انٹر نیٹ سے چنیدہ

سید عمران نے 'روز مرہ کے معمولات سے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 25, 2020

  1. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اسکی کیا سائنس ہے؟ قطر میں ایک لاہوری تھا وہ میرے کھانے سے لقمہ نہیں لیتا تھا کہ نمک حلالی کرنی پڑے گی۔ اسکی منطق مجھے سمجھ نہیں آتی تھی۔ ایک دفعہ میری رقم کا نمک کھانے کے بعد وہ ہر سیاہ و سفید میں میری مدد کرنے کا پابند سمجھتا۔

    وہ بھی تو گنے اور گڑ سے ہی بنتی ہے۔

    یونانی اطباء تو حکیم سے زیادہ ناقص علاج کرتے ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 28, 2021
  2. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,191
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سید بادشاہ آج تو خاصی آمد ہوئی ہے۔ ماشاء اللہ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  3. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سکندر کا معلم ارسطو اور عمر رض کے معلم رحمت للعالمین رسولﷺ۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  4. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    صحبت صالح ترا صالح کند
    صحت طالع ترا طالع کند

    یعنی

    اچھی صحبت تجھے نیک
    اور بری صحبت برا بنائے گی
     
  5. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    212,191
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

    عہدِ رواں کے بچوں کی حاضر جوابیاں پڑھ کر اس بات کا معترف ہوچلا ہوں کہ ہم چالاکی کے "عہدِ اطفال" میں رہ رہے ہیں۔ بچپن میں ہمیں بھی صبح سویرے اٹھنے کی ترغیب دینے کے لئے یہی کہا جاتا تھا کہ پرندے صبح صبح اٹھتے ہیں تو ان کو بھی کیڑے مکوڑے کھانے کو مل جاتے ہیں۔ ہم یہ سن کر بادل ناخواستہ اٹھ جاتے تھے کیونکہ ہمارے پاس اس کے رد کی کوئی دلیل نہیں ہوتی تھی، اور آج کے بچے اسی بات کا مدلل جواب " اور جو کیڑے مکوڑے صبح صبح اٹھتے ہیں وہ؟؟؟؟؟" دے کر کروٹ بدل لیتے ہیں۔

    ہمیں دیو، چڑیل اور جنوں سے ڈرا کر سلایا جاتا تھا، آج کے بچوں کو ان سے بہلا کر سلایا جاتا ہے، جی ہاں ان کو جب تک موبائل، کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر دیومالائی ویڈیوز نہ دکھائی جائیں وہ سونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ ویسے تو سونا جتنا مہنگا ہوگیا ہے اس کا نام لینا بھی نہیں چاہیے مگر یہاں سونے سے مراد گولڈ نہیں۔ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ سو جاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم کھونا نہیں چاہتے ہیں، جی ہاں جو سوتے ہیں وہ کھوتے ہیں، یہاں بھی پنجابی والا "کھوتا" مراد نہیں ہے۔

    پہلے بچے لکیر کے فقیر ہوتے تھے، استاد نے جو بتایا وہ رٹ لیا، الف سے انار اور ب سے بکری ہی ہوتا تھا، بعض اوقات تو چ ا چا، ق پیش و قو " قاچو" م پیش ر مر، غ ما قوف، " ککڑ" بھی ہوتا تھا۔ اور آج کل ا سے "اینڈرائیڈ" اور ب سے "بلیک بیری" کا بھی پتہ ہے۔ ایک پرانا لطیفہ یاد آگیا۔

    سکول کی انسپکشن کے پیشِ نظر ٹیچر نے کلاس کے بچوں کو مختلف سوالات کے جوابات رٹوا دیئے۔ ایک بچے سے کہا کہ اگر پوچھا جائے کہ ہمیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو تم نے جواب دینا ہے "اللہ تعالیٰ نے". اتفاقاً انسپکشن والے دن وہ بچہ غیر حاضر تھا۔ باقی سوالات کے جوابات متعلقہ بچوں نے درست دیئے، ہمیں کس نے پیدا کیا ہے کے سوال پر تمام کلاس خاموش رہی۔ سوال کرنے والے کو حیرانی ہوئی۔ بار بار سوال دہرایا تو ایک بچہ کھڑا ہو گیا اور بولا" سر جی جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تھا وہ آج غیر حاضر ہے"

    مجھے یاد ہے کہ ایک بار استاد صاحب نے میرے ہم جماعت کو سکول فیس لینے گھر بھیجا، اس کے ابا نے کہا کہ استاد صاحب سے کہہ دینا کہ ابو گھر نہیں تھے کل دے دوں گا۔ اب اس نے واپس آکر کہا " میرے ابو کہہ رہے ہیں کہ وہ گھر پر نہیں ہیں کل دے دوں گا" (یاد رہے کہ اس وقت موبائل فون نہیں تھے)

    میرے بیٹے نے مطالعہ پاکستان کے پیپر میں "پاکستان کس نے بنایا؟" جیسے کثیرالانتخابی سوال کے جواب میں موجود تینوں آپشنز (سرسیداحمد خان ، قائد اعظم، علامہ اقبال) چھوڑ کر "اللہ تعالیٰ" لکھا ہے، آپ کے خیال میں اس جواب کے کتنے نمبر ملنے چاہئیں؟

    پہلے کھانے کے ساتھ پانی رکھا جاتا تھا تاکہ لقمہ حلق سے اتر جائے، اب بچوں کو کھانا کھلاتے ہوئے جب تک موبائل پر کارٹون لگا کر نہ دئیے جائیں تب تک لقمہ ان کے حلق سے تو کیا منہ سے بھی آگے نہیں جاتا۔

    قت بدلا__سوچ بدلی__ بات بدلی

    ہم سے بچے کہہ رہے ہیں ہم نئے ہیں

    اعجاز احمد ضیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    ازدواجی زندگی گزارنے کا فن۔۔۔۔۔۔

    بیٹی اپنے سسرال سے بد دل ہوکر میکے آگئی۔
    باپ نے کہا :
    "تمہارے ہاتھ کا کھانا کھائے بہت دن ہوگئے ہیں، آج میرے لیے ایک انڈا ، ایک آلو اُبال دو اور ساتھ میں گرما گرم کافی۔لیکن ان سب کو بیس منٹ تک چولہے پر رکھنا۔"
    جب سب کچھ تیار ہوگیا تو باپ نے پوچھا:
    " آلو چیک کرو، ٹھیک سے گل کر نرم ہوگیا ہے؟
    اب انڈا چھو کر دیکھو ،ہارڈ بوائل ہوگیا ہے ؟
    اور کافی بھی چیک کرو، رنگ اور خوش بو آگئی ہے؟"
    بیٹی نے چیک کر کے بتایا کہ سب پرفیکٹ ہے۔
    باپ نے کہا :
    "دیکھو!! تینوں چیزوں نے گرم پانی میں یکساں وقت گزارا ،اور برابر کی تکلیف برداشت کی۔
    آلو سخت ہوتا ہے اس آزمائش سے گزر کر وہ نرم ہوگیا۔
    انڈا نرم ہوتا ہے ،گرے تو ٹوٹ جائے، لیکن اب سخت ہوگیا ہے اور اسکے اندر کا لیکویڈ بھی سخت ہوچکا ہے۔
    کافی نے پانی کو خوش رنگ، خوش ذائقہ اور خوشبو دار بنادیا ہے۔
    تم کیا بننا چاہوگی؟ آلو ، انڈا یا کافی؟؟
    یہ تمہیں سوچنا ہے۔ یا خود تبدیل ہوجاؤ یا پھر کسی کو تبدیل کردو۔
    ڈھل جاؤ یا ڈھال دو۔ یہی زندگی گزارنے کا فن ہے۔
    سیکھنا، اپنانا، تبدیل ہونا، تبدیل کرنا، ڈھلنا، ڈھل جانا، یہ اسی وقت ممکن ہے جب نباہ کرنے کا عزم ہو ،کیونکہ کم ہمت منزل تک نہیں پہنچتے، راستے ہی میں ہلاک ہوجاتے ہیں۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  7. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    مکہ مکرمہ میں ایک عورت تھی اُسکو اپنے حسن پر بڑا ناز تھا!*
    *وہ ایک مرتبہ نہانے کہ بعد کپڑے بدل کر اپنے بال سنوار رہی تھی. آئینے کے سامنے کھڑی تھی اور اپنے آپ پہ بہت فریفتہ تھی کہ میں بہت حور پری ہوں.*
    *خاوند کو جب دیکھا تو اُس نے بڑے ناز نخرے سے بات کی کہ ہے کوئی مرد ایسا جو مجھے دیکھے اور میری تمنا نہ کرے؟ تو خاوند نے کہا ہاں! ہے"عبید بن عمیر" یہ مسجد نبوی میں مدرس اور خطیب تھے۔*
    *تو میاں بیوی کا تعلق عجیب سا ہوتا ہے آگے سے کہنے لگی تو دے مجھے اجازت میں تجھے دیکھاتی ہوں وہ پھسلتا کیسے ہے، اُس نے کہا ٹھیک ہے میں اجازت دیتا ہوں . عورت کو اجازت مل گئی اور وہ نکلی، پھر مسجد کے دروازے پر آ کر کھڑی ہو گئی.*
    *اب جب مولانا عبید بن عمیر رحمہ اللہ مسجدنبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے باہر نکلے تو عورت نے پہلے اس طریقے سے بات کہی جیسے کوئی مسئلہ پوچھنے کے لیے کھڑی ہو. تو مولانا کھڑے ہو گئے. اس دوران اس نے اپنے چہرے سے نقاب کو ہٹا دیا.*
    *اُسکا خیال یہ تھا کہ جب وہ میرے حسن و جمال کو دیکھیں گے تو فریفتہ ہو جائیں گے، جسے ہی اس نے ایسا کیا تو اُنہوں نے نظر ہٹا دی اور کہا !*
    *"دیکھو! کیوں ایسے کام کے بارے میں سوچتی ہو جس سے تمہیں دنیا میں بھی ذلّت ملے گی اور آخرت میں بھی ذلّت ملے گی"*
    *اب یہ الفاظ انکے منہ سے اتنے درد سے نکلے وہ شرما گئی اور واپس آ گئی.*
    *شوہر نے پوچھا کیا بنا؟ کہنے لگی!*
    *"کیا مرد ہی نیک ہوتے ہیں؟ عورتیں نہیں نیک ہو سکتی! میں بھی نیک بنو گی"*
    *اُسکی زندگی بدل گئی اُسکے بعد روز وہ خاوند سے پوچھتی عشاء کے وقت کہ تمہیں میری ضرورت ہے؟ اگر کہتا ہاں تو وہ وقت خاوند کے ساتھ گزارتی اور اگر وہ کہتا نہیں تو جبّا پہن لیتی اور ساری رات مسلے پہ عبادت کرتی..*
    اُسکا خاوند کہا کرتا تھا! " پتا نہیں عبید بن عمیر نے ایک فقرہ بول کہ میری بیوی کو نیک کیسے بنا دیا؟
    اثر الفاظ سے زیادہ کہنے والے کے کردار کا ہوتا ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 3
  8. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    حضرت جنید بغدادی رح کے پاس ایک عورت آئی ، اور پوچھا کے حضرت آپ سے ایک فتویٰ چاہئے کہ اگر کسی مرد کی ایک بیوی ہو تو کیا اس کی موجودگی میں دوسرا نکاح جائز ہے ؟حضرت جنید بغدادی رح نے فرمایا بیٹی اسلام نے مرد کو چار نکاح کی اجازت دی ہے بشرطیکہ چاروں کی بیچ انصاف کر سکے –
    اس پر اس عورت نے غرور سے کہا کہ حضرت اگر شریعت میں میرا حسن دکھانا جائز ہوتا تو میں آپ کو اپناحسن دکھاتی اور آپ مجھے دیکھ کر کہتے کہ جس کی اتنی خوبصورت بیوی ہو اسے دوسری عورت کی کیا ضرورت؟؟اس پر حضرت نے چیخ ماری اور بیہوش ہو گئے – وہ عورت چلی گئی جب حضرت ہوش میں آئے تو مریدین نے وجد کی وجہ پوچھی -حضرت نے فرمایا کہ جب عورت مجھے یہ آخری الفاظ کہ رہی تھی تو الله تعالیٰ نے میرے دل میں یہ الفاظ القا کیے کہ :اے جنید ! اگر شریعت میں میرا حسن دیکھنا جائز ہوتا تو میں ساری دنیا کو اپنا جلوہ کرواتا تو لوگ بے اختیار کہہ اٹھتے کہ جس کا اتنا خوبصورت الله ہو اس کی نظر کسی اور کی طرف کیا اٹھے۔
     
    • زبردست زبردست × 4
  9. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    [​IMG] *غلطیوں_کو_درگزر_کرنا_سیکھیں* [​IMG]
    *ابو الکلام* اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ ملازمت بھی کرتی تھیں اور گھر کا کام کاج بھی وہی کرتی تھیں ۔
    ایک رات کھانے کے وقت انہوں نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھی ۔ میں والد کے رد عمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصہ کا اظہار کریں مگر انہوں نے انتہائی سکون سے کھانا کھایا اور پھر مجھ سے دریافت کیا کہ آج سکول میں میرا دن کیسا گزرا ۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا لیکن اسی اثنا میں میری والدہ نے روٹی جل جانے کی معذرت کی ۔ مگر میرے والد نے کہا کہ ان کو یہ روٹی کھا کر لطف آیا ۔ اسی رات اپنے والد کو شب بخیر کہنے میں ان کے کمرے میں گیا تو ان سے سوال کیا کہ کیا واقعی انہیں جلی روٹی کھا کر لطف آیا ؟ انہوں نے پیار سے مجھے اپنے بازؤں میں بھر لیا اور جواب دیا کہ تمہاری والدہ نے ایک پرمشقت دن گزارا اور پھر تھکنے کے باوجود گھر آکر ہمارے لئے کھانا بھی تیار کیا ۔۔۔۔۔ ایک جلی ہوئی روٹی کچھ نقصان نہیں پہنچاتی مگر تلخ ردعمل اور بد زبانی جذبات کو مجروح کرتی ہے ۔
    میرے بچے! زندگی بے شمار ناپسندیدہ اشیا اور شخصیات سے بھری ہوئی ہے۔ میں بھی کوئی بہترین یا مکمل انسان نہیں ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے ارد گرد لوگ اور عزیز واقربا بھی غلطی کر سکتے ہیں ۔ لہذا ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا، رشتوں کو بخوبی نبھانا اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہی تعلقات میں بہتری کا سبب بنتا ہے ۔ زندگی اتنی مختصر ہے کہ اس میں معذرت اور پچھتاووں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  10. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    _*قصاص پاکدامنی کا بدلہ پاکدامنی*_
    تفسیر روح البیان میں ایک قصہ منقول ہے کہ شہر بخارا میں ایک سُنار کی مشہور دکان تھی اس کی بیوی خوبصورت اور نیک سیرت تھی ایک سقا( پانی لانے والا)اس کے گھر تیس سال تک پانی لاتا رہا بہت بااعتماد شخص تھا۔
    ایک دن اسی سقا نے پانی ڈالنے کے بعد اس سنار کی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر شہوت سے دبایا اور چلاگیا عورت بہت غمزدہ ہوئی کہ اتنی مدت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اسی دوران سنار کهانا کهانے کے لئے گھر آیا تو اس نے بیوی کو روتے ہوئے دیکھا پوچھنے پر صورتحال کی خبر ہوئی تو سنار کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
    بیوی نے پوچھا کیا ہوا سنار نے بتایا کہ آج ایک عورت زیور خریدنے آئی جب میں اسے زیور دینے لگا تو اس کا خوبصورت ہاتھ مجھے پسند آیا میں نے اس اجنبیہ کے ہاتھ کو شہوت کے ساتھ دبایا یہ میرے اوپر قرض ہو گیا تها لہٰذا سقا نے تمہارے ہاتھ کو دباکر چکادیا میں تمہارے سامنے سچی توبہ کرتا ہوں۔۔۔
    کہ آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گا البتہ مجھے ضرور بتانا کہ سقاء تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے؟
    دوسرے دن سقا پانی ڈالنے کے لئے آیا تو اس نے سنار کی بیوی سے کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوں کل مجھے شیطان نے ورغلا کر براکام کروا دیا میں نے سچی توبہ کرلی ہے آپ کو میں یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
    عجیب بات ہے کہ سُنار نے غیر عورت کو ہاتھ لگانے سے توبہ کر لی تو غیر مرد نے اس کی عورت کو ہاتھ لگا نے سے توبہ کر لی.
    (تفسیر روح البیان)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  11. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    *نوجوانوں کیلئے سبق آموز واقعہ*
    بنی اسرائیل کا ایک قصاب اپنے پڑوسی کی کنیز پر عاشق ہوگیا۔ اتفاق سے ایک دن کنیز کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا۔ قصاب کو موقع مل گیا اور وہ بھی اس کنیز کے پیچھے ہولیا۔ جب وہ جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے آکر اسے پکڑ لیا اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔
    جب اس کنیز نے دیکھا کہ اس قصاب کی نیت خراب ہے تو اس نے کہا:
    ''اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ حقیقت یہ ہے کہ جتنا تُو مجھ سے محبت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری محبت میں گرفتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقی اللہ عزوجل کا خوف اس گناہ کے اِرتکاب سے روک رہا ہے۔
    اس نیک سیرت اور خوفِ خدا عزوجل رکھنے والی کنیز کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیر بن کر اس قصاب کے دل میں پیوست ہوگئے اور اس نے کہا:
    '' جب تُو اللّٰہ عزوجل سے اِس قدر ڈر رہی ہے تو مَیں اپنے پاک پروردگار عزوجل سے کیوں نہ ڈروں ؟ مَیں بھی تو اسی مالک عزوجل کا بندہ ہوں ، جا....تو بے خوف ہو کر چلی جا۔''
    اتنا کہنے کے بعد اس قصاب نے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی اور واپس پلٹ گیا ۔
    راستے میں اسے شدید پیاس محسوس ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہ تھا۔ قریب تھا کہ گرمی اور پیاس کی شدت سے اس کا دم نکل جائے۔ اتنے میں اسے اس زمانے کے نبی کا ایک قاصد ملا۔ جب اس نے قصاب کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا:
    ''تجھے کیا پریشانی ہے؟
    قصاب نے کہا:'' مجھے سخت پیاس لگی ہے
    یہ سن کر قاصدنے کہا: ہم دونوں مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ عزوجل ہم پر اپنی رحمت کے بادل بھیجے اور ہمیں سیراب کرے یہاں تک کہ ہم اپنی بستی میں داخل ہوجائیں۔
    'قصاب نے جب یہ سنا تو کہنے لگا:
    ''میرے پاس تو کوئی ایسا نیک عمل نہیں جس کا وسیلہ دے کر دعا کروں، آپ نیک شخص ہیں آپ ہی دعا فرمائیں ۔
    اس قاصد نے کہا:
    ’ٹھیک ہے میں دعا کرتا ہوں، تم آمین کہنا۔
    پھر قاصد نے دعا کرنا شروع کی اور وہ قصاب آمین کہتا رہا،تھوڑی ہی دیر میں بادل کے ایک ٹکڑے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا اور وہ بادل کا ٹکڑا ان پر سایہ فگن ہوکر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا
    جب وہ دونوں بستی میں پہنچے تو قصاب اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا اور وہ قاصد اپنی منزل کی طرف جانے لگا۔
    بادل بھی قصاب کے ساتھ ساتھ رہا جب اس قاصد نے یہ ماجرا دیکھا توقصاب کو بلایا اور کہنے لگا:
    تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نیکی نہیں اور تم نے دعا کرنے سے اِنکار کردیا تھا۔ پھر میں نے دعا کی اورتم آمین کہتے رہے ،لیکن اب حال یہ ہے کہ بادل تمہارے ساتھ ہو لیا ہے اور تمہارے سر پر سایہ فگن ہے، سچ سچ بتاؤ تم نے ایسی کون سی عظیم نیکی کی ہے جس کی وجہ سے تم پر یہ خاص کرم ہوا؟
    یہ سن کر قصاب نے اپنا سارا واقعہ سنایا۔اس پر اس قاصد نے کہا:
    'اللّٰہ عزوجل کی بارگاہ میں گناہوں سے توبہ کرنے والوں کا جو مقام و مرتبہ ہے وہ دوسرے لوگوں کا نہیں۔ بے شک گناہ سرزد ہونا انسان ہونے کی دلیل ہے مگر ان پر توبہ کر لینا مومن ہونے کی نشانی ہے-
    (حکایتِ سعدی رحمتہ اللّہ علیہ)
     
    • زبردست زبردست × 2
  12. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    *پہلی تنخواہ*
    ‎میرے آفس سے آج اس ٹرینی کو پہلی تنخواہ ملی تو میں نے پوچھا ان پیسوں کا کیا کرو گے؟
    وہ بولا دوستوں کے ساتھ انجوائے کروں گا۔
    ‎میں نے اس کاکندھا تھپتھپایا اور کہا نہیں بیٹے یہ نہ کرنا۔
    ‎وہ سوالیہ اندازسے میری طرف دیکھنے لگا۔
    ‎میں نے باہر کھڑکی سے دووور خلا میں دیکھنا شروع کر دیا ایک پرانی یاد میں کھو گیااور بولا۔۔۔!
    ‎بیٹے آج سے تیس برس پہلے مجھے بھی پہلی بار تین سو روپے تنخواہ نما وظیفہ ملا تھا میں گھر آیا اور امی کو بتایا تووہ بے نیازی سے بولیں “تم رکھ لو کام آئیں گے “اور میں نے معصومیت سے وہ روپےجیب میں ڈال لئے۔
    ‎ ابو دور سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔
    ‎مجھے محسوس ہوا امی کچھ چپ سی ہو گئی ہیں رات تک میں اس کی وجہ نہیں سمجھ سکا نہ میں نے توجہ دی رات والد محترم نے شفقت سے پاس بٹھا کر کہا:
    ‎“بیٹےجب بڑے ہو جاتے ہیں تو ماؤوں کے دل بھی بڑے اور مضبوط ہو جاتے ہیں انہیں ان پر بڑا فخر ہوتا ہے اور وہ برسوں اس دن کا انتظار کرتی ہیں کہ ان کا بیٹا کما کر لائے گا اور اپنی کمائی ان کے ہاتھ پر رکھ دے گا وہ اس تصور سے ہی فخر کے ساتھ جھومنے لگتی ہیں۔“
    ‎میں توجہ سے ابو کی بات سن رہا تھا۔
    ‎وہ بولے بیٹےپیسے پہلے بھی تمہاری ضروریات کے لئے ماں ہی تمہیں دیتی ہے آئندہ بھی وہی دے گی لیکن اگر تم یہ تھوڑے سے روپے اس کے ہاتھ میں دے دو گےتو اس کا دل خوشی سے بھر جائے گا اس کا مان رہ جائے گا۔۔
    ‎میں اسی وقت اٹھا اور جا کر ماں کے پیروں کی طرف بیٹھ گیا تین سو روپے ان کے سامنے رکھے اور کہا ماں یہ تو آپ کے لئے ہی کمائے ہیں ناں آپ ہی کے تو ہیں
    ‎پھر وہی ہوا۔
    ‎ماں نے مجھے لپٹا لیا ماتھا چوما ان پیسوں کو چوما آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیر تک اللہ کا شکر ادا کیا اپنے دوپٹے سے آنسو صاف کئے اور مجھے یوں لگا میں نے قارون کا خزانہ ان کے قدموں میں رکھ دیا ہو۔۔۔
    ‎میں نے اس ٹرینی نوجوان سےکہا بیٹے یہ پیسے جا کر ماں کے ہاتھ پر رکھنا اور یاد رکھنا ہم شاید اپنوں کے لئے بڑی بڑی خوشیاں نہ خرید سکتے ہوں مگر چھوٹی چھوٹی خوشیاں تو دے سکتے ہیں ناں۔۔۔
     
    • زبردست زبردست × 2
  13. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    چند فقہی لطیفے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام شعبی رحمہ اللہ کے پاس ایک شخص مسئلہ پوچھنے آیا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی ھے جو لنگڑی نکلی ھے ، تو کیا میں اس کو واپس کر سکتا ھوں ؟
    آپ نے فرمایا کہ اگر تو اس کے ساتھ ریس لگانا چاھتا ھے تو پھر بلاشبہ واپس کر دے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام شعبی سے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا احرام والا شخص اپنے بدن کو خارش کر سکتا ہے؟
    آپ نے فرمایا کہ ھاں بالکل کر سکتا ھے - سوالی نے پوچھا کہ کس حد تک کر سکتا ھے؟ امام شعبی نے فرمایا کہ
    جب تک اس کی ھڈیاں نظر آنا شروع ھو جائیں -
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام شعبی سے سوال کیا گیا کہ داڑھی پر مسح کیسے کرنا چاہیے؟
    آپ نے جواب دیا کہ انگلیوں سے خلال کرنا چاھئے ،
    اس پر اس نے کہا کہ اس میں شک رھتا ھے کہ شاید ٹھیک طریقے سے گیلی نہ ھوئی ھو ؟
    اس پر آپ نے فرمایا کہ ایسی صورت میں
    داڑھی کو ابتدائی رات میں ھی بھگو دینا چاہئے -
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام ابوحنیفہ کے پاس ایک شخص مسئلہ پوچھنے آیا کہ جب نہر میں نہایا جائے تو منہ قبلے کی طرف کرنا چاھئے یا دوسری طرف ؟
    آپ نے فرمایا کہ بہتر ھے منہ کپڑوں کی طرف رکھنا چاھئے تا کہ کوئی چرا نہ لے جائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ابن عثیمین سے ایک شخص نے پوچھا کہ بندہ جب دعا کر لے تو کیا کرے؟
    شیخ نے جواب دیا کہ ہاتھ نیچے کر لے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  14. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    *ہم انسان اللّٰہ کے قریب ہونے کے لئے ہمیشہ بڑے بڑے کام کرنے کا سوچتے ہیں؛* جیسے کہ میرے پاس دولت کے ڈھیر لگ جائیں گے تو میں بہت سے لوگوں کے لئے کھانے کا نظام شروع کرواؤں گا.. میں بہت سے لوگوں کے دکھ کم کرنے کے لئے انہیں کاروبار مہیا کروں گا، میں مسجد کی تعمیر کروں گا، میں فلاں بڑا کام کروں گا وغیرہ... اور ہوتا بھلا کیا ہے؟ بندہ سوچتا ہی رہ جاتا ہے، کیونکہ دولت کی فراوانی کے ساتھ اس کے خرچے بھی اتنے ہی بڑھ جاتے ہیں اور وہ بڑے پیمانے پر کام شروع ہی نہیں کر پاتا... بڑی نیکی کرنے کی خواہش رکھنا کوئی بری بات نہیں ہے.. ضرور خواہش رکھیں، مگر اس سے زیادہ ان چیزوں کو.. ان نیکیوں کو کرنے کا سوچیں جن کو ہم حقیر سمجھ کر اہمیت ہی نہیں دیتے... کسی ایک بندے کو کھانا کھلا دیں. مسجد کے لئے ایک اینٹ کے پیسے دے دیں.کسی ایک کی ضرورت پوری کر دیں. کسی ایک کا بوجھ ہلکا کر دیں. کسی ایک کے اداس چہرے پر مسکراہٹ لے آئیں. کسی ایک کو معاف کر دیں. کسی ایک کے لئے آسانی کر دیں. کسی ایک کو راشن دے دیں. کسی ایک کو کپڑے لے دیں..
    چھوٹے چھوٹے قدم بھی آپ کو جنت تک پہنچا سکتے ہیں، اگر اللّٰہ کے لئے اٹھائے جائیں تو... *
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  15. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    *[​IMG]ہم نے ایسا کیا کیا کہ ہماری شادیاں ایمان مکمل کرنے کے بجائے رسم بن گئی ہیں [​IMG]*
    *ہماری شادیاں [​IMG]*
    دلہن کا نیم برہنہ لباس، نامحرم مردوں کا عورتوں کو مختلف زاؤیوں سے فوکس کر کر کے کمرے میں بند کر کے فلمیں بنانا اور باپ ، بھائی کی غیرت کے کان پر جوں تک نہ رینگنا، اور تو اور بعض دیندار گھرانوں میں بھی اس موقع پر حیا کا جنازہ اٹھتا نظر آتا ھے کہ دل خوف سے کانپ جاتا ھے،،،
    [​IMG] مووی میکر‘ فوٹو گرافر ایسے بن ٹھن کر شادی کے پروگرام میں آتے ہیں جیسے شادی ھی ان کی ھو‘
    نا جانے آپ کی عزت کیسے گوارہ کر جاتی ھے کہ ایک غیر مرد آپ کی نئی نویلی دلہن کو آپ سے پہلے دیکھے اور مختلف سٹائلوں سے اس کا فوٹو سیشن کرے ؟؟؟
    [​IMG] افسوس
    اب تو ایسے رنج و غم کا وقت ھے کہ کس کس چیز کو رویا جائے؟؟ دلہا میاں خود مووی میکر‘ فوٹو گرافر کو گائیڈ لائن دے رہا ھوتا ھے یہ میری بہن ھے‘ میری کزن‘ میری خالہ اور یہ دلہن کی بہن‘ اماں‘ خالہ وغیرہ وغیرہ ہیں اور ساتھ ھی اسے سختی سے کہتا ھے کہ سب لیڈیز کی تصویر ٹھیک سے بنانا،،،
    [​IMG][​IMG] لمحہ فکریہ تو یہ ھے کہ جو بندہ جتنا غریب ھے وہ اُتنا ھی زیادہ پیسہ ان گناہ کی رسموں پر خرچ کرتا ھے خواہ اُدھار ھی کیوں نہ لینا پڑے،،،،
    [​IMG][​IMG][​IMG] پوچھو تو یہ لوگ کہتے ہیں ہماری برادری میں ایسا کرنا رواج ھے‘ خاندان میں ناک کٹ جائے گی‘ لوگ کہیں گے فلاں کی شادی پر ناچ گانا‘ فحش عورتوں کا ڈانس‘ آتش بازی‘ فائرنگ نہیں ھوئی شادی میں جانے کا مزہ نہیں آیا،
    [​IMG] یاد رکھو!!!
    [​IMG] جن لوگوں کو دکھانے کیلئے آپ یہ سب بے جا رسمیں ادا کرتے ہیں اُن کو آپ کے بیٹے‘ بیٹی کی طلاق سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ اُن لوگوں کو کوئی پروا نہیں کہ آپ نے پیسہ اُدھار لیا ھے یا دن دیہاڑے ڈاکہ مارا ھے‘ یہی لوگ آپ کی اُولاد کے طلاق کے موقع پر کہتے ہیں اتنی فحاشی تو پھیلائی تھی ان لوگوں نے شادی کے موقع پر توانجام تو برا ھی ھونا تھا،،
    [​IMG] بھئی! دنیا نہیں جینے دیتی دنیا کو نہیں دیکھو اپنی جیب کو دیکھو اسلام کی حدود کو دیکھو‘اسلام نے تو شادی کو انتہائی آسان بنایا ھے۔ان مٹی کے پتلوں (انسانوں) کو ناجائز خوش کرنے کیلئے گنہگار مت بنو‘اللہ تعالیٰ کو خوش کرو گے تو آپ کی شادی کامیاب ہو گی انشاءاللہ
    [​IMG] بہت سے لوگ شادیوں کے موقع پر گھروں‘ پلاٹوں‘ سڑکوں پر ٹینٹ لگا لیتے ہیں اور عورتوں کا ناچ دیکھتے ہیں نکاح کا ان ناچنے والی عورتوں سے کیا تعلق ھے؟؟؟
    [​IMG] بہت سی شادیوں میں دیکھا ھے گھروں کے بزرگ بھی ان فحش محفلوں میں شامل ھوتے ہیں اور ان فحش عورتوں سے فحش حرکات سرعام کرتے ہیں، اور بہت سی جگہوں پر دیکھنے میں آیا ھے کہ ’’دلہا میاں‘‘ خود ان فحش عورتوں کے ساتھ رقص کے ساتھ ساتھ فحش حرکات کرنا بھی ضروری سمجھتا ھے۔ آپ خود فیصلہ کرو یہ شادی کے موقع پر آپ اللہ کے عذاب کو دعوت دے رھے ھو کہ نہیں؟ ایسی شادی میں برکت کیسے آ سکتی ھے؟؟؟؟
    [​IMG] فحش عورت کے ناچ میں جو گناہ اور خرابیاں ہیں ان کو سب جانتے ہیں!!!!
    [​IMG] اب ڈھولک کی بات کرو تو عورتیں ڈھولک ساری ساری رات ایسے بجاتی ہیں جیسے پتہ نہیں یہ ڈھولک نہیں ان کے ’’بے رحم شوہر کا سر‘‘ ھے ڈھولک کی خوب دھلائی کرکے اپنا سارا غصہ ڈھولک پر نکال دیتی ہیں،،، ڈھولک کی آواز سے آس پاس کے لوگوں کی نیند میں خلل آتا ھے کہ نہیں؟
    [​IMG][​IMG] ڈھولک سے دل کو راحت نہیں ملتی تو بڑے بڑے سپیکر لیکر اُس پر ساری ساری رات اور سارا سارا دن گانے لگائے جاتے ہیں کہ پورے شہر کو پتہ چل جائے یہاں شادی کی تقریب ھو رھی ھے‘ جب سارا شہر آپ کی ان حرکتوں سے تنگ ھو گا تو کیا آپ کو یہ لوگ دعا دیں گے کہ اے اللہ ان کی شادی میں برکت ڈال دے؟؟؟
    [​IMG] بہت سے بیمار ایسے بھی ہیں جو بیچارے اپنی ھی کھانسی کی آواز برداشت نہیں کر سکتے‘ تو کیا وہ آپ کے گھر لگے’’دیواروں جتنے سپیکروں‘‘ سے نکلتی ھوئی گانوں کی آوازیں برداشت کر پائیں گے؟
    [​IMG] تو خود اندازہ کرو کہ وہ بیمار انسان آپ کو کتنی بددعائیں دے گا؟ ایسی شادی میں برکت کیسے آئے گی؟؟
    [​IMG] تحریر کا مقصد صرف یہ ھے کہ شادی کو آسان بناؤ اور طلاق و خلع کے رواج کو اپنے سماج سے ختم کرو۔ فضول رسم و رواج کے جھنجٹ کی وجہ سے بہت سے غریب گھروں کے نوجوان لڑکے‘ لڑکیاں بھی غیر شادی شدہ بیٹھے ہیں،
    [​IMG] بزرگوں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے ان فضول رسم و رواج کو اپنی زندگی ھی میں ختم کر جائیں‘ نہیں تو قبروں میں عذاب کا باعث بنے گا!!
    حیا کی ترویج
    ایمانی زوال کے اس دور میں ہمیں قر آن و سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجو ع کرنا ھے اور اپنے مردوں اور عورتوں میں حیا کے وہ بیج بونے کی کوشش کرنا ھے جو معاشرے کو واپس پا کیزگی کے اس معیار کے قریب لے آئیں ،جو اھلیبیت و صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے دور کا خاصہ تھا،،
    گھر کے اندر مرد نگران ھے،، اس کی بنیادی ذمہ داری ھے کہ وہ اپنی اور گھر والوں کے لیے صحیح تعلیم کا بندوبست کرے،
    حقیقت یہ ھے کہ تقدسِ نسواں کا محافظ دراصل مرد ھی ھے۔ اگر مرد اپنی ذمہ داری سے آگاہ ھوجائیں تو معاشرے سے ان برائیوں کا خاتمہ ھوجائے جو عورتوں کی بے مہاری کی وجہ سے پیدا ھوتی ھے!!
    لیکن ھوتا ایسا ھے ، جو مرد غیرت کا پیکر بنا ھوتا ھے ، اس کی غیرت بھی ایسے موقعوں پر پتہ نہیں کہاں غائب ھو جاتی ھے،،
    اکثر نے بس یہی بات رٹی ہوتی ھے، کون سا شادی روز روز ھو گی،،
    بہت سے لوگوں کو میری بات سے اختلاف ھو گا ، لیکن جو سچ تھا ، جو آج کل ھو رہا ھے اس کی طرف توجہ دلانا بہت ضروری تھا!!!
    اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی ہمیں ان فالتو رسم ورواج سے بچنے کی اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائےآمین یا رب العالمین
     
    • زبردست زبردست × 1
  16. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    ابن کثیر روایت کرتے ہیں کہ جب شام، عراق اور حجاز کے علاقوں میں طاعون کی وباء پھیلی جس میں لوگوں کو سخت بخار ہوجاتا اور بیشمار چوپائے اور یہاں تک کہ جنگلی جانور بھی ہلاک ہوگئے اور دودھ اور گوشت کی شدید قلت ہونے لگی۔
    اس وباء کے ساتھ تیز گرم ہوائیں اور طوفان بھی آیا اور بیشمار درخت جڑوں سے اکھڑ گئے لوگوں کو ایسے محسوس ہوا کہ جیسے قیامت آگئی ہو۔
    اس وبائی بیماری کا مقابلا کرنے کے لیے وقت کے عباسی خلیفہ "المقتدی باامراللہ" نے حکم جاری کیا کہ:
    سب لوگ ایک دوسرے کو نیکی کا حکم کریں اور گناہ سے روکیں، پھر موسیقی کے تمام آلات توڑ دیے گئے، شراب کی بوتلیں پھینک دی گئیں ریاست میں موجود تمام بدکاروں کو جلاوطن کردیا گیا اور تھوڑے ہی عرصے بعد بیماری ازخود ختم ہوگئی."حوالہ کتاب" :(البدایہ والنہایہ 13/216)
     
  17. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    قبیلہ عرب کی ایک لڑکی ایک لڑکے پر عاشق ھو گئ مجاز کا بھوت دونوں کہ سر پر چڑھ کر ناچنے لگا مختصر یہ کہ دونوں نے بھاگ کر شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا لڑکی نے کہا میرے پاس ایک تیز رفتار اونٹنی ھے ھم رات کو ندی پار کر کہ دوسرے شہر روانہ ھو جائیں گے لڑکے نے بھی ھاں کر کہ رضا مندی کا اظہار کیا رات کے پچھلے پہر وقت مقررہ پر دونوں ندی کنارے اکٹھے ھوئے لڑکی بولی میں اونٹنی پر سوار ھوتی ھوں تم اسے پیچھے سے ھانکتے ھانکتے ندی پار کرو پھر اوپر بیٹھ جانا ندی پار کر کے لڑکے نے کہا مگر ایسا کیوں میں بھی تمھارے ساتھ ھی بیٹھ جاتا ھوں ھانکنے کی کیا ضرورت ھے خود بخود چل تو رھی ھے۔
    لڑکی نے کہا اسکا باپ بھی ھمارا پالتو اونٹ تھا اسکی عادت تھی کہ وہ بیچ ندی میں جا کر بیٹھ جاتا پانی دیکھ کر مست ھو جاتا اور مارنے پیٹنے پر بھی ڈھیٹ بنا رھتا۔
    یہ اونٹنی بھی پانی میں جا کر بیٹھ جاتی ھے عادت ھے اسکی بھی تو اس لئے تم سے کہہ رھی ھوں کہ اسکو پیچھے سے ھانکتے جانا پھر نہیں بیٹھے گی اور ھمارا وقت بچ جائے گا ھم صبح ھونے سے پہلے شہر سے دور نکل جائیں گے۔
    لڑکے نے کچھ دیر لڑکی کہ چہرے پر نظریں گاڑے رکھیں اور پھر ٹھنڈا لمبا لیا جیسے کوئی پختہ ارادہ کر چکا ھو اور بولا ھم بھاگ کر شادی نہیں کریں گے مقدر ھوا تو نکاح ھو جاے گا نہیں تو جو رب کی رضا تم واپس اپنے گھر چلی جاؤ لڑکی نے کہا مگر کیوں اچانک کیا ھو گیا تمھیں۔
    اس پر لڑکے نے کہا اس اونٹنی کے باپ کی خصلت اس میں منتقل ھو گئ تو کیا میری خصلتیں میری بیٹی میں اور آنے والی نسل میں منتقل نہیں ھوں گی؟ آج میں تمھارے ساتھ بھاگ رھا ھوں کل میری بیٹی کسی اور کیساتھ بھاگ جائے گی۔
    یہ کہہ کر لڑکا واپس پلٹ گیا۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  18. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    *نصاب* کو *کورس* کہا جانے لگا
    اور اس کورس کی ساری کتابیں *بستہ* کے بجائے *بیگ* میں رکھ دی گئیں۔
    *ریاضی* کو *میتھس* کہا جانے لگا۔
    *اسلامیات* ......
    *اسلامک سٹڈی* بن گئی-
    *انگریزی کی کتاب* *انگلش بک* بن گئی- اسی طرح .....
    *طبیعیات*، *فزکس* میں'
    *معاشیات،* *اکنامکس* میں، *سماجی علوم*، *سوشل سائنس*
    میں تبدیل ہوگئے-
    پہلے *طلبہ پڑھائی کرتے تھے*
    اب *اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے*۔
    *پہاڑے* یاد کرنے والوں کی اولادیں *ٹیبل* یاد کرنے لگیں۔
    *اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔*
    *داخلوں کی بجائے* *ایڈمشنز ہونے لگے* ۔....
    *اول، دوم، اور سوم* آنے والے *طلبہ*؛
    *فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ* آنے والے *سٹوڈنٹ* بن گئے۔
    پہلے اچھی کارکردگی پر *انعامات* ملا کرتے تھے پھر *پرائز* ملنے لگے۔
    بچے *تالیاں پیٹنے* کی جگہ *چیئرز* کرنے لگے۔
    *یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔*
    باقی رہے پرائیویٹ سکول، تو ان کا پوچھیے ہی مت۔
    ان کاروباری مراکز تعلیم کیلیے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا گیا تھا،
    *مکتب نہیں، دکان ہے، بیوپار ہے*
    *مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے۔*
    اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، *ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔*
    *زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔*
    *خواب گاہ* کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے *بیڈ روم* کا نام دے دیا۔
    *باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے *برتن کراکری کہلانے لگے*۔
    *غسل خانہ* پہلے *باتھ روم* ہوا پھر ترقی کر کے *واش روم* بن گیا۔
    *مہمان خانہ یا بیٹھک* کو اب *ڈرائنگ روم* کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
    مکانوں میں *پہلی منزل* کو *گراونڈ فلور* کا نام دے دیا گیا اور *دوسری منزل* کو *فرسٹ فلور۔*
    *دروازہ* اب *ڈور* کہلایا جانے لگا،
    پہلے مہمانوں کی آمد پر *گھنٹی* بجتی تھی اب *ڈور بیل* بجنے لگی۔
    *کمرے* کب کے *روم* بن گئے۔
    کپڑے *الماری* کی بجائے *کپبورڈ* میں رکھے جانے لگے۔
    *"ابو جی" یا "ابا جان"* جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف *ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے* کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
    اسی طرح ....
    *شہد کی طرح میٹھا* لفظ *"امی" یا امی جان* اب تو *"ممی" اور مام* میں تبدیل ہو گیا۔
    سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
    *چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ* سب کے سب *ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی"* میں تبدیل ہوگئے۔
    بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
    یعنی *محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔*
    ساری *عورتیں* *آنٹیاں*، بن گیٸں
    *چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی* سب کے سب *کزنس* میں تبدیل ہوگئے،
    *نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی*۔
    نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ *گھروں میں کام کرنے والی خواتین* پہلے بھی *ماسی* کہلاتی تھیں اب بھی *ماسی* ہی ہیں۔
    گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
    *دکانیں, شاپس* میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر *گاہکوں کی بجائے کسٹمرز* آنے لگے،
    آخر کیوں نہ ہوتا کہ *دکان دار بھی تو سیلز مین* بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نے*خریداری* چھوڑ دی اور *شاپنگ* کرنے لگے۔
    *سڑکیں* , *روڈز* بن گئیں۔
    *کپڑے* کا بازار *کلاتھ* مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے *مذکر کو مونث بنادیا گیا*۔
    *کریانے* کی دکان نے *جنرل اسٹور* کا روپ دھار لیا،
    *نائی* نے *باربر* بن کر *حمام* بند کردیا اور *ہیئر کٹنگ سیلون* کھول لیا۔
    ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔
    پہلے ہمارا *دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی*، وہ اب *آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے*
    اور جو کبھی *صاحب* تھے وہ *باس* بن گئے ہیں،
    *بابو* بن گئے *کلرک* اور *چپراسی* بن گئے *پِیُّٶن*
    پہلے *دفتر کے نظام الاوقات* لکھے ہوتے تھے . ...... اب *آفس ٹائمنگ* کا بورڈ لگ گیا-
    *سود* کو *انٹرسٹ* کہا جانے لگا۔
    *صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے*۔
     
  19. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    سلیما ن بن یسار مشہور محدث ہیں سفر حج پر روانہ ہوے راستہ میں جنگل میں پڑاؤ ہوا رفقائے سفر کھانے کا انتظام کرنے کے لئے شہر چلدئے اور یہ مصروف صلاۃ ہوگئے ، ایک عورت خیمہ میں آکر کچھ مانگنے کا اشارہ کیا ، حضرت سلیمان رحمہ اللہ نے کچھ دینا چاہا تو اس عورت نے صاف کہدیا کہ ایک بیوی اپنے شوہر سے جو چاہتی ہے مجھے و ہ چاہئے ، یہ اچھا موقع ہے ہم دونوں جوان ہیں اور تنہائی بھی حاصل ہے ، انھوں نے سوچ لیا کہ یہ تو میری زندگی کی ساری کمائی پر آگ لگا دے گی ، جو جہنم تک لے جائے گی ، اس غم میں اس قدر روئے کہ اس عورت کو شرمندہ ہوکر بھاگنا پڑا ، اس کے واپس چلے جانے پر آپ رب کے شکر گذار ہوئے ، جب کعبۃ اللہ پہنچے اور ارکان سے فارغ ہوئے توخواب میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زیارت ہوئی اور فرمایا کہ : سلیمان !مبارک ہوتم ولی ہوکر نبیوں جیسا کام کر دکھائے۔( حیاء اور پاک دامنی ۱۸ : )
     
  20. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    15,811
    جھنڈا:
    Pakistan
    *ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﺳﺎ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ [​IMG]
    *ﺍﮮ ﺑﮭﻠﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﮑﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ؟*
    *ﺳﻮﺍﻝ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﭼﯿﺨﻨﺎ ﭼﻼﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ۔ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮ ۔*
    *ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﮔﺎﺅﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﯼ ﮨﮯ ۔*
    *ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺩﻭ ﺗﻢ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺣﻢ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻒ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﻮ ۔*
    *ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﮔﮭﮍﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻧﮉﯾﻞ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺗﺮ ﺑﺘﺮ ﮐﺮﻟﯿﺎ ۔*
    *ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﺅﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﮔﺌﮯ ۔ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺍﺱ ﻧﯿﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﮨﮯ ۔ ﮔﺎﺅﮞ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﻮﺍﻧﻤﺮﺩﯼ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ۔*
    *ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ [​IMG]
    *سبق ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ ! ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺳﮑﮫ ﭼﯿﻦ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﺭﮐﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﺎﻝ ﻻﺋﮯ ﮔﯽ ۔*
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر