عباس تابش انتخاب ِعباس تابش

فلک شیر نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 11, 2014

  1. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مرجاتے ہیں
    ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
    جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
    ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اُٹھ کر چپ چاپ
    ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    ان کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
    جو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
    لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش
    جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں​
     
  2. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    زخم چھپانے کو ہم خلعت مانگتے ہیں
    تم کہتے ہو اجرِ ہجرت مانگتے ہیں

    میری دعا سے اور تری آمین سے کیا
    اس بستی کے لوگ قیامت مانگتے ہیں​
     
  3. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    تمہارے شہر کے چاروں طرف پانی ہی پانی تھا
    وہی اک جھیل ہوتی تھی جدھر جاتے تھے ہم دونوں

    سنہری مچھلیاں، مہتاب اور کشتی کے اندر ہم
    یہ منظر گم تھا پھر بھی جھیل پر جاتے تھے ہم دونوں

    زمستاں کی ہواؤں میں فقط جسموں کے خیمے تھے
    دبک جاتے تھے ان میں جب ٹھٹھر جاتے تھے ہم دونوں

    عجب اک بے یقینی میں گزرتی تھی کنارے پر
    ٹھہرتے تھے نہ اُٹھ کر اپنے گھر جاتے تھے ہم دونوں

    کہیں جانا نہیں تھا اس لیے آہستہ رو تھےہم
    ذرا سا فاصلہ کر کے ٹھہر جاتے تھے ہم دونوں

    زمانہ دیکھتا رہتا تھا ہم کو چور آنکھوں سے
    نہ جانے کن خیالوں میں گزر جاتے تھے ہم دونوں

    بس اتنا یاد ہے پہلی محبت کا سفر تھا وہ
    بس اتنا یاد ہے شام و سحر جاتے تھے ہم دونوں

    حدودِ خواب سے آگے ہمارا کون رہتا تھا
    حدودِ خواب سے آگے کدھر جاتے تھے ہم دونوں​
     
  4. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    چاند نکلے اور اس کی عزت افزائی نہ ہو
    کیسے ممکن ہے نگر میں کوئی سودائی نہ ہو
     
  5. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    کس جگہ ہم نے نہیں ٹوٹنے دینا ترا دل
    کس جگہ ہم نے بدلنا ہے بیاں جانتے ہیں​
     
  6. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    نیند آتے ہی مجھے اُس کو گزر جانا ہے
    وہ مسافر ہے جسے میں نے شجر جانا ہے

    چاند کے ساتھ بہت دور نکل آیا تھا
    اب کھڑا سوچتا ہوں میں نے کدھر جانا ہے

    اس کو کہتے ہیں ترے شہر سے ہجرت کرنا
    گھر پہنچ کر بھی یہ لگتا ہے کہ گھر جانا ہے​
     
  7. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    ہم لوگ تری چُپ بھی کہاں جھیل سکے ہیں
    اس پہنچے ہوئے تیر کو جملے میں نہ رکھنا​
     
  8. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    دل کی ضد تھی کہ اسے دور سے چاہا جائے
    اور تنہائی اسے ہاتھ لگا بھی آئی

    میرے اطراف میں رات ایسی بلا کی چُپ تھی
    پھول ٹوٹا تو مجھے اس کی صدا یاد آئی

    میں ابھی سوچ رہا تھا کہ کھلوں یا نہ کھلوں
    میری چپ جا کے اسے بھید بتا بھی آئی

    میں نے اب تک نہیں دنیا کو مقابل جانا
    اپنی دانست میں وہ مجھ کو گرا بھی آئی

    حسنِ محجوب تری ایک جھلک کی خاطر
    اِک پیمبرؐ ہی نہیں ، خلق خدا بھی آئی

     
  9. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    میں بے وفا ہوں مجھ کو گریبان سے پکڑ
    اور مجھ سے پوچھ میں ترا غم کدھر کیا​
     
  10. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    شہر کو شورِ قیامت چاہیے
    یار یہ دو چار چڑیاں کیا کریں

    شاخ سے کیوں توڑ لیں تازہ گلاب
    کیوں کسی تتلی کا حق مارا کریں

    تم مکمل بات پر خاموش ہو
    لوگ تو پورا مرا جملہ کریں

    قیس مل جائےتو پوچھیں مرشدا
    عشق کرنا چھوڑ دیں ہم یا کریں​
     
  11. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    ہم بھی کہتے ہیں کہ سب کچھ ہے ہمارے دم سے
    ہم بھی گزرے ہوئے لوگوں کی طرح سوچتے ہیں

    تیرے ہاتھوں سے کسی دن نہ جھپٹ لیں تجھ کو
    ہم محبت میں غریبوں کی طرح سوچتے ہیں

    یہ میاں اہلِ محبت ہیں انہیں کچھ نہ کہو
    یہ بڑے لوگ ہیں بچوں کی طرح سوچتے ہیں​
     
  12. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    زندگی بھر چاہے جانے کی اذیت سے گزر
    پیدا کرنے والے نے تجھ کو حسیں پیدا کیا​
     
  13. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    میں کوئی شاخِ شکستہ ہوں اور تو اس کی ٹیک
    یار اپنا سلسلہ یک جان و دو قالب نہیں

    لیکن اتنا دھیان رکھنا میں پرندوں کی طرح
    تم پہ اپنا حق جتاتا ہوں مگر غاصب نہیں​
     
  14. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یوں ہی پہچان کی ذلت سے نکل کر دیکھوں
    نام تبدیل کروں شکل بدل کر دیکھوں

    ہو بھی سکتا ہے کنارے پہ کھڑا ہو کوئی
    ڈوبتے ڈوبتے اک بار اُچھل کر دیکھوں
     
  15. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یہ جو میں بھاگتا ہوں وقت سے آگے آگے
    میری وحشت کے مطابق یہ روانی کم ہے

    غم کی تلخی مجھے نشہ نہیں ہونے دیتی
    یہ غلط ہے کہ تری چیز پرانی کم ہے

    ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار
    اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے

    اس سمے موت کی خوشبو کے مقابل
    کسی آنگن میں کھلی رات کی رانی کم ہے​
     
  16. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    کہ جیسے آندھیاں بارش کو ساتھ لاتی ہیں
    وہ رو پڑا مجھے قدموں کی دھول کرتے ہوئے​
     
  17. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    کہیں خوشبو کہیں جگنو، کہیں میں تو نکلتے ہیں
    بہت بکھرے ہوئے لیکن بہت یکسو نکلتے ہیں

    ہم اپنے اپنے گھر سے یوں نکل آئے محبت میں
    کہ جیسے شدتِ جذبات میں آنسو نکلتے ہیں​
     
  18. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    جانتا ہوں کیسے ہوتی ہے سحر
    زندگی کاٹی ہے بیماروں کے بیچ​
     
  19. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    یوں ہی ممکن ہے یہ وقت آنکھ میں پانی ہو جائے
    رات لمبی ہے بہت کوئی کہانی ہو جائے

    شعر ہوتے ہیں نہ روتے ہیں نہ مل بیٹھتے ہیں
    کس طرح ختم طبیعت کی گرانی ہو جائے

    اپنے کمرے کے میں پردے ہی ہٹا دوں تابش
    یوں ہی ممکن ہے مری شام سہانی ہو جائے​
     
  20. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,367
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    قہوہ خانے میں دھواں بن کے سمائے ہوئے لوگ
    جانے کس دھن میں سلگتے ہیں بجھائے ہوئے لوگ

    اپنا مقسوم ہے گلیوں کی ہوا ہو جانا
    یار ہم ہیں کسی محفل سے اٹھائے ہوئے لوگ

    شکل تو شکل مجھے نام بھی اب یاد نہیں
    ہائے وہ لوگ وہ اعصاب پہ چھائے ہوئے لوگ
     

اس صفحے کی تشہیر