اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75ویں جشن آزادی کی مناسبت سے 75 روپے کا یادگاری نوٹ جاری کردیا ہے

سیما علی

لائبریرین

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75ویں جشن آزادی کی مناسبت سے 75 روپے کا یادگاری نوٹ جاری کردیا ہے۔​

کرنسی نوٹ 30 ستمبر 2022 سے عوام کے لیے دستیاب ہوگا
141358582ef360f.jpg

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75ویں جشن آزادی کی مناسبت سے 75 روپے کا یادگاری نوٹ جاری کردیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کی آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر یادگاری نوٹ جاری کیا جارہا ہے۔ نوٹ کی مالیت آزادی کے سال کی مناسبت سے 75 روپے ہے۔
یادگاری نوٹ کے اگلے حصے پر قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، سر سید احمد خان اور فاطمہ جناح کی تصاویر ہیں۔

مرکزی بینک کے مطابق بینک نوٹ کے سامنے کی جانب ایسی شخصیات کا انتخاب کیا گیا، جنہوں نے جدوجہد آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس مقصد کے لیے قائد اعظم محمد علی جناح، سرسید احمد خان، علامہ محمد اقبال اور محترمہ فاطمہ جناح کی تصاویر منتخب کی گئیں تاکہ یہ شخصیات بانیان پاکستان کی جدوجہد کی نمائندگی کریں۔۔۔
نوٹ کی پشت پر نوٹ کے دوسری جانب مارخور کی تصویر ماحولیاتی پائیداری پر ہماری توجہ کی عکاس ہے۔
75 روپے کا یادگاری نوٹ 30 ستمبر 2022 سے عوام کے لیے دستیاب ہوگا۔
 

زیک

تقریباً غائب
بہترین! 25 سال قبل کی بات ہے یہ پچھتر روپے 2 ڈالر سے کچھ کم مالیت کے تھے۔ اب یہ تہائی ڈالر کے برابر ہیں۔ تمام پاکستانیوں کو مبارک ہو کہ اس نئے نوٹ سے شاید ایک ٹافی خریدی جا سکتی ہو
 

علی وقار

محفلین
بہترین! 25 سال قبل کی بات ہے یہ پچھتر روپے 2 ڈالر سے کچھ کم مالیت کے تھے۔ اب یہ تہائی ڈالر کے برابر ہیں۔ تمام پاکستانیوں کو مبارک ہو کہ اس نئے نوٹ سے شاید ایک ٹافی خریدی جا سکتی ہو
ایسے بھی برے حالات نہیں۔ Lays Wavy کا ایک پیک آ جاتا ہے، وہ بھی بیاسی گرام کا۔

grocerapp-lays-wavy-bbq-rs-75-6257c31512d0c.jpeg
 

سیما علی

لائبریرین
ایسے بھی برے حالات نہیں۔ Lays Wavy کا ایک پیک آ جاتا ہے، وہ بھی بیاسی گرام کا۔

grocerapp-lays-wavy-bbq-rs-75-6257c31512d0c.jpeg
افسوس تو یہ ہے کہ ڈالر کی بات تو بھول ہی جائیں ؀
پاکستانی روپے کی قدر گر کر یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک بنگالی ٹکہ پورے بھار کے ساتھ پاکستانی 2.40(دو روپے چالیس پیسے) میں ملتا ہے🥲
اور ہم یہ نہ کہہ رہے ہوں ؀

کاش ہم بنگالی ہوتے​


 
آخری تدوین:

صابرہ امین

لائبریرین
افسوس تو یہ ہے کہ ڈالر کی بات تو بھول ہی جائیں ؀
پاکستانی روپے کی قدر گر کر یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک بنگالی ٹکہ پورے بھار کے ساتھ پاکستانی 2.40(دو روپے چالیس پیسے) میں ملتا ہے🥲
اور ہم یہ نہ کہہ رہے ہوں ؀
ان شا اللہ یہ سب تبدیل ہو گا۔ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہوتی ہے ۔ یہ دن بھی نہیں رہیں گے۔
 
بہترین! 25 سال قبل کی بات ہے یہ پچھتر روپے 2 ڈالر سے کچھ کم مالیت کے تھے۔ اب یہ تہائی ڈالر کے برابر ہیں۔ تمام پاکستانیوں کو مبارک ہو کہ اس نئے نوٹ سے شاید ایک ٹافی خریدی جا سکتی ہو
اور پچھتر سال پہلے یہ پچھتر روپے کا یہ نوٹ ہوتا تو 22 ڈالر کا ہوتا ۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اوپر والے چارٹ سے خود ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستانی حکومتوں نے مصنوعی طور پر روپے کی قیمت برقرار رکھی تھی! اوریہ حقیقت بھی ہے کہ دہائیوں تک پاکستانی حکومتوں نے روپے کی ایک مصنوعی قیمت اپنی پالیسی کنٹرول کی بنا پر قائم رکھی جب کہ اسکی اصل مارکیٹ قیمت کافی کم تھی۔ نہ صرف فوجی بلکہ سول حکمرانوں نے یہ بھی روش اختیار کی، اور یہی وجہ ہے کہ جب کبھی روپیہ اپنی اصلی قیمت میں مارکیٹ میں ٹریڈ ہوا تو منہ کے بل ہی گرا۔ آج کل بہرحال کچھ زیادہ ہی گر گیا ہے اور اس گراوٹ میں بد طینت پاکستانی و غیر پاکستانی دونوں ہاتھوں سے ڈالر بنا رہے ہیں!
 

جاسم محمد

محفلین
اوپر والے چارٹ سے خود ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستانی حکومتوں نے مصنوعی طور پر روپے کی قیمت برقرار رکھی تھی! اوریہ حقیقت بھی ہے کہ دہائیوں تک پاکستانی حکومتوں نے روپے کی ایک مصنوعی قیمت اپنی پالیسی کنٹرول کی بنا پر قائم رکھی جب کہ اسکی اصل مارکیٹ قیمت کافی کم تھی۔ نہ صرف فوجی بلکہ سول حکمرانوں نے یہ بھی روش اختیار کی، اور یہی وجہ ہے کہ جب کبھی روپیہ اپنی اصلی قیمت میں مارکیٹ میں ٹریڈ ہوا تو منہ کے بل ہی گرا۔ آج کل بہرحال کچھ زیادہ ہی گر گیا ہے اور اس گراوٹ میں بد طینت پاکستانی و غیر پاکستانی دونوں ہاتھوں سے ڈالر بنا رہے ہیں!
جس ملک میں جمہوریت تک مصنوعی ہو وہاں کی کرنسی کی قدر مصنوعی ہونا اچھنبے کی بات نہیں

زیک سیما علی علی وقار
 

الف نظامی

لائبریرین
اوپر والے چارٹ سے خود ہی ظاہر ہو رہا ہے کہ پاکستانی حکومتوں نے مصنوعی طور پر روپے کی قیمت برقرار رکھی تھی! اوریہ حقیقت بھی ہے کہ دہائیوں تک پاکستانی حکومتوں نے روپے کی ایک مصنوعی قیمت اپنی پالیسی کنٹرول کی بنا پر قائم رکھی جب کہ اسکی اصل مارکیٹ قیمت کافی کم تھی۔ نہ صرف فوجی بلکہ سول حکمرانوں نے یہ بھی روش اختیار کی، اور یہی وجہ ہے کہ جب کبھی روپیہ اپنی اصلی قیمت میں مارکیٹ میں ٹریڈ ہوا تو منہ کے بل ہی گرا۔ آج کل بہرحال کچھ زیادہ ہی گر گیا ہے اور اس گراوٹ میں بد طینت پاکستانی و غیر پاکستانی دونوں ہاتھوں سے ڈالر بنا رہے ہیں!
جس ملک میں حکومت بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو موثر طور پر کنٹرول نہیں کر سکتی وہاں ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ فورسز کے حوالے کر دیا گیا۔ رضا باقر کا اکنامک ہٹ مین والا اصل کردار یہی تھا
متعلقہ:
fixed exchange rate vs floating exchange rate

Market intervention

 

علی وقار

محفلین

جاسم محمد

محفلین
جس ملک میں حکومت بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو موثر طور پر کنٹرول نہیں کر سکتی وہاں ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ فورسز کے حوالے کر دیا گیا۔ رضا باقر کا اکنامک ہٹ مین والا اصل کردار یہی تھا
متعلقہ:
fixed exchange rate vs floating exchange rate

Market intervention

تو کیا کرنا چاہیے تھا؟ وہی کرتے جو ۱۹۴۹ سے مسلسل کر رہے ہیں یعنی مصنوعی ایکسچینج ریٹ؟
 

الف نظامی

لائبریرین
مصنوعی ایکسچینج ریٹ نام کی اصطلاح وجود ہی نہیں رکھتی ، عوام نے کون سا مانیٹری اکنامکس پڑھی ہوئی ہے لہذا پروپگنڈا چلتا رہے گا۔
 
سوچنے کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب ، امارات ، خلیجی ممالک وغیرہ نے فکس ریٹ کیوں رکھا ہوا ہے جبکہ وہ بظاہر مضبوط معیشتیں ہیں ہے کوئی مجھے اس سلسلے میں منور کرے؟؟
 
Top