لیکن ’بوتل، پتلون، پلاس اور فروری‘ جیسے متعدد الفاظ کو پہلے اُردو کے ترنم کا تاج پہنایا گیا، پھر انھیں ایوانِ اُردو میں داخلے کی اجازت ملی۔ اجازت کون دیتا ہے؟ بہت دن نہیں گزرے، بس چند ہی برس پہلے کی بات ہے کہ الفاظ کے انتخاب میں ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر ابواللیث صدیقی، جناب شان الحق حقی اور میجر آفتاب حسن جیسے ماہرینِ لسان ہماری رہنمائی کیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر رؤف احمد پاریکھ اور محترم مفتی منیب الرحمن تو اب بھی کررہے ہیں۔ مگر بقولِ غالبؔ:

ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوۂ اہلِ نظر گئی


لہٰذا اب جس کے جی میں آتا ہے، آکر اُردو نشریات کو “Level playing field” کی اصطلاح دے جاتا ہے۔ کرے گا کوئی نہ اپنی زباںکو یوں برباد۔ اگر ہماری اُردو نشریات کے ماہرینِ ابلاغیات، فقط چند ثانیوں کا فون کرکے کسی ’اہل الذکر‘ سے پوچھ لیا کریں کہ ’یہ مفہوم اُردو زبان میںکیسے ادا کیا جائے گا؟‘ تو اُن کی ابلاغی مہارت کی شان گھٹ نہیں جائے گی،کچھ اضافہ ہی ہوگا۔


پہلے ورقی اور برقی ذرائع ابلاغ طلبہ و طالبات ہی کی نہیں، عوام کی بھی علمی اور لسانی سطح بلند کرنے کا بہترین ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔ اساتذۂ کرام اچھی زبان لکھنے اور اچھی زبان بولنے کا طریقہ سیکھنے کے لیے ہم کو سکھایا کرتے تھے کہ اخبار پڑھا کرو، ریڈیو سنا کرو اور ٹیلی وژن پر ’’کسوٹی‘‘ نامی نشریے میں قریش پور اور عبیداللہ بیگ کی طرزِ گفتگو ملاحظہ کیا کرو، نیز ضیا محی الدین کے تلفظ اور لب و لہجے کی نقل بھی کیا کرو۔ مگر اب یہی ذرائع ابلاغ ہمارے طلبہ و طالبات اور عوام کا علمی و لسانی معیار پست سے پست تر کردینے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔

ہمارے ذرائع ابلاغ کو اس حقیقت کی طرف بھی نظر کرنے کی ضرورت ہے کہ اُردو اس وقت نہ صرف برصغیر میں لکھی، بولی اور سمجھی جارہی ہے، بلکہ خلیجی ممالک اورشرقِ اوسط میں بھی اس کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ حرمین میں ہمیں جا بجا اُردو کی تختیاں نظر آتی ہیں۔ یورپ اور امریکا کے مختلف ممالک سے اُردو میں کتب و جرائد شائع ہورہے ہیں۔ جاپان سے لے کر کینیڈا تک متعدد جامعات میں اُردو پڑھائی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سرکاری زبانوں میں اُردو بھی شامل ہے۔ اُردو کی وسعت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر لکھنے کے لیے اُردو کی تختیاںجابجا میسر ہیں، اپنے فون میں برقی بازار سے مفت اُتار لیجے۔ کسی بھی موضوع سے متعلق اُردو مواد کی ’تلاش‘ کا کام آپ ’گُوگل‘ پر بہ آسانی کرسکتے ہیں۔ کسی تقریبِ ملاقات میں اپنے تمام احباب کو بیک خط مدعو کرنے کے لیے اُنھیں اُن کے برقی پتے پراُردو میں دعوت نامہ بصورتِ ’برق نامہ‘ بھیج سکتے ہیں۔ ہر اُردو تحریر بہ آسانی ’ترسیلی دستاویز‘ (PDF) میں تبدیل کی جا سکتی ہے۔

ہمارے ذرائع ابلاغ کو یہ بات بھی یاد رہے کہ دنیا بھر میں پاکستان واحد ملک ہے جس کے آئین کی رُو سے اُردو ہماری قومی زبان ہے اور سرکاری زبان ’’ہوگی‘‘۔ لہٰذا یہ ہمارا حق بھی ہے اور ہمارا فرض بھی کہ ہم اپنی قومی زبان کو ہر طرح سے فروغ دیں۔ بلکہ بابائے اُردو مولوی عبدالحق تو اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک بات کہتے ہیں۔ وہ اپنے ’’خطبات‘‘ [شائع کردہ انجمن ترقی اُردو] میں فرماتے ہیں: ’’اگر بنظرِ غور دیکھیں تو عربی، فارسی اور ترکی زبانیں اُن لوگوں کی تھیں جنھوں نے ابتدا میں اسلام کی مخالفت کی اور یہ ان کے قبولِ اسلام سے پہلے موجود تھیں۔ اُن سب زبانوں میں جو مسلمانوں سے منسوب کی جاتی ہیں صرف اُردو ہی ایسی زبان ہے جو مسلمانوں کی بدولت وجود میں آئی۔ اس لیے ہماری توجہ اور ہمدردی کی بہت زیادہ مستحق ہے اور اس کی ترقی اور اشاعت ہمارا فرض ہے‘‘۔ (ص: 425،مطبوعہ:1946ء)

بات گاڑھی اُردو اور گاڑھے شیرے سے شروع ہوئی تھی۔ بات سے بات نکلی تو اُس گاڑھے وقت کی بات ہونے لگی جو ورقی، برقی اور سماجی ذرائع ابلاغ کی بدولت ہماری گاڑھی اُردو پر آن پڑا ہے۔ ’گاڑھ‘ مصیبت، مشکل اور دشواری کو کہتے ہیں۔ ’گاڑھ پڑنا‘ مشکل پیش آنا یا مصیبت پڑنا ہے۔ مشکل اور مصیبت کے وقت کو ’گاڑھا وقت‘ کہتے ہیں۔ ویسے’گاڑھا‘ یا ’گاڑھی‘کا مطلب ہے کثیف، موٹا، گھنا اور غلیظ۔ ’غلیظ‘ کا مطلب بھی ’گاڑھا‘ ہے، پَتلے پَتلی کی ضد۔ اسی وجہ سے کھدر کے کپڑے کو بھی، جو موٹا ہوتا ہے’گاڑھا‘ کہا جاتا ہے۔ کھدر کا پردہ ڈال لیا جائے تو ’گاڑھا پردہ‘ ہوجاتا ہے۔ بناوٹ سے کیے جانے والے پردے کو بھی طنزاً گاڑھا پردہ کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ قدرؔ نے کہا:

خوب نو پردوں میں افلاک کے رہنا سیکھا
سامنے آئیے، اللہ رے گاڑھا پردہ


’گاڑھی چھننا‘ یوں تو بھنگ کو خوب گاڑھا چھاننے کو کہتے ہیں، مگر اس سے مراد آپس میں حد درجہ میل محبت اور گہری دوستی لی جاتی ہے۔ نشے بازوں میں بھی خوب ’گاڑھی چھنتی‘ ہے۔ ’گاڑھی کمائی‘ بہت محنت اور مشقت سے حاصل کیے ہوئے پیسے کو کہتے ہیں جو ’گاڑھے پسینے‘ سے حاصل ہوتا ہے۔ حاصلِ کلام یہ کہ صاحبو! گاڑھی اُردو لکھنا آسان کام نہیں، بہت گاڑھا کام ہے۔

مضمون کا لنک
 

سیما علی

لائبریرین
گاڑھی چھننا‘ یوں تو بھنگ کو خوب گاڑھا چھاننے کو کہتے ہیں، مگر اس سے مراد آپس میں حد درجہ میل محبت اور گہری دوستی لی جاتی ہے۔ نشے بازوں میں بھی خوب ’گاڑھی چھنتی‘ ہے۔ ’گاڑھی کمائی‘ بہت محنت اور مشقت سے حاصل کیے ہوئے پیسے کو کہتے ہیں جو ’گاڑھے پسینے‘ سے حاصل ہوتا ہے۔ حاصلِ کلام یہ کہ صاحبو! گاڑھی اُردو لکھنا آسان کام نہیں، بہت گاڑھا کام ہے۔
بہت ہی عمدہ مضمون
میکائیل کو اسکول سے لانے کے بعد سکون سے دوبارہ پڑھیں گے۔۔
 

جاسمن

لائبریرین
کروڑوں کی بوگس تحقیق

ڈاکٹر عتیق الرحمن

آزاد کشمیر یونیورسٹی

آئیے آپ کو وطن عزیز سے متعلق حال ہی میں زیر گردش چند مقبول عام تحقیقی نمونوں سے آگاہ کروں

1. ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 26 ملین بچے سکول سے باہر ہیں۔

2. ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 35 برس سے زیادہ عمر کی ایک کروڑ سے زیادہ خواتین شادی کے انتظار میں بیٹھی ہیں

3. ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں بھکاریوں کی تعداد تین کروڑ اسی لاکھ ہے جن میں سے 50 فیصد صرف کراچی میں ہیں۔

اس طرح کی متعدد تحقیقی رپورٹس آپ نے سوشل میڈیا پر دیکھی ہوں گی۔ جب کبھی اس قسم کی کوئی تحقیقات وائرل ہوتی ہے تو پھر کئی دن تک ہر سوشل میڈیا گروپ کی زینت بنی رہتی ہے۔ مندرجہ بالا تحقیقات میں سے پہلی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹ پر مبنی ہے ، دوسری حال ہی میں جیو نیوز کی ویب سائٹ سے وائرل ہونا شروع ہوئی اور جیو نیوز اس رپورٹ کو دل کا رشتہ نامی ایپ کی پبلسٹی کے لئے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں۔ جب کہ تیسری تحقیق کا قابل اعتبار زریعہ معلوم نہیں ہو سکا ، تاہم یہ رپورٹ سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے شیئر کی۔

آئیے اس قسم کی مقبول تحقیقات کی معقولیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ پہلے میں تیسری تحقیق کے تجزیہ سے آغاز کرتا ہوں، جس کے مطابق پاکستان میں بھکاریوں کی تعداد تین کروڑ 80 لاکھ ہے اور ان میں سے 50 فیصد کراچی میں ہیں۔ یعنی اس تحقیق کی رو سے کراچی میں بھکاریوں کی تعداد ایک کروڑ 90 لاکھ ہے۔ سال 2023 کی مردم شُماری کے مطابق کراچی کی کل آبادی دو کروڑ 5 لاکھ ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق 5 سال سے کم عمر بچوں کا تناسب 10 فیصد سے زیادہ ہے ،چنانچہ کراچی کی دو کروڑ 5 لاکھ آبادی میں سے کم از کم 20 لاکھ وہ بچے ہوں گے جن کی عمر 5 سال سے کم ہے اور باقی آبادی بھکاریوں کی مفروضہ تعداد یعنی ایک کروڑ 90 لاکھ سے کم بنتی ہے۔ تو کیا یہ سمجھنا کسی بھی طرح معقول ہو سکتا ہے کہ کراچی کی تمام کی تمام آبادی بھکاری ہے؟ اسی سے متذکرہ بالاتحقیق کی صداقت کا اندازہ لگگا لیجئے۔ اسی "تحقیق" کے مطابق کراچی کے علاوہ پاکستان کی باقی 22 کروڑ آبادی میں ایک کروڑ 90 لاکھ بھکاری ہیں، یعنی تقریبا 4 فیصد۔ اگر یہ درست ہو تو ہر تیسرے گھر میں ایک پیشہ ور بھکاری موجود ہو گا، اور میرے خیال میں یہ تناسب بھکااریوں کی حقیقی تعداد سے کم از کم 5 گنا زیادہ ہے۔

اب آتے ہیں دوسری تحقیق کی طرف جس کے مطابق پاکستان میں 35 برس سے زائد عمر کی 1 کروڑ خواتین شادی کے انتظار میں ہیں۔ پاکستان ڈیموگرافک سروے 2020 کے مطابق پاکستان میں 35 برس سے زائد عمر کی خواتین کی کل تعداد3 کروڑ13 لاکھ ہے اور ان میں 2 کروڑ 51 لاکھ خواتین شادی شدہ ہیں، جبکہ 55 لاکھ خواتین بیوہ یا طلاق یافتہ ہیں۔ بیوہ خواتین میں سے 33 لاکھ کی عمر60 سال یا اس سے زیادہ ہے۔35 سال سے زائد عمر کی وہ خواتین جن کی کبھی شادی نہیں ہوئی، ان کی تعداد6 لاکھ 7 ہزار کے لگ بھگ ہے، جو کل خواتین کی تعداد کا محض 2 فیصد ہیں۔ کل 61 لاکھ غیر شادی شدہ خواتین میں سے 41 لاکھ خواتین ایسی ہیں جو پیرانہ سالی کے سبب شادی کی خواہشمند نہیں۔ اس طرح شادی کے انتظار میں بیٹھی خواتین کی تعداد متذکرہ بالا تحقیق کے 25 فیصد سے بھی کم ہے۔

تیسری تحقیق جس میں سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد 26 ملین بتائی گئی ہے ، یہ تعلیم سے متعلقہ ایک معتبر سمجھے جانے والے ادارے کی تحقیق ہے اور اس تحقیق میں انہیں کچھ بیرون ملکی اداروں کا تعاون بھی حاصل رہا۔ اس سے قبل الف اعلان نامی غیر سرکاری تنظیم کے اعدادوشمار کے نتائج بھی اسی قسم کے رہے ہیں۔ اس لئے اس تحقیق کو مسترد کرنا آسان نہیں۔ ، لیکن چند حقائق ایسے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ متذکرہ رپورٹ میں سکول سے باہر بچوں کا تناسب محض ظن و تخمین پر مبنی اور حقائق کے برعکس ہے۔

پاکستان میں بچوں میں 5 سے 17 سال کی عمر کو سکول کی عمر شمار کیا جاتا ہے۔ اس عمر میں بچے جماعت اول سے بارھویں تک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ 2017 کی مردم شُماری کے مطابق پاکستان میں 0 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کی تعداد 70 ملین تھی اور یہ بچے سکول کی عمر کے بچے شمار ہوتے ہیں۔ یہ بچے 2022 میں 5 سے 17 تک کی عمر کو پہنچ چکے ہوں گے۔ مذکورہ بالا رپوٹ کے مطابق پاکستان میں سکول میں داخل بچوں کی کل تعداد 55 ملین ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ 15 ملین بچے سکول سے باہر ہو سکتے ہیں، جبکہ رپورٹ کے مطابق سکول سے باہر بچوں کی تعداد 26 ملین ہے۔ یہ تضاد رپورٹ کے کھوکھلے پن کی واضح دلیل ہے۔

اگر پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد 26 ملین تصور کی جائے تو سکول سے باہر بچوں کا تناسب 37 فیصد ہو گا جبکہ اگر سکول سے باہر بچوں کی تعداد 15 ملین تصور کی جائے تو یہ تناسب 21 فیصد قرار پائے گا اور یہ فرق تعلیم کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی رینکنگ میں 40 درجے کا فرق لا سکتا ہے۔

آج کے دور میں اگر کسی ملک میں37 فیصد بچے سکول سے باہر ہوں تو قوموں کی برادری میں اس ملک کا کیا امیج بنے گا ؟ اور تعجب خیز بات یہ کہ پاکستان کی یہ غلط ترین تصویر پاکستان کے ایک معتبر سمجھے جانے والے ادارے کی نام نہاد تحقیق پر مبنی ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان میں 37 فیصد بچے سکول سے باہر ہوں ؟ تصور کیجئے، پاکستان کے چند بڑے شہر ایسے ہیں جہاں 5 فیصد بچے بھی سکول سے باہر نہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں شرح خواندگی 90 فیصد سے زیادہ ہے اور ان کی نئی جنریشن میں تعلیم یافتہ نہ ہونے کا تصور ہی موجود نہیں۔ فرض کیجئے ان شہروں میں 10 فیصد بچے تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ختم کر دیتے ہیں ، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بقیہ شہروں میں آؤٹ آف سکول بچوں کا تناسب اور بھی زیادہ ہونا چاہئے۔ آج کون سا گاؤں ہے جہاں 50 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں؟ میرا تعلق ایک دور دراز گاؤں سے ہے، لیکن میرے گاؤں میں کوئی بچہ سکول سے باہر نہیں۔ تو یہ آخر کس دنیا کی بات ہو رہی ہے ؟

اسی قسم کی ایک تحقیق چند سال قبل ایک مقبول ترین سیاستدان نے ایک جلسہ عام میں بیان فرمائی۔ فرمایا کہ وطن عزیز میں ہر 20 سیکنڈ میں ایک خاتون زچگی کے دوران موت کا شکار ہو جاتی ہے۔ اگر 20 سیکنڈ والی خبر درست ہو تو سال بھر میں کل پندرہ لاکھ خواتین دوران زچگی راہی ملک عدم ہو جائیں گی، لیکن پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کل سالانہ اموات کی تعدداد 12 لاکھ ہے جس میں بچے، جوان اور بوڑھے ، عورت اور مرد شامل ہیں۔ ایسے میں پندرہ لاکھ خواتین کی اموات کو کیسے درست مانا جا سکتا ہے؟


بظاہر ملک وقوم کی ہمدردی میں وائرل کی جانے والی یہ تحریرات رفتہ رفتہ ہمارے ذہنوں میں وطن کی تصویر کو مزید پراگندہ کرنے کا کام کرتی ہیں اور اب نوبت یہاں تک آ چکی ہے کہ کوئی بھی غلط ترین خبر پاکستان سے منسوب کر کے نشر کی جانے تو ہم فورا اس کے صداقت پر ایمان لے آتے ہیں۔ اگر آج ایک تحریر وائرل کر دی جائے کہ پاکستان میں 2.5 کروڑ لوگ اندھے اور 3کروڑ لوگ معذور ہیں تو بہت سارے لوگوں نے کسی تامل کے بغیر تسلیم کر کے شیئر کرنا شروع کر دینا ہے۔

تصور کیجئے، جب ہماری اپنی زہن سازی ایسی ہو چکی ہے کہ ہم ملک کے بارے میں ہر منفی خبر سننے پر رضامند ہیں تو کسی دوسرے کو ایسی خبریں تسلیم کرنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے ؟ ذرا یہ تصور کیجئے، کسی سرمایہ کار کے زہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ کراچی میں بھکاریوں کی تعداد 80 فیصد یا اس سے زائد ہے تو کون سا سرمایہ کار کراچی میں سرمایہ کاری کرنا چاہے گا؟ جس ملک میں معتبر سمجھا جانے والا ایک ادارہ 37 فیصد بچوں کو سکول سے باہر قرار دے، اس کا عالمی برادری میں کیا امیج اور کیا رینک ہو گا؟

آپ کو یاد ہو گا کہ ہمارے ایک وزیر ہوابازی نے شوشہ اڑایا کہ 80 فیصد پاکستانی پائلٹس کے پاس ڈگری نہیں۔ اس وجہ سے یورپی ممالک میں پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگ گئی۔ اس پابندی کی وجہ کسی پائلٹ کی نالائقی کا ثبوت نہیں تھا، بلکہ صرف امیج کا مسئلہ تھا اور وزیر ہوابازی نے امیج خراب کر دیا۔ یہ طاقت ہوتی ہے امیج بلڈنگ کی!

ملک و قوم کے بارے میں ہم جو کچھ مذاق مذاق میں شیئر کرتے ہیں، یہ بین الاقوامی سطح پر ہماری تصویر سازی کرتا ہے۔ برائے مہربانی ملک کی بری تصویر سازی میں شرکت نہ کریں، اور بالخصوص ان واہیات باتوں کے ساتھ جن کا معقولیت اور حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
 

سیما علی

لائبریرین
انسان ،کتا اور چیتا۔۔

The Dog

جس نے اپنے قبیلے کے دیگر رشتےداروں بھیڑیوں ،چیتوں کو چھوڑ کر انسانوں کے ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا۔۔۔

اک دن چیتے نے کتے سے پوچھا: تم نے انسانوں کو کیسا پایا؟

کتے نے جواب دیا: جب وہ کسی کو حقیر سمجھتے ہیں تو اسے کتا ،یا کتے کا بچہ کہتے ہیں۔۔

چیتا: کیا تم نے ان کے بچوں کو کھایا؟
کتا: نہیں

چیتا: کیا تم نے انہیں اپنی وفاداری میں دھوکہ دیا؟
کتا: نہیں

چیتا: کیا تم نے ان کے مویشی مارے؟؟
کتا: نہیں

چیتا: کیا تم نے ان کا خون پیا؟؟
کتا: نہیں

چیتا: کیا تم نے ان کو اور انکے مال مویشیوں کو میرے اور بھڑیوں کے حملوں سے بچایا؟؟
کتا: ہاں

چیتا: تو انسان بہادر اور ہوشیار کو کیا کہتے ہیں؟

کتا: وہ اسے شیر، چیتا ،ٹاہیگر کہتے ہیں

چیتا: کیا ہم نے تمہیں شروع سے مشورہ نہیں دیا تھا کہ ہمارے ساتھ چیتا ،بھیڑیا ہی بن کر رہو مگر تم نے انسانوں کے تحفظ کا ٹھیکے دار بننا پسند کیا۔

میں ان کے بچوں اور مویشیوں کو مارتا ہوں، ان کا خون پیتا ہوں، ان کے وسائل اور محنت کھا جاتا ہوں، اس کے باوجود نہ صرف وہ مجھ سے ڈرتے ہیں بلکہ اپنے ہیروز کو شیر، چیتے، ٹاہیگر کے طور پر بیان کرتے ہیں۔

*تمہیں یہ سیکھنا چاہیے کہ “انسان اپنے جلادوں کے سامنے سرتسلیم خم کر لیتے ہیں اور اپنے وفاداروں اور ہمدردوں کی توہین کرتے ہیں۔”*

(ہسپانوی ادب کے انتخاب " غلامی کی آخری رمق " سے اقتباس)
 

سیما علی

لائبریرین
ایک پادری نے اعلان کیا کہ جس نے جنت خریدنی ہے وہ ہم سے رابطہ کرسکتا ہے اور جاہل لوگ جنت حاصل کرنے کےلیے بڑی سے بڑی رقم ادا کرنا شروع ہو گئے
ایسے میں ایک عقلمند شخص نے جہالت کا شکار ان لوگوں کو اس احمقانہ کام سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی لیکن سب بے سود۔۔

آخر ایک دن اس کے ذہن میں ایک ترکیب ائی۔
وہ گرجا گھر گیا اور جنت بیچنے کے انچارج پادری سے کہا:
مجھے جہنم خریدنا ہے۔ کیا قیمت ہے؟
پادری حیران ہوا اور کہنے لگا:
جہنم؟

اس شخص نے کہا: ہاں جہنم'
پادری خوش ہوا کہ اب جہنم بیچ کر بھی کمائی کر سکوں گا
لہذا سوچے بغیر کہا:

'3 سکے' 🪙🪙🪙

اس آدمی نے جلدی جلدی رقم ادا کی اور کہا:
'جہنم کی دستاویز دے دو'
پادری نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر لکھا:
"جہنم کی دستاویز" 📄
وہ شخص خوشی خوشی دستاویز اٹھا کر چرچ سے نکل آیا اور شہر کے مرکزی چوک پر کھڑا ہو کر چلایا:

" میں نے جہنم خرید لیا، یہ اس کی دستاویز ہیں اور میں کسی کو بھی اس میں داخل نہیں ہونے دوں گا لہذا تمہیں اب جنت خریدنے کی ضرورت نہیں کیونکہ میں کسی کو جہنم میں نہیں جانے دوں گا"

یہ شخص تھا "سقراط" جس نے اپنے اس اقدام سے لوگوں کو انکی لاعلمی کی وجہ سے کی جانے والی حماقت سے نجات دلائی۔

*دنیا میں ایک ہی خوبی ہے 'آگاہی'*
*جبکہ جہالت اک گناہ !!*
 

سید رافع

محفلین
کیا آپ بھی بنی اسرائیل ہیں ؟

کیا تمہارے پاس گاڑی ہے؟" میں نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور چند لمحے تک اسے حیرت سے دیکھتا چلا گیا۔ وہ دانت نکال رہا تھا اور بار بار اپنی داڑھی کھجا رہا تھا۔ پارک میں لوگ چہل قدمی کر رہے تھے۔ کچھ لوگ ہلکی ہلکی جاگنگ بھی کر رہے تھے۔ دوپہر مایوس ہو کر رخصت ہو رہی تھی اور شام دھیرے دھیرے مارگلہ کی پہاڑیوں سے نیچے سرک رہی تھی۔ گرم دوپہر کے بعد اسلام آباد کی شام کی اپنی ہی خوب صورتی ، اپنا ہی سکھ ہوتا ہے۔

میری بچپن کی عادت ہے میں پریشانی یا ٹینشن میں کسی پارک میں چلا جاتا ہوں۔ ایک دو چکر لگاتا ہوں اور پھر کسی بینچ پر چپ چاپ بیٹھ جاتا ہوں۔ وہ بینچ میری ساری ٹینشن، میری ساری پریشانی چوس لیتا ہے اور میں ایک بار پھر تازہ دم ہو کر گھر واپس آ جاتا ہوں۔ میں اس دن بھی شدید ٹینشن میں تھا۔ میں نے پارک کا چکر لگایا اور سر جھکا کر بینچ پر بیٹھ گیا۔

تھوڑی دیر بعد ایک نیم خواندہ پشتون کسی سائیڈ سے آیا اور بینچ پر میرے ساتھ بیٹھ گیا۔ اسے شاید بڑبڑانے کی عادت تھی یا پھر وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا تھا چناں چہ اس نے مجھے بار بار انگیج کرنا شروع کر دیا۔ وہ کبھی آٹے کی مہنگائی کا ذکر کرتا تھا، کبھی ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا رونا روتا تھا اور کبھی لوگوں کے غیر اسلامی لباس پر تبصرے کرتا تھا۔ میں تھوڑی دیر اس کی لغویات سنتا رہا لیکن جب بات حد سے نکل گئی تو میں نے جیب سے تھوڑے سے روپے نکالے اور اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔

وہ تھوڑی دیر تک حیرت سے نوٹوں کو دیکھتا رہا، پھر اس نے قہقہہ لگایا۔ نوٹ واپس میرے ہاتھ پر رکھے اور بولا۔ "آپ لوگوں کا بڑا المیہ ہے (وہ المیہ کو لمیا کہہ رہا تھا) آپ دوسروں کو بھکاری سمجھتے ہیں۔ آپ کا خیال ہوتا ہے آپ کے ساتھ اگر کوئی غریب شخص بات کر رہا ہے تو اس کا صرف ایک ہی مقصد ہے وہ آپ سے بھیک لینا چاہتا ہے۔ بابو صاحب ! مجھ پر ﷲ کا بڑا کرم ہے۔ چوکی داری کرتا ہوں، روٹی مالک عزوجل دے دیتا ہے اور خرچے کے پیسے مالک عزوجل کے بندے سے مل جاتے ہیں۔ میں بس آپ کو پریشان دیکھ کر آپ کے پاس بیٹھ گیا تھا۔ میرا والد کہتا تھا پریشان آدمی کو حوصلہ دینا بہت بڑی نیکی ہوتی ہے۔ چناں چہ میں جہاں کسی کو پریشان دیکھتا ہوں میں اس کے پاس بیٹھ جاتا ہوں مگر آپ نے مجھے بھکاری سمجھ لیا۔"

میری حیرت شرمندگی میں بدل گئی اور میں اس سے معافی مانگنے لگا۔ وہ ہنسا اور داڑھی کھجاتے کھجاتے مجھ سے پوچھا۔ "کیا تمہارے پاس گاڑی ہے؟"

میں نے چند لمحوں تک اس سوال پر غور کیا اور پھر جواب دیا۔ "ہاں تین چار ہیں۔" وہ بولا۔ "تم کو پتا ہے آج کل پٹرول کی کیا قیمت ہے؟" میں نے ہنس کر جواب دیا۔ "مجھے نہیں پتا، ڈرائیور پٹرول ڈلواتا ہے۔" اس نے قہقہہ لگا کر کہا۔ "اور تم پھر بھی پریشان بیٹھے ہو؟"

میں نے حیرت سے جواب دیا۔ "گاڑی کا پریشانی کے ساتھ کیا تعلق بنتا ہے خان؟" وہ سنجیدہ ہو کر بولا۔ "بڑا گہرا تعلق ہے۔ کیا مکان تمہارا اپنا ہے۔؟" میں نے جواب دیا۔ "ہاں میرا اپنا ہے بلکہ تین چار ہیں۔" وہ مسکرایا اور پوچھا "کیا بیوی بچے بھی ہیں؟" میں نے فوراً ہاں میں جواب دیا۔ اس نے پوچھا۔ "بچہ لوگ کیا کرتے ہیں؟" میں نے جواب دیا "بیٹے اپنا کاروبار کرتے ہیں اور بیٹیاں پڑھ رہی ہیں۔" اس نے پوچھا " اور کیا تمہاری بیگم صاحبہ کی صحت ٹھیک ہے؟"میں نے فوراً جواب دیا "ہاں الحمد للہ۔ ہم دونوں ٹھیک ٹھاک ہیں۔ ہمیں اللہ نے مہلک بیماریوں سے بچا رکھا ہے۔" وہ بولا "اور کیا خرچہ پورا ہو جاتا ہے؟" میں نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا اور جواب دیا "الحمد للہ۔ خرچے کی کبھی تنگی نہیں ہوئی۔"

اس نے قہقہہ لگایا اور میرے بازو پر اپنا کھردرا ہاتھ رکھ کر بولا۔ "اور بابو صاحب آپ اس کے بعد بھی پریشان ہے؟ آپ نے پھر بھی منہ بنا رکھا ہے۔ آپ کو پتا ہے آپ بنی اسرائیل ہو چکے ہیں۔"

میں بے اختیار ہنس پڑا اور پہلی مرتبہ اس کی گفتگو میں دلچسپی لینے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا۔ "میں بنی اسرائیل کیسے ہوگیا اور بنی اسرائیل کیا ہوتا ہے؟"

وہ سنجیدگی سے بولا۔ "آپ اگر قرآن مجید پڑھیں تو اللہ تعالیٰ بار بار بنی اسرائیل سے کہتا ہے میں نے تمہیں یہ بھی دیا، وہ بھی دیا، ملک بھی دیا، کھیت بھی دیے، دشمنوں سے بھی بچایا، تمہارے لیے آسمان سے کھانا بھی اتارا، باغ اور مکان بھی دیے، عورتیں اور بچے بھی دیے اور غلام اور کنیزیں بھی دیں مگر تم اس کے باوجود ناشکرے ہو گئے۔ تم نے اس کے باوجود میرا احسان نہیں مانا۔ ہمارے مولوی صاحب کہتے ہیں ساری نعمتوں کے بعد بھی جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اس کے احسان یاد نہیں کرتا تو وہ بنی اسرائیل ہو جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے بنی اسرائیل کی طرح ذلیل کرتا ہے۔ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی سکون اور امن سے محروم ہو جاتا ہے اور آپ بھی مجھے بنی اسرائیل محسوس ہو رہے ہیں۔ آپ کے پاس اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتیں موجود ہیں مگر آپ ان کے باوجود بینچ پر اداس بیٹھے ہیں۔ مجھے آپ پر ترس آ رہا ہے۔"

اب مجھے جھٹکا سا لگا اور میں شرمندگی اور خوف سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔ میں اپنے آپ کو پڑھا لکھا اورتجربہ کار سمجھتا تھا۔ بچپن سے اسلامی کتابیں بھی پڑھ رہا ہوں اور عالموں کی صحبت سے بھی لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں لیکن آپ یقین کریں بنی اسرائیل کی یہ تھیوری میرے لیے بالکل نئی تھی۔ میں نے قرآن مجید میں جب بھی بنی اسرائیل کے الفاظ پڑھے مجھے محسوس ہوا اللہ تعالیٰ ناشکرے اور نافرمان یہودیوں سے مخاطب ہے۔ یہ انھیں اپنے احسانات یاد کرا رہا ہے لیکن کیا ﷲ تعالیٰ کی نظر میں ہر احسان فراموش بنی اسرائیل ہو سکتا ہے اور کیا قدرت اس کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہے جو اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ وادی سینا اور اسرائیل میں کیا تھا۔؟

یہ بات میرے لیے نئی تھی۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا، اس ان پڑھ پشتون کے ہاتھ کو بوسا دیا اور پارک سے چپ چاپ باہر آ گیا۔

میں سارا راستہ ﷲ کی ایک ایک نعمت یاد کرتا رہا، اس کا شکر ادا کرتا رہا اور اپنی آستینوں سے اپنے آنسو صاف کرتا رہا۔ میں کیا تھا اور میرے رب نے مجھے کیا بنا دیا مگر میں اس کے بعد بھی پریشان اور مایوس رہتا ہوں۔ مجھ سے زیادہ بنی اسرائیل کون ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔!!!

موجودہ دور کی گاڑیاں، مکانات، بیویاں اور بچے کیونکہ سودی معیشت سے بنتے ہیں اس لیے پریشانی لیے ہوتے ہیں۔ نیم خواندہ پشتون شاید کسی تبلیغی جماعت کا برین واشڈ فرد لگ رہا ہے، اسی لیے مردہ دل سے غفلت بھراقہقہ مارا اور اپنے لاعلمی والے سکون کا اظہار کیا۔ حالانکہ جیب میں رقم اسکے بھی سودی ہی تھی۔

دوسرا ناشکری بنی اسرائیل کا ایک گناہ ہے۔ اس مضمون میں بنی اسرائیل کی اصطلاح سے انصاف نہیں ہے۔ قرآن کے مطابق بنی اسرائیل کے بڑے بڑے گناہ درج ذیل ہیں۔ پریشان امیر انسان نے یہ سب گناہ نہیں کیے تھے لیکن کم علم غافل پشتون نے غلط بیماری اور غلط علاج تجویز کیا:

1. **توحید کا انکار** (شرک):
- اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنا۔

2. **پیغمبروں کی نافرمانی**:
- اللہ کے رسولوں اور پیغمبروں کی تعلیمات کا انکار اور ان کی مخالفت۔

3. **نفاق** (منافقت):
- ظاہری طور پر ایمان کا دعویٰ کرنا مگر دل میں کفر رکھنا۔

4. **ناشکری**:
- اللہ کی نعمتوں کی ناشکری اور احسان فراموشی۔

5. **جھوٹے عہد و پیمان**:
- اللہ کے ساتھ کئے گئے عہدوں اور پیمانوں کی خلاف ورزی۔

6. **قتلِ انبیاء**:
- پیغمبروں اور نیک لوگوں کو قتل کرنا۔

7. **حرام خوری**:
- حرام مال کا کھانا اور سودی لین دین۔

8. **بدکاری اور فساد**:
- زمین میں بدکاری اور فساد برپا کرنا۔

9. **بد اخلاقی**:
- دوسروں کے ساتھ بدسلوکی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ۔

10. **توریت کی تحریف**:
- اللہ کی کتاب توریت میں تبدیلیاں اور تحریفات کرنا۔

11. **غرور و تکبر**:
- خود پسندی اور تکبر کا شکار ہونا۔

12. **نیکیوں کو پسِ پشت ڈالنا**:
- اللہ کے احکام اور نیکیوں کو نظر انداز کرنا۔

یہ چیک لسٹ قرآن کی آیات اور احادیث کی روشنی میں بنی اسرائیل کے رویوں اور اعمال کی عکاسی کرتی ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
قرآن کی مناسبت سے حضرت عبداللہ بن مبارک ؒکے حوالے سے بیان کردہ یہ واقعہ ملاحظہ فرمائیے اور دعا کیجئے کہ ہمارا تعلق بالقرآن بھی اس طرح کا ہوجائے۔
امام عبد اللہ بن مبارک اعلیٰ درجے کے فقیہ اور محدث ہیں، امام ابو حنیفہؒ کے شاگردوں میں ہیں اور کتنے ہی محدثین و فقہاء کی چشم عقیدت کا سرمہ ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ پر گزرا ہوا ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے، جس کو بہاء الدین (م : ۸۵۰) نے اپنی معروف کتاب ’’المستطرف ‘‘ ( ۱ ؍ ۷۶ - ۷۴) میں ذکر کیا ہے۔ یہ ایک بار حج کے ارادہ سے مکہ تشریف لے گئے تھے۔ واپسی میں راستہ میں ایک جگہ دور سے کوئی چیز نظر آئی، قریب پہنچے او رپہچانا، تو دیکھا کہ ایک بوڑھی خاتون ہیں جو معمولی کرتے اور پٹے میں ملبوس ہیں۔ امام عبد اللہ بن مبارک نے سلام کیا، خاتون نے سلام کا جواب ایک قرآنی فقرہ سے دیا : ’’سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ ‘‘ ( یٰسین : ۵۸) سلامتی ہو، یہ رب رحیم کی طرف سے ارشاد ہے۔ ا بن مبارک ؒ نے دریافت کیا : یہاں آپ کیا کر رہی ہیں ؟ کہنے لگیں : ’’ مَنْ یُّضْلِلِ اﷲُ فَلاَ ھَادِیَ لَہٗ‘‘( الاعراف : ۱۸۶) جسے اللہ راستہ نہ دکھائے، اسے کوئی راستہ نہیں دکھاسکتا ؟ یعنی یہ راستہ بھٹک گئی ہیں۔ ابن مبارک ؒ نے پوچھا : کہاں کا ارادہ ہے، کہنے لگیں : ’’سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى (الاسراء : ۱ ) یعنی یہ حج کر چکی ہیں اور بیت المقدس کا ارادہ ہے۔ ابن مبارک ؒ نے استفسار کیا کہ کتنے دِنوں سے آپ اس مقام پر پڑی ہوئی ہیں ؟ خاتون نے کہا : ’’ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا ‘‘( مریم : ۱۰) یعنی مسلسل تین راتوں سے۔ ابن مبارک ؒ نے کہا : آپ کے پاس کھانے کا کچھ سامان نہیں ہے ؟ خاتون نے جواب دیا : ’’وَالَّذِي هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ ‘‘ (الشعراء : ۷۹) یعنی اللہ مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔
پوچھا گیا کہ آپ وضو کس طرح کرتی ہیں کہ پانی بھی ساتھ نہیں ہے ؟ فرمایا :’’ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا‘‘( النساء : ۴۳) یعنی قرآن کا حکم ہے کہ پا نی نہ ملے تو تیمم کرو، اس پر عمل کرتی ہوں۔ امام ابن مبارک ؒ نے کھانے کی پیش کش کی، تو کہنے لگیں : ’’ ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیَامَ اِلَی اللَّیْلِ‘‘( البقرۃ : ۱۸۷) یعنی میں روزہ کی حالت میں ہوں، ابن مبارک ؒ نے کہا کہ یہ رمضان کا مہینہ تو ہے نہیں ؟ فرمایا : ’’ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ‘‘ (البقرۃ : ۱۵۸) یعنی جو یہ بطورِ نفل مزید عمل کرے تو اللہ تعالیٰ قدر داں ہے اور واقف ہے۔ ابن مبارکؒ نے فرمایا کہ سفر میں تو ویسے بھی روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے ؟ بوڑھی خاتون نے جواب دیا: ’’ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ‘‘( البقرہ : ۱۸۴) یعنی روزہ رکھ لینا بہر حال بہتر ہے۔
امام عبد اللہ بن مبارکؒ کے حیرت و استعجاب میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ آپ نے دریافت کیا کہ جس طرح میں آپ سے گفتگو کرتا ہوں آپ بھی اس طرح کیوں نہیں کرتیں ؟ جواب ملا : ’’ مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ‘( ق : ۱۸) یعنی جب بھی انسان کوئی بات کرتا ہے تو نگراں فرشتہ اس پر موجود ہوتے ہیں۔ گویا بات خوب احتیاط اور تول کر کرنی چاہئے، ابن مبارک ؒ نے دریافت کیا کہ آپ کا تعلق کس قبیلہ سے ہے ؟ فرمایا : ’’وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ‘‘ (الاسراء : ۳۶) کہ جس چیز کا علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو۔ گویا ابن مبارک ؒ کے اس سوال پر بوڑھی خاتون نے ناگواری ظاہری کی، امام عبد اللہ نے معذرت کی، اور کہا کہ مجھے معاف کر دیجئے۔ جواب ملا : ’’لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْْ‘‘ (یوسف : ۹۲) کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تم کو معاف کر دے۔ ا بن مبارک ؒ کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا کہ کیا میں آپ کو اپنی اونٹنی پر سوار کر دوں تاکہ آپ اپنے قافلہ سے جا ملیں، کہنے گلیں : ’’ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ُ‘‘( البقرۃ : ۱۹۷) جو بہتر کام کرو گے اللہ اس سے واقف ہے۔ ابن مبارکؒ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا تاکہ وہ سوار ہوں، کہنے لگیں :’’ قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ ‘‘ ( النور : ۳۰) یعنی ابن مبارکؒ کو نگاہ پست کرنے کے بارے میں اشارہ فرمایا ؛ چنانچہ آپ نے نگاہ پست کر لی اور کہا کہ سوار ہو جائیں۔ سوار ہونے لگیں تو اونٹنی بدک گئی، اور اس خاتون کا کچھ کپڑا پھٹ گیا تو قرآن کی آیت پڑھی : ’’وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ ‘‘( الشوریٰ : ۳۰) یعنی جو بھی مصیبت انسان کو پہنچتی ہے وہ اپنی شامت اعمال کی وجہ سے۔ امام عبد اللہ ابن مبارکؒ نے فرمایا کہ آپ ذرا ٹھہر جائیں، میں پہلے اونٹنی کو باندھ دوں، خاتون نے کہا : ’’فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ‘‘ الانبیاء : ۷۹) امام ابن مبارکؒ فرماتے ہیں : میں نے اونٹنی کو باندھ دیا اور ان سے کہا کہ سوار ہو جائیں، جب سوار ہوئیں تو سواری کی دعاء پڑھی جو قرآن مجید کی آیت ہے : ’’ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ۔ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ ‘‘ (الزخرف : ۱۳، ۱۴)
اب سفر شروع ہوا، امام ابن مبارکؒ نے اونٹنی کی لگام تھامی اور اونٹنی کو تیز ہنکانے کے لئے کسی قدر بلند آواز نکالتے ہوئے آگے بڑھے، خاتون نے کہا : ’’ وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ‘‘( لقمان : ۱۹) یعنی رفتار معتدل رکھو اور آواز پست، ابن مبارک ؒ نے آہستہ آہستہ ’’ مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ‘‘( مزمل : ۲۰) پڑھا کہ آپ کو بڑا خیر عطا کیا گیا ہے، کہنے لگیں : ’’ وَ مَا یَذَّکَّرُاِلَّا اُوْلُو الْاَلْبَابِ ‘‘ (البقرۃ : ۲۶۹) کہ عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ امام ابن مبارکؒ نے کچھ آگے بڑھنے کے بعد دریافت کیا کہ کیا آپ کے شوہر ہیں ؟ بوڑھی خاتون نے جواب دیا : ’’ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ أشْیَآئَ اِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُوْکُمْ‘‘( المائدۃ ۱۰۱) اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کی بابت سوال نہ کرو جو تم پر ظاہر کیا جائے تو تمہیں ناگواری ہو، یعنی اپنے بیوہ ہونے کی طرف اشارہ کی۔
امام ابن مبارک ؒ نے پھر کوئی گفتگو نہیں کی، یہاں تک کہ قافلہ تک پہنچ گئے، پہنچنے کے بعد خاتون سے دریافت کیا کہ یہاں آپ کے کون لوگ ہیں ؟ کہنے لگیں : ’’ اَلْمَالُ وَالْبُنُوْنَ زِیْنَۃُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا‘‘ ( الکہف : ۴۶) یعنی اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ ان کے بچے اور سامان اس قافلہ میں ہیں۔ انہوں نے دریافت کیا، حج میں ان کے بچے کیا کر رہے تھے ؟ کہنے لگیں : ’’وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ ‘‘(النحل : ۱۶) یعنی ان کے بچے حجاج کے قافلہ میں راستہ بتانے اور منزل کی رہنمائی کا کام کرنے پر مامور تھے، ابن مبارکؒ سواری خیموں تک لائے اوراستفسار کیا کہ یہ خیمے ہیں، آپ کے متعلقین کون ہیں ؟ خاتون نے کہا : ’’ وَاتَّخَذَ اﷲُ اِبْرَاہِیْمَ خَلِیْلًا‘‘ ’’ وَکَلَّمَ اﷲُ مُوْسیٰ تَکْلِیْمًا‘‘(النساء : ۱۲۵، ۱۶۴) ’’یٰایَحْیٰ خُذ الْکِتَابَ بِقُوَّۃٍ‘‘ (مریم : ۱۲) یعنی ابراہیم موسیٰ اور یحییٰ میرے بچوں کے نام ہیں۔ ابن مبارکؒ نے ان ہی ناموں سے ندا لگائی کہ تین نوجوان چاند کی طرح روشن دوڑے آئے اور جب بیٹھنے لگے تو ماں نے کہا : ’’ فَابْعَثُوْا اَحَدَکُمْ بِوَرِ قِکُمْ ھٰذِہٖٓ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّھَآ اَزْکٰی طَعَامًا فَلْیَاتِکُمْ بِرِزْقٍ مِّنْہُ‘‘ (الکہف : ۱۹) اپنے میں سے کسی کو یہ پیسے لے کر شہر بھیجو کہ وہ دیکھے کہ کون پاک وصاف کھانا فروخت کرنے والا ہے، پھر وہ تم لوگوں کے پاس کھانے کی چیز لے کر آئے ؛ چنانچہ بچوں میں سے ایک بازار گیا، کھانے کی کچھ چیز خرید کر لایا اور میرے سامنے رکھ دیا کہنے لگیں : ’’کُلُوْا وَاشْرَبُوْا بِمَا اَسْلَفْتُمْ فِیْ الْاَیَّامِ الْخَالِیَۃِ‘‘ ( الحاقۃ : ۲۴) خوشگواری کے ساتھ کھاؤ پیوؤ، اس عمل کے بدلے جو تم نے پچھلے دِنوں میں کئے ہیں۔
امام عبد اللہ ابن مبارکؒ نے ان خاتون کے صاحبزادوں سے کہا کہ جب تک تم ان خاتون کے بارے میں مجھے نہ بتاؤ میں کھانا نہیں کھاسکتا، لڑکوں نے کہا : یہ ہماری والدہ ہیں، چالیس سال کے عرصہ سے انہوں نے سوائے قرآن کے کوئی اور کلام اپنی زبان سے نہیں نکالا کہ کہیں اپنی طرف سے بولنے میں کچھ زیادتی ہو جائے اور اللہ ناراض ہو جائے۔ ابن مبارکؒ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : یہ اللہ کا فضل ہے، اللہ جسے چاہیں عطا فرمائیں اور اللہ یقیناً بڑے فضل والے ہیں۔ ( الجمعۃ : ۴)
یہ واقعہ نشان عبرت اور حرف ِموعظت ہے کہ معمولی خاتون کو بھی قرآن سے کیسی مناسبت ہوتی تھی اور قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے فہم کا کیسا اعلیٰ درجے کا ذوق حاصل ہوتا تھا، کاش ہم یہ اور اس طرح کے عبرت خیز واقعات کو اپنے لئے آئینہ بنائیں اور اس آئینہ میں اپنی تصویر دیکھیں کہ قرآن مجید سے ہمارا کیا تعلق ہے ؟
منقول
 
Top