اشعار جو اپنے خالق کو پیچھے چھوڑ گئے

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ میرؔ نے دو علیحدہ علیحدہ ایسے مصرعے (یعنی دو ادھورے اشعار) بھی کہے ہیں کہ پھر انھیں شعر کی صورت پورا نہیں کیا کہ اول مصرعہ ہی پورا مفہوم اور شاعر کا پورا درد بیان کر رہا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں :

پہلا ادھورا شعر:
’’ اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے ‘‘
‘‘
یہ مصرع میر کا نہیں بلکہ سودا کا ہے۔ دو شعر سنیے۔
اب کے بھی دن بہار کے یونہی چلے گئے
پھرِ پھرِ گُل آ چکے پہ سجن تم چلے گئے
پُوچھے ہے پھول و پھل کی خبر اب تو عندلیب
ٹوٹے جھڑے خزاں ہوئی، پھولے پھلے گئے​

حوالہ : ڈاکتر یوسف حُسین خاں کی کتاب ' اُردو غزل صفحہ نمبر 459
ًمصنف کے برادران : ڈاکتر ذاکر حسین سابق صدر ہندوستان
ڈاکتر عابد حسین ہندوستان کے مشہور عالم
ڈاکتر محمود حسین سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی
 
ایک اور....
پھر وہی دل تھا، وہی ماتم، وہی درد و قلق
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

یہ شعر قلق میرٹھی کا ہے
میں نے یہ شعر کسی زمانے میں یوں پڑھا تھا:

وائے نادانی کہ وقتِ مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

واللہ اعلم بالصواب
ریکارڈ کی درستی کے لئے عرض ہے کہ فاتح صاحب کی بات درست ہے اصل شعر اسی طرح ہے اور یہ شعر خواجہ میر درد کا ہے جبکہ قلق صاحب نے شاید اس شعر کا دوسرا مصرع استعمال کیا ہے۔ میر درد قلق سے بہت پہلے گزرے ہیں۔
 
وہ آئے ہمارے گھر میں خدا کی قدرت
کبھی ہم انکوکبھی اپنے گھرکودیکھتے ہیں

مرزا اسداللہ خان غالب
اگر اجازت ہوتو ذرا سی تصحیح کر دوں۔
وہ آیئں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں​
 
تاروں کا گو شمار میں آنا محال ہے
لیکن کسی کو نیند نہ آئے تو کیا کرے

افسر میرٹھی

افسر میرٹھی کا یہ شعر تو بہت مشہور ہے لیکن میرا خیال ہے کہ عام عوام ان کے نام سے کچھ زیادہ واقف نہیں۔ سو اس دھاگے کی مطابقت سے یہ شعر شامل کر رہا ہوں۔
افسر میرٹھی کو اس نام سے کم لوگ جانتے ہیں جبکہ حامد اللہ افسر کے نام سے ان کو کافی لوگ جانتے ہوں گے کیونکہ انہوں نے بچوں کے لیے بے شمار نظمیں لکھی ہیں جن میں سے بعض ہم نے اسکول کی کتابوں میں پڑھی ہیں جن میں ان کا نام یہی یعنی حامد اللہ افسرشایع ہوتا تھا۔۔ میرے خیال میں مشہور نظم
خضر کا کام کروں راہ نما بن جاوں​
بھی انہیں کی نظم ہے۔ ایک نظم ماہنامہ کھلونا دہلی کی مجھے یاد آئی جس کا نام تھا " چاندنی کی چوری "۔ ان کا پورا نام تھا " حامد اللہ افسرمیرٹھی "۔
 

نظام الدین

محفلین
کچھ اشعار کا ذکر محفل میں اس تانے بانے میں ہوا تھا جہاں ضرب الامثال بنے اشعار کا ذکر کیا جا رہا تھا.
یہاں میرا ارادہ ایسے اشعار جمع کرنے کا ہے جن کے شعراء کا علم نہیں ہے یا کم از کم عام نہیں ہے.
کچھ اشعار کا ذکر محفل میں اس تانے بانے میں ہوا تھا جہاں ضرب الامثال بنے اشعار کا ذکر کیا جا رہا تھا.
یہاں میرا ارادہ ایسے اشعار جمع کرنے کا ہے جن کے شعراء کا علم نہیں ہے یا کم از کم عام نہیں ہے.
بہت خوب ۔۔۔۔ زبردست جناب۔۔۔ جزاک اللہ
 

گل زیب انجم

محفلین
بہت شکریہ جناب۔۔

ایک شعر

وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

مذکورہ بالا شعر مہاراجہ برق لکھنوی ثم رامپوری کا ہے
مرحوم ذیڈ اے بخاری صاحب نے ریڈیو پاکستان میں غلطی
سے میر کر کے پڑھ دیا تھا ۔۔ آج تک یہی رائج ہے۔
یہ شعر میں نے کچھ یوں سنا تھا ...
پھر چراغوں سے لو جاتی رہی.
 

فہد اشرف

محفلین
اسی طرح پہلے بھی کہیں لکھا تھا کہ بشیر بدر کی اپنی شہرت سے پہلے ان کا 1956 کا یہ شعر مشہور ہو چکا تھا اور اکثر کو علم نہ تھا کہ یہ ان کا ہے:
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے.[/QUOTE]
بدر صاحب کے اس شعر کو بہت سے لوگ کسی عرشی رامپوری صاحب کے شعر
”کفن دابے بغل میں اس لئے نکلا ہوں اے عرشی
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے“
حوالہ نہیں بتاتے نہ ہی پوری غزل
 

فہد اشرف

محفلین
یہ کنارہ چلا کہ ناؤ چلی
کہئے کیا درمیان میں آئی
شاید احباب کو یاد ہو کہ اس شعر کے پہلے مصرعے کو یوسفی نے کسی حصے کا عنوان بنایا تھا.
یہ شعر
یاس یگانہ چنگیزی کا ہے.
اسی طرح پہلے بھی کہیں لکھا تھا کہ بشیر بدر کی اپنی شہرت سے پہلے ان کا 1956 کا یہ شعر مشہور ہو چکا تھا اور اکثر کو علم نہ تھا کہ یہ ان کا ہے:
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے.
بدر صاحب کے اس شعر کو بہت سے لوگ کسی عرشی رامپوری صاحب کے شعر
”کفن دابے بغل میں اس لئے نکلا ہوں اے عرشی
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے“
کا سرقہ بتاتے ہیں، حوالہ نہیں بتاتے نہ ہی پوری غزل
 

الف عین

لائبریرین
امتیاز علی عرشی رامپوری بطور شاعر مشہور نہیں۔ لیکن بشیر بدر کی اس غزل کا دوران تخلیق میں ’گوش شنید‘ گواہ ہوں۔
 

اے خان

محفلین
نہیں نہیں نہ کرو یہ وقت نہیں نہیں کا نہیں
کردیا تیرے نہیں نہیں نے ہمیں کہیں کا نہیں

اس شعر کے شاعر کا نام کیا ہے؟
 

بابرنثار

محفلین
نہیں نہیں نہ کرو یہ وقت نہیں نہیں کا نہیں
کردیا تیرے نہیں نہیں نے ہمیں کہیں کا نہیں

اس شعر کے شاعر کا نام کیا ہے؟
میں نے یہ شعر یوں سنا تھا
نہ کر نہیں نہیں یہ وقت نہیں نہیں کا
تری نہیں نہیں نے مجھے چھوڑا نہیں کہیں کا
 
Top