اللّہ تعالیٰ کی شان میں اشعار

سیما علی

لائبریرین
ابتدائے کلام کرتا ہوں
دم تری بندگی کا بھرتا ہوں

جب تری حمد کان پڑتی ہے
دلِ مردہ میں جان پڑتی ہے

صبح کا نور ہے کتاب تری
حمد کرتا ہے آفتاب تری

رات دِن کے ورق اُلٹتا ہے

لطف تیرے سے وقت کٹتا ہے

کوہساروں کو تو نے چمکایا
برف کا تاج اُن کو پہنایا

چاندنی تیرے گیت گاتی ہے
نغمہء حمد گنگناتی ہے

دھڑکنوں میں ہے نعرہء حق ہُو
تیری قدرت کے ہیں نشاں ہر سُو

کائنات آئنہ جمال کا ہے
نقش ہر اِک ترے کمال کا ہے

اشکِ غم کی ہے آبرو تجھ سے
شاخِ اُمید میں نمو تجھ سے
حافظ لدھیانوی
 

سیما علی

لائبریرین
مخفی بقدرِ طاعتِ ما گر عطا دہند
در روزِ حشر رحمتِ پروردگار چیست

اے مخفی، ہماری اطاعت کے مطابق ہی
اگر عطا کرتے ہیں تو پھر حشر کے دن
پروردگار کی رحمت کیا چیز ہے؟

شاہزادی زیب النِسا مخفی

 

سیما علی

لائبریرین
دیر و مسجد میں ڈھونڈھنا تھا ہمیں
وہ یہیں یا وہیں کہیں ملتا

حضرت نوحؔ آپ نو ملئے
دیکھئے پھر وہ کیوں نہیں ملتا
  • نوح ناروی
 

سیما علی

لائبریرین
سب میں تحریکِ زندگی تجھ سے
انقلابات کی ہوا تو ہے

کس کے در پر شہابؔ دے دستک
بے سہاروں کا آسرا تو ہے

شہاب دہلوی
 

سیما علی

لائبریرین
بندہ و صاحب و محتاج و غني ايک ہوئے
تيري سرکار ميں پہنچے تو سبھي ايک ہوئے

محفلِ کون و مکاں ميں سحر و شام پھرے
مئے توحيد کو لے کر صفت جام پھرے

علامہ اقبال رح
 

سیما علی

لائبریرین
مری نگاہ کو ہے کب سے جستجو تیری
اگرچہ جلوہ نمائی ہے چار سو تیری

نظر نظر میں سمایا ہے تیرا عکسِ جمال
نفس نفس میں سمائی ہے آرزو تیری

شفق ، دھنک ، گل و لالہ میں ہے تری رنگت
چمن میں رنگ ، گلوں میں بسی ہے بو تیری

بوقتِ صبح ثناخواں ہیں طائرانِ چمن
بصد نیاز ہر اک لب پہ گفتگو تیری

زمین و آسماں ، یہ ابر و باد ، سیلِ کرم
یہ آبشار ، یہ جھیل اور آب جو‘ تیری

فقط تجھی کو یہ زیبا ہے قادرِ مطلق
’’کہ پتہ پتہ کرے یاد باوضو تیری‘‘

سدا قریب رہا تو مری رگِ جاں سے
مگر تلاش رہی مجھ کو کو‘ بہ کو‘ تیری

پڑھا ہے جب کبھی، مجھ کو ہوا ہے یوں محسوس
کلامِ پاک مکمّل ہے گفتگو تیری

نبی ، رسول ، ولی ، غوث تک نہیں محدود
زمیں سے عرشِ علیٰ تک ہے گفتگو تیری

تری صفات ہیں بے انتہا و بے پایاں
کریں تو کیسے کریں ذات میں غلو تیری

اسی نے بخشا ہے عزّ و شرف تجھے سرورؔ
وہی رکھے گا سرِ حشر آبرو تیری

امجد علی سرور
 

سیما علی

لائبریرین
عظمت تری مانے بن کچھ بن نہیں آتی یہاں
ہیں خیرہ و سرکش بھی دم بھرتے !! سدا تیرا
مولانا حالی
 

سیما علی

لائبریرین
قطرے کو گہر کی آبرو دیتا ہے

قد سرو کو گل کو رنگ و بو دیتا ہے
بیکار تشخص ہے، تصنع بے سود

عزت وہی عزت ہے جسے تو دیتا ہے
(دبیر)
 

سیما علی

لائبریرین
خدایا اول و آخر بھی تو ہے
خدایا ظاہر و باطن بھی تو ہے

وہ اول تو کہ نا محرم بدایت
وہ آخر تو کہ نا پیدا نہایت

نہیں اول کو آخر سے جدائی
ورائے عقل ہے تیری خدائی
اسمعیٰل میرٹھی
 

سیما علی

لائبریرین
يا الہی روز و شب توفيق احساں دے مجھے
خوف اپنا ظاہر وباطن ميں يكساں دے مجھے

حب سنت يا الہی حب قرآں دے مجھے
نعمت دارين اعنى نور ايماں دے مجھے

كام ميرا زندگی بھر خدمت قرآن ہو
فہم قرآں دے الہا نور عرفاں دے مجھے

مولانا داؤد راز دہلوی رحمہ اللہ
 
Top