افغانستان:امریکی فوجی کا حملہ، سولہ شہری ہلاک

زین

لائبریرین
کیا یہ اس قسم کا پہلا واقعہ ہے ؟ اگر نہیں تو اس سے پہلے بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کے عسکری ذمہ داران کیخلاف کیا گیا ؟
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



ميں بے معنی ذاتی حملوں اور ايسے جملوں پر تبصرہ نہيں کروں گا جن کا زير بحث اصل ايشو سے کوئ واسطہ نہيں ہے۔ ليکن ميں اس منطق اور سوچ کو ضرور سمجھنا چاہوں گا جس کے تحت بعض تبصرہ نگاروں نے اس خبر کی بنياد پر امريکہ کو دنيا کی سب سے بڑی دہشت گرد قوم قرار ديا ہے جس ميں ايک امريکی فوجی کی جانب سے کيے گئے غلط کام کو تسليم کيا گيا ہے اور پھر اس کے قبيح جرم کی وجہ سے اس کو زير حراست رکھ کر تحقيق کی جا رہی ہے۔


يہ تاثر بالکل غلط ہے کہ اس طرح کے واقعات معمول کا حصہ ہيں اور اس ايشو کو صرف اس وجہ سے توجہ ملی کيونکہ ميڈيا کو اس واقعے کی بھنک پڑ گئ۔ اگر آپ ماضی کا جائزہ ليں تو ہمارے فوجی افسران نے ہميشہ ايسے اقدامات کی حقيقت کو کھلے دل سے تسليم کيا ہے جو ہماری قدروں اور مروجہ اصولوں کو پامال کرنے کرنے کا سبب بنے، چاہے اس کی ہميں کتنی ہی بڑی سياسی، فوجی يا سفارتی قيمت کيوں نہ چکانی پڑے۔ اس واقعے کے ضمن ميں بھی نا توحقا‍ئق کو پوشيدہ رکھنے کی کوشش نہيں کی گئ اور نا ہی جس فوجی پر مبينہ طور پر الزام لگا ہے، اسے بچانے کی کوئ کوشش کی گئ ہے۔


يہ دعوی کہ اعلی امريکی افسران ايسی خبروں کا نوٹس نہیں ليتے جن ميں عام شہريوں کے خلاف جنگی جرائم جيسےمبينہ الزامات منظر عام پر آتے ہیں، بالکل غلط ہے۔ بہت سے لوگ امريکی فوجيوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزيوں کے واقعات بلکہ افواہوں کو بھی بڑھا چڑھا کر بيان کرنے ميں کوئ تامل نہيں کرتے ليکن جان بوجھ کر اس بات کو نظر انداز کرتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کو نظرانداز کرنے يا ان پر پردہ ڈالنے کی بجائے امريکی حکومت ان پر سنجيدگی سے تحقيقات کرواتی ہے۔


ايک فرد کے ذاتی فعل اور صرف ايک واقعہ جسے اس کے اصل دائرہ کار اور اثر سے دانستہ بڑھا چڑھا کر پيش کيا جا رہا ہے، اس حقيقت کو رد نہيں کر سکتا کہ امريکی اور نيٹو افواج افغانستان ميں افغان شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ کرنے کے علاوہ انفرااسٹکچر کی تعمير، تعميری منصوبوں کے آغاز اور افغنستان کو عوام کو خودمختار کرنے ميں مصروف ہيں تا کہ وہ خود اپنے ملک کی باگ ڈور سنبھال سکيں۔ کيا آپ اس کا موازنہ ان دہشت گرد گروہوں کے طرز عمل سے لگا سکتے ہيں جو خوف اور افراتفری کے ذريعے اپنے اثر ورسوخ ميں اضافے اور اپنے مسخ شدہ نظريات کی بنياد پر لوگوں پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔


اگر فورمز پر کچھ رائے دہندگان اس بنیاد پر امريکہ کو دہشت گرد قرار دينے پر بضد ہیں کہ امريکہ نے اپنے ہی ايک فوجی کو غير قانونی رويے کی وجہ سے اس کے خلاف قانونی کاروائ کرنے کا فيصلہ کيا ہے تو پھر اس معيار اور تشريح کے تحت آپ ان پرتشدد دہشت گرہوں کو کيا کہيں گے جو نہ صرف يہ کہ بے گناہ شہريوں کو دانستہ قتل کرتے ہيں بلکہ ان کی تعداد کا حوالہ دے کر نہ صرف يہ کہ اپنی "کاميابی" کا تذکرہ کرتے ہيں بلکہ مستقبل ميں بھی ايسی ہی کاروائيوں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہيں؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



امريکی حکومت نے يہ تسليم کيا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے امريکی آرمی کا ريکارڈ مثالی نہيں ہے۔ ليکن يہ بھی حقيقت ہے کہ تاريخ انسانی کی ہر فوج ميں ايسے افراد موجود رہے ہيں جنھوں نے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی اور قانون توڑا۔ حاليہ واقعہ يقينی طور پر انتہائ افسوس ناک ہے ليکن ايسے اکا دکا واقعات کسی منظم سسٹم کے تحت نہيں رونما ہوئے ہيں اور يہ امريکی افواج کی اکثريت کے رويے کی نمايندگی نہيں کرتے جو بے شمار قواعد وضوابط کے پابند ہوتے ہیں۔

امريکی صدر سميت تمام سرکردہ عہديدران نے افغانستان ميں انسانی جان کے ضياع پر شديد رنج اور صدمے کا اظہار کيا ہے۔ جو فرد اس حملے کا ذمہ دار ہے اس نے امريکی مشن کی کسی بھی طريقے سے کوئ خدمت نہيں کی اور اسے يقینی طور پر اپنے کيے کی سزا ملے گي۔

کچھ رائے دہندگان نے اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے جذبات بيان کيے ہيں کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو دوبارہ امريکی معاشرے ميں بغير کسی سزا کے شامل کر ليا جائے گا اور اس ضمن ميں يہ تاويل دی جا رہی ہے کہ امريکی فوج کبھی بھی اپنے فوجيوں کا احتساب نہيں کرتی۔

يہ سراسر غلط ہے۔ تاريخی اعداد وشمار اور حقائق يہ واضح کرتے ہيں کہ امريکی فوج ميں قبيح جرائم ميں ملوث افراد پر فرد جرم بھی عائد کی گئ ہے اور سزا کی صورت ميں انھيں جيل کا سامنا بھی کرنا پڑا اور بعض کيسز ميں انھيں سزائے موت بھی دی گئ۔

حاليہ مثالوں ميں ايک واقعہ سال 2006 ميں عراق کا ہے جہاں کچھ فوجيوں کو قتل اور آبروريزی کے مقدمات ميں قيد کی سزا سنائ گئ۔ سال 2008 ميں امريکی صدر بش نے ايک امريکی فوجی پرائيوٹ رونالڈ گرے کی سزائے موت کی منظوری دی تھی جسے 1988 ميں ايک سے زائد قتل اور آبروريزی کے مقدمے ميں سزا دی گئ تھی۔ اس ضمن ميں سزائے موت کی تاريخ کا فيصلہ کر لیا گيا ہے۔ اس وقت يہ مقدمہ اپيل کے مرحلے ميں ہے۔ سال 2010 ميں 3 افغان شہريوں کے قتل ميں ملوث 2 امريکی فوجيوں ميں سے ايک کو عمر قيد اور دوسرے کو 24 سال قید کی سزا سنائ جا چکی ہے۔

امريکی فوج ميں شامل فوجی کو آرٹيکل 32 کے تحت يہ حق حاصل ہوتا ہے کہ کسی سنگين جرم ميں فرد جرم عائد کرنے يا کورث مارشل کرنے سے پہلے اسے شنوائ کا موقع ديا جائے۔ کسی بھی "گرينڈ جيوری" کی کاروائ کی طرح اس قسم کی شنوائ کھلی عدالت ميں کی جاتی ہے جس ميں دونوں فريقين کے وکلاء موجود ہوتے ہيں۔

يہ ايک مسلم حقيقت ہے کہ امريکہ عام شہريوں پر حملوں کی روک تھام اور بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کے واقعات ميں کمی کے ليے کوشاں ہے ليکن اس کے مقابلے ميں جس دشمن کا ہميں سامنا ہے اس کی تو تمام تر حکمت عملی کا محور ہی يہ ہے کہ دانستہ زيادہ سے زيادہ بے گناہ شہريوں کو ہلاک کيا جائے۔ وہ امريکی فوجی جو دانستہ شہريوں پر حملے کے واقعات ميں ملوث پائے گئے انھيں ماضی ميں بھی جيلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسی اصول کا اطلاق حاليہ واقعے کے ضمن ميں بھی ہو گا۔

آپ دنيا کے کتنے ممالک کے بارے ميں يہ دعوی کر سکتے ہيں کہ جہاں حکومت کی جانب سے فوجيوں کے کردار اور ان کے اعمال کا اس طرح احتساب کيا جاتا ہے؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
 

عسکری

معطل
اور وہ فوجی کویت پہنچ چکا ہے جہاں سے جلد امریکہ میں پہنچا دیا جائے گا اور یہ ہوا انصاف :ROFLMAO: اور کوئی خدمت ہو تو بتائیں؟:applause:

اصل میں امریکی فوجی یا کسی بھی امریکی کا امریکہ سے باہر جتنا بھی قتل و غارت کرے کوئی جرم بنتا ہی نہیں یار ۔ کیونکہ امریکیوں کے علاوہ سب کیڑے مکوڑے ہیں ان کے لیے ۔ آپ لوگ بے فکر ہو جاؤ انصاف ہو گا بالکل ہو گا جیسے ریمونڈ ڈیوس کو سزا دی گئی امریکہ لے جا کر بالکل ویسا انصاف :laugh:
 

عسکری

معطل
امریکی فوجی بیمار ہے: وکیل کا مؤقف



آخری وقت اشاعت: جمع۔ء 16 مارچ 2012 ,‭ 08:21 GMT 13:21 PST
120316063407__59108944_59108935.jpg

قندھار میں سولہ شہریوں کے قتل میں ملوث امریکی فوجی کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں دو بار زخمی ہو چکے تھے اور وہ اپنی صحت کے بارے میں کافی پریشان تھے۔
جان ہنری براؤن کا کہنا تھا کہ یہ فوجی تین بار عراق میں فوجی دورے مکمل کر چکے تھے اور وہ افغانستان تعیناتی کے لیے جسمانی طور پر موزوں نہیں تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس فوجی نے اس واقعے سے چند روز پہلے ہی اپنے ایک ساتھی کو شدید زخمی ہوتے دیکھا تھا۔
اتوار کے روز ہونے والے اس واقعے نے افغان امریکی تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے۔ طالبان نے ان ہلاکتوں کے پس منظر میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات منقطع کر دیے ہیں۔
تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے امن مذاکرات منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود وہ افغانستان میں مفاہمت کے عمل کے لیے پرعزم ہے۔
ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے نیٹو کر سربراہی والی سکیورٹی فورسز سے کہا کہ وہ افغانستان کے دیہات اور دیگر دیہی علاقوں سے نکل جائیں اور ملکی سکیورٹی کی ذمہ داری افغان فوجی سنبھالنے دیں تاکہ شہریوں کی ہلاکتوں پر قابو پایا جاسکے۔
سیئٹل میں بات کرتے ہوئے جان ہنری کا کہنا تھا کہ وہ فوجی ایک انتہائی ’مدھم مزاج‘ انسان ہیں اور ان کے دل میں مسلمانوں کے لیے کوئی نفرت نہیں۔
انہوں نے ان باتوں کی بھی تردید کی کہ اس فوجی کو شراب نوشی یا اپنی شادی کے حوالے سے مسائل کا سامنا تھا۔
امریکی فوجی حکام نے اس فوجی کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔
اس سے پہلے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ اتوار کو افغان شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ افسوسناک ہے تاہم یہ امریکی فوجی کا انفرادی فعل تھا۔
امریکی حکام نے اس سے پہلے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کے فوجی جو بھی غلطیاں کریں گے اس کے خلاف کارروائی امریکی فوجی قانونی نظام کے تحت ہوگی۔
اس فوجی پر ابھی تک باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد نہیں کیا گیا۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/03/120316_us_soldier_lawyer_sa.shtml

ان کی بیماریوں کا علاج یہی ہے کہ جب بیمار ہوئے 10-20 بندے مار ڈالے یہ کیسی بیماری ہے جو امریکیوں کو لگی ہے ؟
 

ساجد

محفلین
ان کو کاٹنے کی بیماری ہے ;) ۔ اور پھر پیشاب کرتے ہوئے بھی تو نہیں دیکھتے کہ کہاں کر رہے ہیں۔ یہ بھی اسی بیماری کا اثر ہے۔ قرآن کی بے حرمتی کرتے ہوئے بھی ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ مقدس کتاب ہے۔ الغرض اس قدر" شدید بیمار" ہیں کہ خدا کی پناہ۔
اللہ ، ان کو ہدایت دے۔
 

شمشاد

لائبریرین
آپ کے صدر کا بیان آ گیا اور بے غیرت حکومتی عہدیداروں نے تالیاں بجا دیں اور بس۔

ان کا کیا ہو گا جو اپنی جان سے گئے اور ان کا کیا ہو گا جو یتیم ہو گئے، جو بیوہ ہو گئیں، جن کی گود اُجڑ گئی؟

کیا ان سب کے لیے آپ کے صدر کا بیان کافی ہے؟
 

Fawad -

محفلین
امریکی فوجی بیمار ہے: وکیل کا مؤقف
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

يہ انتہائ ناانصافی ہے کہ کسی بھی خبر کے ايک پہلو کو تو واضح طور پر بيان کر کے اس کی اہميت کو اجاگر کيا جائے ليکن اس کے برعکس صدر اوبامہ سميت تمام اہم امريکی عہديداروں کی جانب سے اظہار کردہ اس شديد احساس رنج اور غم کو يکسر نظرانداز کر ديا جائے۔ اس ضمن ميں متوازن رائے قائم کرنے کے ليے ضروری ہے کہ امريکی حکومت کے سرکاری نقطہ نظر کو بھی ملحوظ رکھا جائے جس سے پڑھنے والے ايک غير جانب دار نقطہ نظر اور سوچ بنا سکيں۔ اگر آپ صرف ايک وکيل کے اپنے موکل کے ليے بيان کردہ نقطہ نظر پر مبنی اخباری خبر کو پيش کريں گے تو ظاہر ہے کہ پڑھنے والے اسی حوالے سے اپنا ردعمل اور نقطہ نظر پيش کريں گے۔ مذکورہ وکيل نہ تو امريکی حکومت کی نمايندگی کرتے ہيں اور نہ ہی اس واقعے کے حوالے سے امريکی نقطہ نظر کو پيش کر رہے ہيں۔

فورمز پر ايک سوچ جس کا اکثر اظہار کيا جاتا ہے وہ يہ تاثر ہے کہ جب کوئ مسلمان يا پاکستانی کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے يا اشتعال انگيز رويہ اختيار کرتا ہے تو مغرب عمومی طور پر اور امريکہ خاص طور پر اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پوری کميونٹی پر تنقيد کرتے ہيں اور سب کو ایک ہی زاويے سے ديکھتے ہیں۔

کيا اس ايشو کے حوالے سے صرف ايک وکيل کے نقطہ نظر کو پيش کر کے اور امريکہ کے اندر باقی تمام رائے دہندگان کے بيانات کو نظرانداز کر کے آپ بھی وہی نہیں کر رہے؟

ايک غير جانب دار تجزيے اور متوازن رائے کے ليے اس واقعے کے حوالے سے امريکی صدر کا بيان اسی فورم پر پوسٹ کيا جا چکا ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


www.state.gov

http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall



 

عسکری

معطل
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

يہ انتہائ ناانصافی ہے کہ کسی بھی خبر کے ايک پہلو کو تو واضح طور پر بيان کر کے اس کی اہميت کو اجاگر کيا جائے ليکن اس کے برعکس صدر اوبامہ سميت تمام اہم امريکی عہديداروں کی جانب سے اظہار کردہ اس شديد احساس رنج اور غم کو يکسر نظرانداز کر ديا جائے۔ اس ضمن ميں متوازن رائے قائم کرنے کے ليے ضروری ہے کہ امريکی حکومت کے سرکاری نقطہ نظر کو بھی ملحوظ رکھا جائے جس سے پڑھنے والے ايک غير جانب دار نقطہ نظر اور سوچ بنا سکيں۔ اگر آپ صرف ايک وکيل کے اپنے موکل کے ليے بيان کردہ نقطہ نظر پر مبنی اخباری خبر کو پيش کريں گے تو ظاہر ہے کہ پڑھنے والے اسی حوالے سے اپنا ردعمل اور نقطہ نظر پيش کريں گے۔ مذکورہ وکيل نہ تو امريکی حکومت کی نمايندگی کرتے ہيں اور نہ ہی اس واقعے کے حوالے سے امريکی نقطہ نظر کو پيش کر رہے ہيں۔

فورمز پر ايک سوچ جس کا اکثر اظہار کيا جاتا ہے وہ يہ تاثر ہے کہ جب کوئ مسلمان يا پاکستانی کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے يا اشتعال انگيز رويہ اختيار کرتا ہے تو مغرب عمومی طور پر اور امريکہ خاص طور پر اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پوری کميونٹی پر تنقيد کرتے ہيں اور سب کو ایک ہی زاويے سے ديکھتے ہیں۔

کيا اس ايشو کے حوالے سے صرف ايک وکيل کے نقطہ نظر کو پيش کر کے اور امريکہ کے اندر باقی تمام رائے دہندگان کے بيانات کو نظرانداز کر کے آپ بھی وہی نہیں کر رہے؟

ايک غير جانب دار تجزيے اور متوازن رائے کے ليے اس واقعے کے حوالے سے امريکی صدر کا بيان اسی فورم پر پوسٹ کيا جا چکا ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


www.state.gov

http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
صدر اوبامہ ؟ میری ۔۔۔۔۔ ۔ اس کی بکواس سے سے ان ہزاروں کو واپس لایا جا سکتا ہے؟جو امریکہ کی وحشی فوجوں نے مار ڈالے ہیں ؟ امریکی صدر ہو یا امریکی عہدیداران میرے لیے ان کی ویلیو کسی گلی کے شرابی کی بکواس سے بھی کم ہے ۔ اپنے صدر اور اس کے چمچوں کی بک بک تمھارے لیئے دنیا کا خزانہ ہو گی ہمارے لیے کچھ بھی نہیں امریکی دہشت گرد فوجیں جو کچھ دنیا میں کر رہی ہیں اس کا بدلہ چکایا جائے گا ایک دن اور اب بھی چکانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
 

ساجد

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

يہ انتہائ ناانصافی ہے کہ کسی بھی خبر کے ايک پہلو کو تو واضح طور پر بيان کر کے اس کی اہميت کو اجاگر کيا جائے ليکن اس کے برعکس صدر اوبامہ سميت تمام اہم امريکی عہديداروں کی جانب سے اظہار کردہ اس شديد احساس رنج اور غم کو يکسر نظرانداز کر ديا جائے۔ اس ضمن ميں متوازن رائے قائم کرنے کے ليے ضروری ہے کہ امريکی حکومت کے سرکاری نقطہ نظر کو بھی ملحوظ رکھا جائے جس سے پڑھنے والے ايک غير جانب دار نقطہ نظر اور سوچ بنا سکيں۔ اگر آپ صرف ايک وکيل کے اپنے موکل کے ليے بيان کردہ نقطہ نظر پر مبنی اخباری خبر کو پيش کريں گے تو ظاہر ہے کہ پڑھنے والے اسی حوالے سے اپنا ردعمل اور نقطہ نظر پيش کريں گے۔ مذکورہ وکيل نہ تو امريکی حکومت کی نمايندگی کرتے ہيں اور نہ ہی اس واقعے کے حوالے سے امريکی نقطہ نظر کو پيش کر رہے ہيں۔

فورمز پر ايک سوچ جس کا اکثر اظہار کيا جاتا ہے وہ يہ تاثر ہے کہ جب کوئ مسلمان يا پاکستانی کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے يا اشتعال انگيز رويہ اختيار کرتا ہے تو مغرب عمومی طور پر اور امريکہ خاص طور پر اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پوری کميونٹی پر تنقيد کرتے ہيں اور سب کو ایک ہی زاويے سے ديکھتے ہیں۔

کيا اس ايشو کے حوالے سے صرف ايک وکيل کے نقطہ نظر کو پيش کر کے اور امريکہ کے اندر باقی تمام رائے دہندگان کے بيانات کو نظرانداز کر کے آپ بھی وہی نہیں کر رہے؟

ايک غير جانب دار تجزيے اور متوازن رائے کے ليے اس واقعے کے حوالے سے امريکی صدر کا بيان اسی فورم پر پوسٹ کيا جا چکا ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


www.state.gov

http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
محفل کا کوئی ایک رکن درج بالا مراسلہ سے کچھ کام کی بات اخذ کر سکتا ہے تو ہمیں بھی مطلع فرما دے۔
 

ساجد

محفلین
صدر اوبامہ ؟ میری جوتی ۔ اس کی بکواس سے سے ان ہزاروں کو واپس لایا جا سکتا ہے؟جو امریکہ کی وحشی فوجوں نے مار ڈالے ہیں ؟ امریکی صدر ہو یا امریکی عہدیداران میرے لیے ان کی ویلیو کسی گلی کے شرابی کی بکواس سے بھی کم ہے ۔ اپنے صدر اور اس کے چمچوں کی بک بک تمھارے لیئے دنیا کا خزانہ ہو گی ہمارے لیے کچھ بھی نہیں امریکی دہشت گرد فوجیں جو کچھ دنیا میں کر رہی ہیں اس کا بدلہ چکایا جائے گا ایک دن اور اب بھی چکانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
فواد صاحب ، یہ ، عمران بھائی ، طالبان کیا خدا سے بھی رابطے میں نہیں ہیں لیکن پھر بھی آپ کے ظلم پر آواز اٹھاتے ہیں۔ کیا یہ ثبوت کافی نہیں کہ آپ کی حکومت اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو طالبان کی حمایت پر محمول کر کے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ دنیا کا ہر انصاف پسند انسان آپ کی افواج کے ظلم و خونریزی کی مخالفت کر رہا ہے۔
 

زیک

مسافر
کیا یہ اس قسم کا پہلا واقعہ ہے ؟ اگر نہیں تو اس سے پہلے بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کے عسکری ذمہ داران کیخلاف کیا گیا ؟
یہ مسئلہ امریکہ کا ہی نہیں بلکہ ہر فوج کا ہے۔ کیا آپ کوئ ایسی فوج اور حکومت کو جانتے ہیں جس نے حالت جنگ یا خانہ جنگی میں اپنے فوجی کو دشمن سویلین مارنے پر قرار واقعی سزا دی ہو؟
 

ساجد

محفلین
امریکہ پر نہ تو جنگ مسلط کی گئی ہے اور نہ وہ خانہ جنگی کا شکار ہے۔ یہ مسئلہ ہے دنیا میں دادا گیری کرنے کا اس لئے ان کی قتل و غارت کو معروف جنگی قوانین و تاریخ کے تناظر میں نہیں دیکھ سکتے ۔ ہاں البتہ اس پر الگ سے تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔
 

Ukashah

محفلین
بن لادن نے ستمبر 11 کا حملہ کر کے اور طالبان نے اسے پناہ دے کر یہ جنگ شروع کی تھی۔ لہذا یہ کہنا غلط ہے۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب امریکہ کو افغانستان سے چلے جانا چاہیئے۔
اگر کوئی حملہ کرے تو اس کے بدلے میں حملہ کرکے ہزاروں لوگوں کو مار دینا چاہے ۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر طالبان اور بن لادن کو دوبارہ امریکہ پر اٹیک کرنا چاہے ۔ کیونکہ یہ سبق بھی تو امریکہ نے دیا ہے کہ جو تین ہزار مارے اس پر حملہ کرکے دس ہزار مارو۔
 

زیک

مسافر
اگر کوئی حملہ کرے تو اس کے بدلے میں حملہ کرکے ہزاروں لوگوں کو مار دینا چاہے ۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر طالبان اور بن لادن کو دوبارہ امریکہ پر اٹیک کرنا چاہے ۔ کیونکہ یہ سبق بھی تو امریکہ نے دیا ہے کہ جو تین ہزار مارے اس پر حملہ کرکے دس ہزار مارو۔
جنگ اور جہاد میں ایسا تو ہوتا ہی ہے
 

حماد

محفلین
اگر کوئی حملہ کرے تو اس کے بدلے میں حملہ کرکے ہزاروں لوگوں کو مار دینا چاہے ۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر طالبان اور بن لادن کو دوبارہ امریکہ پر اٹیک کرنا چاہے ۔ کیونکہ یہ سبق بھی تو امریکہ نے دیا ہے کہ جو تین ہزار مارے اس پر حملہ کرکے دس ہزار مارو۔
جنگ اور جہاد میں ایسا تو ہوتا ہی ہے

جی ہاں، مسلمان فاتحین کی تاریخ اٹھا کر پڑھ لیجئے۔

محمد بن قاسم کو یہ حق کس نے دیا تھا کہ وہ سندھ پر حملہ کر کے یہاں ہزاروں لوگوں کی جان لیکر اپنی حکومت قائم کر لے۔ اور یہ بات تاریخی طور پر ثابت بھی ہے کہ زرخیز اور دولت مند سندھ پر عربوں کی للچائ نظریں بہت پہلے سے تھیں لیکن اس سے قبل وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہو سکے تھے۔ محمد بن قاسم نے کسی "بہن" کو بچانے کیلئے نہیں بلکہ مال و دولت لوٹنے اور ایک آزاد ریاست پر قبضہ کرنے کی نیت سے حملہ کیا تھا۔

محمود غزنوی نے ہندوستان کے سکھ چین سے بسنے والی عوام پر سترہ حملے کیوں کئے؟ اور لاکھوں بے گناہ انسانوں کے قتل سے اپنے ہاتھ کیوں رنگے۔؟ اسے یہ حق کس نے دیا کہ وہ ایک دوسرے ملک جا کر وہاں کے بسنے والی معصوم و بے گناہ لوگوں کی عبادت گاہوں کو ڈھا دے اور تمام دولت لوٹ کر چلتا بنے اور جتنا ممکن ہو سکے علاقے پر قبضہ بھی کر لے اور یہاں ہزاروں سالوں سے بسنے والی غریب معصوم عوام سے "خراج" کے نام پر لوٹ کھسوٹ کر کے انکا استحصال کرے؟
امیر تیمور کی سوانح عمری پڑھ لیجئے ۔ اسکی ساری عمر جارحیت، جنگ و جدل ، قتل و غارت گری اور دولت کی لوٹ کھسوٹ میں گزر گئ ۔ وہ اپنے آپ کو سب سے بہترین مسلمان سمجھتا تھا اور کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کر کے سمجھتا تھا کہ وہ اسلام کی خدمت کر رہا ہے۔

غرض کسی بھی مسلمان فاتح کی تاریخ پڑھ لیجئے اور ایمانداری سے تجزیہ کیجیے تو امریکہ بہادر آپ کو مقابلتاً ایک بہت ذمہ دار اور مہذب ملک کے روپ میں نظر آنے لگے گا۔

مشہور پاکستانی مورخ ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب "گمشدہ تاریخ" میں رقمطراز ہیں۔
"
" اس مرحلہ پر ہمیں یہ تجزیہ کر لینا چاہئے کہ جب بھی غیر ملکی حملہ آور ، کسی ملک پر حملہ کرتے ہیں، اس پر قبضہ کرتے ہیں، تو اس کے نتیجہ میں نہ صرف اس ملک کا سیاسی، سماجی اور معاشی نظام ٹوٹتا ہے اور معاشرہ انتشار ، بے چینی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے، بلکہ اسکے ذرائع کو یہ حملہ آور غصب کر لیتے ہیں اور ملک کو مفلس اور کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ اب اگر ہم اپنے مسلمان حملہ آوروں انکے جنگی جرائم اور اور لوٹ مار کو معاف کر دیں ، انکے قتل عام کو نظر انداز کر دیں تو اس صورت میں ہم کبھی بھی حقیقی تاریخی شعور پیدا نہیں کر سکیں گے اور تاریخ سے کوئ سبق سیکھنے کے قابل نہیں ہونگے۔" (صفحہ 102، سن اشاعت 2005، فکشن ہاؤس، لاہور)

(وقت ملا تو مسلمان فاتحین کی قتل و غارتگری اور لوٹ مار کے بارے میں مستند تاریخی حوالوں کے ساتھ تفصیل سے پھر کبھی لکھوں گا)
 
Top