امراؤ جان ادا (مرزا رسوا ہادی)
امراؤ جان ادا گفتگو دھاگہ

ریختہ صفحہ 16
ایک دن حسب معمول احباب کا جلسہ تھا، کوئی غزل پڑھ رہا تھا۔ احباب داد دے رہے تھے۔ اتنے میں میں نے ایک شعر پڑھا، اُس کھڑکی کی طرف سے واہ کی آواز آئی میں چپ ہو گیا اور احباب بھی اُسی طرف متوجہ ہو گئے۔ منشی احمد حسین نے پکار کے کہا: "غائبانہ تعریف ٹھیک نہیں، اگر شوقِ شعر و سخن ہے تو جلسہ میں تشریف لائیے۔" اس کا کوئی جواب نہ ملا۔ میں پھر غزل پڑھنے لگا۔ بات رفت گزشت ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک مَہری آئی۔ اس نے سب کو سلام کیا پھر یہ کہا، "مرزا رسواؔ کون صاحب ہیں۔" احباب نے مجھے بتا دیا۔

مَہری نے کہا۔ بیوی نے ذرا آپ کو بلایا ہے۔
میں نے کہا، کون بیوی؟
مَہری نے کہا، بیوی نے کہہ دیا ہے، نام نہ بتانا، آگے آپ کا جو حکم ہو۔
مجھے مہری کے ساتھ جانے میں تامل ہوا۔ احباب مجھ سے مذاق کرنے لگے۔
ہاں صاحب کیوں نہیں، کبھی کی صاحب سلامت ہے جب تو اس طرح بلا بھیجا۔

میں دل میں غور کر رہا تھا کہ کون صاحب ایسے بے تکلف ہیں، اتنے میں اُدھر مہری نے کہا کہ حضور بیوی آپ کو اچھی طرح جانتی ہیں جب تو بلا بھیجا ہے۔ آخر جانا ہی پڑا۔ جا کے جو دیکھا معلوم کوا۔ آہ ہا! امراو جان صاحب تشریف رکھتی ہیں۔
امراؤ جان:- (دیکھتے ہی) اللّٰہ مرزا صاحب آپ تو ہمیں بھول ہی گئے۔
میں:- یہ معلوم کسے تھا کہ آپ کس کوہِ قاف میں تشریف رکھتی ہیں۔
امراو جان:- یوں تو میں اکثر آپ کی آواز سنا کرتی تھی مگر کبھی بلانے کی جرأت نہ ہوئی۔ مگر آج آپ کی غزل نے بے چین کر دیا۔ بے ساختہ منہ سے واہ نکل گیا، اُدھر کسی صاحب نے کہا یہاں آئیے۔ میں اپنی جگہ پر آپ ہی شرمندہ ہوئی۔ جی میں آیا چپ ہو رہوں مگر دل نہ


صفحہ 17
مانا۔ آخر اگلی خصوصیتوں کے لحاظ سے آپ کو تکلیف دی۔ معاف کیجیے گا۔ ہاں وہ شعر ذرا پھر پڑھ دیجیے۔
میں:- معاف تو کچھ بھی نہ ہوگا اور نہ میں شعر سناؤں گا۔ اگر آپ کو شوق ہے تو وہیں تشریف لے چلیے۔
امراوجان:- مجھے چلنے میں کوئی عذر نہیں مگر خیال ہے کہ صاحبِ خانہ یا اور کسی صاحب کو میرا جانا ناگوار نہ ہو۔
میں:- آپ کے حواس درست ہیں؟ بھلا ایسی جگہ میں آپ کو چلنے کے لیے کیوں کہتا۔ بے تکلف صحبت ہے، آپ کے جانے سے اور لطف ہوگا۔
امراوجان:- یہ تو سچ ہے مگر کہیں زیادہ بے تکلفی نہ ہو۔
میں:- جی نہیں، وہاں میرے سوا کوئی آپ سے بے تکلف نہیں ہوسکتا۔
امراوجان:- اچھا تو کل آؤں گی۔
میں:- ابھی کیوں نہیں چلتیں؟
امراؤ: اے ہے! دیکھیے تو کِس حیثیت سے بیٹھی ہوں۔
میں:- وہاں کوئی مجرا تو نہیں ہے، بے تکلف صحبت ہے، چلی چلیے۔
امراؤ:- اوئی مرزا! آپ کی تو باتیں لاجواب ہوتی ہیں، اچھا چلیے میں آتی ہوں۔
میں اُٹھ کے چلا آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد امراوجان صاحبہ ذرا کنگھی چوٹی کرکے کپڑے بدل کے آئیں۔
میں نے احباب سے چند الفاظ میں ان کے مذاقِ شعر وسخن اور کمالِ موسیقی وغیرہ کی تعریف کردی تھی۔ لوگ مشتاق ہوگئے تھے۔ جب وہ تشریف لائیں تو یہ ٹھہری کہ سب صاحب اپنا اپنا کلام پڑھیں اور وہ بھی پڑھیں۔ خلاصہ یہ کہ بڑے لطف کا جلسہ ہوا۔ اُس دن سے امراوجان اکثر شام کو چلی آتی تھیں۔ گھنٹہ دو گھنٹہ نشست رہتی تھی

صفحہ 18
کبھی شعر شاعری کا جلسہ ہوا، کبھی انھوں نے کچھ گایا۔ احباب محظوظ ہوئے، ایسے ہہ جلسے کی کیفیت ہم یہاں لکھے دیتے ہیں۔ ان مشاعروں میں نہ کوئی طرح مقرر کی جاتی تھی اور نہ بہت سے لوگوں سے وعدے لیے جاتے تھے صرف بے تکلف احباب جمع ہوجاتے تھے اور اپنی اپنی تازہ تصنیف غزلیں پڑھتے تھے۔

مشاعرہ
کِس کو سنائیں حالِ دلِ زار اے اداؔ
آوارگی میں ہم نے زمانے کی سیر کی

مرزا رسوا:- کیا کہنا بی امراوجان صاحبہ۔ یہ مقطع تو آپ نے حسب حال کہا ہے اور شعر کیوں نہ ہوں۔
امراؤ جان:- تسلیم مرزا صاحب! آپ کے سر کی قسم بس وہ مطلع تھا اور یہ مطلع خدا جانے کس زمانے کی غزل کا ہے، زبانی کہاں تک یاد رہے بیاض نگوڑی گم ہو گئی۔
منشی صاحب:- اور وہ مطلع کیا تھا، ہم نے نہیں سنا۔
رسوا :- آپ تو اہتمام میں مصروف ہیں سنے کون؟

اس میں شک نہیں کہ منشی صاحب نے آج کے جلسے کے لیے بڑے سلیقے سے انتظام کیا تھا، گرمیوں کے دن تھے، مہتابی پر دو گھڑی دن رہے چھڑکاو ہوا تھا تاکہ شام تک زمین سرد رہے، اسی پر دری بچھا کے اجلی چاندنی کا فرش کر دیا گیا تھا۔ کوری کوری صراحیاں پانی بھر کے کیوڑا ڈال کے منڈیر پر چنوا دی گئی تھیں۔ ان پر بالو کے آبخورے ڈھکے ہوئے تھے۔ برف کا انتظام علیٰحدہ کیا گیا تھا۔ کاغذی ہنڈیوں میں سفید پانوں کی سات سات گلوریاں سرخ صافی میں لپیٹ کر کیوڑے میں بسا کر رکھ دی گئی تھیں۔ ڈھکنیوں پر

صفحہ 19
تھوڑا تھوڑا کھانے کا خوشبو دار تمباکو رکھ دیاتھا، ڈیڑھ خمے حقّوں کے نیچوں میں پانی چھڑک چھڑک کر ہار لپیٹ دیے تھے، چاندنی رات تھی اس سے روشنی کا انتظام زیادہ نہیں کرنا پڑا صرف ایک سفید کنوں دورے کے لیے روشن کر دیا گیا تھا۔ آٹھ بجتے بجتے سب احباب ہیرصاحب، آغا صاحب، خاں صاحب، شیخ صاحب، پنڈت صاحب وغیره
وغیرہ تشریف لائے۔ پہلے شیر فالودہ کے ایک ایک پیالے کا دور چلا پھر شعر و سخن کا چرچا ہونے لگا۔
منشی صاحب:- تو پھر اہتمام آپ کیجیے بندہ شعر سنے گا۔
رسوا:- معاف فرمائیے، یہ درد سر مجھ سے نہ ہو گا۔
منشی صاحب:- اچھا وہ مطلع کیا تھا؟
امراؤ:- میں عرض کیے دیتی ہوں۔

کعبے میں جا کے بھول گیا راہ دیر کی
ایمان بچ گیا مرے مولا نے خیر کی

منشی صاحب:- خوب کہا۔
خاں صاحب:- اچھا مطلع کہا ہے مگر یہ "بھول گیا" کیوں؟
امراو جان:- تو کیا خاں صاحب میں ریختی کہتی ہوں؟
خاں صاحب:- مزا تو ریختی کا ہے "مرے مولا نے خیر کی" آپ ہی کی زبان سے اچھا معلوم ہوتا ہے۔
رسوا:- بس آپ کے حملے شروع ہوگئے ۔ لے شعر سننے دیجئے۔ خاں صاحب اگر سب آپ ہی کے سے محقق ہوجائے تو شعر گوئی کا مزا تشریف لے جائے۔

ہر گلے را رنگ و بوے دیگر است

خاں صاحب:- ( کسی قدر برے تیوروں سے ) درست۔
رسوا:- امراؤ جان! اچھا تو کوئی اور غزل پڑھو۔

صفحہ 20
امراؤ :- دیکھیے کچھ یاد آئے تو عرض کروں( تھوڑی دیر کے بعد)

شبِ فرقت بسر نہیں ہوتی

حضار جلسہ:- واہ واہ سبحان اللہ کیا کہنا۔

امراوجان:- (تسلیمیں کرکے)یہ شعر ملاحظہ ہو

شورِفریاد فلک پہونچا
مگراس کی خبرنہیں ہوتی

رسوا:- یہ کیا شعر کہا ہے۔(حضارنےبھی تعریف کی)
امراؤ:- آپ کی عنایت۔تسلیم تسلیم۔

تیرے کوچے کے بے نواؤں کو
ہوسِ مال و زر نہیں ہوتی

حباب:- تعریف۔
امراو:- تسلیم۔

جان دینا کسی پہ لازم تھا
زندگی یوں بشر نہیں ہوتی

رسوا:- واہ! خان صاحب یہ شعر ملاحظہ ہو
خان صاحب:- واہ سبحان اللہ! حقیقت میں کیا شعر ہے۔

امراو:- تسلیم!آپ سب صاحب قدر افزائی فرماتے ہیں۔ ورنہ میں میری حقیقت کیا ۔

ہے یقین وہ نہ آئیں گےپھر بھی
کب نگہ سوےڈر نہیں ہوتی

خان صاحب:- یہ بھی خوب کہا۔
پنڈت صاحب:- کیا طرز کلام ہے۔
 
آخری تدوین:

شمشاد

لائبریرین
صفحہ کتاب 153، صفحہ ریختہ 154

تیسرے دن رائے بریلی میں داخل ہوئے۔ یہاں سفر کے مناسب کپڑا خریدا۔ میرے دو جوڑے بنوائے۔ لکھنؤ سے جو کپڑے پہن کے آئی تھی اتار کے گٹھری میں باندے۔

رائے بریلی سے بیل گاڑی کو جو لکھنؤ سے آئی تھی، رخصت کیا۔ دوسری گاڑی کرائے پر کی۔ لال گنج کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ وصبہ رائے بریلی سے کوئی نو دس کوس کے فاصلے پر ہے۔ شاموں شام پہنچ گئے۔ رات بھر سراے میں رہے۔ فیض علی ضروری سودے سلف کو بازار گئے۔ جس کوٹھری میں ہم تھے اس کے پاس والی کوٹھری میں ایک دیہاتی رنڈی اتری ہوئی تھی۔ نصیبن نام تھا۔ گہنے پاتے سے درست تھی۔ کپڑے بھی اچھے تھے۔ تھی تو دیہاتی مگر زبان بہت صاف تھی۔ لب و ؛پکپ قصباتیوں کا ایسا تھا۔ میرے اس کے دیر تک باتیں ہوا کیں۔

نصیبن آپ کہاں سے آئی ہیں؟
میں فیض آباد سے۔
نصیبن : فیض آبا مین تو میری بہن پیارن رہتی ہے آپ ضرور جانتی ہوں گی؟
میں : (آخر پہچان گئی نہ کہ میں بھی رنڈی ہوں) میں کیا جانوں۔
نصیبن : فیض آباد میں کون ایسی پتُریا ہے جو ہم کو نہیں جانتی۔
میں : بہت دنوں سے ان کے گھر بیٹھ گئی ہوں۔یہ لکھنؤ میں رہتے ہیں اسی لیے میں بھی اکثر وہیں رہتی ہوں۔
نصیبن : آخر پیدایش تو تمہاری فیض آباد کی ہے؟
میں : (یہ تو بالکل سچ کہتی ہے۔ اب کیا جواب دوں) ہاں پیدا تو وہاں ہوئی مگر بچپنے سے باہر رہی۔
نصیبن : تو فیض آباد میں کسی کو نہیں جانتیں؟


صفحہ کتاب 154، صفحہ ریختہ 155

میں : کسی کو نہیں۔
نصیبن : یہاں کیوں کر آنا ہوا؟
میں : ان کے ساتھ ہوں۔
نصیبن : اور جاؤ گی کہاں؟
میں : اُناؤ۔
نصیبن :لکھنؤ ہوتی ہوئی آئی ہو؟
میں : ہاں
نصیبن :پھر سیدھا راستہ چھوڑ کر ادھر بیہڑ میں کہاں آئی ہو۔ نرپت گنج ہو کے اُناؤ چلی گئی ہوتیں۔
میں : رائے بریلی میں اُن کا کچھ کام تھا۔
نصیبن :میں نے اس لیے کہا کہ ادھر کا راستہ بہت خراب ہے۔ ڈاکوؤں کے مارے مسافروں کی آمد و رفت بند ہے۔ پلیا کی بیہڑ میں سیکڑوں کو لوٹ لیا۔ اُناؤ کا راستہ ادھر ہی سے ہو کے ہے۔ تم تین آدمی ہو جس میں دو مرد ایک عورت ذات۔ تمہارے ہاتھ گلے میں گہنا بھی ہے۔ بھلا تمہاری کیا حقیقیت ہے وہاں تو براتیں لُٹ جاتی ہیں۔
میں : تن بہ تقدیر
نصیبن :بڑی دل کی کڑی ہو۔
میں : پھر کیا کروں؟

اس کے بعد ادھر اُدھر کی باتیں ہوا کیں جن کا دہرانا کوئی ضرور نہیں اور نہ مجھے یاد ہیں۔ ہاں میں نے پوچھا۔

تم کہاں جاؤ گی؟


صفحہ کتاب 155، صفحہ ریختہ 156

نصیبن : ہم تو گدائی کو نکلے ہیں۔
میں : نہیں سمجھی۔
نصیبن : اے لو گدائی نہیں جانتیں۔ کیسی پتُریا ہو؟
میں : بہن میں کیا جانوں۔ گدائی تو بھیک مانگنے کو کہتے ہیں۔
نصیبن : ہمارے دشمن بھیک مانگیں اور سچ پوچھو تو میں کہوں، پتُریا کی ذات تو بھیک منگنی ہے اس میں ڈیرہ دار ہو یا نہ ہو۔
میں : ہاں سچ تو ہے مگر مجھے نہیں معلوم تھا گدائی کسے کہتے ہیں۔
نصیبن : سال میں ایک مرتبہ ہم لوگ گھر سے نکل کے گاؤں گاؤں پھرتے ہیں۔ امیر رئیسوں کے مکان پر جا کے اترتے ہیں جو کچھ جس کے مقدور میں ہوتا ہے ہمیں دیتا ہے۔ کہیں مجرا ہوتا ہے کہیں نہیں ہوتا۔
میں : اچھا اس کو گدائی کہتے ہیں۔
نصیبن : ہاں اب سمجھیں۔
میں : یہاں کسی رئیس کے پاس آئی ہو؟
نصیبن : یہاں سے تھوڑی دور پر ایک شمبھو دھیان سنگھ راجہ کی گڑھی ہے، انہیں کے پاس گئی تھی۔ راجہ صاحب کو بادشاہی حکم پہونچا ہے۔ ڈاکوؤں کے بند و بست کو گئے ہوے ہیں۔ کئی دن ٹھہری رہی آخر دم گھبرایا یہاں چلی آئی۔ یہاں سے دو کوس پر ایک گاؤں ہے سمریہا۔ وہ گاؤں بالکل پتُریوں کا ہے، وہاں میری خالہ رہتی ہیں۔ کل ان کے پاس جاؤں گی۔
میں : پھر کہاں جاؤ گی؟
نصیبن : میں ٹھہری رہوں گی جب راجہ صآحب آ جائیں گے تو پھر گڑھی کو جاؤں گی اور بہت سے ڈیرے بھی ان کے انتظار میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔


صفحہ کتاب 156، صفحہ ریختہ 157

میں : کیا راجہ صاحب کو ناچ مجرے کا بھی شوق ہے؟
نصیبن :بہت شوق تھا۔
میں : کیوں اب کیا ہوا؟
نصیبن :جب سے ایک پتُریا لکھنؤ سے لائے ہیں ہم لوگوں کی کوئی قدر نہیں رہی۔
میں : اس پتُریا کا کیا نام ہے؟
نصیبن :نام تو مجھے یاد نہیں۔ صورت دیکھی ہے، گوری گوری سی ہے، ذرا چہرے مہرے کی اچھی ہے۔
میں : گاتی خوب ہو گی؟
نصیبن :خاک۔ گانا وانا نہیں آتا ہاں ناچتی ذرا اچھا ہے۔ راجہ صاحب اسی پرلٹو ہیں۔
میں : کتنے دنوں سے وہ پتُریا آئی ہے؟
نصیبن :کوئی چھ مہینے ہوئے ہوں گے۔

رات کو میں نے فیض علی سے راستہ کی خرابی کا حال بیان کیا انہوں نے کہا، خاطر جمع رکھو ہم نے بند و بست کر لیا ہے۔
**********************************
دوسرے دن منھ اندھیرے موہن لال گنج کی سرا سے روانہ ہوئے۔ نصیبن کی گاڑی ہمارے پیچھے پیچھے تھی۔ فیض علی گھوڑے پر سوار تھے۔ ہم اور نصیبن باتیں کرتے جاتے تھے۔ تھوڑی دور چل کے سمریہا ملا۔ نصیبن نے دور سے ہم کو وہ گاؤں دکھایا۔ سڑک کے کنارے کھیت تھے ان میں کچھ گنواریاں پانی دے رہی تھیں، کچھ کھیت نرا رہی تھیں۔ ایک پُرائی چل رہی تھی اس میں ایک مسٹنڈی عورت دھوتی باندھے


صفحہ کتاب 157، صفحہ ریختہ 158

بیل ہنکا رہی تھی۔ ایک پُر لے رہی تھی۔ نصیبن نے کہا، یہ سب پتُریاں ہیں۔ میں نے دل میں کہا واہ پیشہ بھی کیا پھر اس قدر محنت جو مردوں سے بمشکل ہو۔ آخر ان کو پتُریا ہونا کیا ضرور تھا مگر ان کی صورتیں بھی ایسے ہی کاموں کے لائق ہیں۔ لکھنؤ میں جو کنڈے والیاں، دہی والیاں گھوسنیں آتی ہیں ان کی شکل بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ نصیبن یہاں سے رخصت ہوئی۔

کوئی دو کوس جا کے ایک نشیب ملا۔ جابجا بیہڑ بڑے بڑے غار، سامنے ندی کا کنارہ نظر آیا۔ دونوں طرف دور تک گنجان درختوں کی قطار تھی۔ جب ہم اس موقعہ پر پہونچے ہیں دھوپ اچھی طرح نکل چکی تھی۔ کوئی پہر بھر دن چڑھا ہو گا۔ اس سڑک پر سوا ہمارے اور کوئی راستہ چلتے دکھائی نہ دیتا تھا۔ چاروں طرف سناٹا تھا۔ ندی کے پاس پہونچ کے فیض علی نے گھوڑا آگے بڑھایا۔ میں روکتی کی روکٹی رہ گئی۔ یہ جا وہ جا بہت دور نکل گئے۔ تھوڑی دور تک گھوڑا نظروں سے غائب رہا پھر ندے کے اس پار جا کے معلوم ہوا۔

ہماری گاڑی اسی طرح چلی جاتی تھی۔ گاڑی بان گاڑی ہانک رہا تھا۔ سائیس گھوڑے کے پیچھے دوڑا چلا گیا تھا۔ اب میں ہوں اور وہ گاڑی بان ہے۔ اتنے میں میں نے دور سے دیکھا کہ دس پندرہ گنوار گاڑی کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ میں نے دل میں کہا، خدا خیر کرے۔ تھوڑی دیر میں گنواروں نے آ کر گاڑی کو گھیر لیا۔ سب تلواریں باندھے ہوئے تھے۔ بندوقیں کندھے پر تھیں۔ توڑے سلگ رہے تھے۔

گنوار : (گاڑی بان سے) گاڑی روک۔ کون ہے گاڑی میں؟
گاڑی بان : یہ سواری بریلی سے آئی ہے اُناؤ کا بھاڑا کیا ہے۔
گنوار : روک گاڑی
گاڑی بان : گاڑی کیوں روکیں، خاں صاحب کے یہاں کی زنانی سواری ہے۔


صفحہ کتاب 158، صفحہ ریختہ 159

گنوار : کوئی مرد ساتھ نہیں ہے؟
گاڑی بان : مرد آگے بڑھ گئے ہیں آتے ہوں گے۔
گنوار : اترو بی بی گاڑی سے۔
ایک : پردہ کھول کے کھینچ لو باہر سسُری پتُریا تو ہے اس کا پردہ کون؟

ایک گنوار آگے بڑھا۔ گاڑی کا پردہ اُلٹ کے مجھے گاڑی سے اتارا۔ تین آدمی مجھ گھیر کے کھڑے ہو گئے، اتنے میں ندی کی طرف سے گرد اٹھی اور گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز آئی۔ جب گھوڑے قریب آئے، میں دیکھا آگے فیض علی کا گھوڑا ہے۔ پیچھے اور دس پندرہ سوار ہیں۔ گنواروں نے دیکھتے ہی بندوقوں کی ایک باڑھ ماری۔ اس میں دو سوار ادھر کے گر پڑے۔ پھر تلواریں میان سے نکلیں۔ سوار سر ہی پر آ گئے تھے۔ ادھر سے بھی تلواریں کھینچ گئیں۔ دو ایک ہاتھ چلے ہوں گے، تین گنوار ادھر سے زخمی ہو کے گرے۔ ایک سوار اور ادھر گرا۔ گنوار بھاگ نکلے۔ اچھا کہاں جاؤ گے دیکھو ندی اس پار کیا ہوتا ہے؟

گنواروں کے جانے کے بعد میں پھر گاڑی میں بیٹھی۔ جس سوار کے زخم آیا تھا اس کے پٹیاں کسی گئیں، وہ بھی گاڑی میں میرے ساتھ بٹھایا گیا۔ گاڑی روانہ ہوئی۔ اب دو سوار ہماری گاڑی کے ادھر اُدھر ہیں۔ کچھ سوار آگے آگے ہیں۔ کچھ پیچھے ہیں۔

فیض علی : (اپنے ساتھی سے) بھائی کسی طرح لکھنؤ سے نکلنا ہی نہیں ہوتا تھا۔ بڑی مشکل سے جان چھڑا کے آیا ہوں۔
فضل علی : یہ نہیں کہتے عیش میں پڑے تھے۔
فیض علی : ہاں یہ تو کہو گے۔
فضل علی : کہیں گے کیا تحفہ بھی تو ساتھ ساتھ ہے۔ ذرا بھابی صاحب کو ہم


صفحہ کتاب 159، صفحہ ریختہ 160

بھی تو دیکھیں۔

فیض علی : آپ سے کوئی پردہ ہے دیکھیے۔
فضل علی : ڈیرے پر چل کے بامراد دیکھیں گے۔

اتنے میں گاڑی ندی کے کنارے پر پہونچ گئی۔ کنارہ بہت اونچا تھا۔ مجھ کو گاڑی سے اتر کےپیدل چلنا پڑا۔ بڑی مشکل سے گاڑی کنارے تک پہونچی۔ جو زخمی سوار گاڑی میں تھا اس کے زخم گاڑی کے تکان سے کھل گئے تھے۔ تمام گاڑی میں خون ہی خون تھا۔

ندی اس پار جا کے زخم پھر سے باندھے گئے۔ گاڑی دھوئی گئی۔ پھر میں گاڑی میں سوار ہوئی۔ اب قریب دوپہر کے دن آ چکا، مجھے شدت سے بھوک لگی ہوئی تھی۔ گاڑی اسی طرح چل رہی تھی۔ ان لوگوں کا ڈیرا کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ندی سے کوئی چار کوس پر جا کے ایک گاؤں کے پاس باغ تھا۔ اس میں چھولداریاں پڑی ہوئی تھیں، گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ لوگ ادھر اُدھر پھر رہے تھے۔ کچھ لوگ کھانا پکا رہے تھے۔ یہاں آ کر ہماری گاڑی رکی۔ ہمارے ساتھ کے سواروں کو دیکھتے ہی ایک آدمی اس پڑاؤ سے آگے بڑھا۔ اس نے کچھ فضل علی کے کان میں کہا۔ فضل علی کے چہرے سے تشویش کے آثار ظاہر ہوتے تھے۔ وہ فیض علی کے پاس گھوڑا دوڑا کے آئے۔ فیض علی سے چپکے چپکے باتیں ہوئیں۔

فیض علی : اچھا دیکھاجائے گا کھانا تو کھا لو۔
فضل علی : کھانا کھانے کی مہلت نہیں ہے، ایسے میں نکل چلو۔
فیض علی : اچھا جب تک چھولداریاں اکھاڑی جائیں گھوڑوں پر زین کسے جائیں، ہم لوگ کھانا کھا لیں۔

میں گاڑی سے اتری۔ آم کے درخت کے نیچے دری بچھا دی گئی۔ سالن کی پتیلیاں لا کے رکھی گئیں۔ تھئی کی تھئی روٹیاں موٹی موٹی ٹوکریوں میں آئیں۔ میں،


صفحہ کتاب 160، صفحہ ریختہ 161

فیض علی اور فضل علی تین آدمیوں نے ساتھ مل کے کھانا کھایا۔ کھانا کھاتے وقت اگرچہ چہروں پر تشویش کے آثار تھے مگر ہنسی مذاق ہوتا جاتا تھا۔

جتنی دیر میں ہم لوگوں نے کھانا کھایا چھولداریاں اکھاڑ کے ٹٹوؤں پر لادی گئیں، زین کسے گئے۔

آخر قافلہ چل نکلا۔

دو ہی تین کوس گئے ہوں گے کہ بہت سے سوار اور پیدلوں نے آ کر گھیر لیا۔ ادھر بھی سب پہلے سے مستعد تھے۔ دونوں طرف گولیاں چلنے لگیں۔ اس لڑائی میں فیض علی میری گاڑی کے آس پاس رہے۔ میں گاڑی کے اندر بیٹھی دعائیں پڑھ رہی ہوں۔ کلیجہ ہاتھوں اچھل رہا ہے، دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی گاڑی کا پردہ کھول کے دیکھ لیتی ہوں۔ یہ گرا وہ مرا۔ آخر دونوں طرف سے بہت سے زخمی ہوئے۔ ہمارے ساتھ پچاس ساٹھ آدمی تھے۔ راجہ دھیان سنگھ کے آدمی بہت سے تھے۔ ایک پر دس ٹوٹ پرے، بہت سے زخمی ہوئے۔ فضل علی اور فیض علی موقعہ پا کر نکل گئے۔ دن بارہ آدمی اور گرفتار ہوئے۔ انہین گرفتاروں میں میں بھی تھی۔

ہم لوگوں کی گرفتاری کے بعد گاڑی بان منت سماجت کر کے رہائی حاصل کی۔ زخمی سوار کو میدان میں ڈال دیا جہاں اور لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ وہ تو اپنی جان لے کر بریلی کی طرف راہی ہوا۔ مردوں کی مشکیں کسی گئیں۔ گڑھی کی طرف روانہ ہوئے۔ گڑھی وہاں سے کوئی پانچ کوس تھی۔ تھوڑی دور جا کے راجہ صحب اور ان کے ساتھ کے اور لوگ ملے۔ راجہ صاحب خود گھوڑے پر سوار تھے۔ ہم لوگ سامنے گئے۔ میری طرف اشارہ کر کے پوچھا۔

راجہ : یہی بی صاحبہ لکھنؤ سے آئی ہیں ؟


صفحہ کتاب 161، صفحہ ریختہ 162

میں : (ہاتھ باندھ کے) حضور! قصور وار تو ہوں لیکن اگر غور کیجیے تو ایسا قصور بھی نہیں۔ عورت ذات، جعل فریب سے آگاہ نہیں، میں کیا جانتی تھی۔
راجہ : اب اپنی بے قصوری ثابت کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔ قصور آپ کا ثابت ہے۔ جو باتیں آپ سے پوچھی جائیں ان کا جواب دیجیے۔
میں : جو حکم حاکم۔
راجہ : لکھنؤ میں کہاں مکان ہے؟
میں : ٹکسال میں۔
راجہ : (آدمیوں کو اشارہ کر کے) دیکھو تمت کھیڑے سے ایک بیل گاڑی لے لو۔ لکھنؤ کی رنڈیاں ہیں ہمارے دیس کی پتُریاں نہیں ہیں کہ رات بھر محفل میں ناچیں اور برات کے ساتھ دس دس کوس تک ناچتی چلی جائیں۔
میں : حضور کو خدا سلامت رکھے۔

آدمی گئے۔ گڑھی سے گاڑی لے آئے۔ مجھے گاڑی پر بٹھایا اور لوگ اسی طرح مشکیں کسے ساتھ ساتھ تھے۔

گڑھی میں پہونچ کر وہ لوگ نہیں معلوم کہاں بھیج دیئے گئے۔ میں کوت میں بلائی گئی۔ ستھرا مکان رہنے کو دیا گیا۔ دو آدمی خدمت کو مقرر ہوئے۔ پکا پکایا کھانا۔ پوریاں کچوریاں، مٹھائیاں، طرح طرح کے اچار کھانے کو، لکھنؤ کے چھوڑنے کے بعد آج رات کو کھانا سیر ہو کے کھایا۔ دوسرے دن صبح کو معلوم ہوا کہ اور قیدی لکھنؤ کو روانہ کر دیے گئے۔ مجھ کو رہائی کا حکم ہے مگر ابھی راجہ صاحب رخصت نہیں کریں گے۔ پہر دن چڑھے راجہ صاحب نے بلا بھیجا۔

راجہ : اچھا ہم نے تم کو رہا کیا۔ فیضو اور فضل علی دونوں بدمعاش نکل گئے اور سب نابکار جو گرفتار ہوئے لکھنؤ میں پہنچ کر اپنی سزا کو پہونچیں گے۔ بیشک تمہارا کوئی


صفحہ کتاب 162، صفحہ ریختہ 163

قصور نہیں ہے مگر آئندہ ایسے لوگوں سے نہ ملنا۔ اگر تمہارا جی چاہے دو چار دن یہاں رہو۔ ہم نے تمہارے گانے کی بہت تعریف سنی ہے۔

میں : (نصیبن کی وہ بات یاد آئی کہ راجہ صاحب کے پاس لکھنؤ کی کوئی رنڈی ہے، ہو نہ ہو اس نے میری تعریف کی ہو گئی) حضور نے کس سے سنا؟
راجہ : اچھا یہ بھی معلوم ہو جائے گا۔

تھوڑی دیر کے بعد لکھنو کی وہ رنڈی طلب ہوئی۔ لکھنؤ کی رنڈی کون، خورشید جان۔ خورشید دوڑ کر مجھ سےلپٹ گئی۔ دونوں مل کے رونے لگیں۔ آخر راجہ صاحب کے خوف سے فوراً علیٰحدہ ہو کر سامنے مؤدب بیٹھ گئیں۔ سازندے طلب ہوئے۔ رہائی کی خبر سن کے میں نے حسب حال ایک غزل کہہ لی تھی۔ بہت سے شعر تھے۔ جو شعر یاد آتے ہیں سناے دیتی ہوں۔ ہر ایک شعر پر راجہ صاحب اور حاضرین جلسہ بہت ہی محظوظ تھے۔ بے خودی کا عالم تھا۔ غزل یہ ہے :

قیدیٔ اُلفتِ صیاد رہا ہوتے ہیں
خوشنو ایانِ چمن زاد رہا ہوتے ہیں

تو بھی چھوڑے تو تیری زلف نہ چھوڑے ہم کو
کوئی ہم اے ستم ایجاد رہا ہوتے ہیں

حسرت اے ذوقِ اسیری کہ خفا ہے صیاد
آج ہم بادلِ ناشاد رہا ہوتے ہیں

خاطر نازکِ صیاد کو برداشت نہیں
باعثِ نالہ و فریاد رہا ہوتے ہیں

غمِ دنیا نہ سہی اور ہزاروں غم ہیں
قیدِ ہستی سے کب آزاد رہا ہوتے ہیں


صفحہ کتاب 163، صفحہ ریختہ 164

کیوں نہ رشک آئے ہمیں تازہ گرفتاروں پر
ہم تو اے لذتِ بیداد رہا ہوتے ہیں

اے ادا قیدِ محبت سے رہائی معلوم
کب اسیرِ غمِ صیاد رہا ہوتے ہیں

مقطع سن کے راجہ صاحب نے پوچھا اداؔ کس کا تخلص ہے؟ خورشید نے کہا خود انہیں کی کہی ہوئی ہے۔ راجہ اور بھی خوش ہوئے۔

راجہ : اگر ایسا جانتے تو ہم آپ کو ہرگز رہا نہ کرتے۔
میں : غزل سے حضور کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ اسی کا تو افسوس ہے مگر اب تو حضور حکم دے چکے اور لونڈی آزاد ہو چکی۔

اس کے بعد جلسہ برخاست ہوا۔ راجہ صاحب اندر رسوئی کھانے چلے گئے۔ خورشید سے مجھ سے خوب باتیں ہوئیں۔

خورشید : دیکھو بہن! میرا کوئی قصور نہیں۔ خانم صاحب سے اور راجہ صاحب سے بہت دنوں سے لاگ ڈانٹ تھی۔ راجہ صاحب نے کئی مرتہ مجھ کو بلوایا۔ انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ آخر عیش باغ کے میلے میں ان کے آدمی لگے ہوئے تھے۔ مجھ کو زبردستی اٹھا لئے۔ جب سے یہیں ہوں۔ ہر طرح کی میری خاطر ہوتی ہے، سب طرح کا آرام ہے۔

میں : موے گنواروں میں خوب تمہارا جی لگتا ہے؟
خورشید : یہ بات سچ ہے مگر تم میری طبیعت کو جانتی ہو۔ روز ایک نئے شخص کے پاس جانا بالکل خلاف ہے، وہاں یہی کرنا پڑتا تھا۔ خانم کو جانتی ہو، یہاں صرف راجہ صاحب سے سابقہ ہے اور سب میرے حکم کے تابع ہیں، دوسرے یہ میرا وطن ہے کہاں کی ہر چیز مجھے اچھی معلوم ہوتی ہے۔


صفحہ کتاب 164، صفحہ ریختہ 165

میں : تو تمہارا ارادہ لکھنؤ جانے کا نہیں؟
خورشید : مجھے تو معاف کرو۔ یہاں اچھی طرح ہوں بلکہ تم بھی یہیں رہو۔
میں : یہاں تو نہ رہوں گی۔ مجبوری کی اور بات ہے۔
خورشید : لکھنؤ جاؤ گی؟
میں : نہیں۔
خورشید : پھر کہاں؟
میں : جہاں خدا لے جائے۔
خورشید : ابھی کچھ دنوں رہو۔
میں : ہاں ابھی تو ہوں۔

پندرہ بیس دن تک میں گڑھی میں رہی۔ خورشید سے روزانہ ملتی تھی۔ خورشید کا دل وہاں لگا ہوا تھا۔ میرا جی بہت گھبراتا تھا۔ آخر راجہ صاحب سے میں نے عرض کیا۔

میں : حضور نے مجھے حکم رہائی دیا ہے۔
راجہ : ہاں تو پھر کیا جانا چاہتی ہو؟
میں : جی ہاں! پھر لونڈی کو رخصت کیجیے۔ پھر حاضر ہوں گی۔
راجہ : یہ لکھنؤا فقرے ہیں۔ اچھا کہاں جاؤ گی؟
میں : کانپور
راجہ : لکھنؤ نہ جاؤ گی۔
میں : حضور لکھنؤ کیا منھ لے کے جاؤں گی۔ خانم سے کیسی شرمندگی ہو گی۔ ساتھ والیاں کیا کیا ہنسیں گی۔

اول تو میرا ارادہ لکھنؤ جانے کا نہ تھا دوسرے یہ بھی خیال تھا کہ لکھنؤ جانے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ کتاب 153، صفحہ ریختہ 154

تیسرے دن رائے بریلی میں داخل ہوئے۔ یہاں سفر کے مناسب کپڑا خریدا۔ میرے دو جوڑے بنوائے۔ لکھنؤ سے جو کپڑے پہن کے آئی تھی اتار کے گٹھری میں باندے۔

رائے بریلی سے بیل گاڑی کو جو لکھنؤ سے آئی تھی، رخصت کیا۔ دوسری گاڑی کرائے پر کی۔ لال گنج کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ وصبہ رائے بریلی سے کوئی نو دس کوس کے فاصلے پر ہے۔ شاموں شام پہنچ گئے۔ رات بھر سراے میں رہے۔ فیض علی ضروری سودے سلف کو بازار گئے۔ جس کوٹھری میں ہم تھے اس کے پاس والی کوٹھری میں ایک دیہاتی رنڈی اتری ہوئی تھی۔ نصیبن نام تھا۔ گہنے پاتے سے درست تھی۔ کپڑے بھی اچھے تھے۔ تھی تو دیہاتی مگر زبان بہت صاف تھی۔ لب و ؛پکپ قصباتیوں کا ایسا تھا۔ میرے اس کے دیر تک باتیں ہوا کیں۔

نصیبن آپ کہاں سے آئی ہیں؟
میں فیض آباد سے۔
نصیبن : فیض آبا مین تو میری بہن پیارن رہتی ہے آپ ضرور جانتی ہوں گی؟
میں : (آخر پہچان گئی نہ کہ میں بھی رنڈی ہوں) میں کیا جانوں۔
نصیبن : فیض آباد میں کون ایسی پتُریا ہے جو ہم کو نہیں جانتی۔
میں : بہت دنوں سے ان کے گھر بیٹھ گئی ہوں۔یہ لکھنؤ میں رہتے ہیں اسی لیے میں بھی اکثر وہیں رہتی ہوں۔
نصیبن : آخر پیدایش تو تمہاری فیض آباد کی ہے؟
میں : (یہ تو بالکل سچ کہتی ہے۔ اب کیا جواب دوں) ہاں پیدا تو وہاں ہوئی مگر بچپنے سے باہر رہی۔
نصیبن : تو فیض آباد میں کسی کو نہیں جانتیں؟


صفحہ کتاب 154، صفحہ ریختہ 155

میں : کسی کو نہیں۔
نصیبن : یہاں کیوں کر آنا ہوا؟
میں : ان کے ساتھ ہوں۔
نصیبن : اور جاؤ گی کہاں؟
میں : اُناؤ۔
نصیبن :لکھنؤ ہوتی ہوئی آئی ہو؟
میں : ہاں
نصیبن :پھر سیدھا راستہ چھوڑ کر ادھر بیہڑ میں کہاں آئی ہو۔ نرپت گنج ہو کے اُناؤ چلی گئی ہوتیں۔
میں : رائے بریلی میں اُن کا کچھ کام تھا۔
نصیبن :میں نے اس لیے کہا کہ ادھر کا راستہ بہت خراب ہے۔ ڈاکوؤں کے مارے مسافروں کی آمد و رفت بند ہے۔ پلیا کی بیہڑ میں سیکڑوں کو لوٹ لیا۔ اُناؤ کا راستہ ادھر ہی سے ہو کے ہے۔ تم تین آدمی ہو جس میں دو مرد ایک عورت ذات۔ تمہارے ہاتھ گلے میں گہنا بھی ہے۔ بھلا تمہاری کیا حقیقیت ہے وہاں تو براتیں لُٹ جاتی ہیں۔
میں : تن بہ تقدیر
نصیبن :بڑی دل کی کڑی ہو۔
میں : پھر کیا کروں؟

اس کے بعد ادھر اُدھر کی باتیں ہوا کیں جن کا دہرانا کوئی ضرور نہیں اور نہ مجھے یاد ہیں۔ ہاں میں نے پوچھا۔

تم کہاں جاؤ گی؟


صفحہ کتاب 155، صفحہ ریختہ 156

نصیبن : ہم تو گدائی کو نکلے ہیں۔
میں : نہیں سمجھی۔
نصیبن : اے لو گدائی نہیں جانتیں۔ کیسی پتُریا ہو؟
میں : بہن میں کیا جانوں۔ گدائی تو بھیک مانگنے کو کہتے ہیں۔
نصیبن : ہمارے دشمن بھیک مانگیں اور سچ پوچھو تو میں کہوں، پتُریا کی ذات تو بھیک منگنی ہے اس میں ڈیرہ دار ہو یا نہ ہو۔
میں : ہاں سچ تو ہے مگر مجھے نہیں معلوم تھا گدائی کسے کہتے ہیں۔
نصیبن : سال میں ایک مرتبہ ہم لوگ گھر سے نکل کے گاؤں گاؤں پھرتے ہیں۔ امیر رئیسوں کے مکان پر جا کے اترتے ہیں جو کچھ جس کے مقدور میں ہوتا ہے ہمیں دیتا ہے۔ کہیں مجرا ہوتا ہے کہیں نہیں ہوتا۔
میں : اچھا اس کو گدائی کہتے ہیں۔
نصیبن : ہاں اب سمجھیں۔
میں : یہاں کسی رئیس کے پاس آئی ہو؟
نصیبن : یہاں سے تھوڑی دور پر ایک شمبھو دھیان سنگھ راجہ کی گڑھی ہے، انہیں کے پاس گئی تھی۔ راجہ صاحب کو بادشاہی حکم پہونچا ہے۔ ڈاکوؤں کے بند و بست کو گئے ہوے ہیں۔ کئی دن ٹھہری رہی آخر دم گھبرایا یہاں چلی آئی۔ یہاں سے دو کوس پر ایک گاؤں ہے سمریہا۔ وہ گاؤں بالکل پتُریوں کا ہے، وہاں میری خالہ رہتی ہیں۔ کل ان کے پاس جاؤں گی۔
میں : پھر کہاں جاؤ گی؟
نصیبن : میں ٹھہری رہوں گی جب راجہ صآحب آ جائیں گے تو پھر گڑھی کو جاؤں گی اور بہت سے ڈیرے بھی ان کے انتظار میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔


صفحہ کتاب 156، صفحہ ریختہ 157

میں : کیا راجہ صاحب کو ناچ مجرے کا بھی شوق ہے؟
نصیبن :بہت شوق تھا۔
میں : کیوں اب کیا ہوا؟
نصیبن :جب سے ایک پتُریا لکھنؤ سے لائے ہیں ہم لوگوں کی کوئی قدر نہیں رہی۔
میں : اس پتُریا کا کیا نام ہے؟
نصیبن :نام تو مجھے یاد نہیں۔ صورت دیکھی ہے، گوری گوری سی ہے، ذرا چہرے مہرے کی اچھی ہے۔
میں : گاتی خوب ہو گی؟
نصیبن :خاک۔ گانا وانا نہیں آتا ہاں ناچتی ذرا اچھا ہے۔ راجہ صاحب اسی پرلٹو ہیں۔
میں : کتنے دنوں سے وہ پتُریا آئی ہے؟
نصیبن :کوئی چھ مہینے ہوئے ہوں گے۔

رات کو میں نے فیض علی سے راستہ کی خرابی کا حال بیان کیا انہوں نے کہا، خاطر جمع رکھو ہم نے بند و بست کر لیا ہے۔
**********************************
دوسرے دن منھ اندھیرے موہن لال گنج کی سرا سے روانہ ہوئے۔ نصیبن کی گاڑی ہمارے پیچھے پیچھے تھی۔ فیض علی گھوڑے پر سوار تھے۔ ہم اور نصیبن باتیں کرتے جاتے تھے۔ تھوڑی دور چل کے سمریہا ملا۔ نصیبن نے دور سے ہم کو وہ گاؤں دکھایا۔ سڑک کے کنارے کھیت تھے ان میں کچھ گنواریاں پانی دے رہی تھیں، کچھ کھیت نرا رہی تھیں۔ ایک پُرائی چل رہی تھی اس میں ایک مسٹنڈی عورت دھوتی باندھے


صفحہ کتاب 157، صفحہ ریختہ 158

بیل ہنکا رہی تھی۔ ایک پُر لے رہی تھی۔ نصیبن نے کہا، یہ سب پتُریاں ہیں۔ میں نے دل میں کہا واہ پیشہ بھی کیا پھر اس قدر محنت جو مردوں سے بمشکل ہو۔ آخر ان کو پتُریا ہونا کیا ضرور تھا مگر ان کی صورتیں بھی ایسے ہی کاموں کے لائق ہیں۔ لکھنؤ میں جو کنڈے والیاں، دہی والیاں گھوسنیں آتی ہیں ان کی شکل بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ نصیبن یہاں سے رخصت ہوئی۔

کوئی دو کوس جا کے ایک نشیب ملا۔ جابجا بیہڑ بڑے بڑے غار، سامنے ندی کا کنارہ نظر آیا۔ دونوں طرف دور تک گنجان درختوں کی قطار تھی۔ جب ہم اس موقعہ پر پہونچے ہیں دھوپ اچھی طرح نکل چکی تھی۔ کوئی پہر بھر دن چڑھا ہو گا۔ اس سڑک پر سوا ہمارے اور کوئی راستہ چلتے دکھائی نہ دیتا تھا۔ چاروں طرف سناٹا تھا۔ ندی کے پاس پہونچ کے فیض علی نے گھوڑا آگے بڑھایا۔ میں روکتی کی روکٹی رہ گئی۔ یہ جا وہ جا بہت دور نکل گئے۔ تھوڑی دور تک گھوڑا نظروں سے غائب رہا پھر ندے کے اس پار جا کے معلوم ہوا۔

ہماری گاڑی اسی طرح چلی جاتی تھی۔ گاڑی بان گاڑی ہانک رہا تھا۔ سائیس گھوڑے کے پیچھے دوڑا چلا گیا تھا۔ اب میں ہوں اور وہ گاڑی بان ہے۔ اتنے میں میں نے دور سے دیکھا کہ دس پندرہ گنوار گاڑی کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔ میں نے دل میں کہا، خدا خیر کرے۔ تھوڑی دیر میں گنواروں نے آ کر گاڑی کو گھیر لیا۔ سب تلواریں باندھے ہوئے تھے۔ بندوقیں کندھے پر تھیں۔ توڑے سلگ رہے تھے۔

گنوار : (گاڑی بان سے) گاڑی روک۔ کون ہے گاڑی میں؟
گاڑی بان : یہ سواری بریلی سے آئی ہے اُناؤ کا بھاڑا کیا ہے۔
گنوار : روک گاڑی
گاڑی بان : گاڑی کیوں روکیں، خاں صاحب کے یہاں کی زنانی سواری ہے۔


صفحہ کتاب 158، صفحہ ریختہ 159

گنوار : کوئی مرد ساتھ نہیں ہے؟
گاڑی بان : مرد آگے بڑھ گئے ہیں آتے ہوں گے۔
گنوار : اترو بی بی گاڑی سے۔
ایک : پردہ کھول کے کھینچ لو باہر سسُری پتُریا تو ہے اس کا پردہ کون؟

ایک گنوار آگے بڑھا۔ گاڑی کا پردہ اُلٹ کے مجھے گاڑی سے اتارا۔ تین آدمی مجھ گھیر کے کھڑے ہو گئے، اتنے میں ندی کی طرف سے گرد اٹھی اور گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز آئی۔ جب گھوڑے قریب آئے، میں دیکھا آگے فیض علی کا گھوڑا ہے۔ پیچھے اور دس پندرہ سوار ہیں۔ گنواروں نے دیکھتے ہی بندوقوں کی ایک باڑھ ماری۔ اس میں دو سوار ادھر کے گر پڑے۔ پھر تلواریں میان سے نکلیں۔ سوار سر ہی پر آ گئے تھے۔ ادھر سے بھی تلواریں کھینچ گئیں۔ دو ایک ہاتھ چلے ہوں گے، تین گنوار ادھر سے زخمی ہو کے گرے۔ ایک سوار اور ادھر گرا۔ گنوار بھاگ نکلے۔ اچھا کہاں جاؤ گے دیکھو ندی اس پار کیا ہوتا ہے؟

گنواروں کے جانے کے بعد میں پھر گاڑی میں بیٹھی۔ جس سوار کے زخم آیا تھا اس کے پٹیاں کسی گئیں، وہ بھی گاڑی میں میرے ساتھ بٹھایا گیا۔ گاڑی روانہ ہوئی۔ اب دو سوار ہماری گاڑی کے ادھر اُدھر ہیں۔ کچھ سوار آگے آگے ہیں۔ کچھ پیچھے ہیں۔

فیض علی : (اپنے ساتھی سے) بھائی کسی طرح لکھنؤ سے نکلنا ہی نہیں ہوتا تھا۔ بڑی مشکل سے جان چھڑا کے آیا ہوں۔
فضل علی : یہ نہیں کہتے عیش میں پڑے تھے۔
فیض علی : ہاں یہ تو کہو گے۔
فضل علی : کہیں گے کیا تحفہ بھی تو ساتھ ساتھ ہے۔ ذرا بھابی صاحب کو ہم


صفحہ کتاب 159، صفحہ ریختہ 160

بھی تو دیکھیں۔
فیض علی : آپ سے کوئی پردہ ہے دیکھیے۔
فضل علی : ڈیرے پر چل کے بامراد دیکھیں گے۔

اتنے میں گاڑی ندی کے کنارے پر پہونچ گئی۔ کنارہ بہت اونچا تھا۔ مجھ کو گاڑی سے اتر کےپیدل چلنا پڑا۔ بڑی مشکل سے گاڑی کنارے تک پہونچی۔ جو زخمی سوار گاڑی میں تھا اس کے زخم گاڑی کے تکان سے کھل گئے تھے۔ تمام گاڑی میں خون ہی خون تھا۔

ندی اس پار جا کے زخم پھر سے باندھے گئے۔ گاڑی دھوئی گئی۔ پھر میں گاڑی میں سوار ہوئی۔ اب قریب دوپہر کے دن آ چکا، مجھے شدت سے بھوک لگی ہوئی تھی۔ گاڑی اسی طرح چل رہی تھی۔ ان لوگوں کا ڈیرا کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ندی سے کوئی چار کوس پر جا کے ایک گاؤں کے پاس باغ تھا۔ اس میں چھولداریاں پڑی ہوئی تھیں، گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ لوگ ادھر اُدھر پھر رہے تھے۔ کچھ لوگ کھانا پکا رہے تھے۔ یہاں آ کر ہماری گاڑی رکی۔ ہمارے ساتھ کے سواروں کو دیکھتے ہی ایک آدمی اس پڑاؤ سے آگے بڑھا۔ اس نے کچھ فضل علی کے کان میں کہا۔ فضل علی کے چہرے سے تشویش کے آثار ظاہر ہوتے تھے۔ وہ فیض علی کے پاس گھوڑا دوڑا کے آئے۔ فیض علی سے چپکے چپکے باتیں ہوئیں۔

فیض علی : اچھا دیکھاجائے گا کھانا تو کھا لو۔
فضل علی : کھانا کھانے کی مہلت نہیں ہے، ایسے میں نکل چلو۔
فیض علی : اچھا جب تک چھولداریاں اکھاڑی جائیں گھوڑوں پر زین کسے جائیں، ہم لوگ کھانا کھا لیں۔

میں گاڑی سے اتری۔ آم کے درخت کے نیچے دری بچھا دی گئی۔ سالن کی پتیلیاں لا کے رکھی گئیں۔ تھئی کی تھئی روٹیاں موٹی موٹی ٹوکریوں میں آئیں۔ میں،


صفحہ کتاب 160، صفحہ ریختہ 161

فیض علی اور فضل علی تین آدمیوں نے ساتھ مل کے کھانا کھایا۔ کھانا کھاتے وقت اگرچہ چہروں پر تشویش کے آثار تھے مگر ہنسی مذاق ہوتا جاتا تھا۔

جتنی دیر میں ہم لوگوں نے کھانا کھایا چھولداریاں اکھاڑ کے ٹٹوؤں پر لادی گئیں، زین کسے گئے۔

آخر قافلہ چل نکلا۔

دو ہی تین کوس گئے ہوں گے کہ بہت سے سوار اور پیدلوں نے آ کر گھیر لیا۔ ادھر بھی سب پہلے سے مستعد تھے۔ دونوں طرف گولیاں چلنے لگیں۔ اس لڑائی میں فیض علی میری گاڑی کے آس پاس رہے۔ میں گاڑی کے اندر بیٹھی دعائیں پڑھ رہی ہوں۔ کلیجہ ہاتھوں اچھل رہا ہے، دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی گاڑی کا پردہ کھول کے دیکھ لیتی ہوں۔ یہ گرا وہ مرا۔ آخر دونوں طرف سے بہت سے زخمی ہوئے۔ ہمارے ساتھ پچاس ساٹھ آدمی تھے۔ راجہ دھیان سنگھ کے آدمی بہت سے تھے۔ ایک پر دس ٹوٹ پرے، بہت سے زخمی ہوئے۔ فضل علی اور فیض علی موقعہ پا کر نکل گئے۔ دن بارہ آدمی اور گرفتار ہوئے۔ انہین گرفتاروں میں میں بھی تھی۔

ہم لوگوں کی گرفتاری کے بعد گاڑی بان منت سماجت کر کے رہائی حاصل کی۔ زخمی سوار کو میدان میں ڈال دیا جہاں اور لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ وہ تو اپنی جان لے کر بریلی کی طرف راہی ہوا۔ مردوں کی مشکیں کسی گئیں۔ گڑھی کی طرف روانہ ہوئے۔ گڑھی وہاں سے کوئی پانچ کوس تھی۔ تھوڑی دور جا کے راجہ صحب اور ان کے ساتھ کے اور لوگ ملے۔ راجہ صاحب خود گھوڑے پر سوار تھے۔ ہم لوگ سامنے گئے۔ میری طرف اشارہ کر کے پوچھا۔

راجہ : یہی بی صاحبہ لکھنؤ سے آئی ہیں ؟


صفحہ کتاب 161، صفحہ ریختہ 162

میں : (ہاتھ باندھ کے) حضور! قصور وار تو ہوں لیکن اگر غور کیجیے تو ایسا قصور بھی نہیں۔ عورت ذات، جعل فریب سے آگاہ نہیں، میں کیا جانتی تھی۔
راجہ : اب اپنی بے قصوری ثابت کرنے کی کوشش نہ کیجیے۔ قصور آپ کا ثابت ہے۔ جو باتیں آپ سے پوچھی جائیں ان کا جواب دیجیے۔
میں : جو حکم حاکم۔
راجہ : لکھنؤ میں کہاں مکان ہے؟
میں : ٹکسال میں۔
راجہ : (آدمیوں کو اشارہ کر کے) دیکھو تمت کھیڑے سے ایک بیل گاڑی لے لو۔ لکھنؤ کی رنڈیاں ہیں ہمارے دیس کی پتُریاں نہیں ہیں کہ رات بھر محفل میں ناچیں اور برات کے ساتھ دس دس کوس تک ناچتی چلی جائیں۔
میں : حضور کو خدا سلامت رکھے۔

آدمی گئے۔ گڑھی سے گاڑی لے آئے۔ مجھے گاڑی پر بٹھایا اور لوگ اسی طرح مشکیں کسے ساتھ ساتھ تھے۔

گڑھی میں پہونچ کر وہ لوگ نہیں معلوم کہاں بھیج دیئے گئے۔ میں کوت میں بلائی گئی۔ ستھرا مکان رہنے کو دیا گیا۔ دو آدمی خدمت کو مقرر ہوئے۔ پکا پکایا کھانا۔ پوریاں کچوریاں، مٹھائیاں، طرح طرح کے اچار کھانے کو، لکھنؤ کے چھوڑنے کے بعد آج رات کو کھانا سیر ہو کے کھایا۔ دوسرے دن صبح کو معلوم ہوا کہ اور قیدی لکھنؤ کو روانہ کر دیے گئے۔ مجھ کو رہائی کا حکم ہے مگر ابھی راجہ صاحب رخصت نہیں کریں گے۔ پہر دن چڑھے راجہ صاحب نے بلا بھیجا۔

راجہ : اچھا ہم نے تم کو رہا کیا۔ فیضو اور فضل علی دونوں بدمعاش نکل گئے اور سب نابکار جو گرفتار ہوئے لکھنؤ میں پہنچ کر اپنی سزا کو پہونچیں گے۔ بیشک تمہارا کوئی


صفحہ کتاب 162، صفحہ ریختہ 163

قصور نہیں ہے مگر آئندہ ایسے لوگوں سے نہ ملنا۔ اگر تمہارا جی چاہے دو چار دن یہاں رہو۔ ہم نے تمہارے گانے کی بہت تعریف سنی ہے۔

میں : (نصیبن کی وہ بات یاد آئی کہ راجہ صاحب کے پاس لکھنؤ کی کوئی رنڈی ہے، ہو نہ ہو اس نے میری تعریف کی ہو گئی) حضور نے کس سے سنا؟
راجہ : اچھا یہ بھی معلوم ہو جائے گا۔

تھوڑی دیر کے بعد لکھنو کی وہ رنڈی طلب ہوئی۔ لکھنؤ کی رنڈی کون، خورشید جان۔ خورشید دوڑ کر مجھ سےلپٹ گئی۔ دونوں مل کے رونے لگیں۔ آخر راجہ صاحب کے خوف سے فوراً علیٰحدہ ہو کر سامنے مؤدب بیٹھ گئیں۔ سازندے طلب ہوئے۔ رہائی کی خبر سن کے میں نے حسب حال ایک غزل کہہ لی تھی۔ بہت سے شعر تھے۔ جو شعر یاد آتے ہیں سناے دیتی ہوں۔ ہر ایک شعر پر راجہ صاحب اور حاضرین جلسہ بہت ہی محظوظ تھے۔ بے خودی کا عالم تھا۔ غزل یہ ہے :

قیدیٔ اُلفتِ صیاد رہا ہوتے ہیں
خوشنو ایانِ چمن زاد رہا ہوتے ہیں

تو بھی چھوڑے تو تیری زلف نہ چھوڑے ہم کو
کوئی ہم اے ستم ایجاد رہا ہوتے ہیں

حسرت اے ذوقِ اسیری کہ خفا ہے صیاد
آج ہم بادلِ ناشاد رہا ہوتے ہیں

خاطر نازکِ صیاد کو برداشت نہیں
باعثِ نالہ و فریاد رہا ہوتے ہیں

غمِ دنیا نہ سہی اور ہزاروں غم ہیں
قیدِ ہستی سے کب آزاد رہا ہوتے ہیں


صفحہ کتاب 163، صفحہ ریختہ 164

کیوں نہ رشک آئے ہمیں تازہ گرفتاروں پر
ہم تو اے لذتِ بیداد رہا ہوتے ہیں

اے ادا قیدِ محبت سے رہائی معلوم
کب اسیرِ غمِ صیاد رہا ہوتے ہیں

مقطع سن کے راجہ صاحب نے پوچھا اداؔ کس کا تخلص ہے؟ خورشید نے کہا خود انہیں کی کہی ہوئی ہے۔ راجہ اور بھی خوش ہوئے۔

راجہ : اگر ایسا جانتے تو ہم آپ کو ہرگز رہا نہ کرتے۔
میں : غزل سے حضور کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ اسی کا تو افسوس ہے مگر اب تو حضور حکم دے چکے اور لونڈی آزاد ہو چکی۔

اس کے بعد جلسہ برخاست ہوا۔ راجہ صاحب اندر رسوئی کھانے چلے گئے۔ خورشید سے مجھ سے خوب باتیں ہوئیں۔

خورشید : دیکھو بہن! میرا کوئی قصور نہیں۔ خانم صاحب سے اور راجہ صاحب سے بہت دنوں سے لاگ ڈانٹ تھی۔ راجہ صاحب نے کئی مرتہ مجھ کو بلوایا۔ انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ آخر عیش باغ کے میلے میں ان کے آدمی لگے ہوئے تھے۔ مجھ کو زبردستی اٹھا لئے۔ جب سے یہیں ہوں۔ ہر طرح کی میری خاطر ہوتی ہے، سب طرح کا آرام ہے۔

میں : موے گنواروں میں خوب تمہارا جی لگتا ہے؟
خورشید : یہ بات سچ ہے مگر تم میری طبیعت کو جانتی ہو۔ روز ایک نئے شخص کے پاس جانا بالکل خلاف ہے، وہاں یہی کرنا پڑتا تھا۔ خانم کو جانتی ہو، یہاں صرف راجہ صاحب سے سابقہ ہے اور سب میرے حکم کے تابع ہیں، دوسرے یہ میرا وطن ہے کہاں کی ہر چیز مجھے اچھی معلوم ہوتی ہے۔


صفحہ کتاب 164، صفحہ ریختہ 165

میں : تو تمہارا ارادہ لکھنؤ جانے کا نہیں؟
خورشید : مجھے تو معاف کرو۔ یہاں اچھی طرح ہوں بلکہ تم بھی یہیں رہو۔
میں : یہاں تو نہ رہوں گی۔ مجبوری کی اور بات ہے۔
خورشید : لکھنؤ جاؤ گی؟
میں : نہیں۔
خورشید : پھر کہاں؟
میں : جہاں خدا لے جائے۔
خورشید : ابھی کچھ دنوں رہو۔
میں : ہاں ابھی تو ہوں۔

پندرہ بیس دن تک میں گڑھی میں رہی۔ خورشید سے روزانہ ملتی تھی۔ خورشید کا دل وہاں لگا ہوا تھا۔ میرا جی بہت گھبراتا تھا۔ آخر راجہ صاحب سے میں نے عرض کیا۔

میں : حضور نے مجھے حکم رہائی دیا ہے۔
راجہ : ہاں تو پھر کیا جانا چاہتی ہو؟
میں : جی ہاں! پھر لونڈی کو رخصت کیجیے۔ پھر حاضر ہوں گی۔
راجہ : یہ لکھنؤا فقرے ہیں۔ اچھا کہاں جاؤ گی؟
میں : کانپور
راجہ : لکھنؤ نہ جاؤ گی۔
میں : حضور لکھنؤ کیا منھ لے کے جاؤں گی۔ خانم سے کیسی شرمندگی ہو گی۔ ساتھ والیاں کیا کیا ہنسیں گی۔

اول تو میرا ارادہ لکھنؤ جانے کا نہ تھا دوسرے یہ بھی خیال تھا کہ لکھنؤ جانے


صفحہ کتاب 196، صفحہ ریختہ 197

کا جلسہ بڑی دھوم دھام سے ہوا۔ اس جلسہ میں کشمیریوں نے یہ غزل گائی تھی۔

غیرتِ مہتاب ہے برجیس قدر
گوہرِ نایاب ہے برجیس قدر

میں نے ایک غزل اس موقع کے لیے تصنیف کی تھی۔ اُس کا مطلع یہ ہے۔

دل ہزاروں کے تری بھولی ادائیں لیں گی
حسرتیں چاہنے والوں کی بلائیں لیں گی

رسوا : امراو جان تم نے مطلع تو قیامت ہی کا کہا ہے اور کوئی شعر یاد ہو تو پڑھو۔

امراو : گیارہ شعر کہے تھے مگر اپ کے سر کی قسم سوا اس مطلع کے اور کوئی شعر یاد نہیں۔ وہ زمانہ ایسی آفت کا تھا۔ نگوڑی دن رات جان چھڑکے میں رہتی تھی۔ غزل ایک پرچہ پر لکھ لی تھی۔ جس دن تک بیگم صاحب قیصر باغ سے نکلی ہیں وہ پرچہ میرے پاندان میں تھا۔ پھر جب وہاں سے نکلنا ہوا ہول جول میں پاندان کیسا جوتیاں اور دوپٹے تک چھوٹ گئے۔

رسوا : بھلا کچھ یاد ہے کس دن بیگم صاحب قیصر باغ سے نکلی تھیں؟
امراو : دن تو یاد نہیں۔ ہزاری روزے کے دوسرے یا تیسرے دن۔
رسوا : ہاں تمہں یاد رہا۔ رجب کی انتیسویں تاریخ تھی بھلا فصل کون سی تھی؟
امراو : آخیر جاڑے تھے۔ نوروز کے چار پانچ دن باقی رہے ہوں گے۔
رسوا : بالکل درست، مارچ کی سولھویں تاریخ تھی۔ اچھا تم بیگم صاحب کے ساتھ قیصر باغ سے نکلیں۔
امراو : جی ہاں! بونڈی تک ہمراہ گئی۔ راستہ میں نمک حرام اور بزدل افسران فوج کے غمزے اور بیگم صاحب کی خوشامد عمر بھر نہ بھولے گی۔ ایک صاحب


صفحہ کتاب 197، صفحہ ریختہ 198

کہتے ہیں "لو صاحب ان کے راج میں ہم پیدل چلیں۔" دوسرے صاحب فرماتے ہیں، "بھلا کھانے کو تو انتظام درست ہوتا۔" تیسرے صاحب افیم کو پیٹ رہے تھے۔ چوتھے اپنی جان کو رو رہے ہیں کہ حقہ وقت پر نہیں ملتا۔ جب بہرائچ سے انگریزی فوج نے بونڈی پر حملہ کیا ہے اس میں سید قطب الدین مارے گئے۔ بیگم صاحب نیپال کی طرف روانہ ہوئیں، میں اپنی جان بچا کے فیض آباد چلی آئی۔

رسوا : سنا ہے بونڈی میں چار دن کے لیے خوب چہل پہل ہو گئی تھی؟
امراو : آپ نے سنا ہے میں نے ان آنکھوں سے دیکھا ہے۔ لکھنؤ کے بھاگے ہوئے سب وہیں جمع ہو گئے تھے۔ بونڈی کا بازار لکھنؤ کا چوک معلوم ہوتا تھا۔
رسوا : اچھا اس قصہ سے مجھ کو زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ یہ کہیے کہ وہ مال جو آپ نے میاں فیضو سے لیا تھا اس کا کیا حشر ہوا؟
امراو : (ایک آہ سرد بھر کے) اے ہے یہ نہ پوچھیے۔
راسو: غدر میں سب لٹ گیا؟
امراو : غدر میں لٹ جاتا تو اتنا افسوس نہ ہوتا۔
رسوا : پھر کیا ہوا؟
امراو : سارا قصہ دہرانا پڑا۔ جس دن شب کو میں فیضو کے ساتھ بھاگنے والی تھی، میں نے کل زیور اور اشرفیاں ایک پٹاری میں بند کیں اوپر سے خوب کپڑا لپیٹ دیا۔

خانم کے مکان کے پچھواڑے ایک میر صاحب رہتے تھے۔ امام باڑے کے کوٹھے کی دیوار پر چڑھ جاؤ تو ان کے مکان کا سامنا ہو جاتا تھا۔ میں اکثر چارپائی لگا کے اس دیوار پر چڑھ جایا کرتی تھی اور میر صاحب کی


صفحہ کتاب 198، صفحہ ریختہ 199

بہن سے باتیں کیا کرتی تھی۔

وہ زیور کی پٹاری میں نے ان کی بہن کے پاس پھینک دی اور ان سے ہاتھ جوڑ کے کہا کہ اس کو حفاظت سے رکھنا۔ انھوں نے فیض آباد سے آنے کے بعد وہ پٹاری اسی طرح گودڑ میں لپتی ہوئی میرے حوالے کر دی۔ غدر میں تمام دنیا کے گھر لٹے۔ اگر کہہ دیتیں کہ لٹ گئی تو میں ان کا کیا کر لیتی مگر واہ ری بیوی! ایک حبہ تک نقصان نہیں ہوا۔ ایسے ہی لوگوں سے زمین و آسمان تھنبا ہوا ہے۔ نہیں تو کب کی قیامت آ جاتی۔

رسوا : بھلا کتنے کا مال ہو گا۔
امراو : البتہ کوئی دس پندرہ ہزار کا مال تھا۔
رسوا : اور اب کیا ہوا؟
امراو : کیا ہوا۔ جس راہ آیا تھا اسی راہ گیا۔
رسوا : مگر لوگ تو مشہور کرتےہیں کہ تمہارا ایک حبہ بھی غدر میں نہیں لُٹا۔ سب مال تمہارے پاس ہے۔
امراس : اگر مال ہوتا تو ان حالوں میں رہتی جیسی اب رہتی ہوں۔
رسوا : لوگ کہتے ہیں تم نے اپنا بھگل نکالا ہے اگر نہیں ہے تو خرچ کہاں سے چلتا ہے۔ اب بھی کچھ برے حالوں نہیں رہتیں۔ دو آدمی نوکر ہیں، خوش خوراک اور خوش پوشاک بھی ہو۔
امراو : خدا رزاق ہے، جو جس کا خرچ ہے وہ اس کو ضرور ملتا ہے، اس مال کا تو ایک حبہ بھی نہیں رہا۔
رسوا : اچھا تو پھر کیا ہوا؟
امراو : اب کیا بتاؤں ایک مہربان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صفحہ کتاب 199، صفحہ ریختہ 200

رسوا : میں سمجھ گیا یہ گوہر مرزا صاحب کی حرکت ہو گی؟
امراو : میں اپنے منھ سے نہیں کہتی۔ شاید آپ کو قیاس غلط ہو۔
رسوا : بے شک تمہارے عالی ظرف ہونے میں کوئی شبہہ نہیں۔ دیکھیے وہ چین کر رہے ہیں اور تمھیں پوچھتے تک نہیں۔
امراو : مرزا صاحب! رنڈی سے رسم رہا رہا نہ رہا نہ رہا۔ اب وہ مجھے کیوں پوچھیں؟

مدت ہوئی کہ ترک ملاقات ہو گئی

رسوا : اب کبھی تشریف بھی لاتے ہیں؟
امراو : وہ کاہے کو تشریف لائیں گے، میں اکثر جایا کرتی ہوں۔ ان کی بیوی سے محبت ہو گئی ہے۔ ابھی چار دن ہوئے لڑکے کی دودھ بڑھائی کی تھی تو بلا بھیجا تھا۔
رسوا : جب بھی کچھ دے ہی آئی ہوں گی؟
امراو : جی نہیں! میں کس قابل ہوں جو کسی کو کچھ دوں گی۔
رسوا : تو وہ مال گوہر مرزا صاحب کے کٹے لگا۔
امراو : مرزا صاحب مال کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ہاتھوں کا میل ہے۔ فقط بات رہ جاتی ہے۔ اب بھی اپنے پیدا کرنے والے کے قربان جاؤں، کبھی ننگی بھوکی نہیں رہتی۔ آپ ایسے قدر دانوں کو خدا سلامت رکھے مجھے کسی بات کی تکلیف نہیں ہے۔
رسوا : اس میں کیا شک ہے وہ تو میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں۔ اب بھی سو سے اچھی ہزار سے اچھی۔ واللہ یہ تمہاری نیت کا ثمرہ ہے۔ خدا نے زیارت سے بھی مشرف کیا۔


صفحہ کتاب 200، صفحہ ریختہ 201

امراو : جی ہاں! مولا نے سب مرادیں پوری کیں۔ اب یہ تمنا ہے کہ مجھے کربلا پھر بلا بھیجیں۔ میری مٹی عزیز ہو جائے۔ مرزا صاحب میں اس ارادے سے گئی تھی کہ پھر کے نہ آؤں گی مگر خدا جانے کیا ہوا تھا کہ لکھنؤ سر پر سوار ہو گیا مگر اب کی اگر خدا نے چاہا اور جانا ہو گیا تو پھر نہ آؤں گی۔

سُن چکے حال تباہی کا مری اور سُنو
اب تمہیں کچھ مری تقریر مزا دیتی ہے

بونڈی سے بیگم صاحب اور مرزا برجیس قدر نیپال کو روانہ ہوئے۔ سید قطب الدین لڑائی میں مارے جا چکے تھے۔ میں بہ ہزار مشکل فیض آباد آئی۔ پہلے سرا میں اتری۔ پھر ترپولیے کے پاس ایک کمرہ کرایہ کو لے لیا تھا۔ میراثی رکھ لیے، گانا بجانا شروع کر دیا۔

فیض آباد میں رہتے ہوے اب مجھے چھ مہینے گذر چکے ہیں۔ وہاں کی آب و ہوا طبیعت کے بہت موافق ہے۔ دل لگا ہوا ہے، آٹھویں دسویں کوئی نہ کوئی مجرا آ جاتا ہے۔ اسی پر بسر ہے، تمام شہر میں میرے گانے کی دھوم ہے۔ جہاں مجرا ہوتا ہے ہزاروں آدمی ٹوٹ پڑتے ہیں۔ میرے کمرے کے نیچے لوگ تعریفیں کرتے ہوئے نکلتے ہیں۔ میں دل میں خوش ہوتی ہوں۔ کبھی کبھی خواب و خیال کی طرح بچپن کی باتیں یاد آ جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی دل میں ایک جوش سا پیدا ہوتا ہے مگر انتزاعِ سلطنت، غدر، برجیس قدر یہ سب سانحے آنکھوں کے سامنے گزر چکے ہیں۔ کلیجہ پتھر کا ہو گیا ہے۔ ماں باپ کے تصور کے ساتھ ہی یہ خیال آتا ہے،


صفحہ کتاب 201، صفحہ ریختہ 202

خدا جانے اب کوئی زندہ بھی ہو یا نہ ہو اور اگر ہو تو ان کو مجھ سے کیا مطلب، وہ اور عالم میں ہوں گے میں اور عالم میں ہوں۔ خون کا جوش سہی مگر کوئی غیرت دار آدمی مجھ سے ملنا گوارا نہ کرے گا۔ اب ان سے ملنے کو کوشش کرنا ان کو رنج دینا ہے۔ گھر کا خیال آتے ہی وہ باتیں یاد آتی تھیں پھر طبیعت اور طرف متوجہ ہو جاتی تھی۔

لکھنؤ کی یاد اکثر ستاتی تھی مگر جب انقلاب کا خیال آتا تھا۔ دل بھر جاتا تھا۔ اب وہاں کون ہے کس کےلیے جاوں۔ خانم جیتی ہیں تو کیا ہوا۔ ان سے اب کیونکر بنے گی وہی اگلی حکومت جتائیں گی۔ مجھے اب ان کی قید میں رہنا کسی طرح منظور نہ تھا۔ جو مال میر صاحب کی بہن کے پاس امانت تھا وہ اب کیا ملے گا۔ تمام لکھنؤ لٹ گیا۔ میر صاحب کا گھر بھی لٹ گیا ہو گا، اس کا اب خیال ہی بے کار ہے۔ اگر نہیں لٹا تو ابھی اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ میرے ہاتھ گلے جو کچھ موجود ہے وہ کیا کم ہے؟

ایک دن کمرے پر بیٹھی ہوں، ایک صاحب شریفانہ صورت ادھیڑ سے تشریف لائے۔ میں نے پان بنا کے دیا، حقہ بھروا دیا۔ حالات دریافت کرنے پر معلوم ہوا۔ بہو بیگم صاحبہ کے عزیزوں سے ہیں، وثیقہ پاتے ہیں۔ میں نے باتوں باتوں مقبرہ کی روشنی کی تمہید اٹھا کے پرانے ملازموں کا ذکر چھیڑا۔

میں : اگلے نوکروں میں اب کون کون رہ گیا ہے۔
نواب صاحب : اکثر مر گئے، نئے نئے نوکر ہیں۔ اب وہ کارخانہ ہی نہیں رہا۔ بالکل نیا انتظام ہے۔
میں : اگلے نوکروں میں ایک بڈھے جمدار تھے۔
نواب : ہاں تھے، تم انہیں کیا جانو؟
میں : غدر سے پہلے میں ایک مرتبہ محر م میں فیض آباد آئی تھی۔ مقبرے پر روشنی


صفحہ کتاب 202، صفحہ ریختہ 203

دیکھنے گئی تھی انہوں نے میری بڑی خاطر کی تھی۔
نواب : وہی جمعدار نا جن کی ایک لڑکی نکل گئی تھی۔
میں : مجھے کیا معلوم؟ (دل میں) ہائے افسانہ اب تک مشہور ہے۔
نواب یوں تو کئی جمعدار تھے اور اب بھی ہیں مگر روشنی وغیرہ کا انتظام غدر سے پہلے وہی کرتے تھے۔
میں : ایک لڑکا بھی ان کا تھا؟
نواب : تم نے لڑکے کو کہا دیکھا؟
میں : اس دن ان کے ساتھ ایسی شکل بھی ملتے کم دیکھی ہے، بن کہے میں پہچان گئی تھی۔
نواب : جمعدار غدر سے پہلے ہی مر گئے، وہی لڑکا ان کی جگہ نوکر ہے۔

اس کے بعد بات ٹالنے کے لیے میں نے اور کچھ حالات اِدھر اُدھر کے پوچھے۔ نواب صاحب نے سوز پڑھنے کی فرمایش کی۔ میں نے دو سوز سناے۔ بہت محظوظ ہوئے۔ رات کچھ زیادہ آ گئی تھی گھر تشریف لے گئے۔

باپ کے مرنے کا حال سن کے مجھے بہت رنج ہوا۔ اس دن رات بھر رویا کی۔ دوسرے دن بے اختیار جی چاہا بھائی کو جا کے دیکھ آؤں۔ دو دن کے بعد ایک مجرا آگیا، اس کی تیاری کرنے لگی۔ جہاں کا مجرا آیا تھا وہاں گئی۔ محلے کا نام یاد نہیں۔ مکان کے پاس ایک بہت بڑا پرانا املی کا درخت تھا۔ اسی کے نیچے نمگیرا تانا گیا تھا۔ گرد قناتیں تھیں۔ بہت بڑا مجمع مگر لوگ کچھ ایسے ہی ویسے تھے۔ قناتوں کے پیچھے اور سامنے کھپریلوں میں عورتیں تھی۔ پہلا مجرا کوئی نو بجے شروع ہوا۔ بارہ بجے تک رہا۔ اس مقام کو دیکھ کے وحشت سی ہوتی تھی۔ دل امڈا چلا آتا تھا کہ یہیں میرا مکان ہے۔ یہ املی کا درخت وہی ہے جس کے نیچے میں کھیلا کرتی تھی۔ جو لوگ


صفحہ کتاب 203، صفحہ ریختہ 204

محفل میں شریک تھے ان میں سے بعض آدمی ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے میں نے ان کو کہیں دیکھا ہے۔ شبہ مٹانے کےلیے میں قناتوں کے باہر نکلی۔ گھروں کی قطع کچھ اور ہی ہو گئی تھی۔ اس سے خیال ہوا شاید یہ وہ جگہ نہ ہو۔ ایک مکان کے دروازے کو غور سے دیکھا کی۔ دل کو یقین ہو گیا تھا کہ یہی میرا مکان ہے۔ جی چاہتا ہے کہ مکان میں گھسی چلی جاؤں، ماں کے قدموں پر گروں وہ گلے لگا لیں گی۔ مگر جراءت نہ ہوتی تھی۔ اس لیے کہ میں جانتی ہوں کہ دیہات میں رنڈیوں سے پرہیز کرتے ہیں۔

دوسرے باپ بھائی کی عزت کا خیال تھا۔ نواب صاحب کی باتوں سے معلوم ہو چکا تھا کہ جمعدار کی لڑکی کا نکل جانا لوگوں کو معلوم ہے۔ پھر جی کہتا تھا ہائے کیا غضب ہے صرف ایک دیوار کی آر ہے۔ اُدھر میری اماں بیٹھی ہوں گی اور میں یہاں ان کے لیے تڑپ رہی ہوںإ، ایک نظر صورت دیکھا بھی ممکن نہیں، کیا مجبوری ہے؟

اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ ایک عورت نے آ کے پوچھا، "تمہیں لکھنؤ سے آئی ہو؟"
میں : ہاں! اب تو میرا کلیجہ ہاتھوں اچھلنے لگا۔
عورٹ : اچھا تو ادھر چلی آؤ۔ تمہیں کوئی بلاتا ہے۔
میں : اچھا۔ کہہ کے اس کے ساتھ چلی، ایک ایک پاؤں گویا سو سو من کا ہو گیا تھا۔ قدم رکھتی کہیں تھی پڑتا کہیں تھا۔

وہ عورت اس مکان کے دروازے پر مجھ کو لے گئی جسے میں اپنا مکان سمجھے ہوئے تھی، اس مکان کی ڈیوڑھی میں مجھ کو بٹھا دیا اندر کے دروازے پر ٹاٹ کا پردا پڑا ہوا تھا۔ اس کے پیچھے دو تین عورتیں آ کے کھڑی ہوئیں۔

ایک : لکھنؤ سے تمھیں آئی ہو؟
میں : جی ہاں!
دوسری : تمہار نام کیا ہے؟


صفحہ کتاب 204، صفحہ ریختہ 205

میں : (جی میں تو آیا کہہ دوں امیرن مگر دل کو تھام کے) امراؤ جان۔
پہلی : تمہارا وطن خاص لکھنؤ ہے۔
میں : (اب مجھ سے ضبط نہ ہو سکا۔ آنسو نکل پڑے) اصلی وطن تو یہی ہے جہاں کھڑی ہوں۔
پہلی : تو کیا بنگلے کی رہنے والی ہو؟
میں : (آنکھوں سے آنسو برابر جاری تھے۔ بمشکل جواب دیا) جی ہاں۔
دوسری : کیا تم ذات کی پتُریا ہو؟
میں : ذات کی پتُریا تو نہیں ہوں تقدیر کا لکھا پورا کرتی ہوں۔
پہلی : (خود رو کے) اچھا تو روتی کیوں ہو۔ آخر کہو پھر تم کون ہو؟
میں : (آنسو پونچھ کے) کیا بتاؤں کون ہوں، کچھ کہتے بن نہیں پڑتا۔

اتنی باتیں میں نے بہت دل سنبھال کے کی تھیں۔ اب بالکل تابِ ضبط نہ تھی۔ سینے میں دم رکھنے لگا تھا۔

اتنے میں دو عورتیں پردے کے باہر نکلیں ایک کے ہاتھ میں چراغ تھا۔ اس نے میرے منہ کو ہاتھ سے تھام کے کان کی لو کے پاس غور سے دیکھا اور یہ کہہ کے دوسری کو دکھایا اور کہا، "کیوں ہم نہ کہتے تھے وہی ہے۔"

دوسری : ہائے میری امیرن کہہ کے لپٹ گئی۔ دونوں ماں بیٹیاں چیخیں مار مار کے رونے لگیں، ہچکیاں بندھ گئیں۔ آخر دو عورتوں نے آ کے چھڑایا۔

اس کے بعد میں نے اپنا سارا قصہ دہرایا۔ میری ماں بیٹھی سنا کی اور رویا کی۔ باقی رات ہم دونوں وہیں بیٹھے رہے۔ صبح ہوتے میں رخصت ہوئی۔ ماں نے چلتے وقت جس حسرت بھری نگاہ سے مجھے دیکھا تھا وہ نگاہ مرتے دم تک مجھے نہ بھولے گی، مگر مجبوری۔ روز روشن نہ ہانے پایا تھا کہ سوار ہو کر اپنے کمرے پر چلی آئی۔ دوسرا مجرا


صفحہ کتاب 205، صفحہ ریختہ 206

صبح کو ہوتا مگر میں نے گھر پر آ کے کل روپیہ مجرے کا واپس کر دیا اور بیماری کا بہانہ کہلا بھیجا۔ دولھا کے باپ نے آدھا روپیہ پھیر دیا۔ اس دن، دن بھر جو میرا حال رہا خدا ہی پر خوب روشن ہے۔ کمرے کے دروازے بند کر کے دن بھر پڑی رویا کی۔

دوسرے دن شام کو کوئی دو گھڑی رات گئے ایک جوان سا آدمی سانولی رنگت کوئی بیس بائیس کا سن، پگڑی باندھے سپاہیوں کی ایسی وردی پہنے، میرے کمرے پر آیا۔ میں نے حقہ بھروا دیا۔ پاندان میں پان نہ تھے ماما کو بلا کے چپکے سے کہا، پان لے آؤ۔ اتفاق سے اور کوئی بھی اس وقت نہ تھا۔ کمرے میں میں ہوں اور وہ ہے۔

جوان : کل تمھیںمجرے کو گئی تھیں؟ یہ اس تیور سے کہا کہ میں جھجک گئی۔
میں : "ہاں" اتنا کہہ کے اس کے چہرے کی طرف جو دیکھا یہ معلوم ہوتا تھا جیسے آنکھوں سے خون ٹپک رہا ہے۔
جوان : (سر نیچا کر کے) خوب گھرانے کا نام روشن کیا۔
میں : (اب سمجھی کہ یہ کون شخص ہے) اس کو تو خدا ہی جاتا ہے۔
جوان : ہم تو سمجھے تھے تم مر گئیں مگر تم اب تک زندہ ہو!
میں : بے غیرت زندگی تھی نہ مری۔ خدا کہیں جلد موت دے۔
جوان : بے شک اس زندگی سے موت لاکھ درجہ بہتر تھی۔ تمھیں تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا تھا۔ کچھ کھا کے سو رہی ہوتیں۔
میں : خود اتنی سمجھ نہ تھی، نہ آج تک کسی نے یہ نیک صلاح دی۔
جوان : اگر ایسی ہی غیرت دار ہوتیں تو اس شہر میں کبھی نہ آتیں اور آئی بھی تھیں تو تمھیں اس محلہ میں مجرے کو نہ آنا تھا جہاں کی رہنے والی تھیں۔
میں : ہاں اتنی خطا ضرور ہوئی مگر مجھے کیا معلوم تھا؟


صفحہ کتاب 206، صفحہ ریختہ 207

جوان : اچھا اب تو معلوم ہو گیا؟
میں : اب کیا ہوتا ہے؟
جوان : (بہت ہی غصہ ہو کے) اب کیا ہوتا ہے! اب کیا ہوتا ہے۔ اب (چھری کمر سے نکال کر مجھ پر جھپٹا۔ دونوں ہاتھ پکڑ کے گلے پر چھری رکھ دی) یہ ہوتا ہے۔

اتنے میں ماما بازار سے پان لے کے آئی۔ اس نے جو یہ حال دیکھا لگی چیخنے، "ارے دوڑو بیوی کو کوئی مارے غالتا ہے۔"

جوان : (چھری گلے سے ہٹا کے ہاتھ چھوڑ دیے) عورت کو کیا ماروں اور عورت بھی کون بڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔

اتناکہہ کے ڈاڑھیں مار مار کے رونے لگا۔

میں پہلے ہی سے رو رہی تھی۔ جب اس نے گلے پر چھری رکھی تھی جان کے خوف سے ایک دھچکا سا کلیجہ پر پہونچا تھا، اس سے دم بخود ہو گئی تھی۔ جب وہ چھوڑ کر رونے لگا میں بھی رونے لگی۔

ماما نے دو ایک چیخیں ماری تھیں۔ جب اس نے یہ حال دیکھا کچھ چپ سی ہو رہی۔ ادھر میں نے اشارہ سے منع کیا، ایک کنارے کھڑی ہو گئی۔

جب دونوں خوب رو دھو چکے۔

جوان : (ہاتھ جوڑ کے) اچھا تو اس شہر سے کہیں چلی جاؤ۔
میں : کل چلی جاؤں گی مگر ایک مرتبہ ماں کو اور دیکھ لیتی۔
جوان : بس اب دل سے دور رکھو۔ معاف کرو۔ کل اماں نے تمھیں گھر پر بلا لیا، میں نہ ہوا نہیں تو اسی وقت وارا نیارا ہو جاتا۔ محلہ بھر میں چرچے ہو رہے ہیں۔


صفحہ کتاب 207، صفحہ ریختہ 208

میں : تم نے دیکھ لیا، جان سے تو میں ڈرتی نہیں۔ مگر ہائے تمہارے جان کا خیال ہے۔ تم اپنے بچوں پر سلامت رہو۔ خیر اگر جیتے رہے تو کبھی نہ کبھی خیر و عافیت سن ہی لیا کریں گے۔
جوان : برائے خدا کسی سے ہمارا ذکر نہ کرنا۔
میں : اچھا۔

وہ جوان تو اٹھ کے چلا گیا۔ میں اپنے غم میں مبتلا تھی۔ ماما نے اور جان کھانا شروع کی۔

ماما : یہ کون تھے؟
میں : رنڈی کے مکان پر ہزاروں آدمی آتے ہیں۔ کوئی تھے تمھیں کیا۔

بہر طور ماما کو ٹال دیا۔ رات سو رہی، صبح کو اٹھ کے لکھنؤ کے چلنےکی تیاری کی۔ شاموں شام شکرم کرایہ کر کے روانہ ہو گئی۔

لکھنؤ آ کر خانم کے مکان میں اتری۔ وہی چوک، وہی کمرہ، وہی ہم ہیں۔ اگلے آنے والوں میں سے کچھ لوگ کلکتہ چلے گئے تھے۔ کچھ اور شہروں میں نکل گئے تھے۔ شہر میں نیا انتظام نئے قانون جاری تھے۔ آصف الدولہ کے امام باڑے میں قلعہ تھا۔ چاروں طرف دُھس بنے ہوئے تھے۔ جابجا چوڑی چوڑی سڑکیں نکل رہی تھیں۔ گلیوں میں کھرنجے بنائے جاتے تھے، نالے نالیاں صاف کی جاتی تھیں، غرضیکہ لکھنؤ اب اور ہی کچھ ہو گیا تھا۔

میں دو چار مہینہ خانم کے مکان پر رہی۔ اُس کے بعد بہ لطائف الحیل ایک علیٰحدہ کمرہ کے کر رہنا شروع کیا۔ زمانے کے انقلاب کے ساتھ خانم کی طبیعت بھی کچھ بدل گئی تھی۔ مزاج میں ایک قسم کی بے پروائی سی ہو گئی تھی۔ جو رنڈیاں نکل کے


صفحہ کتاب 207، صفحہ ریختہ 209

علیٰحدہ ہو گئی تھیں ان کا تو ذکر کیا جو ساتھ رہتی تھیں ان کے روپیہ پیسہ سے کوئی واسطہ و غرض نہ تھی۔ میرا علیٰحدہ ہو جانا بھی کچھ ان کے مزاج کے خلاف نہ گذرا۔ دوسرے تیسرے دن میں جاتی تھی، سلام کر کے چلی آتی تھی۔ اسی زمانہ میں نواب محمود علی خاں صاحب سے مجھ سے تپاک بڑھا۔ پہلے کچھ دنوں تشریف لایا کیے پھر نوکر رکھا اس کے بعد مجھے پابند کرنا چاہا۔ بھلا مجھ سے کب ہو سکتا تھا کہ لکھنؤ میں رہوں اور قدیم ملنے والوں سے ملاقات ترک کر دوں۔ جب میں نے نواب صاحب کی طبیعت کا یہ رنگ دیکھا، ترک تعلق کرنا چاہا۔ نواب صاحب نے عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا کہ مجھ سے نکاح ہے۔ عجب آفت میں جان پھنسی۔ مقدمہ کی پیروی میں ہزاروں روپیہ صرف ہوے۔ عدالتِ ابتدائی میں فیصلہ نواب صاحب کے موافق ہوا۔ اب مجھے روپوش ہونا پڑا۔ مدتوں چھپی چھپی پھری۔ وکیل کی معرفت اپیل کی، اپیل میں نواب صاحب ہارے۔ اب ناجائز دھمکیاں دینا شروع کیں، مار ڈالوں گا، ناک کاٹ لوں گا۔ اس زمانہ میں مجھ کو جان کی حفاظت کے لیے دس بارہ آدمی لٹھ بند نوکر رکھنا پڑے۔ جہاں جاتی ہوں آدمی فینس کے ساتھ ہیں۔ ناک میں دم ہو گیا۔ آخر میں نے فوجداری میں مچلکے کا دعویٰ کیا۔ گواہوں سے ثابت کرا دیا کہ نواب صاحب بے شک درپے آزار ہیں۔ حاکم نے نواب صاحب سے مچلکہ لے لیا۔ اب جا کے جان چھوٹی۔ چھ برس تک ان مقدموں میں پھنسی رہی۔ خدا خدا کر کے نجات ہوئی۔

جس زمانہ میں نواب صاحب سے مقدمہ لڑ رہا تھا، ایک صاحب اکبر علی خاں نامی مختار پیشہ چلتے پرزے آفت کے پرکالے ناجائز کاروائیوں میں مشاق، جعل سازی میں استاد جھوٹے مقدمات بنانے میں وحیدِ عصر، عدالت کو دھوکہ دینےمیں یکتائے زماں میری طرف سے پیروکار تھے۔ ان کی وجہ سے عدالتی کاموں میں بہت مدد ملی۔ حق تو یہ ہے کہ اگر وہ نہ ہوتے نواب سے سربر نہ ہوتی۔ اگرچہ سچا واقعہ یہ ہے کہ نواب صاحب سے اور مجھ سے نکاح نہ تھا مگر عدالتوں میں اکثر سچی بات کے لیے بھی جھوٹے گواہ پیش کرنا


صفحہ کتاب 209، صفحہ ریختہ 210

ہوتے ہیں۔ فریق ثانی کی طرف سے بالکل جھوٹا دعویٰ تھا لیکن مقدمہ اس سلیقے سے بنایا گیا تھا کہ کوئی صورت مفر کی نہ تھی۔ نگاح کے ثبوت میں دو مولوی پیش کیے تھے جن کے ماتھوں پر گھٹے پڑے ہوئے، بڑے بڑے عمامے سر پر، عبا میں زیب دوش، ہاتھوں میں کنٹھے، پاؤں میں کفشیں، بات بات میں قال اللہ، قال الرسول۔ ان کی صورت دیکھ حاکمِ عدالت کیا کسی نیک نیت آدمی کو کذب و دروغ کا شبہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ان میں سے ایک بزرگ ناکح کے وکیل بنے تھے اور ایک منکوحہ کے مگر پھر حق حق ہے اور ناحق ناحق، جرح میں بگڑ گئے۔ نواب کے اور گواہ ان سے زیادہ بگڑے اور انھیں گواہوں کی گواہی کی وجہ سے نواب اپیل ہار گئے۔ فوجداری میں میری طرف سے جو گواہ پیش کیے گئے تھے وہ سب اکبر علی کے بنائے ہوئے تھے، بالکل نہ بگڑے۔

اکبر علی خاں کی آمد و رفت میرےمکان پر بہت زمانہ تک رہی۔ انھوں نے میرے ساتھ پورا حق دوستی ادا کیا۔ ایک حبہ نہیں لیا بلکہ اپنے پاس سے بہت کچھ صرف کیا۔ واقعی ان کو میرے ساتھ ایک قسم کی محبت تھی۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ برے آدمی بھی بالکل برے نہیں ہوتے۔ کسی نہ کسی سے بھلے ضرور ہو جاتے ہیں۔ اگلے زمانہ کے چوروں کی نسبت آپ نے سنا ہو گا کہ جب کسی سے دوستی کر لیتے تھے تو اس کا پورا نباہ کرتے تھے۔ بغیر کسی قدر بھلائی کے زندگی بسر نہیں ہو سکتی۔ جو شخص سب سے برا ہو وہ کس کا ہو کے رہے گا۔ جب تک نواب سے مقدمہ ہوتا رہا میں کسی اجنبی شخص کو اپنے پاس نہ آنے دیتی تھی۔ مبادہ اُس کا بھیجا ہوا خفیہ خبر لینے آیا ہو اور کسی طرح کا نقصان پہنچائے۔ اکبر علی خاں ایک مرتبہ صبح کو کچہری سے پلٹ کے یہیں آتے تھے۔ شام کو یہیں نماز پڑھتے تھے، گھر سے کھانا آتا تھا۔ ہر چند میں نے اصرار کیا کہ مکان سے کھانا منگانے کی کیا ضرورت مگر انھوں نے نہ مانا آخر مجبور ہو کے چپ ہو رہی۔ میرے گھر کے کھانے سے انکار بھی نہ تھا۔ میں بھی انھیں کے ساتھ کھانا کھاتی تھی۔ اس زمانے میں میں بھی نماز
 

اوشو

لائبریرین
امراؤ جان ادا ۔۔۔ کتاب صفحہ 235 ۔۔۔ریختہ صفحہ 236


میں پوچھنے ہی کو تھی کہ کون نواب صاحب۔ اتنے میں ایک مہری بول اٹھی۔

نواب محمد تقی خاں کا مکان کون نہیں جانتا؟

میں : آنے کو تو آؤں مگر نواب صاحب کے خلاف نہ ہو۔

بیگم : نہیں وہ اس طبیعت کے آدمی نہیں ہے اور پھر تمہارے واسطے۔ میں نے اس رات کا حال رتی رتی ان سے کہا تھا۔ انہوں نے تو خود کانپور میں کئی مرتبہ ڈھونڈوایا۔ اکثر پوچھتے رہتے ہیں۔

میں : اچھا تو ضرور آؤں گی۔

بیگم : کب آؤ گی، وعدہ کرو؟

میں : اب کی جمعرات کو حاضر ہوں گی۔

بیگم : اوہی! یہ جمعرات کی ارواح تم کب سے ہو گئیں؟ ابھی تو پورے آٹھ دن ہیں۔ ادھر ہی کیوں نہیں آتیں؟

میں : اچھا تو اگلی پیر کو آؤں گی۔

بیگم : اتوار کو آؤ۔ نواب بھی گھر پر ہوں گے پیر کے دن شاید کسی انگریز سے ملنے چلے جائیں۔

میں : مناسب ہے اتوار کو ہی سہی۔

بیگم : کس وقت آؤ گی؟

میں : جس وقت کہیے، مجھے گھر پر کوئی کام نہیں۔ ہر وقت برابر ہے۔

بیگم : تم کہاں رہتی ہو؟

میں : چوک میں سید حسن خاں کے پھاٹک کے پاس۔

بیگم : اچھا تو میں مہری کو بھیج دوں گی، اسی کے ساتھ چلی آنا۔

میں : بہت اچھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امراؤ جان ادا ۔۔۔ کتاب صفحہ 236 ۔۔۔ریختہ صفحہ 237


بیگم : اچھا تو خدا حافظ!

میں : خدا حافظ، ہاں یہ تو کہیے صاحب زادہ کیسا ہے؟

بیگم : نبن، ماشاءاللہ اچھا ہے ۔ لو اب تم نے یاد کیا؟

میں : کیا کہوں باتوں میں کیسی بھولی اور بھولی کیا، جب چاہتی تھی پوچھوں ایک نہ ایک بات نکل آتی تھی۔

بیگم : اب تو سلامتی سے ذرا ہوش سنبھالا ہے۔ اچھا اس دن اسے بھی دیکھ لینا۔

میں : رات کی نیت حرام، لے اب کچھ نہ کہیے۔ خدا حافظ

بیگم : خدا حافظ، دیکھو ضرور آنا۔

میں : ایسی بات ہے۔

اتنے میں مہری نے دیکھا کہ باتوں کا پھر سلسلہ چلا کہنے لگی، بیگم صاحبہ چلیے دیر سے کہار غل مچا رہے ہیں۔ سواری لگی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہر چند بہت غور کیا ہم نے شب و روز

دنیا کا طلسمات سمجھ میں نہیں آتا


میں خانم سے علیحدہ ہو گئی تھی مگر جب تک وہ جیتی رہیں اپنا سرپرست سمجھا کی اور سچ یہ ہے کہ انہیں بھی مجھ سے محبت تھی۔ ان کے پاس اس قدر دولت تھی کہ طبیعت غنی ہو گئی تھی۔ سن جو زیادہ ہو گیا تھا تو دنیا کی طرف سے ان کی طبیعت پھر گئی تھی۔ اب ان کو کسی کی کمائی سے کچھ مطلب نہ تھا۔ مگر محبت اسی طرح کرتی تھیں۔ وہ اپنے جیتے جی کسی نوچی کو اپنے سے جدا نہ کرتی تھیں۔ مجھ سے تو ان کو خاص محبت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امراؤ جان ادا ۔۔۔ کتاب صفحہ 237 ۔۔۔ریختہ صفحہ 238


تھی۔ بسم اللہ نے ان کو بہت اذار دیے اس لیے انہیں نفرت سی اس سے ہو گئی تھی لیکن پھر اولاد تھی۔ خورشید جان بھی غدر کے بعد آ گئی تھیں، وہ خانم کے پاس رہتی تھیں۔ امیر جان نے علیحدہ کمرہ لے لیا تھا مگر وہ بھی آتی جاتی رہتی تھیں۔

جو کمرہ خانم نے مجھے دیا تھا وہ ان کی زندگی بھر مجھ سے خالی نہیں کرایا گیا۔ میرا اسباب اس میں بند رہتا تھا۔ میرا قفل لگا تھا۔ جب جی چاہتا تھا وہیں جا کے رہتی تھی۔ سال بھر کہیں رہوں مگر محرم میں تعزیہ داری وہیں کرتی تھی۔ میرے نام کا تعزیہ خانم مرتے دم تک رکھا کیں۔

جمعرات کو بیگم سےملاقات ہوئی تھی جمعہ کو آدمی آیا کہ خانم صاحب کی طبیعت کچھ علیل ہے تمہیں یاد کرتی ہیں۔ میں فوراً سوار ہو کے گئی۔ انہیں دیکھ کر گھر پر واپس آنے کا ارادہ کیا کہ جی میں آیا کہ ایک بھاری جوڑہ نکال لیتی چلوں۔ کمرہ کھولا دیکھا کمرےمیں چاروں طرف جالے لگے ہیں۔ پلنگ پر منوں گرد پڑی ہے، فرش فروش الٹا پڑا ہے، ادھر ادھر کوڑا پڑا ہے۔ یہ حال دیکھ کے مجھے اپنے اگلے دن یاد آئے۔ اللہ ایک وہ دن تھا کہ یہ کمرہ ہر وقت کیسا سجا سجایا رہتا تھا، دن بھر میں چار مرتبہ جھاڑو ہوتی تھی، بچھونے جھاڑے جاتے تھے، گرد کا نام نہ تھا، تنکا تک کہیں پڑا نہ رہتا تھا۔ یا اب یہ حال ہے کہ دم بھر بیٹھنے کو جی نہیں چاہتا۔ وہی پلنگ جس پر میں سوتی تھی اب اس پر قدم رکھتے ہوئے کراہت معلوم ہوتی تھی۔ آدمی ساتھ تھا میں نے اس سے کہا ذرا جالے تو لے لے۔ وہ ایک سینٹھا کہیں سے ڈھونڈھ کے اٹھا لایا۔ جالے لینے لگا۔ اتنی دیر میں میں نے اپنے ہاتھ سے دری الٹی۔ آدمی نے اور میں نے مل کے دری بچھائی، چاندنی کو ٹھیک کیا، جب فرش درست ہو گیا تو میں نے پلنگ کے بچھونے اٹھوا کر جھڑوا دیے۔ کوٹھری میں سنگار دان، پاندان، اگالدان اٹھا لائی۔ سب چیزیں اپنے اپنے قرینے سے لگا دیں جس طرح کسی زمانے میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امراؤ جان ادا ۔۔۔ کتاب صفحہ 238 ۔۔۔ریختہ صفحہ 239


لگی رہتی تھیں۔ خود پلنگ سے تکیہ لگا کے بیٹھی۔ آدمی کے پاس خاصدان تھا، پان لے کے کھایا۔ آئینہ سامنے لگا کہ منہ دیکھنے لگی۔ اگلا زمانہ یاد آ گیا۔ شباب کی تصویر آنکھوں میں پھر گئی۔ اس زمانہ کے قدر دانوں کا تصور بندھ گیا۔ گوہر مرزا کی شرارت، راشد علی کی حماقت، فیضو کی محبت، سلطان صاحب کی صورت ۔ غرضیکہ جو جو صاحب اس کمرے میں آئے تھے مع اپنی اپنی خصوصیات کے میرے پیش نظر تھے۔ وہ کمرہ اس وقت فانوسِ خیال بن گیا تھا۔ ایک تصویر آنکھ کے سامنے آتی تھی اور غائب ہو جاتی تھی پھر دوسری سامنے آتی تھی۔ جب کل صورتیں نظر سے گذر گئیں تو یہ دورہ از سرِ نو پھر شروع ہوا۔ پھر وہی صورتیں ایک دوسرے کے بعد پیش آئیں۔ پہلے تو ایسے دورے جلد جلد ہوئے اب ذرا توقف ہونے لگا۔ اب مجھ کو ہر تصویر پر زیادہ تردد و فکر کرنے کا موقعہ ملا۔ جو واقعات جس شخص کے متعلق تھے ان پر تفصیلی نظر پڑنے لگی۔ پہلے جب دماغ کو چکر ہوا تھا تو صرف چند ہی تصویریں نظر آتی تھیں، اب ہر تصویر سے بہت سی نکلیں اور فانوسِ خیال کی وسعت بڑھنے لگی۔ تمام زندگی میں جو کچھ دیکھا، سب نگاہ کے سامنے تھا۔ اس اثناء میں ایک مرتبہ سلطان صاحب کا پھر خیال آیا تو اس کے ساتھ ہی پہلے مجرے کا تمام جلسہ جس میں سلطان صاحب کو دیکھا اور اور دوسرے دن ان کے خدمت گار کا آنا پھر ان کا خود تشریف لانا، مزےمزے کی باتیں، شعر و سخن کا چرچا، خاں صاحب کا گر پڑنا، شمشیر خاں کی جاں نثاری، کوتوال کا آنا، خاں صاحب کا گھر بھجوانا اور سلطان صاحب کا نہ آنا، محفل میں ان کو دیکھنا، لڑکے کے ہاتھ رقعہ بھیجنا، پھر ازسرِ نو رسم ہونا، نواز گنج کے جلسے، یہ سب واقعات اس طرح سے معلوم ہوتے تھے جیسے کل ہوئے ہیں۔ یہ دورے برابر چل رہے تھے مگر جب پہلے مجرے کے بعد سلطان صاحب کے آدمی کا پیام لے کے آنا یاد آتا تھا تو طبیعت رک سی جاتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس موقعہ پر کچھ چھوٹ جاتا ہے۔ اتنے میں آدمی نے زور سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امراؤ جان ادا ۔۔۔ کتاب صفحہ 239 ۔۔۔ریختہ صفحہ 240


ایک چیخ ماری ۔

آدمی : بیوی دیکھیے وہ کھنکھجورا آپ کے ڈوپٹہ پر چڑھا جاتا ہے۔

میں : اوہی کہہ کے اٹھ جلدی سے ڈوپٹہ اتار کے پھینک دیا۔ الگ جا کھری ہوئی۔ آدمی نے ڈپٹہ اتار کے جھاڑا۔ کھنکھجورا پٹ سے گرا اور رینگ کے پلنگ کے سرہانے پائے کے نیچے گھس گیا۔ آدمی نے پلنگ کا پایا اتھایا اب جو دیکھتے ہیں تو پائے کے نیچے پانچ اشرفیاں برابر بچھی ہوئی ہیں۔

آدمی : (بہت ہی متعجب ہو کے ) ہائیں، اے لیجیے یہ کیا ہے؟

میں : (دل میں) ہاہ! یہ وہ اشرفیاں ہیں۔ (آدمی سے) اشرفیاں ہیں۔

آدمی : واہ! اشرفیاں یہاں کہاں سے آئیں؟

میں : (ہنس کے) وہ کھنکھجورا اشرفیاں بن گیا۔ اچھا اٹھا لو۔

آدمی : پہلے تو ذرا جھچکا پھر پانچوں اشرفیاں مجھے اٹھا کے حوالے کیں۔

رسوا : تو کیا خانم مکان غدر میں نہیں لٹا؟

امراؤ : لٹا کیوں نہیں مگر فرض کر لیجیے کہ کسی نے میرے پلنگ کا پایا اٹھا کے نہیں دیکھا۔

رسوا : ممکن ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کسی طرح سے ہو تسکینِ شوق کیسا رشک

ملیں گے آج ہم ان سے، رقیب سے مل کے


اتوار کے دن 8 بجے صبح کو بیگم کی مہری فینس اور کہار لے کر سر پر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امراؤ جان ادا ۔۔۔ کتاب صفحہ 240 ۔۔۔ریختہ صفحہ 241


نازل ہو گئی۔ میں ابھی سو کے اٹھی تھی۔ اچھی طرح حقہ بھی نہ پینے پائی تھی کہ اس نے جلدی مچانا شروع کر دی۔ میں سمجھی تھی کھانا وانا کھا کے جانا ہو گا۔ مہری نے کہا بیگم صاحبہ نے اپنے سر کی قسم دی ہے کہ کھانا یہیں آ کے کھانا۔ میں نے پوچھا نواب صاحب گھر پر ہیں۔ اس نے کہا نہیں، صبح سے اٹھ کے گاؤں کو سدھارے ہیں۔ میں نے پوچھا کب تک آئیں گے؟ مہری نے کہا اب آئیں تو شام کو آئیں۔ مجھے بیگم سے بہت سی باتیں کرنا تھیں۔ اس لیے فوراً اٹھ بیٹھی۔ ہاتھ منہ دھوے، کنگھی چوٹی کر، کپڑے پہن، ایک ماما کو ساتھ لے کے روانہ ہو گئی۔

جا کے جو دیکھا بیگم صاحب منتظر بیٹھی ہیں۔ میرے جانے کے ساتھ ہی دسترخوان بچھا۔ میں نے اور بیگم صاحبہ نے ساتھ بیٹھ کے کھانا کھایا۔ بہت تکلف کا کھانا تھا۔ پراٹھے، قورمہ، کئی طرح کا سالن، بالائی، مہین چاولوں کا خشکہ، نورنن چٹنی، سیب کا مربہ، حلوا سوہن۔

کھانا کھا کے چپکے سے میرے کان میں ۔

بیگم : کیوں وہ کریم کے گھر کی ارہر کی دال اور جوار کی روٹیاں بھی یاد ہیں؟

میں : چپ بھی رہو، کوئی سن نہ لے۔

بیگم : سن لے گا تو کیا ہو گا؟ کیا کوئی جانتا نہیں۔ نواب کی ماں (خدا جنت نصیب کرے) نے مجھے نواب کے لئے مول لیا تھا۔

میں : برائے خدا چپ رہوکہیں علیحدہ چلو تو باتیں ہوں گی۔

کھانا کھا کے ہاتھ منہ دھویا، پان کھایا، مہری نے حقہ لا کے لگایا، بیگم نے سب کو بہانے سے ٹال دیا۔

میں : بارے تم نے مجھے پہچان لیا۔

بیگم : جب تمہیں پہلے پہل کانپور میں دیکھا تھا اسی دن پہچان لیا تھا۔ پہلے تو بڑی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امراؤ جان ادا ۔۔۔ کتاب صفحہ 241 ۔۔۔ریختہ صفحہ 242


دیر تک الجھن سی ہی تھی، دل میں کہتی تھی میں نے انہیں کہیں دیکھا ہے مگر کہاں دیکھا ہے، یہ کچھ یاد نہیں آتا تھا۔ چاروں طرف خیال دوڑاتی تھی، کچھ سمجھ ہی میں نہ آتا تھا۔ اتنے میں کریمن مہری پر نظر پڑی۔ کریمن کے نام پر مونڈی کاٹے کریم کا نام یاد آ گیا۔ دل نے کہا کہ او ہو ہو ! انہیں کریم کے مکان پر دیکھا تھا۔

میں : میرا بھی یہی خیال تھا۔ بڑی دیر تک غور کیا کی۔ میری ساتھ والیوں میں ایک خورشید ہے، اس کی صورت تم سے بہت ملتی ہے۔ جب میں خورشید کو دیکھتی تھی تو تم یاد آ جاتی تھیں۔

بیگم : اب میرا حال سنو !

میں جب تم سے جدا ہو کے نواب صاحب کی ماں نواب عمدۃالنساء بیگم صاحبہ کے ہاتھ بکی ہوں۔ تمہیں یاد ہو گا میرا سن کوئی بارہ برس کا ہو گا۔ نواب کو سولہواں برس تھا۔ نواب کے ابا جان کانپور میں رہتے تھے۔ بیگم صاحب سے ان سے نااتفاقی رہتی تھی۔ نواب صاحب کے ابا جان نے نواب کی شادی اپنی بہن کی لڑکی کے ساتھ ٹھہرائی تھی۔ ان کا مکان دہلی میں تھا۔ بیگم صاحب کو وہاں شادی کرنا منظور نہ تھا۔ وہ یہ چاہتی تھیں کہ نواب کی شادی ان کے بھائی کی لڑکی کے ساتھ ہو۔ میاں بیوی میں پہلے ہی سے نااتفاقی تھی، اس بات سے اور ضدیں بڑھیں۔ ابھی یہ جھگڑا طے نہ ہوا تھا کہ نواب کے دشمنوں کی طبیعت کچھ ناساز تھی۔ حکیموں نے تجویز کیا کہ بہت جلد شادی کر دینا چاہیے ورنہ جنون ہو جائے گا۔ شادی ہو جانا کسی طرح ممکن نہ تھا۔ اتنے میں میں پہنچ گئی۔ بیگم صاحب نے مجھے خرید لیا۔

نواب صاحب مجھ پر مائل ہو گئے اور ایسےمائل ہوئے کہ دونوں جگہ شادی سے کھلم کھلا انکار کر دیا۔ تھوڑے دنوں کے بعد خدا کا کرنا ایسا ہوتا ہے کہ بیگم صاحب نے انتقال کیا اور اس کے چند ہی سال بعد بڑے نواب بھی مر گئے۔ ماں باپ دونوں صاحب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امراؤ جان ادا ۔۔۔ کتاب صفحہ 242 ۔۔۔ریختہ صفحہ 243


جائداد تھے۔ یہی ایک اکلوتے لڑکے تھے۔ کل دولت انہی کو ملی۔

خدا نواب صاحب کو سلامت رکھے جن کی بدولت بیگم صاحب بنی ہوئی ہوں اور چین کرتی ہوں۔ نواب مجھے اسی طرح چاہتے ہیں جیسے کوئی اپنے سہرے جلوے کی بیوی کو چاہتا ہو۔ میری ظاہر میں تو کسی طرف نگاہ اٹھا کے بھی نہیں دیکھا، یوں اپنے باہر دوست آشناؤں میں جو کچھ چاہتے ہوں کرتے ہوں، آخر مرد ذات ہیں کچھ میں ان کے پیچھے تو پھرتی نہیں۔

خدا نے سب آرزوئیں میری پوری کیں۔ اولاد کی ہوس تھی، خدا کے صدقے سے اولاد بھی ہے۔ اب اگر آرزو ہے تو یہ ہے کہ خدا نبن کو پروان چڑھائے، بہو بیاہ کے لاؤں اور ایک پوتا کھلاؤں پھر چاہے مر جاؤں، نواب کے ہاتھوں مٹی عزیز ہو جائے۔ اب تم اپنا حال کہو۔

جب رام دئی یہ باتیں کر رہی تھی مجھے اپنی قسمت پر افسوس آتا تھا اور دل ہی دل میں کہتی تھی ، تقدیر ہو تو ایسی ہو۔ ایک میری پھوٹی تقدیر، بکی بھی تو کہاں، رنڈی کے گھر میں۔

اس کے بعد میں نے اپنا مختصر حال کہہ سنایا کہ جس سے آپ بخوبی واقف ہیں، میں دن بھر رہیں رہی۔ جب تخلیہ کی باتیں ہو چکیں تو نوکروں کو آواز دی۔ طبلہ کی جوڑی، ستار، طنبورہ یہ سب سامان منگایا۔ گانے بجانے کا جلسہ ہوا۔

جب ہم دونوں اکیلے تھے تو وہ رام دئی تھیں اور میں امیرن۔ سب لوگوں کے سامنے پھر وہ بیگم صاحب ہو گئیں اور میں امراؤ جان۔ تین چار گھنٹے تک گانا بجانا ہوتا رہا۔ بیگم بھی کسی قدر ستار بجا لیتی تھیں۔ جب میں گا چکتی تھی تو وہ ستار کی کوئی گت چھیڑ دیتی تھیں۔ ایک مغلانی کا گلا بہت اچھا تھا اس کو گوایا۔ سرِ شام تک بڑے لطف کی صحبت رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امراؤ جان ادا ۔۔۔ کتاب صفحہ 243 ۔۔۔ریختہ صفحہ 244


ہاں اے نگاہِ شوق مناسب ہے احتیاط

ایسا نہ ہو کہ بزم میں چرچا کرے کوئی


قریب شام محل میں نواب صاحب کی آمد کا غل ہوا۔ وہ بے تکلفی کی صحبت برہم ہو گئی۔ طبلے کی جوڑی، ستار، طنبورہ سب چیزیں ہٹا دی گئیں۔ چھپنے والیاں اٹھ اٹھ کے پردے میں جانے لگیں اور سب لوگ اپنے اپنے قرینے سے ہو گئے۔ میں بھی بیگم سے الگ ہٹ کے مقطع بن کے بیٹھ گئی۔ جس دالان میں ہم لوگ بیٹھے تھے وہاں سے دروازہ کا سامنا تھا۔ پردہ پڑا ہوا تھا۔ نواب کے انتظار میں اس پردے کی طرف نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ میں بھی اسی طرف دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں کسی خدمت گار نے چلا کے کہا نواب صاحب آتے ہیں۔ چند لمحہ کے بعد مہری نے پردہ اٹھا کے کہا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نواب اندر داخل ہوئے۔

میں (صورت دیکھتے ہی دل میں) وہی تو ہیں (سلطان صاحب) ہے ہے کس موقعہ پر سامنا ہوا ہے۔ نواب کی نگاہ مجھ پر پڑی۔ پہلے تو کچھ جھچکے پھر بغور میری طرف دیکھتے ہوئے آگے بڑھے۔ میں بھی انہیں کی طرف دیکھ رہی تھی۔

میں دیکھتا ہوں جو ان کی طرف تو حیرت ہے

میری نگاہ کا وہ اضطراب دیکھتے ہیں

اب نواب دالان کے قریب پہنچ گئے اور میری ہی طرف دیکھتے جاتے تھے کہ

بیگم : اوہی نواب دیکھتے کیا ہو وہی ہیں امراؤ جان جو کانپور۔۔۔۔۔

نواب : (انجان بن کے) ہاں میں نے تم سے پرسوں انہیں کا تذکرہ کیا تھا۔

اب فرش کے قریب پہنچ گئے۔ سب تعظیم کو اٹھ کھڑے ہوئے۔ نواب مسند پر بیگم کے پہلو میں اک ذرا سرک کے بیٹھ گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


امراؤ جان ادا ۔۔۔ کتاب صفحہ 244 ۔۔۔ریختہ صفحہ 245


اب شام ہو گئی تھی۔ مہری نے دو کنول سیفد روشن کر کے سامنے رکھے۔ بیگم پان بنانے لگیں۔ اس عرصہ میں نواب نے آنکھ بچا کے میری طرف دیکھا۔ میں نے کنکھیوں سے انہیں دیکھا۔ اب نہ وہ کچھ کہہ سکتے ہیں نہ میں بول سکتی ہوں۔ منہ سے بولنے کا موقعہ نہ تھا مگر اس وقت آنکھیں زبان کا کام دے رہی تھیں۔ شکوے شکایت، رمز و کنایہ سب اشاروں میں ہوا کیا۔

نواب : (کسی قدر اجنبیت سے) مراو جان صاحب ! واقعی ہم تو آپ کے بہت ہی ممنون ہیں۔ واقعی کانپور میں اس شب کو تمہاری وجہ سے ہمارا گھر لٹنے سے بچ گیا۔

میں : یہ آپ کیوں مجھے کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں۔ ایک اتفاقی امر تھا۔

نواب : خیر! جو کچھ ہو وجہ وجہ تمہاری تھی۔ خیر اسباب تو وہاں کچھ نہ تھا مگر ایک بری خیریت ہو گئی۔ تمام ضروری کاغذات کوٹھی میں موجود تھے۔

میں : یہ حضور ان دنوں جنگل میں عورتوں کو چھوڑ کے کہاں گئے تھے ؟

نواب : کیا کہوں ایسی ہی مجبوری تھی۔ لکھنؤ کی جائداد بادشاہ نے ضبط کر لی تھی۔ لاٹ صاحب کے پاس کلکتہ جانا ضرور تھا۔ ایسی عجلت میں گیا تھا کہ نہ کچھ سامان کیا، نہ لیا ، نہ دیا۔ صرف شمشیر خاں اور ایک آدمی اور ساتھ لے کے چلا گیا۔

میں : وہ کوتھی ایسے جنگل میں ہے کہ جو واردات نہ ہو ، تعجب ہے۔

نواب : سوائے اس واقعہ کے اور کوئی واردات کبھی نہیں ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ غدر ہونے کو تھا، بدمعاشوں نے سر اٹھایا تھا۔ ملک میں اندھیر مچا تھا۔

اس کے بعد اور ادھر ادر کی باتیں ہوا کیں۔ پھر دستر خوان بچا۔ سب نے مل کے ساتھ کھانا کھایا۔ جب حقہ پان سے فراغت ہو چکی تو نواب نے گانے کی فرمائش کی۔ میں نے یہ غزل شروع کی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
165

کو اگر راجہ صاحب سے کہوں گی تو شاید رسائی نہ ہو گی کیوں کہ وہاں جانے سے خورشید کا حال کھل جاتا۔ شاید خانم کوئی آفت برپا کریں۔

راجہ صاحب میرے اِس ارادے سے بہت خوش ہوئے۔

راجہ : تو لکھنؤ کبھی نہ جاؤ گی؟

میں : لکھنؤ میں میرا کون بیٹھا ہے۔ گانے بجانے کا پیشہ ہے جہاں ہوں گی کوئی نہ کوئی قدر دان نکل ہی آئے گا۔ خانم کی قید میں رہنا اب مُجھے منظور نہیں۔ اگر وہاں رہنا ہوتا تو نکل کیوں آتی؟

میں نے راجہ صاحب کو یقین دلا دیا کہ میں تو ہرگز نہ جاؤں گی۔

دوسرے دن راجہ نے مجھے رخصت کیا۔ دس اشرفیاں انعام دیں۔ ایک دوشالہ دیا، ایک رومال ایک رتھ معہ تین بیل کے۔ غرضکہ مجھے ڈیرہ دار یتریا بنا دیا۔ ایک گاڑی مان اور دو آدمی میرے سات کیے۔ اُناؤ کو روانہ ہوئی۔ وہاں پہنچ کر سلارد بھٹیارے کے مکان میں ٹھہری۔ راجہ صاحب کے آدمیوں کو رخصت کیا۔ صرف گاڑی بان رہ گیا۔

سر شام میں اپنی کوٹھری کے سامنے بیٹھی ہوں۔ مسافر آتے جاتے ہیں۔ بھٹیاریاں چلا رہی ہیں۔ میاں مسافر اِدھر اُدھر مکان جھاڑا ہوا ہے۔ حقّہ پانی کو آرام کھانے پینے کو آرام۔ گھوڑے کے لیے نیم کا سایہ۔۔۔

اتنے میں کیا دیکھتی ہوں کہ فیض علی کا سائیس چلا آتا ہے سرا کے پھاٹک سے اُس کی نگاہ مجھ پر پڑی۔ میرے اس کے آنکھیں چار ہوئیں۔ وہ میرے پاس چلا

آیا۔ باتیں کرنے لگا۔ میرا حال پوچھا اس کے بعد میں نے فیض علی کا حال پوچھا۔ اس نے کہا، ان کو آپ کے اُناؤ آنے کی خبر مل گئی ہے۔ آج رات کو پہر ڈیڑھ پہر رات گئے ضرور آ جاویں گے۔


166

یہ سن کر میرا دل دھڑکنے لگا۔ وجہ تھی کہ مجھے اب فیض علی کا ساتھ منظور نہ تھا۔ تمت کھیڑے کے واقعہ کے بعد میں سمجھی تھی کہ اب گلو خلاصی ہو گئی۔ اُناؤ میں فیض علی جان پر نازل ہو گئے۔ معمولی بات چیت کی۔ اُناؤ سے روانگی کا مشورہ ہونے لگا۔ بڑی دیر تک باتیں رہیں آخری صلاح ٹھہری کہ گاڑی بان کو رخصت کرو۔ سائیس گاڑی ہنکائے گا، میں خود گھوڑے کو دیکھ لوں گا۔ پھر یہ ٹھہری کہ گاڑی سلارو بھٹیارے کے پاس چھوڑ دو، راتوں رات گنگا اُس پار اُتر چلو۔ اب کیا کر سکتی تھی؟ فیض علی کے بس میں تھی جو انہوں نے کہا مجھے چار و ناچار منظور کرنا پڑا۔ فیض علی نے سلارو کو پکارا۔ کنارے لے جا کر دیر تک باتیں کیں۔ کوئی آدھی رات گئے اپنے ساتھ گھوڑے پر مجھے بٹھایا۔ سرائے سے باہر ہوئے۔ پانچ چھ کوس زمین کا چلنا، رات کا وقت، میرا بند بند ٹوٹ گیا۔ مدّتوں درد رہا۔ آخر جوں توں کر کے گنگا کے کنارے پہنچے۔ بڑی مشکل سے ناؤ تلاش کی۔ اس پار اُترے۔ فیض علی نے کہا اب کویی خوف نہیں ہے۔ صبح ہوتے ہوئے کان پور پہنچ گئے۔ فیض علی نے مجھ کو لاٹھی محال میں اتارا۔ خود مکان کی تلاش میں نکلے۔ تھوڑی دیر کے بعد آ کے کہا ”یہاں ٹھہرنا ٹھیک نہیں ہے، مکان ہم نے ٹھہرا لیا ہے وہاں چلی چلو۔“ ڈولی کرایہ کی کی۔

تھوڑی دیر میں ڈولی ایک پختہ عالیشان مکان کے دروازے پر ٹھہری۔ فیض علی نے ہم کو یہاں اتارا۔ مکان کے اندر کیا دیکھتی ہوں کہ ایک دالان میں دو گھری چارپائیاں پڑی ہیں۔ ایک چٹائی بچھی ہے اس پر ایک عجیب قطع کا حقہ رکھا ہوا ہے جسے دیکھتے ہی حقّہ پینے سے مجھے نفرت ہو گئی۔ مکان کا قرینہ دیکھ کے دل کو وحشت ہونے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد فیض علی نے کہا، اچھا تو میں بازار سے کچھ کھانے کو لے آؤں۔ میں نے کہا بہتر ہے مگر ذرا جلدی آنا۔ فیض علی بازار کو گئے، میں اسی میں اکیلی بیٹھی ہوں۔

اب سنیے فیض علی بازار کو جو گئے تو وہیں کے ہو رہے۔ ہہ آج آتے ہیں۔

167

کل، ایک گھڑی دو گھڑی، پہر دوپہر کہاں تک کہوں۔ دوپہر گزری، شام ہونے کو آئی۔ اُناؤ میں سر شام کھانا کھایا تھا۔ رات کو گھوڑے پر چلنے کی تکان، نیند کا خمار، صبح سے منہ پر چلّو پانی تک نہیں پڑا، ٹکڑا نہیں کھایا۔ بھوک کے مارے دم نکلا جاتا ہے۔ تھوڑی دیر میں سورج ڈوب گیا، اندھیرا ہونے لگا آخر رات ہوئی۔ یا خدا! اب کیا کروں منہ کھول دیا۔ اٹھ بیٹھی۔ اتنا بڑا ٹھنڈار مکان بھائیں کھائیں کر رہا ہے۔ ہیہات خدا کی ذات اور میں اکیلی۔ معلوم ہوتا تھا اب اس کوٹھری سے کوئی نکلا وہ سامنے والے دالان میں کولی ٹہل رہا ہے، کوٹھے پر دھم دھم کی آواز آئی۔ زینے سے کوئی کھٹ کھٹ اُترا چلا آتا ہے۔ دوپہر رات ہوئی اب تک انگنائی اور دیواروں پر چاندنی تھی۔ اب چاند بھی چھپ گیا، بالکل اندھیرا گھپ ہو گیا۔ آخر میں دوشالے سے منہ لپیٹ کے پڑ رہی۔ پھر کچھ کھٹکا ہوا۔ رات پہاڑ ہو گئی، کاٹے نہیں کٹتی ہے۔ آخر جوں توں کر کے صبح ہوئی۔

دوسرے دن مجھ کو تو عجب ہی عالم تھا۔ اب لکھنؤ کی قدر ہوئی۔ دل میں کہتی تھی یا خدا کس مصیبت میں جان پڑھی۔ لکھنؤ کا عیش، چین اور اپنا کمرا یاد آتا تھا۔ اِدھر ایک آواز دی اُدھر آدمی مستعد حقہ، پان، کھانا، پانی جو کچھ ہوا اِدھر منہ کیا اُدھر سامنے موجود۔ خلاصہ یہ کہ آج بھی صبح سے دوپہر ہوئی اور فیض علی نہ آئے۔ اس حالت میں اگر کوئی نیک بخت بی بی چار دیواری کی بیٹھنے والی ہوتی تو ضرور ہی گھٹ گھٹ کے مر جاتی۔ میرا ہواؤ تو کھلا ہوا نہ تھا مگر پھر بھی سیکڑوں مردوں میں بیٹھ چکی تھی۔ کانپور نہیں لکھنؤ کے تو اکثر گلی کوچوں سے واقف، یہاں کی بھی سرا دیکھی، بازار دیکھا تھا۔ اب میری بَلا اس خالی مکان میں بیٹھی رہتی۔ جھپ سے کنڈی کھول گلی میں نکل کھڑی ہوئی۔ دس بیس قدم گھر سے گئی ہوں گی کہ دیکھتی کیا ہوں کہ ایک شخص سرکاری وردی پہنے گھوڑے پر سوار دس پندرہ برق انداز ساتھ ان کے حلقہ میں میاں

168

فیض علی ٹنڈیاں کسی ہوئیں سامنے سے چلے آتے ہیں۔ یہ ماجرا دیکھتے ہی میں سن سے ہو گئی۔ وہیں ٹھٹک گئی۔ ایک پتلی سی گلی ملی۔ اسی گلی میں ایک مسجد تھی۔ میں نے دل میں خیال کیا کہ سب سے بہتر خدا کا گھر ہے۔ تھوڑی دیر میں جا کے ٹھہرنا چاہیے۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ میں درانہ اندر چلی گئی۔ یہاں ایک مولوی صاحب سے سامنا ہوا۔ کالے سے تھے۔ سر منڈا ہوا تھا۔ ایک نیلی تہمد باندھے ہوئے دھوپ میں ٹہل رہے تھے۔ پہلے تو شاید سمجھے میں طاق پھرنے آئی ہوں، بہت ہی خوش ہوئے۔ جب میں جا کے چپکے سے صحن کے کنارے پاؤں لٹکا کے بیٹھ گئی تو قریب آ کے پوچھنے لگے۔ کیوں بی صاحب آپ کا یہاں کیا کام ہے؟

میں : مسافر ہوں۔ خدا کا گھر سمجھ کے تھوڑی دیر کے لیے پیٹھ گئی ہوں۔ اگر آپ کو ناگوار ہو تو ابھی چلی جاؤں۔

مولوی صاحب اگرچہ بہت ہی بے تُکے تھے مگر میری لگاوٹ اور دل فریب تقریر نے جادو کا اثر کیا۔ بھلا جواب کیا منہ سے نکلتا ہکا بکا اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔ میں سمجھ گئی کہ دامِ فریب میں آ گئے۔

مولوی : (تھوڑی دیر کے بعد بہت سنبھل کے) اچھا تو آپ کا کہاں سے آنا ہوا؟

میں : جی کہیں سے آنا ہوا مگر بالفعل تو یہیں ٹھہرنے کا ارادہ ہے۔

مولوی: (بہت ہی گھبرا کے) مسجد میں؟

میں: جی نہیں بلکہ آپ کے حجرے میں۔

مولوی : لا حول و لا قوة

میں : اوئی۔ مولوی صاحب مجھے تو آپ کے سوا اور کوئی نظر نہیں آتا۔

مولوی : جی ہاں۔ تو میں اکیلا رہتا ہوں اسی سے تو میں نے کہا مسجد میں آپ کا کیا کام ہے؟

169

میں یہ کیا۔۔۔۔۔ خاصیت ہے کہ جہاں آپ رہیں وہاں دوسرا نہیں رہ سکتا۔ مسجد میں ہمارا کچھ کام نہیں، یہ خوب کہی۔ آپ کا کیا کام ہے؟

مولوی : میں تو لڑکے پڑھاتا ہوں۔

میں : میں آپ کو سبق دوں گی۔

مولوی :- لا حول و لا قوة۔

میں : لا حول و لا قوة۔ یہ آپ ہر دفعہ لا حول کیوں پڑھتے ہیں۔ یہ کیا شیطان آپ کے پیچھے پھرتا ہے؟

مولوی: شیطان آدمی کا دشمن ہے، اس سے ہر وقت ڈرنا چاہیے۔

میں : خدا سے ڈرنا چاہیے، موئے شیطان سے کیا ڈرنا اور یہ کیا آپ نے کہا آدمی ہیں؟

مولوی : (ذرا بگڑ کے) جی ہاں اور کون ہوں؟

میں : مجھے تو آپ جن معلوم ہوتے ہیں۔ اکیلے اِس مسجد میں رہتے ہیں۔ آپ کا دل کبھی نہیں گھبراتا ہے؟

مولوی : پھر کیا کریں؟ ہمیں تو اکیلے کی عادت ہے۔

میں : اُسی سے تو آپ کے چہرے پر وحشت برستی ہے۔ وہ آپ نے نہیں سُنا

؏ تنہا منشیں کہ نیم دیوانگی است

مولوی :۔ اجی وہ کچھ سہی، جس حال میں ہم ہیں خوش ہیں۔ آپ اپنا مطلب کہیے۔

میں: بے مطلب تو کتاب دیکھنے سے حل ہو گا، بالفعل زبان مباحثہ ہے۔

مولوی : چہ خوش۔

میں : چرانہ باشد۔

میں مولوی صاحب کو خوب جھنجھریاں دیتی مگر اس وقت بھوک کے مارے منہ

170

سے بات نہیں نکلتی تھی۔

رسوا : یہ مولوی صاحب سے اس قدر مزاق کی کیا ضرورت تھی؟

امراو : اے ہے۔ اس کا مال نہ پوچھیے۔ بعض آدمیوں کی صورت ہی ایسی ہوتی ہے کہ خواہ مخواہ ہنسنے کو جی چاہتا ہے۔

رسوا : جی ہاں جیسے کسی کی منڈی ہوئی کھوپڑی دیکھ کر بعض آدمیوں کی ہتھیلی کھجلاتی ہے، چپت لگانے کو جی چاہتا ہے۔

امراو : بس یہی سمجھ لیجیے۔

رسوا : اچھا تو وہ مولوی صاحب میں ایسی کون سی بات تھی جس سے مذاق کرنے کو جی چاہتا تھا۔

امراو : کیا کہوں کچھ بیان نہیں ہو سکتا۔ جوان آدمی تھے، صورت بھی کچھ ایسی بُری نہ تھی، سانولی رنگت تھی، چہرے پر ہونّق پن سا تھا، سر پر لمبے لمبے بال تھے، منہ پر داڑھی تھی مگر کچھ بے تُکے پن کی حد سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی مونچھوں کا بالکل صفایا تھا، تہمد بہت اُونچی بندھی ہوئی تھی، سر پر چھینٹ کی بڑی سی ٹوپی تھی جو سر کی پوری چوحدی کو ڈھانکے ہوئے تھی۔ بات کرنے کا عجیب انداز تھا۔ منہ جلدی سے کھلتا تھا پھر بند ہو جاتا تھا، نیچے کا ہونٹ کچھ عجب انداز سے اوپر کو چڑھ جاتا تھا اور اس کے ساتھ ہی نکہ دار داڑھی کچھ عجب انداز سے ہل جاتی تھی۔ اس کے بعد ناک سے کچھ ہونہہ سا نکلتا تھا۔ معلوم ہوتا تھا جیسے کچھ کھا رہے ہیں اور باتیں بھی کرتے جاتے ہیں۔ احتیاطاً منہ جلدی سے بند کر لیتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کچھ نکل پڑے۔

رسوا : کیا واقعی کچھ کھا رہے تھے؟

امراو: جی نہیں، جگالی کر رہے تھے۔

171

رسوا : اکثر کٹ مُلّا کچھ ایسی ہی صورت بنا لیتے ہیں جسے دیکھ کے بےوقوفوں کو ڈر لگتا ہے عقلمند کو ہنسی آتی ہے۔ مجھے ایسی صورتیں دیکھنے کا بہت شوق ہے۔

امراو : اور سنیے۔ آپ کی گفتگو میں ایک وصف اور بھی تھا وہ یہ کہ اکثر منہ پھیر لیا کرتے تھے۔

رسوا : یہ تو عین تمیزداری ہے اس لیے کر عند التقریر آپ کے منہ سے تھوک اُڑتا ہو گا۔

امراو : کچھ اور بھی عرض کروں۔

رسوا : بس اب معاف کیجیے یہاں تو صبح ہو گئی۔

امراو :۔ القصّہ میں نے جیب سے ایک روپیہ نکالا۔

مولوی :۔ (یہ سمجھ کے کہ مجھے نذر دیا جاتا ہے جلدی سے ہاتھ تو بڑھا دیا اور منہ سے) اس کی کیا ضرورت تھی؟

میں: (مُسکرا کے) اس کی اشد ضرورت تھی اس لیے کہ مجھے بھوک لگی ہے۔ کسی سے کچھ کھانے کو تو منگا دیجیے۔

مولوی : (اب جھینپے تو یوں بات بنانے لگے) میں سمجھا (میں نے دل میں کہا سمجھے کیا خاک۔ سمجھتے تو پتھر کے ہو جاتے) اِسی سے تو کہتا ہوں اس کی کیا ضرورت تھی۔ کیا کھانا یہاں ممکن نہیں؟

میں :- امکان بالقوة يا بالفعل بالذات یا بالغير؟

مولوی :- بالفعل تو ممکن نہیں، میرا ایک شاگرد کھانا لاتا ہو گا آپ بھی کھا لیجیے گا۔

میں :- بالفعل تو ممکن نہیں۔ بالذات کی آپ کو توفیق نہیں اور یہاں ضرورت نے اکل میت کو جواز کا حکم دے دیا ہے لہٰذا بازار سے کچھ لا دیجئے۔

مولوی: اک ذرا صبر کیجیے کھانا آتا ہی ہو گا۔

میں :۔ اب صبر کرنا تکلیف مالا یطاق ہے اور دوسرے میں نے بالتحقیق سنا ہے کہ رمضان شریف ایک مہینے تمام دنیا میں سیر کرتے ہیں اور گیارہ مہینے اسی مسجد میں معتکف رہتے ہیں۔

مولوی :۔ اس وقت تو فی نفس الامر کچھ نہیں ہے مگر میرا ایک شاگرد کھانا لے کے آتا ہو گا۔

میں :۔ اور بالفرض والتسلیم لو کان محالا۔ اگر کھانا آیا بھی تو وہ آپ کی قوّتِ لايموت کے لیے بھی کافی نہ ہو گا۔ میری شرکت اِس میں یعنی چہ۔ اور من وجہ کفالت بھی کرے تو الانتظار اشد من الموت کا مصداق ہے تا تریاق از عراق آوردہ شود۔

مولوی: اہا! آپ تو بہت قابل معلوم ہوتی ہیں۔

میں: مگر میرے زعم ناقص میں آپ کسی قابل نہیں۔

مولوی : واقعی ایسا ہی ہے مگر...

میں: (بات کاٹ کر ) مگر اس لیے کہ یہاں تو آنتیں قل ہو اللہ پڑھ رہی ہیں اور آپ لا طائل تقریریں کر رہے ہیں۔

مولوی: اچھا تو میں ابھی لایا۔

میں : لِلّٰہ ذرا جلدی جائیے۔

خدا خدا کر کے مولوی صاحب گئے اور کوئی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد چار خمیری روٹیاں اور ایک مٹی کے پیالے میں تھوڑا سا نیلا شوربا لا کے میرے سامنے رکھ دیا۔ دیکھ کے جان جل گئی۔ مولوی صاحب کی صورت دیکھنے لگی۔ مولوی صاحب اپنے دل میں کچھ اور ہی سمجھے۔

مولوی صاحب :۔ (فوراً ساڑھے چودہ گنڈے پیسے اور کوئی دھیلے کی کوڑیاں چادرے کے کونے سے کھول کے سامنے رکھ دئیے) سنیے صاحب چار پیسہ کی روٹیاں


173

ہیں، پسیہ کا سالن ہے، دھیلا بھانج (روپیہ کا خوردہ) میں گیا، آپ کی جمع آپ کے سامنے موجود ہے۔ پہلے گن لیجئے تو کھا لیجیے گا۔

میں نے پھر ایک مرتبہ مولوی صاحب کی صورت دکھی مگر بھوک بری بلا ہے۔ جلدی جلدی نوالے اُٹھانا شروع کیے۔ جب دو چار نوالے کھا چکی تو مولوی صاحب کی طرف مخاطب ہوئی۔

میں : میں نے کہا مولوی صاحب کیا اِس اُجڑے شہر میں یہی کھانے کو ملتا ہے؟

مولوی : تو کیا یہاں لکھنؤ کی طرح محمود کی دکان ہے جہاں پلاؤ زردہ آٹھ پہر تیار رہتا ہے۔

میں : حلوائی کی دکان تو ہو گی؟

مولوی : حلوائی کی دکان تو مسجد کے نیچے ہے۔

میں : تو پھر چار کوس جانا کیا ضرور تھا۔ دوپہر کے بعد آئے اور لے کے کیا آئے موئے کتّوں کا راتب۔

مولوی : ایسا تو نہ کہیے، آدمی کھاتے ہیں۔

میں : آپ ایسے آدمی کھاتے ہوں گے، باسی خمیری روٹیاں اور نیلا شوربا۔

مولوی : نیلا تو نہیں ہے۔ اچھا تو دہی لا دوں؟

میں: جی نہیں، رہنے دیجیے معاف کیجیے۔

مولوی :- پیسہ کا خیال نہ کیجیے۔ میں اپنے پاس سے لائے دیتا ہوں۔

میں کچھ جواب بھی نہ دینے پائی تھی کہ مولوی صاحب مسجد کے باہر چلے گئے اور ایک آبخورے میں خدا جانے کب کا سڑا کھٹا دہی اٹھا لائے اور اس طرح سامنے لا کے رکھ دیا گویا آپ نے حاتم کی گور پر لات مار دی۔

بہر طور میں نے وہ چاروں روٹیاں اُگل نگل کے کھائیں اور کوئی بدھنی بھر کے

174

پانی پیا۔ وہ شوربا اور دہی چھوڑ کے یوں ہی اُٹھ کھڑی ہوئی، پیسے کوڑیاں بھی وہیں پڑے رہنے دیے۔

میں ہاتھ دھونے کو اُٹھی تھی مولوی صاحب سمجھے مسجد سے دفان ہوتی ہے۔

مولوی :۔ اور یہ پیسے اور کوڑیاں تو اُٹھا لیجیے۔

میں : میری طرف سے مسجد میں چراغی چڑھا دیجیے۔

منہ ہاتھ دھو کے اپنی جگہ پر آ بیٹھی۔ مولوی صاحب سے باتیں کرنے لگی۔ کانپور میں مولوی صاحب کی ذات سے بہت آرام ملا۔ انہیں کی معرفت ایک کمرا کرایہ پر لیا۔ نواڑی پلنگ، دری، چاندنی، چھت پردے، تانبے کے برتن اور سب ضرورت کا سامان خرید لیا۔ ایک ماما کھانا پکانے کو اور ایک اوپر کے کام کو۔ دو اور خدمت گار نو کر رکھ لیے۔ ٹھاٹھ سے رہنے لگی۔ اب سازندوں کی تلاش ہوئی۔ یوں تو بہت سے آئے مگر کسی کا باج پسند نہ آیا۔ آخر لکھنؤ کا ایک طبلیہ مل گیا۔ یہ خلیفہ جی کے خاندان کا شاگرد تھا اِس سے خوب پرگت ملی۔ اسی کی معرفت دو سارنگیے کانپور کے، ذرا سمجھ دار تھے بُلوائے۔ طائقہ درست ہو گیا۔ شب کو پہر ڈیڑھ پہر رات گئے تک کمرے پر گانے بجانے کا چرچا ہونے لگا۔ شہر میں میں مشہور ہو گئی۔ لکھنؤ سے کوئی رنڈی آئی ہے۔ اکثر مرد آدمی آنے لگے۔ شاعری بھی خوب چمکی۔ کوئی دن ایسا ہی کمبخت ہو گا کسی جلسہ میں جانا نہ ہوتا تھا۔ مجرے کثرت سے آتے تھے۔ تھوڑے ہی دِنوں میں بہت سار روپیہ کما لیا۔ اگرچہ کانپور کے لوگوں کا راہ رویّہ، بول چال پسند نہ تھا۔ بات بات پر لکھنؤ یاد آتا تھا مگر خود مختاری کی زندگی میں کچھ ایسا مزا ہے کہ واپس جانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ میں جانتی تھی کہ اگر لکھنؤ جاؤں گی تو پھر خانم کی نوچی بن کر رہنا پڑے گا کیونکہ اس پیشہ میں رہ کر اُن سے علیٰحدہ رہنا کسی طرح ممکن نہ تھا۔ ایک تو اس سبب سے کہ تمام رنڈیاں خانم کا دباؤ مانتی تھیں، اگر میں الگ ہوکے رہتی تو کوئی

175

مجھ سے نہ ملتی۔ دوسرے عمدہ سازندوں کا بہم پہونچنا دشوار تھا۔ ناچ مجرے کا ڈھچر کیونکر چل سکتا تھا۔ جن سرکاروں میں میری رسائی ہوئی تھی وہ بھی خانم کی وجہ سے تھی۔ اگرچہ میرا شمار اچھے گانے والیوں میں تھا مگر اِس کام کے کرنے والے لکھنؤ میں بہت سے ہیں۔ اچھے بُرے کا امتیاز خاص لوگوں کو ہوتا ہے۔ عام لوگوں میں نام بکتا ہے۔ بڑے آدمیوں کی نگاہ اکثر اُونچے ہی کمروں پر جاتی ہے۔ اِس حالت میں مجھے کون پوچھتا۔ کانور میں میرے حوصلے سے زیادہ میری قدر دانی ہوئی تھی۔ کسی امیر وئیس کے یہاں کوئی تقریب شادی بیاہ کی نہ ہوئی تھی جس میں میرا جانا باعثِ فخز نہ سمجھا جاتا ہو۔ باہر جا کر اِس بات کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ لکھنؤ کیا چیز ہے۔ یہاں ایک صاحب حضرت شارق لکھنوی بہت مشہور ہیں، استاد مسلم الثبوت سمجھے جاتے ہیں۔ سیکڑوں آپ کے شاگرد ہیں۔ لکھنؤ میں کوئی ان کا نام بھی نہ جانتا تھا۔ ایک دن کا تذکرہ سنیے۔ ایک صاحب میرے کمرے پر تشریف لائے۔ اثنائے گفتگو میں شعر و شاعری کا بھی چرچا نکلا۔ چھوٹتے ہی انہوں نے پوچھا، آپ حضرت شارق لکھنوی کو جانتی ہیں۔ میں نے کہا نہیں۔ کون شارق؟ یہ صاحب اُن کے شاگردوں میں تھے فوراً بگڑ گئے۔

وہ صاحب : میں تو سنتا تھا آپ لکھنؤ کی رہنے والی ہیں؟

میں : جی ہاں غریب خانہ تو لکھنؤ ہی میں ہے۔

وہ صاحب : بھلا کہیں ہو سکتا ہے کہ آپ لکھنو میں ہوں اور حضرتِ استاد کو نہ جانیں۔

میں : لکھنؤ کے مشہور شاعروں میں کون ایسا ہے جس کو میں نہ جانتی ہوں۔ اُستادوں کا تو ذکر ہی کیا ہے، اُن کے تمام برآوردہ شاگردوں میں سے بھی کوئی کم ایسا ہو گا جس کا کلام میں نے نہ سنا ہو، ان کے نام نامی سے تو
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
صفحہ ۲۴۶
مرتے مرتے نہ قضا یاد آئی
اُسی کافر کی ادا یاد آئی
تم کو الفت نہ وفا یاد آئی
یاد آئی تو جفا یاد آئی
ہجر کی رات گزر ہی جاتی
کیوں تری زلفِ رسا یاد آئی
تم جدائی میں بہت یاد آئے
موت تم سے بھی سوا یاد آئی
لذتِ معصیتِ عشق نہ پوچھ
خلد میں بھی یہ بلا یاد آئی
چارہ گر زہر منگا دے تھوڑا
لے مجھے اپنی دوا یاد آئی
اور شعر یاد نہیں مقطع یہ ہے۔
کیا غزل کوئی کہے ہے۔۔۔
آج کیوں بادِصبا یاد آئی
برسات کے دن ہیں پانی جھما جھم برس رہا ہے۔ آموں کی فصل ہے، میرے کمرے میں مجمع ہے۔ بسم اللہ جان، امیر جان، بیگا جان، خورشید جان، رنڈیوں میں،۔ نواب ببن صاحب، نواب چھبن صاحب، گوہر مرزا، عاشق حسین، تفضل حسین، امجد علی، اکبرعلی خاں، مردوں میں۔ یہ سب صاحب موجود ہیں، گانا ہو رہا ہے۔ اتنے میں بسم اللہ":۔بھئی ہو گا۔ گانا تو روز ہوا کرتا ہے، اس وقت تو کڑھائی چڑھاؤ کچھ پکوان پکواؤ دیکھو کیسا مینھ برس رہا ہے۔ "
میں:۔ اونھ بازار سے جو جی چاہے منگوا لو۔
خورشید:۔ بازار سے منگوا لو یہ خوب کہی۔ اپنے ہاتھ سے پکانے میں مزا ہی اور ہے۔
امیر:۔ بہن تمہیں ہنڈیا ٹھوکنے کا مزہ ہے ہم نے نہ تو کبھی پکایا ہے نہ پکانے کی قدر جانتے ہیں۔
بیگا:۔ تو پھر وہی بازار کی ٹھہری۔
میں:۔ اے ہے باجی کیا بھوکی ہو۔
بیگا:۔ میں تو بھوکی نہیں ہوں، بسم اللہ سے پوچھو انہوں نے صلاح دی تھی۔
بسم اللہ:۔ بھئی کچھ نہ کچھ تو آج ہونا چاہیے۔
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
صفحہ ۲۴۷
میں:۔ بتا ؤں، چلو بخشی کے تالاب چلیں۔
بسم اللہ:۔ ہاں بھئی کیا بات کہی ہے۔؟
خورشید:۔ خوب سیر ہوگی۔
بیگا:۔ ہم بھی چلیں گے۔
میں:۔ اچھا تو سامان کرو۔
بات کرنے میں تین گاڑیاں کرایہ پر آ گئیں۔ کھانے پکانے کا سامان گاڑیوں پر لدوایا گیا۔ دو چھولداریاں نواب ببن صاحب کے گھر سے آ گئیں۔ سب گاڑیوں پر سوار ہو کے روانہ ہو گئے۔
گومتی پار پہنچ کے گانا شروع ہوا، اس دن بیگا جان کا گانا۔
جھولا کن ڈارورے امریاں
کیا کیا تانیں لی ہیں کہ دل پسا جاتا تھا۔
شہر سے نکل کے جنگل کا سامان قابلِ دید تھا۔ جدھر نگاہ جاتی ہے سبزہ ہی سبزہ نظر آتا ہے۔ بادل چاروں طرف گھرے ہوئے ہیں، مینھ برس رہا ہے۔ درختوں کے پتوں سے پانی ٹپک رہا ہے۔ نالے ندیاں بھری ہوئی ہیں، مور ناچ رہے ہیں، کوئل کوک رہی ہے۔ بات کہتے میں تالاب پر پہنچ گئے۔ بارہ دری میں فرش کیا گیا، چولھے بن گئے کڑاہیاں چڑھ گئیں، پوریاں تلی جانے لگیں۔ نواب چھٹن صاحب برساتی پہن کے شکار کو نکل گئے۔ گوہر مرزا آموں کی کھانچیاں چکا لائے۔ اتنی دیر میں نوکروں نے سڑک کے کنارے باغ میں چھولداریاں گاڑ دیں۔ گاؤں سے چار پائیاں آ گئیں، یہاں اور ہی لطف تھا۔ آم ٹپک رہے ہیں۔ ایک ایک آم پر چار چار آدمی ٹوٹے پڑتے ہیں۔ پانی میں چھپکے لگا رہے ہیں۔ کوئی ادھر دوڑا جاتا ہے کوئی اِدھر۔ آپس میں دھینگا مشتی ہو رہی ہے اب اس میں اگر کوئی گر پڑا تو کیچڑ میں لت پت، تھوڑی دیر پانی میں جا کے
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
صفحہ ۲۴۸
کھڑے ہو گئے پھر ویسے ہی صاف۔ جن کے مزاج میں کسی قدر احتیاط تھی، جیسے باجی بیگا جان وہ چھولداری میں بیٹھی رہیں۔
بسم اللہ نے پیچھے سے جا کر منھ پر آم کا رس مل دیا پھر اُن کی چیخیں اور سب کا قہقہہ لگانا دیکھنے کا تماشہ تھا۔
نہیں معلوم کہاں سے بہتی بہاتی تین نٹنیاں آ نکلیں، ان کو گوانا شروع کیا۔ ان کے ساتھ کا ڈھولکی والا غضب کی ڈھولکی بجاتا تھا، بھلا ان کا ناچ گانا ہم لوگوں کو کیا اچھا معلوم ہوتا مگر اس موسم میں اور ویسی جگہ کچھ ایسا نامناسب نہ تھا۔ دو گھڑی دن رہے ہماری قسمت سے آسمان کھل گیا، دھوپ نکل آئی۔ ہم لوگ احتیاطاً ایک ایک جوڑا گھر سے لیتے آئے تھے۔ سب نے کپڑے بدلے، جنگل کی سیر کو نکلے۔
میں بھی اکیلی ایک طرف کو روانہ ہوئی۔ سامنے گنجان درخت تھے، سورج انہیں گنجان درختوں کی آڑ میں ڈوب رہا تھا۔ سنہرے پر سنہری کرنوں کے پڑنے سے عجیب کیفیت تھی۔ جابجا جنگلی پھول کھلے تھے۔ چڑیاں سبزے کی تلاش میں اِدھر ادھر اڑ رہی تھیں۔ سامنے جھیل کے پانی پر آفتاب کی شعاع سے وہ عالم نظر آتا تھا جیسے پگھلا ہوا سونا تھلک رہا ہے۔ درختوں کے پتوں کی آڑ میں سورج کی کرنیں اور ہی عالم دکھا رہی ہیں۔ آسمان پر سرخ شفق پھولی ہوئی تھی۔ اس وقت کا سماں ایسا نہ تھا کہ ایک خفقانی مزاج کی عورت جیسی کہ میں ہوں، جلدی سے چھولداری میں چلی آتی۔ یہ تماشہ دیکھتی ہوئی خدا جانے کتنی دور نکل گئی۔ آگے جا کر ایک کچی سڑک ملی۔ اس پر کچھ گنوار راستہ چل رہے تھے۔ کسی کے کندھے پر ہل تھا، کوئی بیلوں کو ہانکتا ہوا چلا آتا تھا۔ ایک چھوٹی سی لڑکی گائے بھینس لیے ہوئے چلی جاتی تھی۔ ایک لڑکا بہت سی بھیڑیں اور بکریوں کے پیچھے تھا۔ یہ سب آنکھوں کے سامنے آئے اور پھر نظروں سے غائب ہو گئے۔ میں پھر اکیلی رہ گئی۔ نہیں معلوم کس دھن میں تھی۔
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
صفحہ ۲۴۹
مگر اب میں سڑک پر چلنے لگی۔ اپنے نزدیک میں اب گویا تالاب کی طرف چل رہی ہوں۔ اب اندھیرا ہوتا جاتا ہے سورج ڈوبنے ہی کو ہے۔ اب میرا قدم جلد جلد اٹھ رہا ہے۔ آگے چل کر ایک فقیر کا تکیہ ملا۔ یہاں کچھ لوگ بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ یہاں میں نے تالاب کا راستہ پوچھا۔ معلوم ہوا کہ میں لکھنؤ کی سڑک پر جا رہی ہوں تالاب دہنے کو چھوٹ گیا ہے۔ یہاں سڑک چھوڑنا پڑی۔ ایک بیہڑ میں سے ہو کے راستہ تھا۔ تھوڑی دور جا کے ایک نالہ ملا۔ نالہ کے اُس پار تھوڑے فاصلہ پر دو تین درخت تھے۔ میں نے دیکھا کہ ان درختوں کی جڑ سے اک ذرا ہٹ کے کوئی شخص میلی سی دھوتی باندھے، مرزئی پہنے ایک میلا سا چادرہ کمر سے لپٹا ہوا کھرپی ہاتھ میں لیے کچھ کھود رہا ہے۔ میرے اس شخص کے چار آنکھیں ہوئیں۔ پہلے تو کچھ شبہ سا ہوا پھر ایک مرتبہ غور سے دیکھا اب قریب یقین کے ہو گیا کہ وہی ہے۔ چاہتی تھی کہ منہ پھیر لوں مگر نگاہ کمبخت اسی طرف لڑی رہی۔ اب تو بالکل یقین ہو گیا قریب تھا کہ غش کھا کے گر پڑوں اور ضرور ہی گر پڑتی ۔ اتنے میں دور سے اکبر علی خاں کے نوکر سلاربخش کی آواز کان میں آئی۔ مجھے ڈھونڈھنے نکلا تھا۔ مجھے آتا دیکھ کر دلاور خاں نے کھرپی ہاتھ سے رکھ دی تھی۔ جس طرح میں اُسے دیکھ رہی تھی وہ بھی مجھ کو دیکھ رہا تھا مگر یقیناً مجھے اس نے نہیں پہچانا ہو گا۔ میں نے اس کو اچھی طرح پہچان لیا تھا۔
سلاربخش کی آواز سن کر وہ نالے کی طرف بھاگا۔ اتنے میں سلاربخش میرے پاس پہونچ گیا۔ میں مارے خوف کے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ آواز منہ سے نہیں نکلتی تھی۔ گھگھی بندھی ہوئی تھی۔ سلاربخش نے میرا یہ حال دیکھ کے کہا۔ ہائیں! ڈر گئیں۔ میں نے درخت کی طرف اشارہ کیا۔ سلاربخش اس طرف دیکھنے لگا۔
سلاربخش:۔ وہاں کیا دھرا ہوا ہے؟ ایک کھرپی پڑی ہے۔ واہ اس سے ڈر گئیں۔ آپ سمجھیں کوئی قبر کھود رہا ہے اور وہ گیا کہاں جو کھود رہا تھا۔
 

ایس ایس ساگر

لائبریرین
صفحہ ۲۵۰
میں:۔ منہ سے تو بولا نہ گیا، ہاتھ سے نالے کی طرف اشارہ کیا۔
سلاربخش:۔ چلم پینے گیا ہوگا تکیے پر۔ اچھا تو چلیے، نواب چھبن صاحب بہت سی مرغیاں شکار کر کے لائے ہیں۔ آپ کا کہیں پتہ نہیں۔ میاں ادھر ڈھونڈھنے گئے ہیں۔ میں ادھر آیا۔ کہیے آپ مل گئیں نہیں تو آپ کو راستہ نہ ملتا۔
میں نے ہاں ، نا کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ آخر سلاربخش بھی چپ ہو رہا۔ تھوڑی دیر میں کھیتوں میں سے ہو کے تالاب پر پہونچ گئی۔
رات کو یہیں رہنے کی ٹھہری۔ جب کھانے وانے سے فراغت ہو گئی میں نے اکبر علی خاں سے کل واقعہ بیان کیا۔
اکبر علی خاں:۔ تم نے اچھی طرح سے دیکھا یہ وہی دلاور خاں تھا فیض آباد کا رہنے والا؟ اس کا تو حلیہ جاری ہے۔ افسوس تم نے پہلے سے نہ کہا۔ بدمعاش کو چل کے گرفتار کرتے، بڑا نام ہوتا، سرکار سے انعام ملتا۔ ایک ہزار کا اشتہار ہے اور یہ کھودتا کیا تھا؟
میں:۔ کیا معلوم؟ موا اپنی قبر کھودتا ہو گا۔
اکبر علی خاں:۔ اس کے نام سے تمہارے منہ پر ہوائیاں چھوٹنے لگتی ہیں۔ اب وہ تمہارا کیا کر سکتا ہے؟
میں:۔ (دل کو ذرا تھام کے ) ضرور اُس نے غدر کے زمانے میں وہاں کچھ گاڑ دیا ہو گا ، اسے کھودنے آیا ہے۔
اکبر علی خاں:۔ چلو دیکھیں!
میں:۔ میں تو نہ جاؤں گی۔
اکبر علی خاں:۔ میں تو جاتا ہوں۔ سلاربخش کو لیے جاتا ہوں۔
میں:۔ کہاں جاؤ گے اب وہاں کچھ دھرا ہوگا۔ ؟ وہ کھود کے لے بھی گیا ہو گا۔
 

عبدالصمدچیمہ

لائبریرین
صفحہ ریختہ 177

مطلع فرمائیے۔ یہ تخلص تو میں نے کبھی نہیں سنا۔
وہ صاحب:- (چیں بجیں ہوکے) نام لینے سے کیا فائدہ۔ تخلص شرق سے غرب تک اور شمال سے جنوب تک زبان زدِ خلائق ہے۔ ہاں ہاں آپ نہیں جانتیں نہ جانیں۔
میں:- حضور معاف کیجیے گا۔ میرے نزدیک تو یہ شاعرانہ تعلی ہے مگر آپ کے استاد ہیں، آپ کو ایسا ہی کہنا چاہیے۔ اچھا تو نام نامی سے تو مطلع فرمائیے۔ ممکن ہے کہ میں نے تخلص نہ سنا ہو، نام سے واقف ہوں۔
وہ صاحب:- میر ہاشم علی صاحب شارق۔
میں:- اس نام سے تو بیشک کان آشنا ہیں۔ (اتنا کہہ کے اب میں فکر لگی یا الہی یہ کون میر ہاشم علی صاحب ہیں آخر ایک صاحب پر اشتباہ ہوا) آپ کے ستاد مرثیہ خوانی بھی تو کرتے ہیں۔
وہ صاحب:- جی ہاں! مرثیہ خوانی میں بھی ان کا مثل و نظیر نہیں۔
میں:- بجا ارشاد ہوا۔ یعنی میر صاحب اور مرزا صاحب سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔
وہ صاحب:- انہیں صاحبوں کے ہم عصر ہیں۔
میں:- بھلا کس کا مرثیہ پڑھتے ہیں؟
وہ صاحب:- کسی کا مرثیہ کیوں پڑھنے لگے خود تصنیف فرماتے ہیں۔ ابھی ستائیسویں رجب کو نیا مرثیہ پڑھا تھا۔ عام شہرہ تھا۔
میں:- تو آپ کو یاد ہوگا؟
وہ صاحب:- مطلع تو نہیں۔ تلوار کی تعریف میں ایک بند پڑھا تھا، وہ مجھے کیا تمام شہر کی زباں زد ہے۔ قلم توڑ دیا ہے۔
ذرا ارشاد کیجیے گا میں بھی مستفید ہوں
 
250

اکبر علی خاں :۔ میں تو ضرور جاؤں گا۔

یہ ذرا زور سے کہا۔ پاس نواب چھبن صاحب کی چھولداری تھی۔ وہ اور بسم اللہ دونوں جاگ رہے تھے۔

نواب :۔ خاں صاحب کہاں جائیے گا؟

اکبر علی خاں :۔ نواب صاحب ابھی آپ نے آرام نہیں کیا؟

نواب:- جی نہیں۔

اکبر علی خاں :۔ میں حاضر ہوں۔

نواب:- آئیے۔

اکبر علی خاں اور میں دونوں نواب کی چھولداری میں گئے۔ کل واقعہ بیان کیا۔

نواب :۔ (مجھ سے) اور تم اس بدمعاش کو کیا جانو؟

میں :- (اپنی سرگزشت تو ان سے کیا کہتی) میں جانتی ہوں اور اچھی طرح جانتی ہوں۔ میں بھی فیض آباد کی رہنے والی ہوں۔

نواب :۔ اخّاہ! آپ بھی فیض آباد کی رہنے والی ہیں۔

اکبر علی خاں :۔ مگر اس مردود کا کوئی بندوبست کرنا چاہیے۔ ایسے ہی یہیں کہیں ہے۔ عجب نہیں گرفتار ہو جائے۔ یہ کہہ کے سلار بخش کو آواز دی۔ قلم دان منگوایا، تھانہ قریب تھا. تھانے دار کو رقعہ لکھا۔

تھوڑی دیر میں تھانہ دار صاحب معہ دس بارہ سپاہیوں کے آ موجود ہوئے۔ میں نے جو دیکھا تھا، ان سے کہہ دیا۔ گاؤں سے پاسی بلوائے گئے۔ پہلے اُس موقعہ پر جا کے ڈھونڈھا۔ تکیہ پر فقیر سے کسی قدر سراغ اور ملا۔ ایک سپاہی کو ایک اشرفی شاہی زمانے کی ملی۔ و ہ تھانہ دار صاحب کے پاس لے آیا۔

تھانے دار :۔ خدا چاہے تو معہ مال گرفتار ہو گا۔

251

تھانے دار صاحب نے واقعی اچھا بندوبست کیا. سپاہیوں نے بھی خوب ہی تگ و دو کی۔ آخر تین بجے رات کو مکّا گنج میں گرفتار ہوا۔ صبح ہوتے ہوئے تالاب پہنچ گیا۔ تلاشی میں ۲۴ اشرفیاں برآمد ہوئیں۔ میں شناخت کے لیے بلوائی گئی۔ میری شناخت کے علاوہ دو سپاہیوں نے بھی پہچانا۔ دس بجے چالان لکھنؤ کو روانہ ہو گیا۔

مرزا رسوا:۔ اچھا تو پھر اس کا حشر کیا ہوا؟ اس قصّے کو جلد ختم کیجیے۔

امراو:۔ ہوا کیا۔ کوئی دو مہینے کے بعد معلوم ہوا پھانسی ہو گئی۔ واصل جہنم ہوا۔

---------------------------

نہ پوچھو نامۂ اعمال کی دل آویزی
تمام عمر کا قصّہ لکھا ہوا پایا

مرزا رسوا صاحب جب آپ نے میری سوانح عُمری کا مسودہ مجھے نظر ثانی کرنے کے لیے دیا تھا۔ کچھ ایسا غصّہ آیا جی چاہتا تھا پرزے پرزے کر کے پھینک دوں۔ بار بار خیال آتا تھا کہ زندگی میں کیا کم روسیاہی ہوئی کہ اس کا افسانہ بعد مرنے کے بھی باقی رہے کہ لوگ اسے پڑھیں اور مجھ کو لعنت ملامت کریں مگر مزاج کی تساہلی اور آپ کی محنت کے لحاظ نے ہاتھ روک لیا۔

اتفاقاً کل شب کو بارہ بجے کے قریب سوتے سوتے آنکھ کھل گئی۔ میں حسبِ معمول کمرے میں تنہا تھی۔ مامائیں خدمت گار سب نیچے مکان میں سو رہے تھے، میرے سرہانے لیمپ روشن تھا۔ پہلے تو دیر تک کروٹیں بدلا کی۔ چاہتی تھی سو جاؤں مگر کسی طرح نیند نہ آئی۔ آخر اٹھی، پان لگا کر ماما کو پکارا حقّہ بھروا دیا پھر پلنگ پر جا لیٹی۔ حقّہ پینے لگی۔ جی میں آیا کوئی کتاب دیکھوں۔ بہت سے قصّے کہانی کی کتابیں سرہانے

252

الماری میں رکھی تھیں۔ ایک ایک کو اُٹھا کے ورق اُلٹے پلٹے مگر وہ سب کئی مرتبہ کی دیکھی ہوئی تھیں۔ جی نہ لگا، بند کر کے رکھ دیں۔ آخر اسی مسودے پر ہاتھ پڑا۔ خفقان کی شدّت تھی۔ سچ مچ میں نے اس کے چاک کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ چاک ہی کیا چاہتی تھی کہ یہ معلوم ہوا جیسے کان میں کوئی کہہ رہا ہے۔

اچھا امراو بالفرض اِسے تم نے پھاڑ کے پھینک دیا، جلا دیا تو اس سے کیا ہوتا ہے؟ تمام عمر کے واقعات جو خُدائے عادل و توانا کے حکم سے فرشتوں نے مفصّل اور مشرح لکھے ہیں انہیں کون مٹا سکتا ہے؟

اس غیبی آواز سے میرے ہاتھ پاوں لرزنے لگے۔ قریب تھا کہ مسودہ ہاتھ سے گر پڑے مگر میں نے اپنے تئیں سنبھالا۔ چاک کرنے کا خیال تو بالکل دل سے محو ہو گیا۔ جی چاہا جہاں سے اٹھایا تھا وہیں رکھ دوں۔ پھر ایک بارگی یوں ہی بلا قصد پڑھنا شروع کیا۔ پہلا صفحہ جب تمام ہو گیا، ورق اُلٹا، دو چار سطریں اور پڑھیں۔ اس وقت مجھے اپنی سرگزشت سے کچھ ایسی دلچسپی پیدا ہو گئی تھی کہ جس قدر پڑھتی جاتی تھی جی چاہتا تھا اور پڑھوں۔ اور قصّوں کے پڑھنے میں مجھے ایسا لطف کبھی نہ آیا تھا کیونکہ ان کو پڑھتے وقت یہ خیال پیشِ نظر رہتا تھا کہ یہ سب بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ در حقیقت کوئی اصل نہیں۔ یہی خیال قصّے کو بے مزہ کر دیتا ہے۔ میری سوانح عمری میں جو امور آپ نے قلم بند کیے ہیں وہ سب مجھ پر گزرے ہیں۔ اس وقت وہ سب گویا میری آنکھوں کے سامنے تھے۔ ہر واقعہ اصلی حالت میں نظر آتا تھا اور اس سے طرح طرح کے اثر میرے دل و دماغ پر طاری تھے جن کا بیان بہت ہی دشوار ہے۔ اگر کوئی مجھے اس حالت میں دیکھتا تو اس کو میری دیوانگی میں کوئی شک نہ رہتا۔ کبھی تو میں بے اختیار ہنس پڑتی تھی۔ کبھی ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگتے تھے۔ غرصیکہ عجیب کیفیت تھی۔ آپ نے فرمایا تھا جا بجا بناتی جانا، یہاں اس کا ہوش کسے تھا۔ پڑھتے

253

پڑھتے صبح ہو گئی۔ اب میں نے وضو کیا، نماز پڑھی پھر تھوڑی دیر سو رہی۔ صبح کو کوئی آٹھ بجے آنکھ کھلی، ہاتھ دھو کے پڑھنے لگی۔ بارے سرِ شام سارا مسودہ پڑھ چکی۔

تمام قصّہ میں وہ تقریر آپ کی مجھے بہت ہی دلچسپ معلوم ہوئی۔ جہاں آپ نے نیک بختوں اور خراب عورتوں کا مقابلہ کر کے ان کا فرق بتایا ہے۔ نیک بخت عورتوں کو جس قدر مخر ہو، زیبا ہے اور ہم ایسی بازاریوں کو ان کے اس فخر پر بہت ہی رشک کرنا چاہیے مگر اس کے ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ اس باب میں بخت و اتفاق کو بھی بہت دخل ہے۔ میری خرابی کا سبب وہی دلاور خان کی شرارت تھی۔ نہ وہ مجھے اُٹھا لاتا اور نہ اتفاق سے خانم کے ہاتھ فروخت ہوتی۔ نہ میرا یہ لکھا پورا ہوتا۔ جن امور کی برائی میں اب مجھے کو یہ شبہ نہیں رہا اور اسی لیے ایک مدّت ہوئی کہ میں ان سے بیزار اور تائب ہوں، اس زمانے میں ان کی حقیقت مجھے کسی طرح معلوم نہیں ہو سکتی تھی، نہ ایسا کوئی قانون مجھے بتایا گیا تھا کہ میں اُن سے اجتناب کرتی اور ایسا کرتی تو مجھے سزا دی جاتی۔ میں خانم کو اپنا مالک اور حاکم تصوّر کرتی تھی۔ میں کوئی کام ایسا نہ کرتی تھی جو ان کی مرضی کے خلافت ہو اور اگر کرتی تھی تو بہت چھپا کے تا کہ اُن کی مار اور جھڑکیوں سے بچ سکوں، اگرچہ خانم نے مجھے زندگی بھر پھولوں کی چھڑی بھی نہیں چھوائی مگر خوف غالب تھا۔

جن لوگوں میں میں نے پرورش پائی تھی، جو ان کا طریقہ تھا وہی میرا بھی تھا۔ میں نے اس زمانے میں کبھی کسی مذہبی عقیدے پر غور نہیں کیا اور میرا خیال ہے کہ کوئی ایسی حالت میں نہ کرتا۔

ارضی و سماوی حادثے جن کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے مگر جب واقع ہوتے ہیں تو دلوں میں ایک خاص قسم کی دہشت سما جاتی ہے۔ مثلاً زور سے بادل کا گرجنا، بجلی کا چمکنا، آندھیوں کا آنا، اولوں کا گِرنا یا زلزلے کا آنا، سورج گرہن یا چاند گرہن، قحط سالی، وبا وغیرہ ایسے امور اکثر خدائی غضب کی علامتیں سمجھی جاتی تھیں۔ پھر میں

254

نے دیکھا کہ لوگوں کے بعض اعمالوں کی وجہ سے وہ رفع دفع ہو گئیں مگر یہ بھی دیکھ کر بہت سی آفتیں دعا تعویز ٹوٹکے دو ٹکے کسی بات سے نہ ٹلیں۔ اِیسے امور کو لوگ خدا کی مرضی، تقدیر آسمانی کی طرف منسوب کر دیا کرتے ہیں۔ مذہبی احکام مجھ کو مفصل نہ پہنچے تھے اور نہ ثواب عذاب کا مسئلہ اچھی طرح سمجھایا گیا تھا۔ اس لیے ان باتوں کا اثر میرے دل پر نہ تھا۔ بے شک اُس زمانے میں میرا کوئی مذہب نہ تھا۔ صرف جو اور لوگوں کو کرتے دیکھتی تھی وہی آپ بھی کرنے لگتی تھی۔ اس وقت میں میرا کوئی مذہب ہی نہ تھا۔ تقدیر پر میں بہت ہی شاکر تھی۔ جو کام میں کاہلی سے نہ کر سکتی تھی یا میری بےوقوفی سے بگڑ جاتا اس کو تقدیر کے حوالے کر دیتی۔ فارسی کتابوں کے پڑھنے سے آسمان کی شکایت کرنے کا مضمون میرے ہاتھ آ گیا تھا اور اب میرا کوئی مطلب فوت ہو جاتا تھا یا اور کسی وجہ سے مجھے ملال پہنچتا تھا تو جا و بے جا فلک کی شکایتیں کیا کرتی تھی؎

ہم بھی ہیں مختار لیکن اس قدر بے اختیار

جب ہوئے مجبور قسمت کو برا کہنے لگے

مولوی صاحب بوا حسینی اور بڈھے بڈھیاں جب اگلے زمانے کی باتیں کرتے تھے تو اس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس زمانے سے بہت ہی اچھا تھا اِس لیے ان کی طرح میں بھی اس زمانہ کی غائبانہ تعریف اور زمانہ موجودہ کی بلا وجہ مذمّت کیا کرتی تھی۔ میں کم بخت اس بات کو نہ سمجھی کہ بڈھے بڈھیاں جو اگلے وقتوں کی تعریف کرتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ اپنی اپنی جوانی کے دن سب کو بھلے معلوم ہوتے ہیں، اس لیے دنیا بھلی معلوم ہوتی ہے۔ خود زندہ جہان زندہ، خود مردہ جہان مردہ۔ سن رسیدہ لوگوں کی دیکھا دیکھی جوانوں نے بھی انہیں کا وطیرہ اختیار کر لیا ہے اور چوں کہ یہ غلط فہمی مدّت سے چلی آتی ہے اس لیے اب عموماً سب کو اس کی عادت سی ہو گئی ہے۔

جوان ہونے کے بعد میں عیش و آرام میں پڑ گئی تھی۔ اس زمانے میں گا بجا کر

۴۵۵

مردوں کو رجھانا میرا خاص پیشہ تھا۔ اس میں بمقابلہ اور ساتھ والیوں کے جس قدر کامیابی یا ناکامیابی مجھ کو ہوتی تھی وہی میری خوشی یا رنج کا اندازہ تھا۔ میری صورت بہ نسبت اوروں کے کچھ اچھی نہ تھی مگر فنِ موسیقی کی مہارت اور شعر و سخن کی قابلیت کی وجہ سے میں سب سے بڑھی چڑھی رہی۔ اپنی ہم عمروں میں مجھے ایک خاص قسم کا امتیاز حاصل تھا، مگر اس سے کچھ نقصان بھی ہوا، وہ یہ کہ جس قدر میری عزّت زیادہ ہوتی گئی اتنا ہی خودداری کا خیال میرے دل میں پیدا ہوتا گیا۔ جہاں اور رنڈیاں ہے باکیوں سے اپنا مطلب نکال لیتی تھیں میں منہ دیکھتی رہ جاتی تھی۔ مثلاً ان کا یہ عام قاعدہ تھا کہ کس و ناکس سے کسی نہ کسی قسم کی فرمائش ضرور کر دینا چاہیے۔ مجھے اس سے شرم آتی تھی۔ یہ خیال آتا تھا کہ ایسا نہ ہو انکار کر دے تو خفت ہو گی اور نہ ہر شخص سے میں بہت جلد بے تکلّف ہو جاتی تھی۔ میری اور ساتھ والیوں کے پاس جب کوئی آ کے بیٹھتا تھا تو ان کو سب سے زیادہ فکر اس کی ہوتی تھی کہ کہاں تک دے سکتا ہے اور ہم کہاں تک اس سے لے سکتے ہیں؟ میرا بہت سا وقت اس شخص کی ذاتی لیاقت حسن اخلاق کے اندازہ کرنے میں صرف ہو جاتا تھا۔ مانگنے کی عادت کو میں معیوب سمجھنے لگی تھی۔ اس کے علاوہ اور باتیں بھی مجھے میں رنڈی پنے کی نہ تھیں اس لیے میری ساتھ والیوں میں سے کوئی بھی ناک چوٹی گرفتار،کوٹی خفقانی، کوئی دیوانی سمجھتی تھی مگر میں نے اپنی کی کسی کی نہ سنی۔

پھر وہ زمانہ آیا کہ میں رنڈی کے ذلیل پیشے کو عیب سمجھنے لگی اور اس سے دستبردار ہو گئی۔ کس و ناکس سے ملنا چھوڑ دیا۔ صرف ناچ مجرے پر بسر اوقات رہ گئی۔ کسی رئیس نے نوکر رکھا تو نوکری کر لی۔ رفتہ رفتہ یہ بھی ترک کر دیا۔

جب میں ان افعال سے تائب ہوئی جن کو میں نے اپنے نزدیک برا سمجھ لیا تھا تو اکثر میرے جی میں آیا کہ کسی مرد آدمی کے گھر پڑ جاؤں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ لوگ

۴۵۶

کہیں گے آخر رنڈی تھی نا کفن کا چونگا کیا۔

مرزا صاحب شاید اس محاورے کو آپ نہ سمجھیں۔ مطلب اس کا یہ کہ کوئی رنڈی سِن سے اتر کسی کے گھر بیٹھ جاتی ہے تو تجربہ کار تماشبین اس کی نسبت کہا کرتے ہیں کہ اس رنڈی نے کفن کا چونگا کیا یا مرتے مرتے کفن لے مری یعنی اپنے دام بچائے اور از راہِ فریب تماشبین پر اپنی تجہیز و تکفین کا بار ڈالا۔ اس مثل سے رنڈیوں کی بے حد خود غرضی لالچ اور فریب کا ثبوت ملتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ہم لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ میں سچ مچ تائب ہو گئی اور اب انتہائی نیک ہوں مگر اس کو سوائے خدا کے اور کون جانتا ہے۔ کہ کسی شخص کو میری نیکی کا یقین نہیں ہو سکتا۔ پھر اگر اس حالت میں کسی سے محبت کروں اور اس محبت کی بنا سراسر خلوص اور نیک نیّتی پر ہو اس پر بھی خاص شخص اور اس کے سوا اور جو لوگ کہیں یا سنیں گے کبھی یقین نہ لائیں گے پھر میرا محبت کرنا بھی بے سود ہو گا۔ لوگ مشہور کرتے ہیں کہ میرے پاس دولت ہے اس لیے اکثر لوگ اس سِن میں بھی میری خواہش کرتے ہیں اور طرح طرح کے فریب مجھ کو دینا چاہتے ہیں۔ کوئی صاحب میرے سِن و جمال کی تعریف کرتے ہیں اگرچہ ان کا تعلق میں اپنی رنڈیون سے سُن چکی ہوں جو بدرجہا مجھ سے بہتر ہیں۔ کوئی صاحب میرے کمال موسیقی پر غش ہیں حالانکہ ان کے کان تال سم سے آشنا نہیں۔ کوئی میری شاعری کے مداح ہیں جنہوں نے عمر بھر ایک مصرع موزوں کہنا تو کیسا، پڑھا بھی نہ ہو گا۔ ایک صاحب میری علمیت کے قائل ہیں، خود بھی پڑھے لکھے ہیں مگر مجھ کو مولانا بالفضل اولانا سمجھتے میں۔ معمولی مسئلے روزہ نماز کے بھی مجھی سے پوچھ لیا کرتے ہیں۔ گویا کہ آپ میرے مرید یا مقلد ہیں۔ ایک میرے عاشق زار، میری دولت و کمال سے کوئی واسط نہیں، صرف میری تندرستی کے خواہاں ہیں۔ ہر بات پر اللہ آمین۔ مجھے چھینک آئی اور ان کے دردِ سر ہونے لگا، مجھے دردِ سر ہوا اور اُن کے دُشمنوں کا دم نکلنے لگا۔ ایک بزرگِ ناصِح

257

مشفق بنے ہیں. دنیا کے نشیب و فراز سمجھایا کرتے ہیں۔ مجھ کو بہت ہی بھولا سمجھتے ہیں۔ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں جیسے کوئی دس گیارہ برس کی لڑکی سے باتیں کرتا ہو۔

میں ایک گھاگ عورت ہوں گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے ہوئے۔ جو جس طرح بناتا ہے بن جاتی ہوں اور درحقیقت ان کو بتاتی ہوں۔ خلوص کے ساتھی ملنے والے دو ایک صاحب ہیں، بے غرض ملتے ہیں۔ ان کا مقصود صرف ایک مذاقِ خاص ہے، مثلاً شعر و سخن یا گانا بجانا صرف لطف گفتگو نہ ان کی کوئی غرض مجھ سے ہے، نہ مجھے کوئی غرض ان سے ہے۔ ایسے لوگوں کو میں دل سے چاہتی ہوں اور بے غرضی رفتہ رفتہ ایک غرض ہو گئی ہے کہ نہ مجھے بغیر ان کے چین آتا ہے اور نہ انہیں بغیر میرے، مگر ان لوگوں میں سے کوئی میرے گھر میں بٹھانے کا امیدوار نہیں ہے۔ کاش کہ ایسا ہوتا! مگر تمنّا ایسی ہے جیسے کوئی کہے کاش کہ جوانی پھر آتی! اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت کی زندگی جوانی تک ہے۔ اگر جوانی کے ساتھ ہی زندگی بھی ختم ہو جایا کرتی تو کیا خوب ہوتا، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ یوں تو بڑھاپا ہر ایک کے لیے برا ہے، خصوصاً عورت کے لیے مخصوصاً رنڈی کے لیے بڑھاپا دوزخ کا نمونہ ہے ۔بڑھیا فقیرنیاں جو لکھنؤ کے گلی کوچوں میں پڑی پھرتی ہیں اگر غور کیجیے گا تو ان میں اکثر رنڈیاں تھیں۔ رنڈیاں بھی کون سی جو کبھی زمین پر پیر نہ رکھتی تھیں، قیامت برپا کر رکھی تھی۔ ہزاروں بھرے پُرے گھر تباہ کر دے۔ سینکڑوں جوانوں کو بے گناہ قتل کیا۔ جہاں جاتی تھیں لوگ آنکھیں بچھاتے تھے۔ اب کوئی ان کی ان آنکھ اُٹھا کے نہیں دیکھتا۔ پہلے جہاں بیٹھ جاتی تھیں لوگ باغ باغ ہو جاتے تھے۔ اب کوئی کھڑے ہونے کا بھی روادار نہیں۔ پہلے بن مانگے موتی ملتے تھے، اب مانگے بھیک نہیں ملتی۔

ان میں سے اکثر اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا باعث ہوئیں۔ ایک بڑی بی میرے مکان پر کبھی کبھی آیا کرتی تھیں کسی زمانے میں بڑی مشہور رنڈیوں میں تھیں۔ جوانی میں ہزاروں

258

روپے کمائے۔ ذرا مزیدار جیوڑا تھا۔ جب سِن سے اُتریں وہی کمائی یاروں کو کھلانا شروع کی۔ بڑھاپے میں ایک نوجوان کے گھر گئیں۔ ایک تو وہ خوبصورت کم سن، بھلا وہ ان پر کیوں ریجھتا۔ پہلے تو بیوی ذرا بگڑیں، مگر جب میاں نے اصل مطلب سمجھا دیا خاموش ہو رہیں۔ ان کی خاطریں ہونے لگیں۔ جب تک مال رہا خوب میاں بیوی دونوں نے پھسلا کے کھایا آخر کھکھ ہو گئیں۔ اب کون پوچھتا ہے۔ نکال باہر کیا۔ گلیوں کی ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہیں۔

بعض بےوقوف رنڈیوں نے کسی کی لڑکی کو لے کے پالا، اس سے دل لگایا (اس حماقت میں میں بھی گرفتار ہو چکی ہوں) مگر جب وہ جوان ہوئی، لے دے کے کسی کے ساتھ نکل گئی یا اگر رہی تو کُل مال رفتہ رفتہ اپنے قبضے میں کیا۔ ان کو گھر کا انتظام یا ماما گیری کرنے کو رکھ لیا۔

آبادی نے یہی جُل دیا ہوتا مگر وہ تو کہو اس کے کرتوت پہلے ہی کھُل گئے، نہیں تو مجھے لوٹ ہی لے جاتی۔ مرد کیا اور عورت کیا، رنڈی کی قوم میں بدکاروں کی زندگی کا اصول ہی ایسا بگڑا ہوا ہے کہ ایک دوسرے میں محبت نہیں ہو سکتی۔ نہ کوئی سمجھدار مرد ہی ان کو دل دے سکتا ہے۔ کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ رنڈی کسی کی نہیں ہوتی اور نہ عورت ہی ایسی محبت کر سکتی ہے۔ نوحپاں اپنے دل میں یہ کہتی ہیں کہ کماتے ہم ہیں ان کو کیوں دیں۔

اگلے قدردان مرد زوالِ حسن کے بعد کنارہ کرتے ہیں۔ یہ ان کی عادی ہوتی ہیں کہ لوگ جھوٹی خوشامد کریں بھلا اب کوئی خوشامد کیوں کرنے لگا۔ غرض کہ مرد اُن سے کنار کش اور یہ مردوں سے شاکی رہتی ہیں۔

پہلے پہلے میں بھی اور رنڈیوں کی زبانی مردوں کی بے وفائی کا دُکھڑا سن کے وقت ضائع کرتی تھی اور بے سمجھے ان کی ہاں میں ہاں ملا دیتی تھی مگر باوجود اس کے

۴۵۹

کہ گوہر مرزا نے میرے ساتھ جو سلوک کیا وہ سب آپ کو معلوم ہے اور نواب صاحب جنہوں نے مجھ پر نکاح کا الزام لگایا تھا، اس کو بھی آپ سن چکے پھر بھی مردوں کو بے وفا نہیں کہہ سکتی۔ اس معاملہ میں عورتیں خصوصاً بازار والیاں اُن سے کسی طرح کم نہیں۔ محبت کے باب میں مرد (معاف کیجیے گا) اکثر بے وقوف اور عورتیں بہت ہی چالاک ہوتی ہیں۔ اکثر مرد سچے دل سے اظہارِ عشق کرتے ہیں اور اکثر عورتیں جھوٹی محبّت جتاتی ہیں۔ اس لیے کہ مرد جس حالت میں اظہارِ عشق کرتے ہیں وہ حالت اُن کی اضطراری ہوتی ہے اور عورتیں بہت جلد متاثر نہیں ہوتیں کیونکہ مرد بہت ہی جلد عورتوں کے حسنِ ظاہری پر فریفتہ ہو کر ان پر شیدا ہو جاتا ہے اور عورتیں اس باب میں زیادہ احتیاط کرتی ہیں۔ اسی لیے مردوں کی محبت کسی قدر سریع الزوال اور عورتوں کی محبت عسير الزواں، مگر جانبین کے معاشرت سے ان امور میں ایک خاص قسم کا اعتدال پیدا ہو سکتا ہے بشرطیکہ دونوں یا کم از کم ایک کو سمجھ ہو۔

واقعی مرد اِس باب میں سریع الاعتقاد ہوتے ہیں اور عورتیں انتہا کی شکی۔ مرد پر عورت کا جادو بہت جلد چل جاتا ہے مگر عورت پر حُب کا عمل مشکل سے کارگر ہوتا ہے۔ میرے نزدیک یہ نقص فطرت کی طرف سے ہے اس لیے عورتیں ضعیف القویٰ ہیں، ان کو بعض وصف ایسے دیے گئے ہیں جس سے یہ کمی پوری ہو جائے۔ منجملہ ان اوصاف کے ایک وصف یہ بھی ہے، بلکہ میں کہہ سکتی ہوں شاید یہی ایک وصف ہے۔ اس کی مثال جانوروں میں بھی مل سکتی ہے اکثر ضعیف جانوروں میں بھی یہ حیلہ گری کا مادّہ ہے۔

اکثر مرد یہ کہیں گے کہ عورتیں حسین ہوتی ہیں۔ میں اس کی قائل نہیں درحقیقت نہ مرد ہی بجائے خود حسین ہے نہ عورت بلکہ ہر ایک کو ایسا حسن عنایت ہوا ہے جو دوسرے کو اپنا معلوم ہو۔ یوں تو مرد عورت جس کا ناک نقشہ اچھا ہوتا ہے سب
 

صابرہ امین

لائبریرین
صفحہ 182

ذرا دن سے آ جاتا۔ گھڑی بھردن رہے گرہ لگائی جائے گی۔
میں :۔ اگرچہ مجرے کا دستورنہیں ہے مگرخیر بیگم صاحب نے یاد کیا ہے تومیں سویرے سے حاضر ہو کر مبارک باد گاؤں گی۔
واقعی وطن کی قدر باہرجا کے ہوتی ہے۔ کانپور میں سیکڑوں جگہ مجرے ہوئے مگر کہیں جانے کا ایسا اشتیاق ابھی تک نہیں ہوا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ جلدی سے شام ہوجائے اور میں روانہ ہوں۔ گرمیوں کا دن پہاڑ ہوتا ہے۔ خدا خدا کر کے اتنا دن کٹا۔ پانچ بجتے بجتے لڑکا آ موجود ہوا۔ میں پہلے ہی سے بنی ٹھنی بیٹھی تھی۔ سازندوں کو بلوا رکھا تھا۔ لڑکے نے ان کے مکان کا پتہ بتا دیا ۔ میں سوار ہو کے روانہ ہوگئ۔
بیگم کا مکان شہر سے کوئی گھنٹہ بھر کا راستے تھا۔ ۶ بجے میں وہاں پہونچی۔ نہر کے کنارے ایک باغ تھا جس کے چاروں طرف مینڈ پر ناگ پھنی اور دوسرے خاردار درخت اس طرح برابر بٹھائے گئے تھے جس سے دیوار سی بن گئی تھی۔ باغ کی قطع بالکل انگریزی تھی۔ تاڑ، کھجور اور طرح طرح کے خوبصورت درخت قرینے سے لگائے گئے تھے، روشوں پرسرخی کٹی ہوئی تھی، چاروں طرف سبزہ تھا، جابجا کنکروں کی پہاڑیاں سی بنی ہوئی تھیں۔ ان پر انواع اقسام کے پہاڑی درخت پتھروں کے اندر سے اُگے ہوئے معلوم ہوتے تھے ۔ پہاڑیوں کے گرد اگرد دوب جمائی گئی تھی۔ باغ میں ہر چہار طرف پکّے بَرہے بنے ہوئے تھے، ان میں صاف موتی سا پانی بہہ رہا تھا۔ مالی نلوں اور فواروں کے ذریعے سے پانی دے رہے تھے۔ پتیوں سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ دن بھر کی دھوپ کھاے ہوئے پھولوں میں، جو اب پانی پہونچا تھا، کیسے تروتازہ اور شاداب تھے۔ سال گرہ کی رسم کوٹھی میں ادا ہوئی تھی۔ عورتوں کے گانے کی آواز آئی۔ باہر میں نے مبارک باد گائی۔ پھرآپ ہی آپ شام کلیان کی ایک چیز شروع کر دی۔ کوئی سننے والا نہ تھا آپ ہی آپ گایا کی پھر چپ ہو رہی

صفحہ 183

بیگم صاحب نے ایک اشرفی اور پانچ روپیہ انعام کے بھیجے۔ تھوڑی دیر میں شام ہوگئی۔ چاند نکل آیا، چاندنی پھیل گئی۔ تالاب کے پانی میں ماہتاب کا عکس موجوں سے ہل کرعجب کیفیت دکھا رہا تھا۔
باغ کے کنارے پر ایک بہت عالی شان کوٹھی تھی ۔ وسط باغ میں ایک پختہ تالاب بنا ہوا تھا۔ اَس تالاب کے گرد ولائتی پھولوں کے ناندے نہایت خوبصورتی سے سجے ہوئے تھے۔ اسی تالاب سے ملا ہوا ایک اونچا چبوترہ تھا۔ اس کے درمیان ایک مختصرسا ہوادار چوبی بنگلہ تھا۔ اس کے ستونوں پر رنگ آمیزی کی ہوئی تھی۔ اس تالاب میں نہر سے پانی گرتا تھا۔ پانی کے گرنے کی آواز سے دل میں ٹھنڈک پہونچتی تھی۔ واقعی عجیب عالم تھا۔ شام کا سہانا وقت، ستھری ہوا، رنگ رنگ کے پھولوں میں مہک، ایسی فضا میں نے کبھی نہ دیکھی تھی۔ چبوترے پرسفید چاندنی کا فرش تھا، مسند تکیہ لگا ہوا تھا۔ اسی کے سامنے ہم لوگ بٹھائے گئے۔ کوٹھی سے لے کراس چبوترے
تک گلاب کی بیلوں سے ایک چھتّا سا بنا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ اسی کی راہ سے بیگم صاحب تشریف لاتی ہیں۔ سامنے چلمنیں پڑی ہوئی تھیں۔ چبوترے پرسبزیردنگیں روشن ہوگئیں۔ مجھے گانے کا حکم ہوا۔ میں نے کدارے کی ایک چیز شروع کردی۔ بڑی دیر تک گایا کی۔ اتنے میں ایک مہری ہاتھوں میں دو سبز کنول لیے ہوئے باہر نکلی۔ مسند کے سامنے رکھ دیے۔ سازندوں سے کہا ” تم لوگ وہ سامنے شاگرد پیشہ میں چلے جاؤ کھانا بھیج دیا جائے گا۔ اب یہاں زنانہ ہو گا۔“ جب وہ لوگ اٹھ گئے، بیگم صاحب برآمد ہوئیں۔ میں تعظیم کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ انھوں نے مجھ کو قریب بلایا، خود مسند پر بیٹھ گئیں مجھے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں تسلیم کر کے بیٹھ گئی۔ گانے کے لیے حکم کی منتظر تھی اور بیگم کی صورت غور سے دیکھ رہی تھی ؂
حیرانی نگاہ تماشا کرے کوئی صورت وہ روبرو ہے کہ دیکھا کرے کوئی

صٖفحہ 184


پہلے تو وہ باغ اور وہاں کی فضا دیکھ کے مجھے پرستان کا شبہ ہوا تھا مگراب یقین ہو گیا کہ پری میرے سامنے گاؤ سے لگی بیٹھی ہے۔، مانگ نکلی ہوئی ہے، چوٹی کمر تک پڑی ہوئی ، سرخ و سفید رنگت، اونچا ماتھا، کھنچی ہوئی بھنویں، بڑی بڑی آنکھیں جیسے گلاب کی پتیاں، لمچھوئی ناک، چھوٹا سا دہانہ، پتلے پتلے نازک ہونٹھ، نقشے بھرمیں کوئی چیز ایسی نہ تھی جس سے بہتر میرے خیال میں کوئی چیز آ سکتی ہو۔ اس پراعضاء کا تناسب اور ابھرا پن کس قدر خوشنما تھا۔ سینکڑوں عورتیں میری نظرسے گذر گئیں مگر میں نے اس بلا کی صورت نہیں دیکھی تھی۔ خورشید سے بہت جھچک ملتی تھی مگر کہاں خورشید کہاں وہ۔ خورشید کی صورت میں وہ ڈومنی پنا تھا۔ اُس میں یہ امیرانہ رعب، یہ تمکنت، یہ بھرکم پن کہاں۔ دوسرےخورشید ان کے سامنے کسی قدر بھدی معلوم ہوتی تھی۔ ان کا کامنی سا نازک نازک چھریرا بدن اس نے کہاں پایا۔ دوسرے اس کی صورت پرآٹھ پہراداسی برستی تھی۔ جب دیکھو بردگن بنی تھی۔ بیگم صاحبہ بہت ہی خوش مزاج معلوم ہوتی ہیں۔ بات کرتی ہیں گویا منھ سے پھول جھڑتے ہیں۔ ہر بات پر خود بخود ہنسے دیتی ہیں مگر کسی کو مجالِ كلام نہیں۔ واقعی سادگی میں تکلفت اور تمکنت کے ساتھ شوخی انھیں میں دیکھی۔ دولت مندوں کی خوشامد سب کرتے ہیں مگر میں عورت ذات ہو کے کہتی ہوں کہ رئیسوں کی خوشامد بھی اگر بےغرض کی جائے تو کوئی عیب نہیں۔ لباس اور زیوربھی اسی صورت کے لائق تھا ۔ مہین بسنتی دوپٹہ کندھوں سے ڈھلکا ہوا، کیچلی کا سلوکہ پھنسا پھنسا۔ سرخ گرنٹ کا پاجامہ، کانوں میں صرف یا قوت کے آویزے، ناک میں ہیرے کی کیل، گلے میں سونے کا سادہ طوق، ہاتھ میں سونے کے سمرنین، بازوؤں پرنورتن، پاؤں میں سونے کی بیڑیاں ، چہرے کی خوبصورتی، لباس کی سادگی اور زیور کی مناسبت سے یہ سب چیزیں میری آنکھوں کے سامنے تھیں اور میں نقشِ حیرت بنی بیٹھی تھی۔ بغورصورت دیکھ رہی
تھی

صفحہ 185


اور میری صورت تو جیسی کچھ ہے وہ اِس وقت آپ کے سامنے ہے۔ مگر یقین کیجیےے گا ان کی توجہ بھی کسی اور طرف نہ تھی مجھی کو دیکھ رہی تھیں۔ دونوں طرف سے نگاہیں لڑی ہوئی تھیں میرے دل میں بار بار ایک خیال آتا تھا مگر اس کے اظہار کا موقع نہ تھا۔ کہوں تو کیوں کر کہوں۔ ایک مہری پسِ پشت کھڑی پنکھا جھل رہی تھی، دو سامنے کھڑی تھیں، ایک کے ہاتھ میں چاندی کی لوٹیا تھی، دوسرے کے پاس خاصدان- بڑی دیر تک نہ بیگم صاحبہ نے مجھ سے بات چیت کی اور نہ میں کچھ بول سکی۔ آخرانہوں نے سلسلہء کلام اس طرح سے شروع کیا۔

بیگم:۔ تمہارا نام کیا ہے۔؟
میں:۔ (ہاتھ باندھ کے) امراو جان۔
بیگم :۔ خاص لکھنو میں مکان ہے؟
میں :۔ (یہ سوال کچھ اس رخ سے کیا گیا تھا کہ مجھے جواب دینا مشکل ہوا۔ خصوصاً اِس موقع پر اس لیے کہ اگر کہتی ہوں کہ لکھنؤ میں میرا مکان ہے تو ایک مطلب ہے جو میرے دل میں تھا فوت ہو جاتا ہے۔ فیض آباد بتاتی ہوں تو بے محل افشائے راز کا خیال ہے، آخربہت سوچ سمجھ کے) جی ہاں پرورش تولکھنؤ میں پائی ہے۔ جواب دینے کو تو د ے دیا مگر اس کے ساتھ ہی خیال ہوا کہ اب جو سوال کیا جائے گا تو پھر وہی دقت پیشں آ ئے گی ۔ میرا خیال غلط نہ تھا اس لیے کہ فوراً
بیگم صاحبہ نے پوچھا۔
بیگم :۔ توکیا پیدائش لکھنؤ کی نہیں ہے۔؟
میں :۔ اب حیران ہوں کہ کیا جواب دوں۔ تھوڑی دیرسکوت کیا جیسے کچھ سنا ہی نہ تھا۔ (آخراِس بات کو ٹال کے) حضور کا دولت خانہ لکھنؤ میں ہے؟
بیگم:۔ کبھی لکھنؤ میں تھا۔ اب تو کانپور وطن ہوگیا۔

صفحہ 186

میں :۔ میرا بھی یہی ارادہ ہے۔
بیگم :-کیوں ؟
میں:۔ (اس سوال کا جواب دینا بھی دشوار تھا۔ کون قصہ بیان کرتا) اب کیا عرض کروں، بے کار سمع خراشی ہوگی۔ حال ناگفتہ بہ ہے۔ کچھ ایسے ہی اتفاقات پیش آئے۔ لکھنؤ جانے کو جی نہیں چاہتا۔
بیگم:۔ چلو اچھا ہے تو ہمارے پاس بھی کبھی کبھی چلی آیا کرو۔ میں:۔ آنا کیسا، میرا تو ابھی سے جانے کوجی نہیں چاہتا۔ اوّل تو آپ کی قدردانی، دوسرے یہ باغ یہ فضا۔ ممکن ہے کہ کوئی ایک بار دیکھے اور دوبارہ دیکھنے کی ہوس نہ ہو۔ خصوصاً ایسی خفقانی مزاج کی عورت کے لیے تو یہاں کی آب و ہوا اکسیر کا خواص رکھتی ہے۔
بیگم:۔ اے ہے! تمہں یہ جنگلہ بہت پسند آیا، نہ آدمی نہ آدم ذات ہیہات خدا کی ذات۔ شہر سے کوسوں دور، چار پیسے کا سودا منگاو تو آدمی صبح کا گیا ہوا شام کو آتا ہے چھائیں پوئیں شیطان کے کان بہرے کوئی بیمار ہو تو جب تک حکیم شہر سے آئیں آئیں یہاں آدمی کا کام تمام ہو جائے۔
میں : حضوراپنی اپنی طبیعت۔ مجھے تو بہت پسند ہے، میں تو جانتی ہوں کہ اگر یہاں رہوں تو مجھے یہاں کسی چیز کی ضرورت ہی نہ ہو۔ دوسرے ایسے مقام پر بیمار ہونا کیا ضرور ہے۔
بیگم:۔ جب میں پہلے پہل آئی تھی تو میرا بھی یہی خیال تھا۔ کچھ دنوں یہاں رہ کے معلوم ہوا کہ شہر کے رہنے والے ایسے مقام پر نہیں رہ سکتے۔ شہرمیں ہزار طرح کا آرام ہے اور سب باتوں کو جانے دو۔ جب سے نواب کلکتہ گئے ہیں، راتوں کو ڈر کے مارے نیند نہیں آتی۔ یوں تو خدا کے دیے سپاہی ، پاسی، خدمتگار۔
 
آخری تدوین:
صفحہ 187
--------
اس وقت بھی دس بارہ نوکر ہیں عورتوں کی گنتی نہیں مگر پھر بھی ڈر لگتا ہے میں دو چار دن اور راہ دیکھتی ہوں اگر نواب جمی جم آئے تو میں شہر میں کوئی مکان لے کے جا رہوں گی۔
میں : قصور معاف آپ کا مزاج وہمی ہے، ایسے ایسے وسواس دل میں نہ لایا کیجیے۔ شہر میں جائیے گا تو قدر و عافیت کھلے گی، سہ گرمی ہے کہ آدمی پک سے جاتے ہیں۔ دوسرے بیماریاں کہ خدا پناہ میں رکھے۔
یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ اتنے میں کھلائی بچے کو لے کے آئی۔ تین برس کا لڑکا تھا، ماشاء اللہ گورا گورا، خوبصورت، ایسی پیاری پیاری باتیں کرتا تھا جیسے مینا بیگم نے کھلائی سے لے کے گود میں بٹھا لیا۔ تھوڑی دیر کھلا کودا کے پھر کھلائی کو دینے لگیں کہ میں نے ہاتھ بڑھا کے لے لیا۔ بڑی دیر تک لیے رہی اور پیار کیا پھرکھلائی کو دے دیا۔
میں:۔یوں تو شاید نہ آتی مگر میاں کو دیکھنے ضرور آؤں گی۔
بیگم:۔ (مسکرا کے) اچھا کسی طرح ہو، آنا ضرور۔
میں :۔ ضرور حاضر ہوں گی۔ یہ آپ کیوں بار بار فرماتی ہیں۔ میں تو اس قدر حاضر ہوں گی کہ حضور کو دوبھر ہو جاؤں گی۔
اس کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ بیگم نے میرے گانے کی بہت تعریف کی اسی اثناء میں خاصہ والی نے آکے کہا کہ خاصہ تیار ہے۔ بیگم نے کہا چلو کھانا کھا لو۔
میں:۔ بہت خوب۔
بیگم مسند سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ میں بھی ساتھ ہی اٹھی۔ میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ مہریوں کو اشارہ کیا، تم یہیں ٹھہرو۔ ہم کھانا کھالے وہیں یہیں بیٹھیں گے۔
---------
صفحہ 188
--------

میں:۔ واقعی اس وقت کا سماں تو ایسا ہے کہ جانے کو جی نہیں چاہتا مگر حکم حاکم۔
بیگم:۔ تو کیا کھنا یہیں منگوا لیا جائے ؟
میں:۔ جی نہیں۔ اچھ کھانا کھاکے چلے جائیں گے۔
بیگم:۔ (ایک مہری سے) ان کے ساتھ کے آدمیوں کو کھانا دلوا دیا گیا ؟
مہری:۔ (ہاتھ باندھ کر) حضور دلوا دیا گیا۔
بیگم:۔ اچھا انہیں رخصت کرو۔ ہم نے دوسرا مجرا معاف کیا۔ امراؤ جان کھانا کھا کے جاویں گی۔
اس کے بعد بیگم اور ہم دونں کوٹھی کی طرف چلے۔ ایک مہری آگے آگے فانوس لیے جاتی تھی۔ چبکے سے میرے کان میں کہا، مجھ کو تم سے بہت سی باتیں کرنا ہیں مگر آج اس کا موقعہ نہیں۔ کل تو مجھے فرصت نہ ہوگی، پرسوں تم صبح آنا اور کھانا یہیں کھانا۔
میں:۔ مجھے بھی کچھ عرض کرنا ہے۔
بیگم:۔ اچھا تو آج کچھ نہ کہو۔ چلو کھانا کھالیں اس کے بعد تمہارا گانا سنیں گے۔
میں:۔ پھر سازندوں کو تو حضور نے رخصت کر دیا۔
بیگم:۔ ہم کو مردوں کے ساتھ گانا اچھا نہیں معلوم ہوتا۔ میری ایک خواص خؤب طبلہ بجاتی ہے اس پر گانا۔
میں:۔ بہت خوب۔
اب ہم کوٹھی کے پاس پہنچ گئے۔ بہت وسیع کعٹھی تھی اور اس طریقے سے سجی ہوئی تھی کہ شاہی کوٹھیوں کو دیکھنے کے بود اگر کوئی کوٹھی دیکھی تو یہ دیکھی۔ پہلے برامدہ ملا اس کے بعد کئی کمروں سے ہو کے گزرے۔ ہر ایک نئے طرز سے سجا ہوا تھا ہم کمرے کا فرش فروش اور شیشہ آلات ایک نئے رنگ اور نئے طرز کا تھا۔
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
صفحہ۔231

چھٹن : ۔ لوہماری جان کسی کام ہی کی نہیں ؟
آبادی :لےکے اب باتیں نہ بناؤ۔چونی جیب میں پڑی ہوتو دیتے جاو۔
چھٹن :۔واللّہ ! اماں کی تنخواہ نہیں بٹی پرسوں ضرور ضرور لیتا آوں گا۔
آبادی :۔ اچھا تو اب جان چھوڑو جاؤ۔
چھٹن : اچھا تو ایک پوسہ تواور دے دو ۔
آبادی :کو چھٹن نے گلے لگایا ۔ آبادی نے ان کی جیب میں ہاتھ ڈال کہیں
اتفاق سے تین پیسے پڑے ہوئے تھے نکال لیے۔
چھٹن :تمھیں ہمارے سرکی قسم یہ پیسے نہ لینا باجی نے رنگ کی پٹڑیاں اور
مسی منگائی ہے۔
آبادی : ۔ تمھارے سر کی قسم میں تونہ دوں گی۔
چھٹن : - آخر کیا کروگی پرسوں چونی لے لینا۔
آبادی :۔ واہ!خاگینہ !لیں گے۔
چھٹن:- تین پیسے کا خاگینہ!اچھا ایک پیسہ لے لو۔
آبادی :تین پئیسےکا خاگینہ کچھ بہت ہوا؟نگوڑا بہت دن سے جی چاہتا ہے بیوی لینے نہیں دیتیں۔کہتی ہیں پیٹ میں درد ہوگا۔میں تو ایک دن چھپا کےایک آنے کا
کھاگئی کچھ بھی نہیں ہوا۔
میں نے دل میں کہا کیوں نہ ہوموئی کال کی ماری بلا نوش ہم توذراسابھی
کھا لیں تو بد ہضمی ہوجاے۔
رسوا : کیا اسے کال میں لیا تھا ؟
امراو :۔ جی ہاں ! ایک روپیےمیں کو ماں بیچ گئی تھی تین دن کے فاقے سے تھی۔
میں نے روٹی کھلائی اور ایک روپیہ دیا۔مرزا صاحب مجھے بڑا ترس معلوم ہوا۔

صفحہ۔232

میں نے تو کہا تھا میرے پاس رہ مگر نہ رہی۔
رسوا :- کم بخت پھربھی آئی تھی ۔ ؟
امراؤ:- جی کئی دفعہ آئی۔لڑکی کو دیکھ کےبہت خوش ہوئی. مجھ کو دعائیں دیتی۔
سال میں دو ایک مرتبہ آجایاکرتی تھی۔ مجھ سے جوبھی ہوسکتا تھا،سلوک کرتی
تھی۔ اب کئی برس سے نہیں آئی خدا جانے مر گئی یا جیتی ہے .
رسوا :ذات کیاتھی.؟
امراؤ:پاسن
رسوا : اچھا تو وہ قصہ تورہ گیا چھٹن نے چونی دی یا نہیں دی۔
امراؤ:ہے میری جانے بلا چھٹن کے جانے کے بعد میں نے موئی کو خوب کچلا پیسے
چھین کے چوک میں اچھال دئیے۔
میرے کمرے کے برابر ایک اور چھوٹا سا کمره تھا دوروپے مہینہ کرائے
کا اس میں ایک رنڈی آکے رہی تھی حسنا ابھی جوان تھی. اس کی اور آبادی
کی پرگت خوب ملی۔ دن بھروہیں بیٹھی رہا کرتی تھی۔ ساری خصلتیں حسناکی اسنے اختیار کر لیں۔
جیسی وہ رنڈی تھی ویسے ہی اس کے آشنا۔ ایک آیا پاد بھرپور یاں تیل کی لیے چلا آتا ہے ۔ دوسرا پچاس آم دو آنے سیکڑہ کے لیتا آیا کسی سے
دو گزنئنوں کی فرمائیش ہے کسی سےمخمل بوٹ کا چونگاہونا ہے۔ میلےتماشے میں
دو چارگُرگےساتھ ہیں ۔ بڑے بڑے صانے بندھے ہوئے کلف دار کرتے اور انگرکھے
پہنے ہوے ، کوئی دھوتی باندھے سے کوئی چست گھٹنہ
ڈانٹتے ہیں ،ہاتھ میں لٹھ ہے،گلے میں بار پڑے ہوئے ، بی حسنا ٹھمک ٹھمکک کے انکے ساتھ
چل رہی ہیں۔ ہرن والی سرامیں ایک بوتل ٹھرے کی اڑی۔ وہاں سے چلے تو

صفحہ۔233

جھومتے جھامتے لڑکھڑاتے گاتے نا چتے۔ بی حسنا ابھی اس کی بغل میں تھیں ابھی اس کے گلے میں باتھ۔سرِراہ گالم گلوچ ، نوچم کھسوٹ ،جوتم جا تا ہورہا ہے ۔ اس حالت میں دوایک تو رستے ہی میں گر پڑے تین چار میلےتک پہونچے ۔ وہاں پر چرس پردم پڑے۔
ان میں سے جوکوئی ہوشیار ہوا اس نے بی حسناکوگانٹھ لیا اور یاروں کو دھتا بتائی۔
اپنے گھر لے گیا یا انھیں کے کمرے پر آ کے ٹہرااور یار جب میلے سے پلٹ کے آئے کمرےکے نیچے کھڑے چیخ رہے ہیں اور گالیاں دے رہے ہیں اور ڈھیلے مار رہے ہیں ۔بی حسنااوؔل تو کمرے میں ہیں ہی نہیں اور ہیں بھی کبھی تو بولیں کیوں۔ اتنے میں کوئی برقندازچلا آیا۔ اس نے مجمع کوبرہم کیا ،سب اپنے اپنے گھر کو چلے گئے ۔
بس یہی انداز آبادی بھی چاہتی تھی ۔بھلا میں اس کی کب روادار ہوتی؟
اختر حسین علی (میرے پاس ایک نواب صاحب آیا کرتے تھے ان کے خدمت گار
کا نام تھا) کے ساتھ نکل گئی ۔ اس کے گھر جا کے بیٹھ رہی۔ وہاں اس نےجورونے
قیامت برپا کی۔گھر سے نکل گئی میاں حسین علی اس پر لٹوتھے۔بیوی کے نکل جانے کی
انھیں کوئی پرواہ نہ ہوئی۔کہ اب کھانا کون پکاوے؟بی
آبادی کوچولہاپھونکنا پڑا ۔ یہ اس کی کب عادی تھیں۔ بہرطور چند روز یوں گزرے۔
یہیں ایک بچہ جنین ۔خدا جانے حسین علی کا تھا یاکسی اور کا ۔ دومہنے کا ہو کے وہ
جاتا رہا۔ادھر حسین علی کی جورو نے روٹی کپڑے کا دعوی کیا۔ ڈیڑھ روپیہ مہینہ کی ڈگری
ہوئی ۔ تین روپیہ نواب دیتے تھے۔ ڈیڑھ روپے میں کیا ہوتا ؟ اوپر کی آمدنی پر گذر بسر تھی
اس میں بھی کچھ نہ چلی- بی آبادی کسی قدرچٹوری بھی تھیں۔ آخر میاں حسین علی کے گھر سے
نکل کے محلے کےلپڑکے منےکے ساتھ بھاگیں۔ اس کی ماں پٹھانی کٹنی بڑی مشہوروں
میں تھی ، جہاں دو چار لقندرماں اور رہتی تھیں وہیں ان کا بھی ٹھکانا ہوگیا بی پٹھانی
کی روزی میں کسی قدراوروسعت ہوئی۔ منے برائے نام رہ گئے ۔ میاں منے کے ایک

صفحہ۔234


پیر بھائی میاں سعادت پٹھانی کوجل دے
کر لے اُڑے
یہ اپنی اماؔں کے پاس
لے گئے ۔ ان کی والدہ کو مرغیوں سے شوق تھا۔ مکان کے پاس ایک تکیہ تھا وہاں
مرغیاں چراکرتیں تھیں۔ بی آبادی ان کی حفاظت
متعین ہوئیں ۔ میاں سعادت کسی
کارخانے میں کام کرتے تھے۔ دن بھروہاں چلے جاتے تھے ۔ یہ مرغیاں ہنکایا کر
تیں وہاں انھوں نے میاں بخش کلو کنجڑن کے لڑکے سے راہ و رسم پیدا کی بلکہ سعادت کی
ماں نے یہ معاملہ دیکھ بھی لیا بیٹے سے کہا۔ اس نے خوب جوتے مارے میاں محمد بخش
کے ایک اوریار تھے میاں امیر. نواب امیر مرزا کے خدمت کاروں میں نوکر تھے۔تماش بینی میں طاق کے وہ اڑالےگئے انھوں نے ایک مکان میں لے جا
رکھا کر
یہاں
اور یاروں کا مجمع بھی رہتا تھا۔ بی آبا دی سب کی س
دلجوئی میں مصروف رہتی تھیں۔
اس زمانے میں نہیں معلوم کس کی برکت خوب پھلیں
پھولیں
اب میاں امیر
کے کس
کام کی تھیں اس نے اٹھا کے اسپتال میں
پھنکوا دیا بالفصل وہیں تشریف رکھتی ہیں۔

اگر آپ فرمائیے تو بلوا دی جائیں ۔
رسوا:مجھے تو معاف ہی کیجیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھ آئی مراد منھ مانگی
دل نے پائی مراد منہ مانگی

رجب کی نوچندی تھی ۔ کچھ بیٹھے بیٹھےمجھے میرے دل میں آئی چلو در گاہ چلیں زیارت
ہی کریں۔ سرشام سوار ہو کے اپنے بڑا مجمع تھامتقا پہلے تو میں مردانی درگاہ کے صحن
میں ادھر اُدھر ٹہلا پھر جا شمعیں جلائین حاضری چڑھائی ایک صاحب
مرثیہ
پڑھ رہے تھے انھیں سنا پھرا یک مولوی صاحب آئے انھوں نے حدیث پڑھی۔
اس کے بعد ما تم ہوا۔ اب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلنے لگے میں نے کبھی زیارت


صفحہ۔235

رخصتی پڑھ کے واپسی کا ارادہ کیا۔ دروازے تک پہنچ کے جی میں آیا زنانی درگاہ میں
ہونی چلوں۔نوحہ خوانی کی شہرت اور نواب ملکہ کشور کی سرکار سے توسل کی وجہ سے اکثر
عورتیں مجھ کو جانتی تھیں میں نے خیال کیا کہ دو چار مل ہی جائیں گی اسی بہانے سے
ملاقاتیں ہوجائیں گی۔ سوار ہو کے چوپہلےپر پردہ ڈال کے زنانی درگاہ کے دروازے
پر پہنچی بھی محلدارنے آکے سواری اتروائی۔ اندرگئی ،میرا خیال غلط نہ تھا۔ اکثر عورتوں
سے سامنا ہوا۔ شکوے ، شکایتیں ، غدر کے حالات ادھر ادھر کی بائیں ہواکئیں۔
بڑی دیر ہو گئی میں واپس آنے ہی کو تھی کہ اتنے میں دکھیتی کیا ہوں دہنی طرف کی
صحنچی سے کانپور والی بیگم صاحب نکلی چلی آتی ہیں۔ بڑے ٹاٹھ ہیں تو لواں جوڑا
پہنے ہوئے چار پایخ مہرباں ساتھ ہیں ۔ ایک پاینچے سنبھالے ہوئے ہے ، ایک کے
ہاتھ میں پنکھاہے ، ایک لوٹیا خاصدان لیے ہے ، ایک کے پاس سینی میں تبرکات ہیں۔
کے دور سے دیکھتے ہی دوڑیں ۔ کندھے پر ہاتھ رکھ دیے۔
بیگم :-اللّہ امرؤاتم تو بڑی بے مروت ہو ۔ کا نپورسے جو غائب ہوئیں تو آج ملی ہووہ بھی
اتفاق سے۔
میں : ۔ کیا کہوں اس دن آپ کے باغ میں رات کو رہی تھی اسی دن صبح کو لکھنؤ
سے لوگ آکے مجھے پکڑکے لکھنؤ لے گئے پھربھاگڑ ہوئی۔ خدا جانے کہاں
کہاں ماری پھری ۔ نہ مجھے آپ کا پتہ تھانہ آپ کو میرا حال معلوم تھا۔
بیگم:خیر اب تو ہم تم دونوں لکھنؤ میں ہیں۔
میں : ۔ لکھنو کیسا ؟ اس وقت تو ایک ہی مقام پر ہیں۔
بیگم:- اس کی سند نہیں تمھیں تو میرے مکان پر آنا ہوگا ۔
میں: ۔ سر آنکھوں سے مگر آپ رہتی کہاں ہیں
بیگم:۔ چوپٹیوں پر ۔نواب صاحب کو کون نہیں جانتا؟
 
---------
صفحہ 189
---------
آخر ہم اس کمرے میں پہنچے جہاں دستر خوان چنا ہوا تھا۔ دستر خوان پر دو عورتیں اور منتظر تھیں۔ ان میں س ایک چٹھی نویس تھی، ایک مصاحب، ان دونوں کا لباس بھی بہت ہی زرق برق تھا۔ صورتیں بھی اچھی تھیں۔

دستر خوان پر کئی قسم کے کھانے پلاؤ، بورانی، مزعفر، متنجن، سفیدہ، شیر برنج، باقر خانیاں، کئی طرح کے سالن، کباب، اچار، مربے، مٹھائیاں، سہی، بالائی، غرض کہ ہر قسم کی نعمت موجود تھی۔ لکھنؤ سے نکلنے کے بعد آج کھانے کا مزہ آیا۔ بیگ پر طرح کی چیزیں میرے سامنے رکھتی جاتی ےتھیں۔ میں اگرچہ کسی قدر تکلف سے کھانا کھاتی تھیمگر ان کے اصرار نے ضرورت سے زیادہ کھلا دیا۔

بیسن دانی اور تسلہ آیا۔ ہاتھ منہ دھو کے سب نے پان کھائے پھر اسی چبوترے پر جلسہ جما۔ اس جلسے میں صرف بیگم صاحبہ نہ تھیں چٹھی نویس، مصاحبین، مغلانیا، پیش خدمتیں، مہریاں، مامائیں، سب ملا کے کوئی دس بارہ عورتیب تھیں۔

بیگم صاحبہ نے حکم دیا کہ طبلہ کی جوڑی اور ستار اٹھا لاؤ۔ ایک مصاحب جو طبلہ بجانے میں مشتاق تھی، طبلہ بجانے لگی۔ خعد بیگم صاحبہ ستار چھیڑنے لگیں، مجھے گانے کا حکم دیا۔

کھانا کھلاتے دس گیارہ بج چکے تھے، جب ہم گانے کع بیٹھے ہیں ٹھیک بارہ بجے کا وقت تھا۔ اس وقت وہ باغ جس میں بہت سارا روپیہ صرف کر کے جنگل اور پہاڑ کی گھاٹیوں کے نمعنے بنائے گئے تھے عجب عجب وحشت ناک سماں دکھا رہا تھا۔ ایک طرف چاند اس عالیشان کوٹھی ککے ایک گوشے سے تھوڑی دور پر گنجان درختوں کی شاخوں سے نظر آتا تھا مگر اب ڈوبنے ہی کو تھا۔ تاریکی روشنے پر چھائی جاتی تھی جس سے ہر چیز بھیانک معلوم ہونے لگی۔ درخت جتنے اونچے تھے اس سے کہیں بڑے نظر آتے تھے ہوا سن سن چل رہی تھی، درو کے درخت سائیں سائیں
 
---------
صفحہ 190
---------
کر رہے تھے۔ اور تو ہر طرف خاموشی کا عالم تھا مگر تالاب میں پانی گرنے کی آواز بلند ہو گئی تھی۔ کبھی کبھی کوئی پرندہ اپنے آشیانے میں چونک کر ایک ہانک بول دیتا تھا۔ یا شکاری جانور کے ہول سے جو چڑیاں اڑتی تھیں اس سے پرے کھڑک جاتے تھے۔ یا کبھی کوئی مچھلی تالاب میں اچھل پڑتی تھی۔ مینڈک اپنا بے تکا راگ گا رہے تھے ۔سوائے اس چبوترے کے جہاں دس بارہ جوان عورتیں رنگ رنگ کے لباس پہنے اور طرح طرح کے زیور سے آراستہ جلدہ جمائے بیٹھی تھیں اور کوئی آس پاس نہ تھا۔ ہوا کے جھونکوں سے کنول بجھ گئے تھے۔ صرف دو مردنگوں کی روشنی تھیان کے بھی شیشے سبز یا تاروں کو عکس جو تالاب کے پانی میں ہلکورے لے رہا تھا۔ ہر طرف اندھیرا تھا۔ طلسمات کا عالم تھا، اس وقت اور مقام کی مناسبت سے میں نے سوہنی کی ایک چیز شروع کر دی۔ اس راگنی کے بھیانک سروں نے دلوں پر پورا اثر کیا ، سب مبہوت بیٹھے تھے۔

مارے خوف کے باغ کی طرف دیکھا نہ جاتا تھا۔ خصوصاً گنجان درختوں کے نیچے گھپ اندھیرا تھا۔ سب ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ گویا وہ جلسہ امن کی جگہ تھی۔ اور جدھر نگاہ اٹھا کے دیکھو ایک ہو کا عالم تھا۔ اوروں کا کیساذکر خود میرا کلیجہ دھڑک رہا تھا، دل ہی دل میں کہتی تھی کہ بیگم نے سچ کہا تھا، بے شک یہ جگہ رہنے کے لائق نہیں ہے۔ اس اثناء میں گیدڑ کے بولنے کی آواز آئی۔ اس نے اور بھی دلوں کو ہلا دیا۔ اس کے بعد کتے بھونکنے لگے۔ اب تو مارے دہشت کے یہ حال تھا کہ کسی کے منہ سے بات نہ نکلتی تھیاتنے میں بیگم نے ذرا گاؤ تکیے سے اونچی ہو کے اپنے سامنے کچھ دیکھا اور زور سے چیخ مار کے مسند پر گر پڑیں اور سب عورتیں بھی اسی طرف دیکھنے لگیں، میں بھی مڑ کے دیکھنے لگی۔

میں بیگم صاحب کو سمجھ چکی تھی کہ وہمی ہیں مگر اب جو دیکھتی ہوں تو ان کے وہم کی
 

شمشاد

لائبریرین
کتاب صفحہ 220، ریختہ صفحہ 221

امیرن : اچھا اسکو جانے دیجیے جیسی اسنے بدزبانی کی تھی اپنی سزا کو پہونچی۔ یہ پوچھیے کہ کسبی خانگیوں سے میل جول کیسا اور وہ بھی وہ جس سے میاں سے آشانئی ہو۔ ابھی وہ لا کے سر پر بٹھا دیتے تو کیسی مانامت ڈالتی اور خود فرض کر کے جا کے بلا لائیں۔

بیگم صاحب : (امیرن سے) اُس کی مجال تھی گھر میں لے آتا، ہم نہیں بیٹھے ہیں؛ باہر جس کا جی چاہے آتے۔ گھر میں کسی کا کیا کام ہے۔ اے لو اُن سے (اکبر علی خاں کے باپ سے) برسوں حسین باندی سے ملاقات رہی، اُس نے کیسی منتیں کیں، میں نے نہیں ہامی بھری۔ بوا امیرن میں یہ سوچی کہ آج کو مہمان طریق کھڑی تڑی چلی آئے گی کل میاں گھر میں بٹھا لیں گے تو یہ چھاتی پر مونگ کون دلوائے گا۔ اپنی پت اپنے ہاتھ ہے۔ یہ آج کل کی لڑکیوں کو اپنے آگم اندیشے کا خیال نہیں۔

امیرن: سچ ہے بیگم صاحب۔ اول تو مونڈے پر بیٹھنے والیوں کا گھر گرہستیوں میں کام ہی کیا ہے۔ اگلے لوگ کہتے تھے ایک درجہ مرد کو گھر میں بلا لے مگر بد عورتوں کو نہ بلائے۔

بیگم صاحب : بوا بات یہ ہے کہ مرد اگر چلا بھی آئے گا تو کیا وہ عورتوں میں گھس کے بیٹھے گا۔ کل کی بات ہے بھاگڑ کے دنوں میں برسوں حسین خاں ہمارے گھرمیں چھپے رہے۔ پھر بوا ایک گھر کا رہنا سہنا مگر مجال ہے کہ انہوں نے میرا آنچل تک دیکھا ہو، بات سنی ہو۔ دن دن بھر ضحنچی میں گھٹی بیٹھی رہتی تھی۔ ماما اصیلوں سے اشارہ میں باتیں کرتی تھی۔

امیرن : ایک تو یہ تم صحنک کی کھانے والی بیوی صاحب زادی۔ جب ایسوں کے پاس بیٹھو گی کہاں تک بچاؤ ہو گا۔ کہیں اُس نے کتھے چونے کی کلھیوں میں ہاتھ ڈال دیا۔ تمہاری آنکھ بچا کے کٹوری میں پانی پی لیا۔


کتاب صفحہ 221، ریختہ صفحہ 222

دوسرے موئی ٹکاہیاں، ان کا اتبار (اعتبار) کیا۔ سیکڑوں عارضے میں بھری ہوتی ہیں، ان کے تو پرچھائیوں سے بچنا چاہیے۔

بیگم صاحب : ایک بات کیا سبھی باتوں کا بچاؤ ہونا چاہیے۔ پرچھانواں، نانگھن، ٹونے ٹوٹکے، بوا کون کہے، ان کو تو سمجھ نہیں۔ اور جو کچھ کھلا ہی دے۔ مرزا محمد علی کی بہو کو سوت نے جونک کھلا دی۔ دین و دنیا سے جاتی رہی نہ آل کی نہ اولاد کی۔

امیرن : جی ہاں! اے لو کیا میں جانتی نہیں ہون۔

بیگم صاحب : بوا یہ سوتاپے کا رشتہ ایسا ہے کہ اس میں جہاں تک الگ تھلگ رہے اچھا۔ یوں تو الگ تھلگ رہنے پر بھی جان نہیں بچتی۔ مجھی کو دیکھو اُس موئی ٹکے کی کہاری نے کیا کوئی بات اٹھا رکھی۔ دعا، تعویذ، گنڈے کیسے کیسے نقش میرے سرہانے سے نکلتے تھے۔

امیرن : پھر اس کو اپنے گھر میں کیوں آنے دیا؟

بیگم صاحب : اے بوا نوکر تھی میں کیا جانتی تھی کہ اس سے میاں سےلگا سگا ہے۔ جس دن معلوم ہو گیا میں نے کھڑے کھڑے نکال دیا۔

امیرن : مگر بیگم ایک بات کہوں خدا لگتی۔ آپ کی خدمت بہت کی۔

بیگم : یہ خوب کہی۔ میاں کو چھینا تھا اب کیا اس سے بھی گئی گذری۔ اس بڑھیا کو کیا سمجھتی ہو اس سے بھی کسی زمانہ میں میاں سے تھی۔

امیرن : (قہقہہ لگا کر) نہیں بیگم صاحب۔

بیگم صاحب : کیا میں جھوٹ کہوں گی۔ جب ہی تو وہ دہراتی تھی کہ اپنا عوض لے لوں گی۔

امیرن : بہو صاحب! تو پھر آپ کو نہیں چاہیے تھا۔ سسرے کی حرم کو اتنی


کتاب صفحہ 222، ریختہ صفحہ 223

جوتیاں ۔۔۔۔۔۔

بیگم : بوا ان لوگوں کو یہ لحاظ کہاں۔ سچ کہوں مجھے بھی یہ بات ناگوار ہوئی۔ ان کے منہ پر کہتی ہوں۔ آج کو موئی ٹکھائی کے چلتے، سسرے کی حرم کے جوتیاں ماریں، کل ساس کو ماریں گی۔

امیرن : نہیں، خدا نہ کرے مگر ہاں بات کہنے ہی میں آتی ہے۔ ان دونوں بڑھیوں نے بہو صاحب بیچاری کو ایسے کونچے دیے کہ آخر کو بے چاری چیخیں مار مار کے رونے لگی۔ میرا یہ حال تھا کہ انگاروں پر لوٹ رہی تھی۔ جی چاہتا تھا کہ دونوں بڑھیوں کا منہ نوچ لوں۔

رسوا : ہائیں ہائیں یہ غصہ


روکیے گا ذرا طبیعت کو

کہیں ایسا نہ ہو کہ خفت ہو

امراو : مرزا صاحب غصے کی بات ہی تھی۔ ایک انسان کو اتنا ذلیل سمجھنا انسانیت سے بعید ہے۔

رسوا : میرے نزدیک تو کوئی بات نہ تھی جس پر آپ کو اتنا غصہ آیا۔ وہ دونوں بڑھیاں سچ کہتی تھیں اور مدن کی ماں بھی بے چاری ناحق پٹی۔ حق تو یوں ہے اب آپ چاہے برا مانیں چاہے بھلا۔

امراؤ : واہ مرزا صاحب! آپ خوب انصاف کرتے ہیں۔

رسوا : جی ہاں! میرے نزدیک انصاف یہی ہے۔ اس معاملہ میں آپ بھی ایک حد تک بے قصور تھیں۔ سارا قصور اکبر علی خاں کی بیوی کا تھا۔

امراؤ : ان بے چاری کا کیا قصور تھا؟

رسوا : ایسا قصور تھا کہ اگر میری بیوی ایسا کرتی تو فوراً ڈولی بلوا کے ان کے


کتاب صفحہ 223، ریختہ صفحہ 224

میکے بھجوا دیتا اور چھ مہینے تک صورت نہ دیکھتا۔ اچھا ایک بات پوچھتے ہیں۔ اکبر علی خان نے جب یہ واردات سنی تو کیا کہا۔

امراؤ : مدن کی ماں پر خوب چیخے خوب چلائے کہہ دیا خبردار! یہ ڈائن ہمارے گھر میں نہ آنے پائے۔ کئی مہینے تک اس کا آنا جانا موقوف رہا۔ جب بڑے خاں صاحب آئے تو وہ پھر آنے لگی۔ یہ قصہ ان کے آگے چھیڑا گیا تھا۔ وہ الٹے اکبر علی خاں کی بیوی پر خفا ہوئے۔

رسوا : بڈھے کی عقل صحیح تھی؟

امراؤ : صحیح تھی یا سٹھیا گئے تھے۔ ذرا مدن کی ماں پاؤں دبایا کرتی تھی، اسی سے اس کی پُرچک لیتے تھے۔ کیوں نہ پُرچک لیتے مدن کی ماں ان کی پرانی آشنا تھی۔

رسوا : پھر آپ ہی قائل ہو جیے، یہ عین وضع داری تھی۔ اچھا اب ایک بات اور بتا دیجیے۔ مدن کی ماں جوانی میں کوئی رنڈی تھی یا گھر گرست اور بوا امیرن کون تھیں؟

امراؤ :مدن کی ماں مولی ھینتی تھی۔ جوانی میں خراب ہو گئی تھی۔ بوا امیرن ایک دیہاتی عورت تھیں۔ ان کا مکان سندیلہ کے ضلع میں تھا۔ ایک جوان بیٹا تھا۔ وہ بھی بڑی خاں صاحب کے پاس نوکر تھا۔ ایک لڑکی تھی وہ کہیں باہر بیاہی ہوئی تھی۔

رسوا : بوا امیرن سے اور بڑے خاں صاحب سے تو کوئی تعلق نہ تھا۔

امراؤ : نہ۔ خدا کو جواب دینا ہے۔ امیرن بڑی نیک عورت تھی۔ سارا محلہ کہتا تھا کہ وہ جوانی میں رانڈ ہو کے یہاں نوکری کو آئی تھی۔اس دن سے کسی نے اس کو بد راہ نہیں دیکھا۔

رسوا : پورے واقعات آپ کے بیان سے مجھ کو معلوم ہو گئے۔ اب پوچھیے آپ کیا پوچھتی ہیں؟


کتاب صفحہ 224، ریختہ صفحہ 225

تو کیا کوئی مقدمہ آپ فیصلہ کرنے بیٹھے ہیں؟

رسوا : بہت بڑا مقدمہ۔

بات یہ ہے کہ عورتیں تین طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک نیک بختیں، دوسری خرابیں، تیسری بازاریاں۔ اور دوسرے قسم کی عورتیں بھی دو طرح کی ہوتی ہیں ایک تو وہ جو چوری چھپے عیب کرتی ہیں، دوسری وہ جو کھلم کھلا بدکاری پر اتارو ہو جاتی ہیں۔ نیک بختوں کے ساتھ صرف وہی عورتیں مل کستی ہیں جو بدنام نہ ہو گئی ہوں۔ کیا تمہیں اتنی سمجھ نہیں ہےکہ وہ بے چاریاں جو تمام عمر چار دیواریوں میں قید رہتی ہیں، ہزارہا قسم کی مصیبتیں اٹھا تی ہیں۔ اچھے وقت کے تو سب ساتھی ہوتے ہیں، مگر برے وقت میں بے چاریاں ساتھ دیتی ہیں۔

جس زمانے میں ان کے شوہر جوان ہوتے ہیں، دولت پاس ہوتی ہے تو اکثر باہر والیاں مزے اڑاتی ہیں۔ مگر مفلسی اور بڑھاپے کے زمانے میں کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اُن دقتوں میں وہی طرح طرح کی تکلیفیں اتھاتی ہیں اور بُروں کی جان کو صبر کرتی ہیں۔ پھر کیا انہیں اس کا کوئی فخر نہ ہو گا۔ یہی فخر اس کا باعث ہوتا ہے کہ وہ خراب عورتوں کو بہت ہی بری نگاہ سے دیکھتی ہیں، انتہا کا ذلیل سمجھتی ہیں۔ توبہ استغفار سے خدا گناہ معاف کر دیتا ہے مگر یہ عورتیں کبھی نہیں معاف کرتیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ گھر کی عورت کیسی ہی خوب صورت، خوب سیرت اور خوش سلیقہ کیوں نہ ہو، بے وقوف مرد بازاریوں پر جو اُن سے صورت اور دوسری صفتوں میں بدرجہا بدتر ہیں، فریفتہ ہو کر انہیں عارضی طور سے یا مدت العمر کےلیے ترک کر دیتے ہیں۔ اس لیے ان کو گمان کیا بلکہ یقین ہے کہ یہ کسی نہ کسی قسم کا جادو ٹونا ایسا کر دیتی ہیں جس سے مرد کی عقل میں فتور آ جاتا ہے۔ یہ بھی ان کی ایک قسم کی نیکی ہے۔ اس لیے کہ وہ اس حال میں اپنے مردوں کو الزام نہیں دیتیں بلکہ بدکار عورتوں ہی کو مجرم ٹھہراتی ہیں۔ اس سے زیادہ ان کی محبت کی اور کیا دلیل ہو سکتی ہے۔


کتاب صفحہ 225، ریختہ صفحہ 226

امراؤ : یہ تو سب صحیح ہے مگر مرد کیوں ایسے بے وقوف بن جاتے ہیں؟

رسوا : اس کی وجہ یہ ہے کہ انسا ن کے مزاج میں جدت پسندی ہے، ایک حالت میں زندگی بسر کرنے سے خواہ وہ کیسی ہی عمدہ کیوں نہ ہو، طبیعت اکتا جاتی ہے وہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کا تغیر اس کی حالت زندگی میں پیدا ہو۔ شاید زنِ بازاری کے ساتھ معاشرت کرنے میں اسے ایک قسم کی نئی لذت ملتی ہے جو کبھی اس کے خیال میں نہ تھی۔ یہاں بھی ایک ہی کے تعارف پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ جدت کی تلاش میں روز نئے کمروں پر پہونچتا ہے اور نئے گھر دیکھتا پھرتا ہے۔

امراؤ : مگر سب مرد ایسے نہیں ہیں۔

رسوا : ہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ حسنِ معاشرت کے قانون نے اس کو معیوب قرار دیا ہے۔ جو شخص ایسا کرتے ہیں ان کے عزیز و اقارت دوست احباب ملامت کرتے ہیں۔ اس خوف سے اکثر جراءت نہیں ہوتی مگر اخوان الشیاطین کی صحبت میں بیٹھنے کا اتفاق ہوتی ہے، وہ طرح طرح کی لذتوں کا ذکر کر کے ایک عجیب قسم کا شوق ان کی طبیعت میں پیدا کر دیتے ہیں۔ اس لیے وہ خوف ان کے دل سے نکل جاتا ہے۔ آپ کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوا ہو گا کہ جو لوگ پہلے پہل رنڈی کے مکان پر جاتے ہیں، اُن کو اخفائے راز کا کس قدر خیال ہوتا ہے۔ کوئی دیکھتا نہ ہو، کوئی سن نہ لے، دو آدمیوں کے سامنے تو بولنے کا کیا ذکر تخلیہ میں بھی منہ سے بات نہیں نکلتی مگر رفتہ رفتہ یہ حالت تو بالکل زائل ہو جاتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ چند ہی روز میں پورے بے غیرت ہو جایا کرتے ہیں۔ پھر کیا ہے، دن دہاڑے سر چوک رنڈیوں کے کمروں پر کھٹ کھٹ کر کے چڑھ جاتے ہیں۔ گاڑی میں کھڑکیا ں کھول کر ساتھ بیٹھ کر سیر کرنا، ہاتھ


کتاب صفحہ 226، ریختہ صفحہ 227

میں ہاتھ لے کے میلے تماشوں میں لیے پھرنا، ان سب باتوں کو فخر سمجھنے لگتے ہیں۔

امراؤ : یہ تو صحیح ہے، مگر شہروں میں ان باتوں کو چنداں معیوب نہیں سمجھتے۔

رسوا : خصوصاً دہلی اور لکھنؤ میں، اور یہی ان شہروں کی تباہی اور بربادی کا باعث ہوا۔ دیہات اور قصبات میں ایسے شریر لوگوں کی صحبت کم ملتی ہے جونوجوانوں کو ان بدکاریوں پر آمادہ کریں۔ دوسرے وہاں کی رنڈیوں کو اس قدر اقتدار حاصل نہیں ہے اس لیے وہ رؤسا اور زمینداروں کی مطیع رماں ہوتی ہیں اور بہت ڈرتی ہیں کیوں کہ ان کا آذوقہ بلکہ زندگی ان کے دست قدرت میں ہے۔ اس لیے ان کی اولاد سے بہت چوری چھپے ملتی ہیں۔ اور شہروں میں تو آزادی ہے کون کس کا دباؤ مانتا ہے، اسی کا یہ نتیجہ ہے۔

امراؤ : مگر دیہاتی جب بگڑتے ہیں تو حد سے زیادہ بگڑ جاتے ہیں۔ مثلاً میاں راشد علی کا واقعہ آپ سُن چکے ہیں۔

رسوا : اس کا یہ سبب ہے کہ وہ ان لذتوں سے بالکل نابلد ہوتے ہیں۔ جب ان کو اس کا چسکا پڑتا ہے تو وہ اس کی حد سے زیادہ قدر کرتےہیں۔ اور اہل شہر کچھ نہ کچھ آگاہ ہوتے ہیں اور اس لیے ان کو زیادہ شغف اور انہماک نہیں ہوتا۔

رسوا : ہاں وہ آپ کی نوچی کیا ہوئی اے ہے بھلا سا نام ہے۔

امراؤ : آبادی

رسوا : آبادی کی صورت تو اچھی تھی، میں نے اس وقت دیکھا تھا جب اس کا سن دس بارہ برس کا تھا، جوانی میں تو اور نکھر گئی ہو گی؟


کتاب صفحہ 227، ریختہ صفحہ 228

امراؤ : مرزا صاحب آپ کو خوب یاد ہے۔

رسوا : یاد کو کیا چہیے۔ واقع میں بہت قطع دار عورت ہو گی۔ ہم بھی اسی نظر سے دیکھتے تھے کہ کبھی تو جوان ہو گی۔

امراؤ : تو یہ کہیے آپ بھی بی آبادی کے امیدواروںمیں تھے؟

رسوا : سنو! امراؤ جان میری ایک بات یاد رکھنا۔ جہاں کوئی حسین عورت نظر پڑے مجھے ضرور یاد کر لینا، اگر ممکن ہو تو امیدواروں میں نام لکھوا دینا اور جو میں مر جاؤں (خدا نخواستہ) تو میرے نام پر فاتحہ دے دیا۔

امراؤ : اور اگر کوئی مرد حسین نظر آئے؟

رسوا : اپنا نام امیدواروں میں اور میرا نام اس کی بہن کے امیدواروں لکھو دینا بشرطیکہ شرعاً ممنوع نہ ہو۔

امراؤ کیا خوب! شرع کو کہاں دخل دیا ہے۔

رسوا : شرع کا دخل کہاں نہیں ہے۔ خصوصاً ہماری شرع جس میں کوئی فرد گذاشت نہیں کی گئی ہے۔

امراؤ :سیدھی سی ایک بات کیوں نہیں کہہ دیتے۔ ع

شرعاً تو جانتے ہیں پہ عرفاً درست ہے

رسوا : یہ اور موقعوں پر کہا جات اہے۔ امراؤ جان میری زندگی کا ایک اصول ہے، نیک بخت عورت کو میں اپنی ماں بہن کے برابر سمجھتا ہوں خواہ وہ کسی قوم و ملت کی کیوں نہ ہو۔ اور ایسی حرکتوں سے مجھےسخت صدمہ پہونچتا ہے جو اس کی پارسائی میں خلل انداز ہوں۔ جو لوگ اس کے ورغلانے یا بدکار بنانے کی کوشش کرتے ہیں میری رائے میں قابل گولی مار دینے کے ہیں۔ مگر فیاض سے مستفید ہونا میرے


کتاب صفحہ 228، ریختہ صفحہ 229

نزدیک کوئی گناہ نہیں۔

امراؤ : سبحان اللہ!

رسوا : خیر اب اس فضول بات کو رہنے دیجیے۔ آبادی جان کا حال کہیے۔

امراؤ : مرزا صاحب! اگر آپ اس کو جوانی کے عالم میں دیکھتے تو یہ شعر ضرور آپ کی زبان پر ہوتا ؂

جواں ہوتے ہی وہ تو کچھ اور ہو گئے اے دل
کہاں کی پاکبازی ہم بھی اب نیت بدلتے ہیں

جوان ہو کے اس نے وہ صورت شکل نکالی تھی کہ سو پچاس رنڈیوں میں ایک تھی۔

رسوا : اب کیا ہوئی خدا کے لیے جلدی کہیے، کس شہر چلی گئی۔ آخر آفت کیا ہوئی جو آپ ایسی مایوسی کے کلمات کہتی ہیں۔

امراؤ : ہم سے گئی جہان سے گئی۔

رسوا : آخر ہے اب کہاں؟

امراؤ : سپتال میں ہے اور کہاں ہے۔

رسوا : یہ کہیے گلِ جوانی شگفت۔

امراؤ : جی ماشاء اللہ سے خوب پھولیں پھلیں۔ صورت بگڑ گئی، رنگت الٹا توا ہو گئی۔ غرضیکہ ستر کرم ہو گئے اب جان کے لالے پڑے ہیں۔

رسوا : یہ ہوا کیا تھا؟

امراؤ : اے ہوا کیا تھا، موے لونڈے بھیری، سفلی، چھچھوری، میں نے بہت چاہا کہ آدمی بنے مگر نہ بنی۔ میں نے کیا نہیں کیا۔ استاد جی کو نوکر رکھا، تعلیم دینا شروع کیا مگر اس کا دیدہ ایسی باتوں میں کب لگتا تھا۔ جب سے جوان ہوئی


کتاب صفحہ 229، ریختہ صفحہ 230

میں نے کمرہ علیٰحدہ کر دیا تھا۔ شہر کے چند ذاتِ شریف آ کے بیٹھنے لگے، دن رات گالم گلوچ، دھینگا مشتی، جوتم جاتا۔ ایک آفت برپا رہتی تھی۔ ناک میں دم ہو گیا تھا۔ کسی پر بند نہیں جو آیا وارد۔ میں نے مارا پیٹا، سمجھایا مگر وہ کب سنتی تھی۔ بچپنے ہی سے اس کی نگاہ بد تھی۔ اُس زمانےمیں بوا حسینی کو نواسہ جمن آیا کرتا تھا۔ اس سے کھیلا کرتی۔ میں نے یہ خیال کیا بچہ ہیں، کھیلنے دو۔ آخر کچھ ایسی باتیں آنکھ سے دیکھیں کہ جمن کی آمد و رفت موقوف ہوئی۔ ایک صاحب میرے پاس تشریف لایا کرتے تھے، ذرا خوش گلو تھے۔ میں گوایا کرتی تھی، ان سے چھیڑ چھاڑ شروع کی۔ وہ شریف خاندان تو تھے مگر طبیعت پاجی تھی۔ نہ میرا لحاظ کیا نہ اپنی حیثت دیکھی۔ ایک دن سر شام کیا دیکھتی ہوں، ڈیوڑھی میں بی آبادی سے باتیں ہو رہی ہیں

چھٹن صاحب : اری میں تو تیری صورت کا عاشق ہوں۔ ہائے آبادی کیا کروں، امراؤ جان سے ڈرتا ہوں

آبادی : ہٹو! ایسی باتیں مجھ سے نہ کیا کرو۔ ڈر کاہے کا؟

چھٹن نے آبادی کے گلے میں ہاتھ ڈال دیا۔

چھٹن : ظالم کیا پیاری پیاری صورت ہے۔

آبادی : پھر تمہیں کیا؟

چھٹن صاحب : (ایک بوسہ لے کے) ہمیں کیا، مرتے ہیں جان جاتی ہے۔

آبادی : موے چار آنے تو دیے نہیں جاتے، مرتے ہیں۔ میاں مرتے سب کو دیکھا جنازہ کسی کا بھی نہیں دیکھا۔

چھٹن : چار آنے! جان حاضر ہے۔

آبادی : نگوڑی جان کو میں لے کے کیا کروں گی؟
 

شمشاد

لائبریرین
کتاب صفحہ 210، ریختہ صفحہ 211

کی پابند ہو گئی تھی۔ اکبر علی خاں کو تعزیہ داری سے عشق تھا۔ رمضان اور محرم میں وہ اس قدر نیک کام کرتے تھے جس سے سن کے سال بھر کے گناہوں کی تلافی ہو جاتی تھی۔ یہ صحیح ہو یا غلط مگر ان کا اعتقاد یہی تھئ۔

رسوا : یہ معاملہ ایمان کا ہے۔ اس لیے مجھے اتنا کہہ لینے دیجیے کہ یہ اعتقاد صحیح نہیں ہے۔

امراؤ : میرے نزدیک بھی ایسا ہی ہے۔

رسوا : عقلمندوں نے گناہوں کی دو قسمیں کی ہیں۔ ایک وہ جن کا اثر اپنی ہی ذات تک رہتا ہے اور دوسرے وہ جن کا اثر دوسروں تک پہونچتا ہے۔ میری رائے ناقص میں پہلی قسم کے گناہ صغیرہ اور دوسری قسم کے گناہ کبیرہ ہیں (اگرچہ اور لوگوں کی رائے اس کے خلاف ہو) جن گناہوں کا اثر دوسروں تک پہونچتا ہے اُ ن کی بخشش وہی لوگ کر سکتے ہیں جس پر اس کا بُرا اثر پہونچا ہو۔ تم نے خواجہ حافظ کا وہ شعر سنا ہو گا ؂

مے خود، مصحف، بسوزد، آتش اند کعبہ زن
ساکن بت خانہ باش و مردم آزاری مکن

امراؤ جان یاد رکھو۔ مردم آزاری بہت ہی بری چیز ہے۔ اس کی بخشش کہیں نہیں ہےاور اگر اس کی بخشش ہو تو معاذ اللہ خدا کی خدائی بے کار ہے۔

امراؤ : میرا تو بال بال میاں گنہگار ہے مگر اس سے میں بھی کانپتی ہوں

رسوا : مگر تم نے دل آزاری بہت کی ہوگی؟

امراؤ : پھر یہ تو ہمارا پیشہ ہے، اسی دل آزاری کی بدولت لاکھوں روپے ہم نے کماے، ہزاروں اڑاے۔

رسوا : پھر اس کی کیا سزا ہو گی؟


کتاب صفحہ 211، ریختہ صفحہ 212

امراؤ : اس کی کوئی سزا ہ ہونا چاہیے۔ ہم نے جس قسم کی دل آزاری کی اس میں ایک طرح کی لذت ہے جو اُس دل آزاری کا معاوضہ ہو جاتا ہے۔

رسوا : کیا خوب !!

امراؤ : فرض کیجیے ایک صاحب نے ہم کو میلے تماشے میں کہیں دیکھ لیا، مرنے لگے۔ کوڑی پاس نہیں، ہم بے لیے مل نہیں سکتے۔ ان کا دل دکھتا ہے۔ پھر اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ دوسرے صاحب ہم سے ملنا چاہتے ہیں۔ روپیہ بھی دیتے ہیں، ہم ایک اور شخص کے پابند ہیں یا ان سے ملنا نہیں چاہتے۔ اپنا دل، اُن کی جان پر بنی ہے پھر؟ ہماری بلا سے؟ بعض صاحب ہمارے پاس اس طرح کے آتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں چاہو۔ ہم نہیں چاہتے اجارہ ہے۔ اس سے ان کو صدمہ پہونچتا ہے پھر ہماری پاپوش سے۔

رسوا : یہ سب گولی مارنے کے لائق ہیں مگر برائے خدا کہیں مجھے ان میں سے کسی میں شمار نہ کر لیجیے گا۔

امراؤ : خدا نہ کرے۔ آپ خوش باشوں میں ہیں۔ نہ آپ کسی کو چاہتے ہیں نہ کوئی آپ کو چاہتا ہے اور پھر آپ سب کو چاہتے ہیں اور سب آپ کو چاہتے ہیں۔

رسوا : یہ کیا کہا؟ ایک بات ہے، نہیں بھی ہے۔ کہیں ایسا ہو سکتا ہے؟

امراؤ : میں منطق تو زیادہ پڑھی نہیں مگر ہو سکتا ہے جب ایک بات کے دو پیراے ہوں، ایک چاہنا عقلمندی کے ساتھ ہوتا ہے اور ایک بے وقوفی کے ساتھ۔

رسوا : اس می مثال؟

امراؤ : پہلے کی مثال جیسے آپ مجھ کو چاہتے ہیں میں آپ کو۔

رسوا : خیر میرے چاہنے کا حال تو میرا دل ہی جانتا ہے اور آپ کے چاہنے کا


کتاب صفحہ 212، ریختہ صفحہ 213

حال آپ کے اقرار سےمعلوم ہو گیا۔ آگے چلیے دوسری مثال۔

امراؤ : خیر نہیں چاہتے تو میرا برا چاہتے ہوں گے۔ دوسرے کی مثال سنیے جیسے فریاد رس الٰہی۔

رسوا : نہیں۔ اس مثال میں آپ نے غلطی کی اور کوئی مثال دیجیے۔

امراؤ : اچھا جیسے قیس لیلی کو چاہتا تھا۔

رسوا : آپ بھی کیا دقیانوسی خیال ڈھونڈھ کے لائی ہیں؟

امراؤ : اچھا جیسے ۔۔۔۔۔۔۔ نظیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رسوا : (بات کاٹ کے) اس مثال سے معاف کیجیے۔ اس موقعہ پر مجھ کو ایک شعر یاد آیا ہے سن لیجیے اور اپنا قصہ دہرائیے۔

کیا کہوں تجھ سے محبت وہ بلا ہے عدم
ہم کو عبرت نہ ہوئی غیر کے مر جانے سے

امراؤ : ہاں وہ کلکتہ والا معاملہ۔

رسوا : اتنی دور کہاں پہونچیں، کیا لکھنؤ میں ایسے نہیں رہتے؟

امراؤ : دنیا خالی نہیں ہے۔

رسوا : ہاں میں نے سنا تھا آپ اکبر علی خاں کے گھر بیٹھ گئی تھیں۔

امراؤ : مجھ سے سن لیجیے۔ جس زمانے میں نواب عدالتِ ابتدائی سے جیت گئے تھے اور میں روپوش ہوئی ہوں اس زمانہ میں اکبر علی خاں مجھے اپنے مکان لے گئے تھے۔ کئی برس رہنے کا اتفاق ہوا۔ اس زمانہ میں تین آدمی اس دھوکے میں تھے۔کہ میں اکبر علی کے گھر بیٹھ گئی۔ ایک تو خود اکبر علی، ان کی بیوی، تیسرے کا نام نہ بتاؤں گی۔


کتاب صفحہ 213، ریختہ صفحہ 214

امراؤ : گوہر مرزا؟

رسوا : جی نہیں۔

امراؤ : تو پھر اور کون؟ بتائیے۔

رسوا : آپ بتائیے۔

امراؤ : ایسے فقرے کسی اور کو دیجیے۔

رسوا : فقرہ کیسا؟ میں ابھی ایک پرچے پر لکھ کے رکھے دیتا ہوں۔ پھر آپ بتائیے۔

امراؤ : بہتر۔

رسوا : پرچہ لکھ کے رکھ دیا۔ اب کہیے۔

امراؤ : تیسرے میں خود۔

رسوا : پرچے میں لکھا تھا "آپ خود"

امراؤ : واہ مرزا صاحب خوب پہچانا۔

رسوا : آپ کی عنایت ہے۔ ہاں تو کیا گذری؟

امراؤ : گذری کیا۔ سنیے۔

اول تو انہوں نے مجھے ایک چھوٹے سے مکان میں لے جا کے اتارا جو اُن کے مکان سے ملا ہوا تھا۔ کھڑکی درمیان میں تھی۔ موا کچا سا مکان، ایک چھوٹی سی دلنیہ، آگے چھپر، ایک اور چھپر سامنے پڑا ہوا، اس میں دو چولہے بنے ہوے، یہ کیا ہے باورچی خانہ۔ اور سب خانےبھی ایسے ہی سمجھ لیجیے۔ اسی مکان میں میں بھی رہوں اور میاں کے بے تکلف دوست بھی آیا چاہیں۔ ان میں سے ایک صاحب رئیس موضع شیخ افضل حسین چھوٹتے ہی بھوجی کہنے لگے۔ ان کے بے تکے پن نے ناک میں دم کر دیا۔ پانوں کی فرمائش سے بتنگ ہو گئی۔ ہر سٹے بھوجی پان نہ کھلاؤ گی۔"


کتاب صفحہ 214، ریختہ صفحہ 215

ایک دن دو دن آخر مروت کہاں تک۔ انتہا یہ کہ پاندان میں نے اُن کے آگے سرکا دیا۔ اس دن سے میں خود دستبردار ہو گئی۔ انہوں نے قبضہ کر لیا۔ جیسے کوئی مال موروثی پر قبضہ کرتا ہے۔ پان اس بدتمیزی سے کھاتے تھے کہ دیکھنے والوں کو خواہ مخواہ نفرت ہو جائے۔ کتھے چونے کی کلھیوںمیں انگلیاں پڑ رہی ہیں۔ زبان سے چاٹ رہےہیں۔ میں نے جب یہ قرینہ دیکھا چکنی کے چورے اور الائچی پر بسر کرنے لگی۔ اس میں بھی وہ ساجھا لگاتے تھے۔ ایک اور صاحب واجد علی نامی اکثر خصوصاً کھانے کے وقت تشریف لاتے تھے۔ اب یاد نہیں کہ اکبر علی خاں کے برادر نسبتی تھے۔ اُن کے مذاق میں فحش حدِ اعتدال سے زیادہ تھا۔

ان دونوں صاحبوں کے سوا اکبر علی خاں صاحب کے بے تکلف احباب بہت سے تھے جن میں سے اکثر کو مقدمہ بازی کا شوق تھا۔ رات دن قانون چھٹا کرتا تھا۔ مگر جب مرزا صاحب تشریف لے جاتے تھے تو اک ذرا امن ہو جاتی تھی۔

اس مکان سے چند روز کے بعد میری طبیعت حد سے زیادہ اکتا گئی۔ قریب تھا کہ کہیں اور رہنے کا بند و بست کروں کہ ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ اکبر علی خاں کیس مقدمہ میں فیض آباد گئے۔ افضل علی اپنے گاؤں۔ اتفاق سے مکان میں کوئی نہیں، دروازے کی کنڈی بند کر لی ہے۔ میں اکیلی بیٹھی ہوں کہ اتنے میں کھڑکی میں جو زنانے مکان کی دیوار میں تھی کھلی اور اکبر علی خاں کی بیوی اندر چلی آئیں۔ مجھے خواہی نخواہی سلام کرنا پڑا۔ انگنائی میں تختوں کا چوکا بچھا تھا اسی کے پاس میرا پلنگ لگا تھا۔ پہلے بڑی دیر تک چپکی کھڑی رہیں۔ آخر میں نے کہا یا اللہ بیٹھ جائیے۔ بارے بیٹھ گئیں۔

میں : غریبوں پا کیر عنایت تھی آج ادھر کہاں تشریف آئی؟

بیوی : تم کو میرا آنا ناگوار ہو تو چلی جاؤں۔

میں : جی نہیں۔ آپ کا گھر ہے۔ مجھے ایسا حکم ہو تو مناسب بھی ہے۔
 

عبدالصمدچیمہ

لائبریرین
صفحہ ریختہ 178

"نکلی غلافِ نور سے تفسیرِ جوہری"

میں:- سبحان اللہ! اِس بند کے تو دور دور تک شہرے ہیں۔ پانچ مصرعے مجھ سے سُن لیجیے۔ واقعی کیا کلام ہے؟
وہ صاحب:- (بہت خوش ہوکے) جی ہاں! آپ نے یہ مرثیہ لکھنئو میں سنا ہوگا۔ وہی تو میں کہتا تھا کہ لکھنئو کی رہنے والی اور پھر شعر و سخن کا شوق، حضرت شارق کو نہ جانتی ہوں، تعجب ہے۔ اچھا اب میں سمجھا یہ مذاق تھا۔
میرے جی میں تو آیا کہدوں کہ آپ کے استاد مر کے بھی جئیں گے تو ایسا بند نہیں کہہ سکتے۔ مرزا دبیر صاحب (مرحوم) کا کلام ہے۔ مگر پھر کچھ سمجھ کے چپ ہورہی۔
رسوا:- وقعی آپ نے بڑی عقلمندی کی ورنہ بے چارے کی روزی میں خلل آتا۔ میر ہاشم علی صاحب شارق پر کیا موقوف ہے، اکثر صاحبان کا یہی شعار ہے، دوسروں کا کلام باہر جا کے اپنے نام سے پڑھتے ہیں۔ چند ہی روز کا ذکر ہے ایک صاحب میرے ایک دوست کی غزلوں کے مسودے چرا لے گئے۔ حیدر آباد دکن میں سناتے پھرے۔ اصل مصنف سے تذکرہ ہوا، وہ ہنس کر چپ ہورہے۔ اکثر صاحبوں نے لکنھئو کو ایسا بدنام کیا ہے کہ اب لفظ لکھنوی لکھتے ہیں جن کی ہفتاد پشت دیہات میں گزر گئی۔ خود لکھنئو میں چند روز طالب علمی یا اور کسی سلسلے سے آکے رہے، چلیے اچھے خاصے لکھنوی بن گئے۔ اگرچہ یہ کچھ ایسی فخر کی بات نہیں مگر جھوٹ سے کیا فائدہ؟
امراؤ: جی ہاں اکثر صاحب اسی طرح لکھنئو فروشی کرکے اپنا بھلا کرتے ہیں۔
کانپور میں میرا بھی ٹھیک یہی حال تھا۔
 
Top