اللّہ تعالیٰ کی شان میں اشعار

سیما علی

لائبریرین
آسمانوں پہ ستاروں کوسجاتا تو ہے
اور مہتاب کا فانوس جلاتا تو ہے
یہ تری شانِ کریمی ہے کہ ہر بندے پر
عقل و حکمت کے خزینوں کو لٹاتا تو ہے

محسن احسان
 

سیما علی

لائبریرین
شانِ باری تعالیٰ ۔۔::

وہی رب ہے وہی اللہ جس کا بول بالا ہے
ثنا کرتی ہوں اُس کے نام کی جو رحم والا ہے
روبینہ میر
 

سیما علی

لائبریرین
برس رہی ہے خدا کی رحمت درِ عطا و کرم کھلا ہے
زمیں ہے عرشِ بریں یہاں کی جمالِ وارث خدا نما ہے

خیالِ جنت تمہیں مبارک کہ میں ہوں محوِ جمالِ وارث
تلاشِ دیر وحرم نہیں ہے صنم کدہ مجھ کو مل گیا ہے

حسین یکتا جمیل یکتا کہ میں نے تجھ سا تجھی کو دیکھا
یہ شیفتہ ہے فریفتہ ہے ازل سے دل تیرا مبتلا ہے

تجلیّات جمالِ جاناں سےہے منور یہ دونوں عالم
نگاہِ حق بیں سے دیکھنے کو نظر سے پردہ اٹھا ہوا ہے

رہِ محبت میں کام آیا ہمارا یہ ذوق جبّہ سائی
نصیب بیدارؔ ہوگیا ہے اُسی آستاں پر جو سر جھکا ہے
بیدار شاہ وارثی
 

سیما علی

لائبریرین
آسمانوں پہ ستاروں کوسجاتا تو ہے
اور مہتاب کا فانوس جلاتا تو ہے
یہ تری شانِ کریمی ہے کہ ہر بندے پر
عقل و حکمت کے خزینوں کو لٹاتا تو ہے

محسن احسان
 

سیما علی

لائبریرین
گرم رت میں سحاب کی صورت
سایہ گستر رہا خیال ترا

زخم بڑھنے لگے جونہی حد سے
برسا مینہ بن کے اندر ملال ترا

ماہ و انجم سے ایک جگنو تک
رونق افروزہے جمال ترا

ہر مرض کا علاج تیرا غم
اچھا خوشیوں سے ہے ملال ترا

راسخ عرفانی
 

سیما علی

لائبریرین
جو تیری بندگی سے گریزاں ہے ائے اللہ
ڈوبا ہے درد میں وہی غم سے نڈھال

سورج میں مہتاب میں پھولوں میں ائے اللہ
تیری تجلیوں سے ہی حسن و جمال ہے

راہی کو مغفرت کی امیدیں تجھی سے ہیں
یارب تیرے حضور میں ادنی سوال ہے

----------
نظیر راہی
 

سیما علی

لائبریرین
کوئی تو ہے جو ہے سب سے اوّل، کوئی تو ہے جو ہے سب سے آخر
جو ابتدأ ہے جو انتہا ہے، وہی خدا ہے، وہی خدا ہے

مُصیبت و درد و رنج و غم میں، حیات کے سارے پیچ و خم میں
تُو جس کو راغب، پُکارتا ہے، وہی خدا ہے، وہی خدا ہے

افتخار راغب
 

سیما علی

لائبریرین
میں تیرا فقیر مَلنگ خدا
مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا

تُو دن میں ہے تُو رات میں ہے
ہر پھول میں ہے، ہر پات میں ہے
میری سوچ، میرے نغمات میں ہے
میری روح میں ہے، میری ذات میں ہے

تیرا نور، تیرا آہنگ خدا
مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا

تیری رحمت یوں اپنائے مجھے
آنکھوں پر وقت بٹھائے مجھے
تجھ بن اک سانس نہ آئے مجھے
شیطان اگر بہکائے مجھے

کروں اپنے آپ سے جنگ خدا
مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا

سینہ ہو میرا شیشے کی طرح
اور بینائی جھرنے کی طرح
آواز بھی ہو شعلے کی طرح
چمکوں میں سدا ہیرے کی طرح

مجھے لگنے نہ پائے زنگ خدا
مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا
میں تیرا فقیر مَلنگ خدا
مجھے اپنے رنگ میں رنگ خدا
کلام: مظفر وارثی
 

سیما علی

لائبریرین
ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
سورج کے اجالے سے، فضاؤں سے خلا سے
چاند اور ستاروں کی چمک اور ضیا سے
جنگل کی خموشی سے پہاڑوں کی انا سے
پرہول سمندر سے،پراسرار گھٹا سے
بجلی کے چمکنے سے کڑکنے کی صدا سے
مٹی کے خزانوں سے، اناجوں سے غذا سے
برسات سے طوفان سے پانی سے ہوا سے

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
عتیق جاذب
 

سیما علی

لائبریرین
ملاّاسد اللہ وجہیؔ کے حمدیہ اشعار
وجہیؔ کہتے ہیں:

توں اولؔ توں آخرؔ قادرا ہے

توں مالکؔ توں باطنؔ تو ظاہرؔاہے
توں محصی توں مہدیؔ توں واحدؔ سچا

توں توابؔ توں ربؔ تو ماجدؔ سچا
توں باقیؔ توں مقسمؔ توں ہادیؔ توں نورؔ

توں وارثؔ، توں منعمؔ توں برؔ تو صبورؔ
 

سیما علی

لائبریرین
چاہے وہ جس گدا کو سلیماں کی جاہ دے
ذرے کو آفتاب کے سر کی کلاہ دے
بے دست و پا کو گوشۂ راحت میں جاہ دے
جس کو کوئی پناہ نہ دے وہ پناہ دے
تبدیل عشرتوں سے وہ بندے کا غم کرے
جس پر کوئی کرم نہ کرے وہ کرم کرے
یا رب خلاق ماہ و ماہی تو ہے

بخشندہ تاج و تخت شاہی تو ہے
بے منت وبے سوال بے استحاق

دیتا ہے جو سب کو یاالہی تو ہے
مرزا سلامت علی دبیر
 

سیما علی

لائبریرین
مد و سپاس حصہ اس پاک ذات کا ہے
جو آسرا سہارا کل کائنات کا ہے
کن خوبیوں سے اس نے اس بزم کو سجایا
اور خلعت شرافت انسان کو پہنایا
اللہ رے اس کی قدرت اللہ رے بے نیازی
دی بعض کو بہ نسبت بعضوں کے سرفرازی
اسما عیل میرٹھی
 

سیما علی

لائبریرین
کثرت میں بھی وحدت کا تماشہ نظر آیا
جس رنگ میں دیکھا تجھے یکتا نظر آیا
میرے سوا زمان و مکاں ہوں اگر تو ہوں
تیرے سوا زمان و مکان بھی کہیں نہیں
جگر مراد آبادی
 

سیما علی

لائبریرین
لکھنے کا شوق جب کہ مجھے حمدِ حق ہوا
سینہ قلم کا رعبِ جلالت سے شق ہوا
نعتِ رسولِ پاکﷺ کا جس دم ہوا خیال
رنگِ عروسِ فکر خجالت سے فَق ہوا
سوئِ ادب کے خوف سے لرزہ تھاجسم میں
چہرہ وفورِ عجز سے غرقِ عَرَق ہوا
عہدہ برآ ہوا نہ کسی ایک سے بھی جب
میں کیا بتاؤں دل کو جو میرے قَلَق ہوا
ناگاہ برقؔ ہاتفِ غیبی نے دی ندا
اظہارِ عاجزی ترا مقبولِ حق ہوا
برق اعظمی
 

سیما علی

لائبریرین
تری حمد میں کیا کروں اے خدا!
مرا علم کیا ہے مری فکر کیا

میں ہوں بے خبر تو خبیر و علیم
میں حادث ہوں اور ذات تیری قدیم

مکاں ہے ترا لامکاں ہے ترا
زمیں ہے تری آسماں پر ہے ترا

تجھے سے صبا ہے تجھی سے سموم
زمیں پر ہیں گل آسماں نجوم

ضیائے رخِ زندگی تجھ سے ہے
جہاں بھی ہے رخشندگی تجھ سے ہے

تجھی سے ہے سنسار میں رنگ روپ
تجھی سے ہے سایہ تجھی سے ہے دھوپ

محیط دو عالم ہے قدرت تری
ہے کثرت کے پردے میں وحدت تری
احسان دانش

ترے زمزمے آبشاروں میں ہیں
تری عظمتیں کوہساروں میں ہیں
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
شاہوں کو سیم و زر کے جو انبار سے ملا
وہ لطف عاشقوں کو رُخ یار سے ملا

بالین یار پر وہ جلے شمع کی طرح
رشتہ ہو جس کے درد کا بیمار سے ملا

قدرت نہ دے جو حسن تو مشاطگی ہے عیب
ہم کو سبق یہ چہرۂ بدکار سے ملا

پروانے کو تو آگ سے حاصل ہوا وہی
بلبل کو جو مزا گل و گلزار سے ملا
 

سیما علی

لائبریرین
گلستاں، صحرا، صنم خانہ، کلیسا، کعبہ
ہر جگہ مجھ کو نظر ایک ہی جلوہ آیا
اب یہ انعام غمِ عشق ملا ہے بیداؔر
مرمٹے راہِ محبت میں تو جینا آیا
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
تیرے جلوے ہیں بکھرے ہوئے چارسو
جس طرف دیکھئے ہے ادھرتوہی تو

نغمہ زن کیوں نہ ہو بلبل خوش گلو
اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
ہیں تری صنعتیں اس قدر دلنشیں

محو حیرت ہیں سب آسمان و زمیں
علم بخشا ہے تونے جنھیں وہ حسیں
 
آخری تدوین:

سیما علی

لائبریرین
تیرے جلوے ہیں بکھرے ہوئے چارسو
جس طرف دیکھئے ہے ادھرتوہی تو

نغمہ زن کیوں نہ ہو بلبل خوش گلو
اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
ہیں تری صنعتیں اس قدر دلنشیں

محو حیرت ہیں سب آسمان و زمیں
علم بخشا ہے تونے جنھیں وہ حسیں
برق اعظمی
 
آخری تدوین:
Top