امریکہ کا سفر نامہ

سید رافع نے 'اراکین کے سفرنامے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 28, 2021

  1. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مزاج میں ابر جیسی شگفتگی ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  2. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    20,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بالکل ایسا ہی ہے ہماری تو بھاوج اور بھتیجے بھتیجیاں ہیں سارے ٹھنڈے اور دھیمے مزاج ہماری قوم کی طرح نہیں کہ اکثریت سبز مرچ منہ میں رکھے بیٹھا ہے اور تیز دھار الفاظ سے لوگوں پر وار ۔۔۔:crying3::crying3:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    میں ملائشین لوگوں کی منکسر المزاجی کا اس وقت اور مداح ہو گیا جب انکے گورنمنٹ اور ٹیکس ڈپارٹمنٹ جانا ہوا۔ نہایت خندہ پیشانی سے سب پیش آرہے تھے۔ آفس اور بازاروں میں ملئے لوگوں کا انکسار پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔

    چلیں اب کچھ بات امریکہ کے لوگوں کی ہو جائے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  4. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    4,203
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    یہاں بیچارے معاشی جنگ روز لڑتے ہیں اوپر سے کورونا وائرس پڑھائی لکھائی بھی بند ہے تو کہاں سے ہمارے معاشرے میں سُدھار پیدا ہوگا
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آفس جاتے ابھی تین روز ہی ہوئے تھے کہ مجھے بتایا گیا کہ آج مجھے اور وائف کو دوپہر کے کھانے پر لے جایا جائے گا۔ دو پاکستانی جو کچھ عرصے سے کمپنی میں تھے ہمیں اپنی گاڑی پر نزدیکی حلال کھانے کے ریسٹورنٹ لے گئے۔ وہاں ہم نے کمپنی کے بل پر کھانا کھایا۔ راستے میں مجھے گاڑی کے ہیٹر سے سر درد ہونے لگا۔ انہی میں سے ایک صاحب نے ٹلینول لے کر دی۔ وہاں دو گولیاں کھلی ملنے کا رواج نہیں سو پوری پچاس گولیوں کی شیشی خریدنی پڑی۔ بہرکیف ہم کو انہوں نے سر شام گھر کے پاس چھوڑا اور خود علیک سلیک کے بعد رخصت ہوئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    4,203
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    جب اتنا بہتر ماحول میسر ہے وہاں تو پھر واپسی کیوں؟
     
  7. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ہر معاشرے میں اہل محبت ہوتے ہیں اور منتشر المزاج لوگ بھی۔ اہل محبت کی صحبت اور اہل محبت کی کتابیں سدھار اور عافیت کے نزدیک کرتی ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏جون 8, 2021
    • متفق متفق × 1
  8. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    4,203
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    پر لوگوں کو اچھے لوگوں کی صحبت کہاں نصیب ہورہی ہے
    کورونا کی وجہ سے سب لوگوں نے جو چھوٹی موٹی دعوتیں اجتماعات وغیرہ سب پر پابندی عائد ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اگر سچی طلب ہو تو یہ کتاب تذکرة الاولیاء فیض منتقل کرتی ہے۔

    شیخ فرید الدین عطار | ریختہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    4,203
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    لاگ اِن ہوکر دیکھنا ہوگا اِس میں تو
     
  11. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    20,495
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بھیا اخلاق میں سدھار کے تعلق کو کورونا سے مت جوڑیں
     
    • متفق متفق × 1
  12. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اس سے جواب ملے گا:

    ایک کہانی
     
  13. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    4,203
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    کورونا کی وجہ سے پڑھائی متاثر ہورہی ہے جب لوگ پڑھیں گے نہیں تو اخلاق کہاں سے درست ہونگیں
     
  14. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    دہ ماہ تک میں ڈاون ٹاون میں کمپنی کے فراہم کردہ اپارٹمنٹ میں رہا۔ ایک دن صبح سویرے کمرے میں لگا گرم پانی سے چلنے والا ہیٹر لیک کرنے لگا۔ جلد ہی بھاپ ہی بھاپ کمرے میں بھر گئی اور فرش پر نیم گرم ہو گیا۔ میں نے اٹھ کر ہیٹر کو بند کیا، کھڑکیاں کھولیں اور مالک مکان کو کال کی۔ کچھ دیر بعد ایک ہیٹر مکینک آیا اور ہیٹر کو ٹھیک کر کے چلا گیا۔

    جب میں کلف سائڈ کامنز منتقل ہوا اور کمپنی کو پتہ چلا کہ میں نے گاڑی لے لی ہے تو انہوں نے مجھے تیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ٹاون، آرلنگٹن میں کلائنٹ کے پراجیکٹ پر منتقل کر دیا۔ پہلے دن کمپنی کا سینئر آرکیٹیکٹ مجھے کلائنٹ سے ملاقات کے لیے لے گیا۔ اگلے دن سے مجھے خود ہائی وے پر ڈرائیو کر کے وہاں پہنچنا تھا۔

    ایک دن میں نے واپسی کے وقت گاڑی کو بغیر انڈیکیٹر دیے لین تبدیل کر لی۔ پیچھے سے ایک ہارن بجاتی گاڑی گزری جس میں بِیٹھی خاتون کے چہرے سے خوف نمایاں تھا۔ آہستہ آہستہ مجھے ہائے پر ڈرائیونگ اور مختلف موسمی حالات میں گاڑی چلانے کا تجربہ ہوتا جا رہا تھا۔

    کلائنٹ سے گپ شپ چلتی رہتی۔ وہ ایک نئی میڈیکل پراڈکٹ کے صفحات مجھ سے بنوا رہا تھا۔ انکا سارا سسٹم سیپ پر تھا۔ میں ان لوگوں کے ساتھ کبھی کبھار لنچ کر لیتا۔ وہاں میری کہانی سنانے کی عادت جوش مارتی اور میں ان کو ہندو مسلم کلچر کی شادیوں اور کھانوں کے بارے میں خوب بڑھ چڑھ کر بتاتا۔ وہ بھی دلچسپی سے ان قصوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے۔

    ایک دن میں نے واپسی کے وقت سوچا کہ کیوں نہ پیٹرول ٹینک فل کرا لیا جائے۔ گیس اسٹیشن پر پہنچ کر میں نے گاڑی آف کی اور نیچے اترا۔ سردی سے بچنے کے لیے سارے شیشے بند کیے ہوئے تھے۔ گاڑی کی چابی اگنیشن میں لگی ہوئی تھی۔ ابھی میں پیٹرول بھرنے کو ہی تھا کہ 'کلچ' کی آواز آئی اور سارے دروازے لاک ہو گئے۔ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ چابی لگے لگے بھی گاڑی کے دروازے آٹومیٹک بند ہو جاتے ہیں۔ میں پیٹرول بھرکر دروازے کے قریب ٹہلنے لگا کہ کیا کیا جائے۔ اسی اثناء میں پیٹرول پمپ کا ایک ملازم میری طرف آیا۔ جب میں نے اسکو صورتحال سمجھائی تو وہ کہنے لگا کہ شیشہ توڑنا ہی اس کا واحد حل ہے۔ ابھی وہ مجھ سے بات کر ہی رہا تھا کہ مجھے خیال آیا کہ ایک اور چابی گھر پر ہے۔ اس زمانے میں میرے پاس موبائل فون نہیں ہوتا تھا لیکن کمپنی نے بلیک بیری کی ایک ٹیکسٹ بھجینے کی ڈائوائس دی تھی۔ کمپنی میں ایک صاحب تھے جو کافی عرصے سے امریکہ میں تھے اور مشیگن سے بوسٹن منتقل ہوئے تھے۔ ہر ایک کی بڑھ چڑھ کر مدد کرتے۔ انکی اپنی فیملی پاکستان گئی ہوئی تھی۔ مجھے خیال آیا کیوں نہ ان سے چابی یہاں منگوا لی جائے۔ وہ بے چارے آفس سے پہلے میرے گھر گئے چابی لی اور پھر تیس کلو میٹر کا سفر کر کے گیس اسٹیشن پر مجھے چابی لا کر دی۔ گیس اسٹیشن کا ملازم گاڑی چلتی دیکھ کر مجھے دیکھ کر مسکرانے لگا جیسا کہ شیشہ نہ توڑنے پر اسے خوشی ہوئی ہو۔

    بلیک بیری ڈوائس جس کی وجہ سے گاڑی کا شیشہ ٹوٹنے سے بچا۔

    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست × 1
  15. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بوسٹن کا موسم عجیب انداز میں تبدیل ہو رہا تھا۔ جہاں دسمبر سے فروری برفباری ہوئی تھی اور ہیٹر چل رہے تھے اب مارچ میں کبھی کبھار پنکھے کی ضرورت رہتی۔ شہر بھر میں رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں لگ گئیں تھیں۔ حکومت کی جانب سے سڑکوں کے کنارے اور درمیان میں بنی مخصوص کیاریوں میں بھی رنگ برنگے پھول کھلے تھے۔

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک دن میں یونہی کسی کام سے نکلا۔ ریڈ سگنل ہو چکا تھا سو کراسنگ کے نزدیک میں نے گاڑی کی رفتار دھیمی کرنی شروع کی۔ میرے آگے ایک بائیکر تھا۔ میں بائیکر کے آگے اپنی گاڑی لے گیا جیسے ہم لین میں ہوتے ہوئے بھی کراچی میں بائک کے آگے گاڑی لے جا سکتے ہیں۔ میری گاڑی کا شیشہ نیچے تھا چنانچہ وہ بائیکر میرے نزدیک آیا اور کہا "Do you have a problem"۔ میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔

    [​IMG]
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  17. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہار کے موسم کو بوسٹن کے آبائی لوگ خوب مناتے ہیں۔ اب مارچ میں انہوں نے ہوائی چپلوں پہننا شروع کر دیں اور ٹی شرٹ اور نیکر کو اپنا لباس بنا لیا تھا۔ میں بدستور جیکٹ اور دیگر گرم لباس میں ہوتا۔ ایک دن میں نے چارلس دریا کے اردگرد درجنوں لوگوں کو اسی قسم کے لباس میں جاگنگ کرتے دیکھا۔ سوچا کیوں نہ جیکٹ اتار دی جائے اور دریا کی سیر کی جائے۔ گاڑی پارک کر کے میں جونہی سو میٹر چلا میری تھرتھری چھوٹ گئی۔ ہاتھ جمتے محسوس ہونے لگے۔ کسی نہ کسی طرح گاڑی تک پہنچا اور ہیٹر آن کیا تو دم میں دم آیا۔

    [​IMG]

    امریکہ میں ریسیشن شروع ہو چکا تھا۔ کاروبار دھڑا ڈھر ناکام ہو رہے تھے اور اپنے ملازمین کو نکال رہے تھے۔ اگر میں نومبر میں بوسٹن نہ آگیا ہوتا تو مجھے بھی نہ بلایا جاتا۔ ہماری کمپنی جو 300 ملازمین کو رکھنے کا ارادہ رکھتی تھی اب ہر ہفتے درجنوں افراد کو نکال رہی تھی۔ صرف پاکستان اور انڈیا سے 43 افراد کو نہیں بلایا گیا۔ ایک دن درجینا سے آئی ایک خاتون مینیجر روتی ہوئی لفافہ لے کر آئی۔ وہ دو ماہ قبل ہی اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ بوسٹن آئی تھی اور اب اسے پراجیکٹ نہ ملنے کے سبب نکال دیا گیا تھا۔ ہمارا آفس سکڑ کرسولوئین اسکوئر سے چارلس دریا کے پاس منتقل ہو چکا تھا۔

    ایک دن میں کسی سوچ میں چارلس ریور سے ملحقہ سڑک سے گزر رہا تھا۔ میرے گھر کا ایکزٹ اچانک آجاتا تھا۔ اگر آپ 60 کی رفتار سے گاڑی چلا رہے ہیں اور دھیان نہیں تو لُپ سے ایکزٹ نکل جاتا۔ ایک دفعہ آپ آگے نکل جائیں تو پل سے دوسرے طرف جانا پڑتا اور پھر قریبا 8 یا 10 میل گاڑی چلانی پڑتی۔ یہ ہی ہوا کہ میں ایسا سوچوں میں غرق تھا کہ پہلی بار ایکزٹ نکل گیا اور میں نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔ پھر دوسری دفعہ میں پوری طرح تیار تھا لیکن دوسری بار بھی کچھ خیال نہ رہا اور میں ایکزٹ سے آگے نکل گیا۔ بلاآخر تیسری دفعہ میں خوب محتاط رہا اور گھر کے ایکزٹ پر آ گیا۔

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. waseem_mts

    waseem_mts محفلین

    مراسلے:
    720
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    شکر کریں ایگزٹ مل گیا نہیں تو آج بھی سفرنامہ لکھنے کے بجائے ایکزٹ ہی ڈھونڈ رہے ہوتے :p
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  19. سید رافع

    سید رافع محفلین

    مراسلے:
    2,335
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    :p:p:p
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر