مصطفیٰ زیدی اس قدر اَب غم ِ دَوراں کی فراوانی ہے

غزل جی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 20, 2013

  1. غزل جی

    غزل جی محفلین

    مراسلے:
    234
    اس قدر اَب غم ِ دَوراں کی فراوانی ہے
    تُو بھی مِنجُملہ ء اسباب ِ پریشانی ہے

    مُجھ کو اِس شہر سے کُچھ دُور ٹھر جانے دو
    میرے ہمراہ مِری بےسروسامانی ہے

    آنکھ جُھک جاتی ہے جب بند ِ قبا کُھلتے ہیں
    تُجھ میں اُٹھتے ہُوئے خُورشید کی عُریانی ہے

    اِک تِرا لمحہ ء اقرار نہیں مر سکتا
    اَور ہر لمحہ زمانے کی طرح فانی ہے

    کُوچہ ء دوست سے آگے ہے بہت دشت ِ جنُوں
    عِشق والوں نے ابھی خاک کہاں چھانی ہے

    اِس طرح ہوش گنوانا بھی کوئی بات نہیں
    اَور یُوں ہوش سے رہنے میں بھی نادانی ہے

    مصطفیٰ زیدی

    ( قبائے سَاز )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    خوبصورت غزل شیئر کرنے کے لیئے بہت شکریہ۔۔خوش رہیئے۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. غزل جی

    غزل جی محفلین

    مراسلے:
    234
    انتخاب پسند فرمانے کا بہت شکریہ کاشفی صاحب ! آپ بھی خوش رہیے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,725
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اس قدر اب غمِ دَوراں کی فراوانی ہے
    تُو بھی مِنجُملۂ اسبابِ پریشانی ہے

    مُجھ کو اِس شہر سے کُچھ دُور ٹھہر جانے دو
    میرے ہمراہ مِری بےسروسامانی ہے

    آنکھ جُھک جاتی ہے جب بندِ قبا کُھلتے ہیں
    تُجھ میں اُٹھتے ہُوئے خُورشید کی عُریانی ہے

    اِک تِرا لمحۂ اقرار نہیں مر سکتا
    اَور ہر لمحہ زمانے کی طرح فانی ہے

    کُوچۂ دوست سے آگے ہے بہت دشتِ جنُوں
    عِشق والوں نے ابھی خاک کہاں چھانی ہے

    اِس طرح ہوش گنوانا بھی کوئی بات نہیں
    اَور یُوں ہوش سے رہنے میں بھی نادانی ہے

    مصطفیٰ زیدی
    ( قبائے سَاز )
     

اس صفحے کی تشہیر