اسرائیلیوں کو اپنی زمین پر رہنے کا حق حاصل ہے، سعودی ولی عہد

م حمزہ

محفلین
بڑے شاہ صاحب نے صرف اشک شوئی کی ہے جب کہ شہزادے کا بیان ہی سعودیہ کی اصل پالیسی ہوگی بلکہ ہے! کیونکہ ایران دشمنی اور امریکہ دوستی سعودی عرب اور اسرائیل میں مشترک ہے اور یہ بہت بڑا اشتراک ہے کہ دوست بھی ایک جیسے اور دشمن بھی!
چند یوم قبل کسی صاحب نے مجھے واٹس اپ پر ایک پیغام بھیجا تھا جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ تہران میں کوئی سنی مسجد نہیں ہے۔ البتہ یہودیوں کےلئےکئی عبادات گاہیں موجود ہیں۔
مجھے اس میں کچھ زیادہ سچائی نظر نہیں آئی اس لئے ڈلیٹ کردیا۔ آپ کو یقینا ً معلوم ہوگا۔
 
یہ بہاء اللہ کے پیروکاروں کا ذکر کہاں سے آ گیا؟


اپنی نظر میں سارے مسلمان بھائی ہیں
ان کی نظر میں خیر سے ہم سب بہائی ہیں

حق پرستی تو الطافیات یا بهائیات نہیں ہوتی...؟
 

محمد وارث

لائبریرین
چند یوم قبل کسی صاحب نے مجھے واٹس اپ پر ایک پیغام بھیجا تھا جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ تہران میں کوئی سنی مسجد نہیں ہے۔ البتہ یہودیوں کےلئےکئی عبادات گاہیں موجود ہیں۔
مجھے اس میں کچھ زیادہ سچائی نظر نہیں آئی اس لئے ڈلیٹ کردیا۔ آپ کو یقینا ً معلوم ہوگا۔
آپ نے بالکل درست کام کیا!
 
چند یوم قبل کسی صاحب نے مجھے واٹس اپ پر ایک پیغام بھیجا تھا جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ تہران میں کوئی سنی مسجد نہیں ہے۔ البتہ یہودیوں کےلئےکئی عبادات گاہیں موجود ہیں۔
مجھے اس میں کچھ زیادہ سچائی نظر نہیں آئی اس لئے ڈلیٹ کردیا۔ آپ کو یقینا ً معلوم ہوگا۔
There are 47,291 Shiite mosques and 10,344 Sunni mosques in Iran, according to official statistics. Many of these mosques on the official record are tiny spaces serving small villages. However, there are no Sunni mosques at all in Iran’s large cities.
Tehran's authorities destroy Sunni worship space
 

محمد وارث

لائبریرین
چند یوم قبل کسی صاحب نے مجھے واٹس اپ پر ایک پیغام بھیجا تھا جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ تہران میں کوئی سنی مسجد نہیں ہے۔ البتہ یہودیوں کےلئےکئی عبادات گاہیں موجود ہیں۔
مجھے اس میں کچھ زیادہ سچائی نظر نہیں آئی اس لئے ڈلیٹ کردیا۔ آپ کو یقینا ً معلوم ہوگا۔
یہ ایک ڈاکیومنٹری ہے شاید پروپیگنڈے کا اثر کچھ زائل کر سکے!

 
یہ ایک ڈاکیومنٹری ہے شاید پروپیگنڈے کا اثر کچھ زائل کر سکے!

اب ہم ایران سے باہر بیٹھ کر فرانسیسی میڈیا کی خبروں یا اس دستاویزی فلم کو دیکھنے کے محتاج ہیں اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون کتنا پراپیگنڈا کر رہا ہے، کوئی صاحب خود ایران سے ہوکر آئے ہوں تو بہتر بتا سکتے ہیں۔
 

آوازِ دوست

محفلین
بے شک اسرائیلی غاصب اور ظالم ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم مسلمان انسانی، اخلاقی، قانونی نکتہ نظر اور اپنے مادی وسائل یعنی ہر لحاظ سے یہودیوں کے ساتھ ہٹلر جیسا سلوک نہیں کر سکتے۔ پرامن بقائے باہمی کی مشترکہ خواہش ہی ایسے مسائل کا فریقین کے لیے قابل قبول حل نکال سکتی ہے لیکن افسوس کہ طاقتور کو اپنی بقا کی فکر درپیش نہیں ہوتی اور اُس کےاخلاقی معیار اُس کی مادی برتری کے حساب سے گرے ہوئے ہوتے ہیں۔ کشمیر، فلسطین، برما اور دیگر جگہوں پر انسانیت جس کرب میں مبتلا ہے وہ عالمی برادری کے بے حس اجتماعی شعور پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مادی ترقی اور اخلاقی تنزلی میں کوئی شیطانی نسبت قائم ہو چکی ہے۔
 
آخری تدوین:

فاخر رضا

محفلین
اب ہم ایران سے باہر بیٹھ کر فرانسیسی میڈیا کی خبروں یا اس دستاویزی فلم کو دیکھنے کے محتاج ہیں اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون کتنا پراپیگنڈا کر رہا ہے، کوئی صاحب خود ایران سے ہوکر آئے ہوں تو بہتر بتا سکتے ہیں۔
2002 اگست میں میں زمینی راستے سے ایران گیا تھا. پاکستان کے ساتھ جو ایرانی حصہ ہے وہاں بہت سی مسجدیں ہیں جہاں اہل سنت عالم نماز باجماعت پڑھاتا ہے اور سب پڑھتے ہیں. دیگر کچھ شہروں میں شیعہ عالم نماز پڑھاتا ہے اور سب پڑھتے ہیں. یہ شیعہ سنی مسجد کا concept ہمارے ہاں زیادہ ہے. قطر میں شیعہ مسجد میں میرے ساتھ سنی لوگ جماعت کی جمعے کی نماز بھی پڑھتے ہیں. کوئی کسی کو منع نہیں کرتا. میرے اسپتال میں میں بھی پڑھتا ہوں.
ایران میں قم کے علاوہ شاید کوئی بھی ایسا شہر نہیں ہے جہاں سو فیصد شیعہ آبادی ہو. جہاں جس کی اکثریت ہے وہاں اسی مکتب فکر کا عالم نماز پڑھاتا ہے. میرے خیال میں یہی منطقی طریقہ ہے
پرابلم وہاں ہوتی ہے جہاں تکفیری ذہنیت عمل پیرا ہو.
 
پرابلم وہاں ہوتی ہے جہاں تکفیری ذہنیت عمل پیرا ہو.
تکفیری ذہنیت کا ہونا ضروری نہیں، اہلسنت کے علماء جو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں ان کی رائے یہی ہے کہ اپنے فقہ کے امام کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ کیا آپ نے تہران میں یا کسی بڑے شہر میں ایسی کوئی مسجد دیکھی ہے جس میں مستقل امام سنی ہو؟
 

فاخر رضا

محفلین
تکفیری ذہنیت کا ہونا ضروری نہیں، اہلسنت کے علماء جو ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں ان کی رائے یہی ہے کہ اپنے فقہ کے امام کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔ کیا آپ نے تہران میں یا کسی بڑے شہر میں ایسی کوئی مسجد دیکھی ہے جس میں مستقل امام سنی ہو؟
میں ان علماء کا احترام کرنے کے باوجود ان کی رائے سے متفق نہیں ہوں
 
غلطی ہوگئی سر، اس پہلو پر نہیں سوچا تھا
ڈاکٹر صاحب آپ خوامخواہ پریشان ہوگئے :) اگر کوئی فروعی اختلاف کی وجہ سے کسی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ فرقہ بازی ہوگئی یا تفریق بڑھ گئی یا مسلمانوں میں دشمنی ہوگئی تفریق اس وقت بڑھے گی جب جیسے آپ نے پہلے کہا کہ تکفیری کام کئے جائیں مسلمان خود ہی ایک دوسرے کو کافر کہنے لگیں۔
 

فاخر رضا

محفلین
اہل قرآن شیعہ چونکہ تقیہ کو رد کرتے ہیں اور علی ع کا خلفاء کے پیچھے ان کی اقتدا میں 25 سال نماز پڑھنا بطور تقیہ نہیں تھا کہ علی ع 25 سال منفرد اور بغیر جماعت کے نماز پڑہیں .بلکہ مسلمانوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہوئے اور خلفا کے پیچھے نماز پڑھی بغیر تقیہ و انفرادی نیت کے .اس لیے اہل قرآن شیعہ سنیوں کے پیچھے بغیر تقیہ اور انفرادی نیت کے بغیر نماز پڑھنے کو درست سمجھتے ہیں .
اہل قرآن شیعہ - آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا

اس طرح کے بہت سارے اقوال ملتے ہیں. کہیں یہ بھی ہے کہ سنی کے پیچھے نماز پڑھنا فرادہ نماز سے ستائیس گنا زیادہ ثواب کا باعث ہے
 

فاخر رضا

محفلین
’’ شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی اختلاف ہے ہی نہیں ۔‘‘ ( بیان خمینی برائے حجاج ص 16)اور :’’ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن ڈاگر حسن روحانی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ امام خمینی نے ایران میں شیعوں کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ اپنے سنی بھائیوں کی اقتدا میں نماز ادا کریں ۔ اگر انہوں نے ایک ہی مسجد میں علیحدہ نماز قائم کی تو وہ گناہ کے مرتکب ہوں گے ۔ ( حوالہ 1) ( روزنامہ جنگ کراچی مجریہ 15 فروری 1983ء)
http://magazine.mohaddis.com/shumar...h-khameni-apni-taqreer-wo-tahreer-ky-ayny-man

اس کے بعد اس مضمون کے خالق نے اس فتوے کو تقیہ کے طور پر بیان کیا ہے جبکہ یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد واجب ہے
 

زیک

مسافر
چھوڑئیے صاحبو!۔ وہ جسے "بغدادی" کے نام سے جانا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ وہ کٹڑ مسلمان ہے؛
وہ اصل میں یہودی ہے اور اس کا نام سائمن ہے۔ یہ بات مغربی ذرائع سے نکلی ہے۔
ایسی بے بنیاد افواہیں پھیلانے کا کتنا ثواب ہے؟
 

م حمزہ

محفلین
ایسی بے بنیاد افواہیں پھیلانے کا کتنا ثواب ہے؟
میرا یہ ماننا ہے کہ ہمیں دوسروں کے متعلق حکم صادر فرمانے سے احتراز کرنا چاہیے اور اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔
دوسرا شخص مسلمان تھا یا کچھ اور اس سے آپ نہ جنت میں جانے والے ہیں نہ جہنم میں۔ اور جبکہ وہ شخص اس دنیا میں ہی نا ہو تو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے ایمان اور اپنے اعمال کی فکر ہونی چاہیے۔
 
Top