اردو انسائیکلوپیڈیا

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 535

اصل میں چاسر کا آخری دور سب سے اہم ہے جس میں وہ اپنے فن کے عروج پر پہنچا۔ اس دور میں اس نے شاعری میں نئی راہیں نکالیں اور کینٹر بری ٹیلس

Canterbury Tales

لکھی۔ اس میں 17 ہزار اشعار ہیں اور یہ کتاب نامکمل ہے۔ اس میں اس دور کی انگلستان کی زندگی کا مرقع پیش کر دیا گیا ہے۔ اس کا شمار دنیا کے اعلٰی ترین ادب میں ہوتا ہے۔

چائلڈ، ویر گارڈن ((1957 – 1892))

Child, Vere Garden

انگریز ماہر فن تعمیر و مستشرق۔ آسٹریلیا میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ میں تعلیم پائی۔ جامعہ ایڈنبرا اور جامعہ لندن میں پروفیسر رہا۔ ماقبل تاریخ دور کے یوروپ کی سماجی زندگی پر اس کا کام بہت مشہور اور اہمیت کا حامل ہے۔ اس پر اس نے دو نہایت مبسوط کتابیں لکھیں۔ اس کے علاوہ اسے مشرق کی آثارِ قدیمہ اور تاریخ سے بھی بڑی دلچسپی تھی۔ اپنی تصانیف میں اس نے ایشیا کی قدیم تاریخ پر نئے انداز میں نظر ڈالی ہے۔ اس کے علاوہ انسانی تاریخ پر بھی اس نے دو جلدوں میں مبسوط طریقہ پر روشنی ڈالی ہے۔

چیلونکر، وشنو شاستری ((1850 – 1882)) : 20 مئی 1850 کو پیدا ہوئے۔ وہ سنسکرت، انگریزی اور مراٹھی ادب کے ایک اچھے طالب علم تھے۔ انھوں نے اپنے والد کرشن شاستری کے رسالہ "شالا پترک" ((1865)) میں "راسیلس"

Rasselas

کا ترجمہ اور سنسکرت شاعروں پر مضامیں کا سلسلہ شروع کیا اور 1872 میں خود اس رسالہ کے مدیر بنے۔ اس پرچہ میں انھوں نے تاریخ، ادبی تنقید اور فلسفہ پر بڑے عالمانہ مضامین لکھے ہیں۔ وہ ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر بھی رہے لیکن 1879 میں اپنی ملازمت سے استعفی دے دیا۔ "کتاب خانہ" کے نام
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 536

سے پونا میں انھوں نے کتابوں کی ایک دوکان بھی کھولی تھی۔ 1880 میں پونا ہی میں "نیو انگلش اسکول" شروع کیا۔

ان کے ادبی سرمایہ میں ترجمے، زبان اور تاریخ پر مضامین، ادبی تنقید، نزاعی بحث و تمحیص، سماجی مسائل، سیاست اور نفسیات سب ہی شامل ہیں۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ وہ اپنے بہترین طرز تحریر اور قوت استدلال کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں اور مراٹھی میں مباحثی ادب کے بانی کہلاتے ہیں۔ ان کی تصانیف کا انتخاب مرکزی شاہتیہ اکادمی کی جانب سے شائع ہوا ہے۔

چٹرجی، سنیتی کمار ((1890 – 1977)) : ان کے دادا ((متوفی 1906)) فارسی پڑھے ہوئے تھے۔ سنیتی کمار چڑجی ان سے گلستان اور پند نامے کے قصے سنا کرتے تھے۔ والد ہری داس چٹرجی انگریزی فرم میں نوکر تھے اور بنگلہ کے اچھے شاعر اور موسیقار تھے۔ سنیتی کمار نے 1913 میں کولکتہ میں انگریزی میں فرسٹ کلاس فرسٹ ایم۔ اے۔ کیا۔ اور اسی سال کولکتہ یونیورسٹی میں انگریزی کے اسسٹنٹ پروفیسر ہو گئے۔ 1918 میں ویدک سنسکرت کی ڈگری لی اور وظیفہ لے کر لندن گئے۔ 1921 میں انڈوایرین فلالوجی پر ڈی۔ لٹ۔ کی ڈگری لی۔ 1921-22 میں پیرس یونیورسٹی میں لسانیات اور کئی کلاسیکی زبانوں کا درس لیا۔ یوروپ سے واپسی پر کولکتہ یونیورسٹی میں تقابلی لسانیات کے پروفیسر ہو گئے۔ وہاں سنسکرت، پالی نیز تاریخ تمدن اسلام کا بھی درس دیا۔ 1952 میں کولکتہ یونیورسٹی سے ریٹائر ہو کر لسانیات کے پروفیسر ایمریٹس ہو گئے۔ اسی سال گریجویٹوں کے حلقے سے بنگال لیجسلیٹیو کونسل

Bengal Legislative Council

کے رکن اور صدر ہو گئے۔ 1957 میں کولکتہ یونیورسٹی کی
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 537

فنونِ لطیفہ اور موسیقی کی فیکلٹی میں ڈین ہو گئے۔ مئی 1964 میں مرکزی حکومت کی طرف سے قومی پروفیسر مقرر ہوئے۔

سنیتی کمار چٹرجی غیر ممالک کے متعدد سفر کیے اور لیکچر دیے۔ برلن کے مشرقی انسٹی ٹیوٹ اور گجرات سبھا ریسرچ شعبے کے خطبات سب سے اہم ہیں۔ چٹرجی بین سلوینیا یونیورسٹی امریکا میں ایک سال وزیٹنگ پروفیسر رہے۔ متعدد بیرونی سوسائٹیوں کے رکن رہے۔ 1936 میں رائل ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال کے فیلو، اور 1953 میں صدر چنے گئے۔ 1948 میں ہندی ساہتیہ سمیلن سے ساہتیہ واچسپتی کا خطاب، 1955 میں پدم بھوشن، 1963 میں پدم وبھوشن ملا۔ 1955-56 میں مرکزی سرکاری زبان کمیشن کے رکن اور 1956-57 میں سنسکرت کمیشن کے صدر ہوئے۔ مارچ 1961 میں روم یونیورسٹی سے ڈی۔ لٹ۔ ملی۔ کئی سال مرکزی ساہتیہ اکادمی کے صدر رہے۔ آپ کی متعدد کتابوں میں سب سے اہم یہ ہیں :

1926 میں

Origin and Development of Bengali Language

((دو جلد 1179 صفحات))۔ یہ ہندوستانی زبانوں کی قاموس ہے۔ گجرات ودیا سبھا احمد آباد کے خطبات

Indo – Aryan and Hindi

((اشاعت 1942)) اردو میں بھی ترجمہ ہوا اور 1943 میں

Language and Linguistic Problem

کا اردو ترجمہ ہوا۔ 1957 میں اناملائی یونیورسٹی میں دراوڑی لسانیات کا شعبہ کھلا۔ اس کا عالمانہ خطبہ

Dravidian

1965 میں شائع ہوا اور ضخیم کتاب

Languages and Literatures of Modern India

کولکتہ 1963 میں شائع ہوئی۔ ادبی تنقید اور تہذیب اقوام پر بھی تصانیف کیں۔ دو کتابیں "قوم، تہذیب اور ادب " اور "ہندوستانی
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 538

تمدن" قابل ذکر ہیں۔ مضامین کی تعداد ڈھائی سو کے لگ بھک ہے۔ ڈاکٹر شانتی رنجن بھٹاچاریہ نے ان کی بنگالی کتابوں کے منتخب مضامین کا ترجمہ "بکھرے ورق" 1968 میں شائع کیا۔

دو بڑے ماہرینِ لسانیات نے ہندوستان میں آریوں کا آمد کا اندرونی اور بیرونی گروہوں کا نظریہ پیش کیا۔ چٹرجی نے اس کی شافی تردید کی۔ انھوں نے "انڈوایرین ایند ہندی" میں اردو کے خلاف لکھا ہے لیکن سرکاری زبان کمیشن کے اختلافی نوٹ میں ہندی کی شدید مخالفت اور اردو کی حمایت کی۔ اپنے آخری زمانے میں وہ اردو کے مکمل حامی ہو گئے تھے اور انھوں نے صاف لکھا کہ ہندی کچھ نہیں ہے صرف سنسکرت آمیز ناگری رسم خط میں ہندوستانی ہے اور اردو ((یعنی فارسی آمیز ہندوستانی)) اصل زبان ہے جو بقول ڈاکٹر تارا چند صدیوں سے اس ملک کے مہذب حلقوں میں بولی اور لکھی جاتی رہی ہے۔

چراغ علی مولوی، اعظم یار جنگ ((1895 – 1844)) : مولوی چراغ علی کے آبا و اجداد کشمیر کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد مولوی محمد بخش نے میرٹھ میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ یہیں چراغ علی پیدا ہوئے۔ دس سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا۔ معمولی تعلیم کے بعد سلسلہ معاش میں ضلع بستی چلے گئے۔ وہاں محکمہ خزانہ میں بیس روپیہ ماہوار پر ملازم ہو گئے۔ قانون کا امتحان دے کر جوڈیشیری کمشنر اودھ کے ڈپٹی منصرم اور پھر سیتاپور کے تحصیلدار ہو گئے۔ علمی شوق ان کی فطرت میں تھا۔ کئی زبانوں انگریزی، لاطینی اور یونانی سے واقف تھے۔ علمی ترقی کے ساتھ ملازمت میں بھی ممتاز عہدوں تک پہنچے۔ 1877 میں سرسید کی کوشش سے حیدرآباد آئے جہاں محسن الملک کے ماتحت چار سو روپیہ ماہوار پر مددگار معتمد مال ہوئے۔ یہاں کچھ ایسی خوش اسلوبی دکھائی کہ جلد ہی معتمدی مال پر ترقی مل گئی۔ یہیں انتقال ہوا۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 539

کتب بینی کا انھیں ایسا شوق تھا کہ مطالعہ کے لیے غیر ممالک سے گتابیں منگواتے تھے۔ تصانیف کی تعداد خاصی ہے۔ بہت سی کتابیں حیدرآباد کے سرکاری امور پر لکھیں۔ مذہبی کتابیں بھی کئی ہیں جن میں تحقیق الجہاد، رسول برحق، اصلاحات سلاطین اسلام، اسلام کی دینوی برکتیں، قدیم قوموں کی مختصر تاریخ قابل ذکر ہیں۔ خطوط "مجموعہ رسائل" کے نام سے چھپ چکے ہیں۔ اخلاقی مسائل پر چند اردو اور انگریزی پمفلٹ بھی ہیں۔ تہذیب الاخلاق کے مستقل اور معروف قلمی معاون تھے۔ ان کی نظر زیادہ تر نفسِ مضمون پر رہتی ہے۔ عبارت آرائی اور رنگینی مفقود ہے۔ چراغ علی کو مذہبی مسائل سے بھی کافی دلچسپی تھی۔ فن مناظرہ میں دستگاہ رکھتے تھے۔

چرخہ نامہ : چرخہ کاتتے وقت گیت گانے کی رسم عام ہے۔ دکن میں چرخہ کاتتے وقت گائے جانے کی غرض سے لکھے گئے گیتوں کو "چرخہ نامہ" کہتے ہیں۔ چرخہ نامے کی غایت ایک طرف تو یہ تھی کہ کاتنے والی/والے کے دل کو اللہ کی طرف متوجہ رکھا جائے، دوسرے یہ کہ محنت کی یکسانیت کا احساس موسیقی کی مدد سے کم کر دیا جائے۔

چسٹرٹ، گلبرٹ کیتھ ((1936 – 1874))

Chesterton, G. K.

برطانوی ناول نگار، نقاد، شاعر صحافی اور انشاپرداز۔ وہ لندن میں پیدا ہوئے اور سینٹ پال اسکول اور سلیڈ میں تعلیم حاصل کی۔ شروع مٰن انھوں نے اپنے دوست ہلیری بلوک کے ناولوں کے لیے مرقعے تیار کیے جو پسند کیے گئے مگر پھر انھوں نے خود لکھنے کی طرف توجہ کی۔ ان کے مضامین برابر "دی بک مین"، "السٹرئیڈ لندن نیوز" اور "اسپیکر" میں چھپنے لگے۔ کچھ مضامین جو انھوں نے بوئروار کے زمانہ میں لکھے تھے میں انھوں نے کھل کر شہنشاہیت اور استعمار پسندی پر تنقید کی۔ ان کی پہلی کتاب جو اشعار اور خاکوں کا مجموعہ تھی 1900 میں "گرے بیرڈس ایٹ پلے۔ لٹریچر اینڈ آرٹ فار اولڈ جنٹلمین"
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ 540

کے نام شائع ہوئی۔ اس کے بعد "وائلڈ نائٹ" اور دوسری نظمیں شائع ہوئیں۔ انگلینڈ کی خصوصیات کو انھوں نے شعری زبان میں "کلکٹڈ پوئمس" میں بحسن و خوبی ادا کیا۔

ان کا پہلا ناول "دی نپولین آف ناٹنگ بل" 1904 میں شائع ہوا جس میں انھوں نے موجودہ دنیا کی کاروباری ذہنیت اور سیاسی طاقت کی مرکزیت کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کیا اور صنعت و حرفت اور کارخانوں سے پہلے کی دنیا کی تعریف و توصیف کی۔ ایسے ہی جذبات ان کے دوسرے ناولوں "دی میں ہو واز تھرسڈی" اور "اے نائٹ میر" میں پائے جاتے ہیں۔ پھر انھوں نے ایک سیدھے سادے کیتھولک پادری کے بارے میں کئی جاسوسی کہانیاں لکھیں جن میں اس پادری نے اپنی روحانی طاقت سے کئی پیچیدہ اور پراسرار جرائم کا پتہ لگایا۔ خود چسٹرٹن نے بھی 1922 میں کیتھولک مذہب اختیار کر لیا۔

ادبی تنقید کے میدان میں چسٹرٹن کی "چارلس ڈکنس" کتاب آج بھی وقعت کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ اس نے رابرٹ برادننگ، جارج برناڈشا، ولیم بلیک اور چوسر پر تنقیدی کتابیں لکھیں۔ اس کے علاوہ اس نے کئی کتابیں مختلف معاشرتی، سیاسی اور مذہبی موضوعات پر لکھیں جیسے "ہیر ٹیکس" آرتھوڈا کسی "سینٹ فرانسس آف آسی" اور سینٹ تھامس اکیوناس"۔ ان کے مقالات کے چار مجموعے آل تھنگس کینڈرڈ"، "اے مسیلینی آف مین"، "یوزز آف ڈائیورسٹی" اور "ایز آئی واز سیانگ" بھی شائع ہوئے۔ آخری کتاب ان کی خود نوشت سوانح عمری "آٹوبایوگرانی" 1936 میں شائع ہوئی۔

چکبست، برج نارائن ((1926 – 1882)) : چکبست کا لکھنؤ کے ایک کشمیری برہمن خاندان سے تعلق تھا۔ فیض آباد میں پیدا ہوئے۔ نشو و نما لکھنؤ میں ہوئی۔ مغربی تعلیم کے ساتھ فارسی ادب کا بھی مطالعہ کیا۔ کیننگ کالج
 

شمشاد

لائبریرین
صٖفحہ 541

سے بی۔ اے۔ کی ڈگری لی، پھر قانون کا امتحان پاس کر کے وکالت کرنے لگے۔ اس پیشہ میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ لکھنؤ کے بہترین وکیلوں میں گنے جانے لگے۔

شاعری کا ذوق انھیں شروع سے تھا۔ پہلے غزلیں کہیں پھر نظمیں لکھنے لگے۔ کسی کی باقاعدہ شاگردی اختیار نہیں کی۔ قدامت اور فرسودگی سے اپنی غزل کو دور رکھا۔ اس وقت ہندوستان کی سیاست میں جو ہل چل مچی ہوئی تھی اور جنگ آزادی جس منزل سے گزر رہی تھی چکبست کی نظمیں اس کی مظہر کہی جا سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر وہ ایک روشن خیال شاعر تھے اور ملک و قوم کو آگے بڑھانا چاہتے تھے۔ ان کی نظمیں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے جذبات کی ترجمان ہیں۔

چکبست پر انیس کا بہت اثر تھا۔ مرثیہ گوئی ان کے لیے ذرا مشکل تھی اس لیے مرثیے کے بجائے رامائن کے بعض دلچسپ اور مو ثر واقعات انھوں نے میر انیس کے انداز میں لکھے ہیں جو اردو شاعری میں بڑا مقام رکھتے ہیں۔ ان کے اسلوب میں مرثیہ کی جھلک نمایاں ہے۔ انھوں نے شخصی مرثیے بھی لکھے ہیں جن میں جذبات کا دردمندانہ پیرایہ میں اظہار کیا ہے۔

چکبست کی زبان لکھنؤ کی شستہ زبان ہے۔ بندش کی چستی کے ساتھ مناسب ہندی الفاظ کے خوشگوار امتزاج سے کلام کا حسن بڑھایا ہے۔ چکبست اچھے نثر نگار بھی تھے۔ ان کے مضامین کا مجموعہ چھپ چکا ہے جس سے ان کی علمیت اور تنقیدی صلاحیتوں کا پتہ چلتا ہے۔ چکبست اپنی زندگی میں مثنوی "گلزار نسیم" کے مباحثوں کی بدولت بہت مشہور ہوئے۔ ان کا شعری مجموعہ "صبح وطن" کے نام سے ہے جو ان کے انتقال کے بعد شائع ہوا۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۴۲

چکر دھر ((۱۲۲۰ – ۱۲۷۲)) مہانو بھاوپنتھ کے بانی اور مراٹھی کے اولین ادیب و شاعر چانگ دیور اوول عرف شری چکردھر اصلاً گجرات کے رہنے والے تھے۔ مہانو بھاوپنتھ کے ماننے والے انھیں کرشن کا اوتار تسلیم کرتے ہیں۔ چکر دھر نے خالق و مخلوق کی درمیان دوئی ((دویت)) کا تصور دیا اور ساری خدائی کو ایک کنبہ بتا کر مساوات کا سبق دیا۔ انھوں نے اہنسا کی بھی تعلیم دی۔

چکردھر کی زندگی کا احوال "لیلاچرتر" میں ملتا ہے۔ یہ کتاب ان کے شاگردوں کے بیان کردہ واقعات و کرشمات کا مجموعہ ہے جو بعد میں آنےوالے ان کے ایک معتقد ادیب مہائم بھٹ نے ترتیب دیا ہے۔ انھوں نے دو شادیاں کیں۔ ان کی شخصیت بڑی پرکشش تھی۔ انسان تو انسان جانور بھی ان کی طرف مائل ہوتے تھے۔

چکردھر نے جگہ جگہ مٹھ قائم کیے اور کڑے نظم و ضبط کے ساتھ انھیں چلایا۔ انھوں نے تصنیف و تالیف کی ہمت افزائی کی اور مراٹھی زبان کے استعمال پر زور دیا۔ ان کی تعلیمات کے زیر اثر مہانوبھاو پنتھیوں نے مراٹھی میں مسلسل تصنیفی کام کیا اور مراٹھی کو علمی و ادبی زبان بنانے میں نمایاں حصہ لیا۔ اگرچہ شری چکردھر کی ایک "چوپدی" ((چوپائی)) کے علاوہ ان کی تصنیف کردہ کسی کتاب کا وجود نہیں ملتا لیکن مہانوبھاؤپنتھ کے محقق ڈاکٹر وی۔ بھی۔ کولتے کے مطابق "شری چکردھر سوامی کے اولین مصنف اور شاعر ہونے میں کسی اختلاف نہیں ہے"۔

چکی نامہ : دکنی شاعروں نے چکی کے گیتوں کی صورت پندو مو عظت اور متصوفانہ مضامین بھی نظم کیے ہیں۔ یہ گیت عموماً مثنوی کی شکل میں لکھے جاتے تھے۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۴۳

چماکرا ونکٹاکوی

Chemakura Venkatakavi

زمانہ سترہویں صدی : چماکرا ونکٹاکوی تبکور کے راجا رگھونادھا بھوپلا کے دربار کا سب سے بڑا شاعر گزرا ہے۔ وہ تیلگو کے دو مشہور فن پاری "سرنگا چرترا"

Sarangadhara

اور وجے وتیسامو

Vijaya-vitasamu

کا مصنف ہے۔ اور یہ دونوں تصانیف اس نے راجا رگھونادھا کے نام سے منسوب کی ہیں۔

"سرنگا دھراچرترا" کی نظم میں راجا کی بیوی چترنگی کی محبت کی داستان ہے جو اس کو اپنے سوتیلے بیٹھے سرنگادھرا سے تھی۔ جب سرنگا دھرا نے چترنگی کی اس ناجائز خواہش کو قبول نہ کیا تو اسے ناحق سزا کا شکار ہونا پڑا۔ ونکٹا کوئی نے اپنی نظم میں اس داستان کو ایسے عبرت انگیز انداز میں پیش کیا ہے کہ سننے والے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

ونکٹا کوی کی دوسری نظم "وجے وتسامو" کا بھی پربندھا میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں ارجن اور پنڈوا کی کہانیاں بیان کی گئی ہیں جن کا ماخذ مہابھارت ہے۔ ونکٹا کوی نے ان کہانیوں کو اپنی زبان میں لفظی اور معنوی حیثیت سے بہت دلکش انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کو خوش وضع الفاظ اور محاورات کے بنانے میں مہارت تھی اور وہ عشق و محبت کے جذبات کے اظہار میں بھی یدِطولیٰ رکھتا تھا۔ رگھوناتھ

Raghunadha

نے ونکٹا کوی کی صلاحیتوں کی بہت تعریف کی ہے کہ اس کی ہر نظم اپنا جواب نہیں رکھتی۔ اس کی نظم میں چمتکار

Chamatkara

کی خوبیاں نظر آتی ہیں اور الفاظ کی بندش اور جملوں کی ترکیب بالکل نرالی رہتی ہے۔

چندر بروائی ((زمانہ بارہویں صدی)) : پرتھوی راج راسونامی طویل رزمیہ شعری تخلیق کے خالق شاعر چندر بروائی کے متعلق مشہور ہے کہ دلی کے پرتھوی راج چوہان کے بچپن کے ساتھی تھے۔ انھوں نے اپنے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۴۴

دوست اور کرم فرما کی زندگی پر یہ تصنیف سپرد قلم کی۔ طویل عرصے تک چند بروائی کو ہندی کا پہلا عظیم شاعر مانا گیا لیکن پرتھوی راج راسو کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ کسی اور بھاٹ یا اور بھاٹوں نے اس میں اضافے کیے ہیں۔ کچھ ایسے عہدوں کا بھی ذکر ہے جو اکبر اور جہانگیر کے زمانے کے تھے۔ اس طرح اچار اور بندوق کا بھی ذکر ہے جو بعد میں ہندوستان آئے۔ پچھلے دنوں ہندوستان اور اس کے باہر نویں صدی تک جو ادبی تصانیف دستیاب ہوئی ہیں۔ ان کی رو سے چندر بروائی کو ہندی کا پہلا بڑا شاعر ماننا مناسب نہیں ہے۔

چندر بھان : دیکھیے برہمن، چندر بھان

چنڈی داس : بنگالی ویشنو سماج میں چنڈی داس کی بڑی عزت ہے۔ ان کو رادھا کرشن لیلا سے متعلق ادب کا اولین شاعر کہا جاتا ہے۔ بہت دنوں تک ان کے بارے میں کچھ خاص معلومات نہ تھیں۔ ان کی نظموں کو اکثر کیرتن کرنے والے گایا کرتے تھے۔ ان نظموں میں چنڈی داس کو کہیں دوج چنڈی داس، کہیں دین چنڈی داس، بڑو چنڈی داس اور اننت بڑو چنڈی داس کہا گیا ہے۔ جگدبندھوبھدا نے سب سے پہلے ان نظموں کو یکجا کر کے اس کا نام "مہاجن پداولی" رکھا۔ اس کے دوسرے ایڈیشن میں چنڈی داس کے نام کی دو سو سے زیادہ نطمیں جمع کی گئی ہیں۔ یہ مجموعہ ۱۸۷۴ میں شائع ہوا تھا۔ ۱۹۱۶ تک اگرچہ چنڈی داس اور ان کے زمانہ وغیرہ کے متعلق کوئی مستقل رائے پیش نہیں کی گئی تھی لیکن اس میں کافی شک تھا کہ چنڈی داس نام کا ایک فرد ہے یا ایک سے زیادہ۔ اس زمانہ میں بسنت رنجن رائے نے "سری کرشن کیرتن" نام سے ایک قلمی نسخہ کو ۱۹۱۶ میں شائع کیا۔ اس کتاب میں کرشن کی لیلا کے بھجن میں پہلے کی نطم کی زبان اور مضمون سے "سری کشن کیرتن" کی زبان
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۴۵

اور مضمون میں فرق ہونے کی وجہ سے یہ بات ممکن معلوم ہوتی ہے کہ چنڈی دس نام کے ایک سے زیادہ فرد تھے۔ بہت چھان بین کے بعد عام طور پر سب ہی عالم اس فیصلہ پر پہنچے ہیں کہ دو چنڈی داس ضرور تھے۔ اس بات کا پتہ "چیتیہ جوت امرت" اور "چیتیہ منگل" سے لگایا جاتا ہے کہ چیتیہ دیو سے پہلے ایک چنڈی داس کا بھی ذکر کیا ہے۔ نرہری داس اور ویشنو داس کی نظموں میں بھی ان کا نام آیا ہے۔ ان چنڈی داس کے متعلق جو بھی معلومات فرہم ہوئی ہیں وہ عام طور پر لوگوں سے سنی ہوئی باتوں پر مبنی ہیں۔ یہ برہمن تھے اور نامور ضلع ویربھوم کے باشندے تھے۔

یہ بھی ایک کہاوت ہے کہ ایک دھوبن جس کا نام تارایا رام یا تارایا رامی بتلایا جاتا ہے ان کی معشوقہ تھی۔ دوسری کہاوت کے مطابق یہ چھاتنا ضلع بانکڑا کے متوطن تھے اور وشنو دیوی کے بھگت تھے۔ ان کے نام چھپی ہوئی کتاب "سری کرشن کیرتن" میں قدیم ناٹک اور پنجابی شاعری ملی جلی معلوم ہوتی ہے۔

اس بات کا پتا چلتا ہے کہ دین چنڈی داس کے نام کے ایک شخص چیتیہ دیو سے قبل گزرے ہیں۔ نروتم داس کی ایک نظم چنڈی داس کے نام سے ملتی ہے جو عبادت سے متعلق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نروتم داس کے چیلے تھے۔ دین چنڈی داس کے نام کی ککئی نطمیں موجود ہیں۔ سری مینیندا موہن بسو نے اس مجموعہ نطم کو شائع کیا ہے۔ چنڈی داس کے نام سے کوئی بارہ سو ((۱۲۰۰)) نظمیں ملتی ہیں۔ ان کی زبان اور طرز ادا وغیرہ میں اتنا فرق ہے کہ وہ ایک ہی فرد کی تصنیف کی ہوئی نہین معلوم ہوتیں۔ ممکن ہے کہ بنگلہ کے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۴۶

وسطی عہد میں اس نام کے کم سے کم تین شاعر ہوں۔ پہلے چنڈی داس "سری کرشن کیرتن" کے مصنف تھے جو چیتیہ سے قبل تقریباً ۱۴۰۰ میں موجود تھے۔ دوسرے چنڈی داس چیتیہ کے بعد یا ان کے آخری زمانہ میں ہوئے ہوں۔ انھوں نے ہی رادھا کرشن کے پریم سے متعلق بہت زیادہ گیتوں کو لکھا ہے، جن سے چنڈی داس کو عوام میں اس قدر زیادہ شہرت حاصل ہو گئی تھی۔ تیسرے چنڈی داس کو دین چنڈی داس کہتے ہیں جو مجموعہ نظم کے تین چوتھائی حصہ کے تحریر کرنے والے سمجھے جاتے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نظر نہیں آتا کہ چنڈی داس کی شہرت کا دار و مدار پہلے دو چنڈی داس پر ہے۔

چنیا سوری ((۱۸۰۶ – ۱۸۹۲)) : پریسی ڈنسی کالج مدراس میں تلگو ادب کے پنڈت تھے۔ وہ ادب میں جدید تصورات اور نئے نئے خیالات کے اظہار کے مخالف تھے انھوں نے بول چال کی سادہ زبان استعمال کرنے کی بھی مخالفت کی۔ وہ قدیم اسلوب کے شیدائی تھے جس میں دورازکار تشبیہات اور پیچیدہ ترکیبوں اور مشکل الفاظ کا استعمال ہوتا تھا۔ ان کی تصانیف میں تلگو زبان کے دو قواعد "آندھرا شبدا نوسا سانم" اور "بالاویاکرانم" ہیں۔ انھوں نے بعض قدیم مخطوطات کو بھی مرتب کر کے شائع کیا۔

چہار مقالہ : ابو الحسن سمرقندی معرعف بہ نظامی عروضی سمرقندی کی تصنیف ہے۔ اس میں چار مقالے ہیں :

((۱)) درماہیئت علم دبیر، ((۲)) درماہیئت علم شعر، ((۳)) درماہیئت علوم نجوم اور ((۴)) درماہیئت علم طب۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۴۷

یہ ۱۱۵۵ میں تصنیف ہوئی اور اس کو شہزادہ ابو الحسن حسام الدین علی غزنوی کے نام معنون کیا گیا ہے۔ یہ فارسی طرز انشا کا اعلٰی نمونہ اور اپنے دور کے سیاسی، سماجی اور ادبی ماحول کا تذکرہ ہے۔ اس لیے ادب میں بھی اس کی ایک خاص اہمیت ہے۔

چھایہ وادی ((رومانی)) ادب : ہندی رومانی ادب دراصل دویدی کے بعد آیا۔ پہلے بنگالی ادب میں ربندر ناتھ ٹیگور کی شاعری سے رومانیت شروع ہوئی، ۱۹۱۳ میں گیتانجلی پر نوبل انعام ملا۔ اس کا اثر جدید ہندی ادب پر پڑا۔ میتھلی شرن گپت کی جھنکار ۱۹۱۴ سے ۱۹۱۷ کے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ اس پر ٹیگور کا اثر ہے۔ رومانی ادب کے مشہور شاعر سیارام شرن گپت مکٹ دھر پانڈے موریہ وجئے اناتھ کے کلام بھی انگریزی کی رومانٹک شاعری سے متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ بھارتندو کے عہد کے بعد دویدی کے دور میں زبان جدیدیت سے متاثر ہو چکی تھی۔ ہندی کا رومانی روپ محدود نہیں رہا تھا۔ قدیم سنسکرت چھندون، ویدون اپنیشدوں اور کالی داس اور عہد وسطیٰ کے بھگتی اور نگارس ((حسن و عشقیہ شاعری)) سے ہندی شاعری اثر قبول کرنے لگی تھی۔ بودھی فلسفہ، صوفیانہ ادب اور انگریزی ادب کا بھی اثر ادب کی زندگی کے ہر پہلو کا جز بن چکا تھا۔ عروض زمان و مکان کے شرائط و قیود توڑ کر آزاد ہو رہا تھا۔ فرقہ وارانہ جتھا بندی سے ہٹ کر قومی ثقافت کو اپنایا جا رہا تھا۔ یہ ادبی بیداری اور ہمہ جہت ترقی کو دور تھا۔ جو بھارتندویگ سے شروع ہوتا ہے۔ ذخیرہ الفاظ میں اظافہ، چست بندش، زبان کی جدیدیت، رنج و غم کا اظہار اس دور کی خصوصیات ہیں۔ نرگن ادب میں انفرادیت تھی۔ چھایہ واد نرگن کی طرح ویراگ اور ترک دنیا نہیں تھا بلکہ اصلاحی و تعلیمی ادب تھا۔ رومانیت ہندی کے نئے سگن ادب کا نمونہ تھا، عہد وسطیٰ کا سگن انا کو لے کر چلا تھا اور چھایہ واد فرد کے اپنے احساس کی اگاہی بڑھاتا تھا۔ وہ اپنی طرح
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۴۸

سارے جہاں کے احساس کو اپنے الفاظ میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ آپ بیتی اور جگ بیتی میں فرق نہ رہے۔ رومانی ادب میں ضمیر کی آواز کو خوبصورت الفاظ میں اس طرح مؤثر طریقہ پر پیش کیا جاتا ہے کہ وہ ساری دنیا کی آواز معلوم ہونے لگے۔ اس ادب میں فرد پر گزرنے والی قلبی کیفیت کو پیش کیا جاتا ہے۔ شاعر جس طرح سے ان احساسات کو پیش کرتا ہے اسی سے اس کے فن کا اظہار ہوتا ہے۔ اس ادب میں فن ذوق عمل سے عبارت ہوتا ہے۔ نرالا پنتھ، مہادیوی رام کمار رنبھا سین ماکھن لال کے عہد میں رومانیت نے عظیم شاعری کا روپ دھار لیا۔ پرشاد کامانی اور ہنت کانو کا بہار اس کی مثالیں ہیں۔ کامانی اور "سمندر میں بوند" ادب عالیہ کا درجہ رکھتی ہیں۔

چھیتریّا ((زمانہ سترہویں صدی))

Kshetrayya

چھتریا ضلع کرشنا کے ایک موضع "موَوا" کا باشندہ تھا۔ اس موضع کے دیوتا "گوپال دیوا" کا وہ عقیدت مند پجاری تھا۔ اپنے دیوتا کی عقیدت اور مھبت میں اس نے بہت سے "پداس" ((نظمیں)) کہے ہیں۔ اس نے دوسرے علاقوں کے بھی بہت سفر کیے اور جہاں جہاں وہ جاتا تھا وہاں کے دیوتاؤں کی شان میں بھی ایسے ہی "پداس" کہتا تھا۔ اس نے رگھوناتھ کے بیٹے "وجے راگھوا" کی شان میں بھی بہت سے اشعار کہے ہیں۔ اس کے "پداس" کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ رقص کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں اور ان سے تیلگو موسیقیت ظاہر ہوتی ہے۔

چے خف۔ انتون پاولووچ ((۱۹۰۴ – ۱۸۶۰))

Chekhov, Anton Pavlovich

ایک سخت گیر منیم کے گھر، جس نے بعد میں دوکان کر لی تھی، تگان روگ میں پیدا ہوا اور دوکان کا حساب کتاب رکھنے لگا۔ باپ کو آرٹ کا بھی شوق تھا۔ ماں تحمل اور ہمدردی کا نمونہ تھی۔ اولاد میں انتون کو دونوں ورثے ملے، جنھیں اس نے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۴۹

اپنے شوق، سخت محنت اور سلیقے سے چمکایا۔ موسیقی اور مصوری کے علاوہ طبی تعلیم حاصل کر کے ایک ہر دل عزیز ڈاکٹر بننے اور کنبہ پالنے میں بھی انھی صفات کو دخل ہے۔ دوکان اور پسماندہ مقامی اسکول کے دوہرے جبر نے خود اس ڈاکٹر کی صحت شروع سے خراب کر دی تھی جو شدید محنت اور بے آرامی کے باعث بالاخر جان لیوا ثابت ہوئی۔

کم عمری سے ہی نام بدل کر خاکے اور ایکانکی ڈرامے لکھنے اور ادبی ترجمے کرنے کی مشق شروع کی اور یہی آمدنی کا ذریعہ بھی بنی۔ اسی وسیلہ سے اپنے بھائیوں کی مدد کرتا رہا۔ طبی پیشے کو بیوی اور ادبی مشغلہ کو محبوبہ سمجھتا اور کہتا تھا۔

اس کی فنکاری کے اکثر نمونے جنھیں وہ غیر سیاسی اور اس کے معاصر غیر سماجی اور محض تفریحی شمار کرتے تھے، سرکاری جبر کے بدترین دور اور احتجاجی قوتوں کے بہترین زمانے ۱۸۸۱ تا ۱۸۹۵ کی پیداوار ہیں اور ہلکے سے مزاح کےپردے میں سنگین حقیقت کے آئینہ دار ہیں۔ "چھوٹے سے آدمی"، "ہلکے سے واقعی" اور "گزراں لمحی" کی آپ بیتی لکھنے اور مختصر، سادہ بظاہر بے ارادہ کہہ نکلنے میں اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔ منظر نامہ اس کےہاں صرف دو ایک نازک اشاروں تک محدود رہتا ہے۔

تپ دق کے آثار کے بوجود یالٹا سے لے کر سکھالیں جزائر تک اور پھر وہاں سے ایشیا کا بحری چکر کاٹ کر واپس ماسکو تک کا طویل سفر کیا۔ ہر جگہ ڈاکٹری پیشے کا فیض پہنچایا۔ ادارے قائم کیے، ارباب اقتدار کو اصلاحات کی جانب متوجہ کیا اور ہر مقام سے ادب کے لیے خام مواد سمیٹا۔ آثار اور کردار، دونوں کے نقوش محفوظ ہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۵۰

۱۸۸۵ سے ۱۹۰۰ تک کم و بیش پانچ سو افسانے لکھ لینے کے ساتھ ڈرامے کو مرکز نگاہ بنایا اور آخری آٹھ سال کے دوران پانچ اتنے اہم اور بالکل اچھوتے انداز کے ایسے ڈرامے لکھے جن سے اسٹیج کی دنیا نے اپنا کاسٹیوم بدلنا سیکھا۔ عمر کے آخری دور میں اپنے ڈرامے کی ایک کم عمر آرٹسٹ اولگا سے محبت کی۔ شادی کر لی تھی مگر بہت کم وقت اس کے ساتھ گزار سکا۔

مشہور اور یادگار مختصر اور طویل افسانے "گرگٹ"، "گھاٹی میں"، "ڈائیل"، "وارڈ نمبر ۶"، "خول میں بند آدمی"، "شادی"، "ہمسائی"، "دُلہن"، "البیون کی بیٹی"، "نقاب"، "یونچ"، "بے لطف کہانی"، "دشمن"، "غم"، "بھونرا"، "نواب زادی"، "اسٹیپی"، "کالا سادھو"، "تین سال"، "ادب کا استاد"، "دو چھتی والا مکان"، "میری زندگی"، "ایکانکی ڈرامی"، "شادی کا رشتہ"، "ریچھ" ہیں۔ خاص ڈرامے "چائکا" ((مرغابی))، "ماموں وانیا"، "تین بہنیں" اور "بیری باغ" ہیں۔

چیتیہ ((۱۴۸۵ – ۱۵۳۳)) : بنگال کے علاقہ نودویپ یا ندیا نگر میں سمت سن ۱۵۴۲ میں پونم کے تہوار کے دن چاند گرہن کے وقت سری چیتیہ کی پیدائش ہوئی تھی۔ ان کے والد کا نام جگناتھ اور ماں کا نام شیوجی دیوی تھا۔ بچپن میں ان کا نام وشوم بھر تھا لیکن ان کو نمائی، گوڑ، گورانگ، گوزہری کے نام سے پکارتے تھے۔ سنیاس لینے کے بعد یہ سری کرشن چیتیہ مہاپربھو کے نام سے مخاطب کیے جاتے تھے۔ بچپن سے ہی ان کی شخصیت غیر معمولی تھی۔ وہ بڑے زندہ دل تھے۔ کھیلوں میں کافی شرارت کرتے تھے۔ عمر کے پانچویں سال میں تعلیم کا آغاز ہوا اور نویں سال میں ان کی رسم زنار بندی کی گئی۔ انھوں نے پنڈت گنگا داس سے دو سال تک سنسکرت صرف و نحو کی تعلیم حاصل کی اور سنسکرت پڑھتے رہے۔ پھر دو سال وشنو مترا کی زیر نگرانی منو سمرتی وغیرہ، ہندو قانون اور جوتش کے شاستروں کا مطالعہ کیا اور دو سال تک سدرشن مترا کے پاس کھٹ درشن یا ہندو
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۵۱

فلسفہ کے چھ نظاموں کا درس حاصل کرتے رہے۔ اس کے بعد واسدیو سارو بھرم کے پاٹھ شالہ میں ہندی منطق اور ترک شاستر پڑھ کر سری ادوینا چاریہ سے ویدوں اور سری مدبھاکرت کا تفصیل سے مطالعہ کیا اور ودیا ساگر کا خطاب حاصل کیا۔ چیتیہ لوگوں کے ساتھ مناظرہ کرتے وقت بہت چست و چالاک اور حاضر جواب دکھائی دیتے تھے۔ ان کی بحث کو سن کر بڑے بڑے عالم فاضل بھی حیرت کرتے تھے۔ مشہور منطقی رگھوناتھ شرومنی ان کے ہم جماعت تھے۔ ان دونوں نے ہندی منطق پر کئی کتابیں لکھیں۔ چیتیہ نے تمام علوم میں کامل مہارت حاصل کر کے صرف سولہ سال کی عمر میں سمت سن ۱۵۵۹ میں اپنا ایک پاٹھ شالہ کھول دیا اور ویاکرن ((سنسکرت حرور و نحو)) پڑھانے لگے۔ ان کا مطالعہ اس قدر گہرا اور طریقہ تعلیم اس قدر خوشگوار تھا کہ شاگردوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ اسی سال ان کی شادی ولبھ آچاریہ کی لڑکی لکشمی پربا جی سے ہوئی۔ ان ہی دنوں میں شری مادھویندر پوری یاترا کرتے ہوئے نودویپ پہنچے اور کچھ دن وہاں ٹھہرے۔ ان کی پاک صحبت اور روحانی تقریروں سے سری چیتیہ میں پریم بھگتی کی آگ بھڑک گئی۔ ۱۵۶۰ سمت میں گوریا گورانگ کہلانے والے چتینیہ نے مشرقی بنگال کا سفر کیا اور اپنے آبا و اجداد کے مقام سری مٹ تک پہنچے۔ اس زمانہ میں سانپ کاٹنے سے ندیا میں ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا۔ سفر سے واپس آ کر انھوں نے پھر پاٹھ شالہ کا کام شروع کر دیا اور چوطرف مناظروں میں فتح پانے والے عالم فاضل کیشو کشمیری کو سنسکرت کے ادبیاتی مباحثہ میں شکست دے دی اور ان کو اپنا بھکت بنا لیا۔ اس کے نتیجہ کے طور پر گورانگ پربھوندیا کے سب سے قابل عالم و فاضل تسلیم کیے جانے لگے۔ ۱۵۶۱ میں ان کی دوسری شادی سناتن مترا کی لڑکی وشنوپریا سے ہوئی۔ گیا میں آپ نے سنت ایشور پوری سے مذہبی طریقہ پر منتر حاصل کیا اور پھر نودویپ واپس آ گئے۔ لیکن اب منطق پڑھانے کے بجائے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۵۲

ایشور کی بھگتی اور عشق الہی کا سبق دینے لگے اور ہری نام سنکیرتن اور بھگوت بھگتی کی اشاعت میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔ ستیہ نند، ادویت آچاریہ وغیرہ سب ہی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ سمت ۱۵۶۵ میں ان پر ایسی روحانی کیفیت طاری ہوئی کہ یہ بھگوت اوتار مانے جانے لگے۔ ان کے ہری نام سنکیرتن اور سری کرشن پریم بھگتی کا بازار ایسا گرم ہوا کہ بنگال ہی نہیں بلکہ تمام شمالی ہندوستان کی مذہبی دنیا متاثر ہوئی۔

گیا میں منتر حاصل کرنے کے بعد یہ برائے نام خانہ دار ((گرہستھ)) بنے رہے، لیکن درحقیقت دل سے وہ بھگوان سری کرشن کے جاں نثار بھگت تھے اور دنیاوی خواہشات کو ترک کر چکے تھے۔ پھر بھی اس خیال سے کہ گرہستی کو ترک کر کے سچ مچ سنیاسی ہو کر اپنے بھگتی کے مذہب کی اشاعت تمام ہندوستان میں کر سکتے ہیں۔ انھوں نے سمبت ۱۵۶۶ میں کیشوبھارتی کی ہدایت حاصل کر کے سنیاس لے لیا اور ان کے سنیاس آشرم کا نام سری کرشن چیتیہ ہوا۔ اپنی ماں کے حکم سے انھوں نے نیلا چل جگناتھ پوری میں رہنا منظور کر لیا۔ وہیں سے اپنے دھرم کو پھیلانا شروع کر دیا۔ یہاں انھوں نے اپنے ذاتی گیان سے ایک زبردست عالم سادھو بھیم بھٹاچاریہ کو بھگت بنا لیا اور اودھوت نینسا نند گو سوامی کو بے حد متاثر کر کے اور ان کو گرہستھ بنا کر اپنے دھرم کی اشاعت کرنے کے لیے پوری سے اپنے گھر ندیا کو روانہ کر دیا تا کہ وہ بنگال میں ہر جگہ بھگتی پھیلا دیں اور آپ خود جنوب کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں رائے رام نند سے روحانی مسائل پر بات چیت کر کے سری رنگ پٹن پہنچ گئے۔ وہاں وینکٹ بھٹ کے یہاں برسات کے چار مہینے گزارے اور سمبت ۱۵۶۸ میں ان کے بیٹے گوپال بھٹ کو چیلا بنا لیا۔ یہی گوپال بھٹ اور ان کے شاگردوں کے گروہ نے شمالی ہندوستان سے گجرات تک اس متبرک کام کو نہایت کامیابی سے انجام دیا۔ اس طرح دو سال کے بعد سری چیتیہ نیلانچل واپس آ گئے۔ یہاں سے وہ
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۵۳

ایک مرتبہ بنگال بھی گئے اور اس کے بعد سمبت ۱۵۷۲ میں برندابن کی جاترا کے لیے نکل گئے۔ بنارس اور الہ آباد ہوتے ہوئے یہ متھرا پہنچے اور وہاں لیلا کے تمام مقامت کے درشن کیے۔ راستہ میں انھوں نے روپ گوسوامی اور سناتن گوسوامی کو اپنا چیلا بنا کر انھیں برندابن جانے کی ہدایت دے دی اور بنارس میں ویدانت کے مسایا وادی پرکاش آندد سرسوتی کو اپنی منطقی دلیلوں سے متاثر کر کے انھیں اپنا چیلا بنا لیا۔ اس طرح تمام ہندوستان میں متبرک پریم بھگتی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے نیلانچل واپس آ گئے۔ ان کے پاکیزہ اوصاف اور سب سے یکساں محبت اور پریم کے برتاؤ کی وجہ سے جو بھی ان سے ملتا ان کا گرویدہ ہو کر ان کا چیلا بن جاتا تھا۔

سمبت ۱۵۷۳ میں یاترا سے واپس آنے کے بعد سمبت ۱۵۹۰ تک نیلانچل میں ہی رہے اور یہیں اسی سال وہ غائب ہو گئے۔ ان آخری ۱ٹھارہ سال میں ہمیشہ رات دن ہری کیرتن، سری مدبھاگوت کا پاٹھ اور بھجن گاین برابر ہوتا رہا اور کئی ایک بہت مشہور عالم فاضل بھگت ان کو گھیرے رہتے تھے۔ ان کے پریم بھگتی کے پرچار سے برہمن سے لے کر چنڈال تک میں کرشن بھگتی کی عجیب و غریب لہر دوڑ گئی تھی اور بے شمار لوگ اس فرقہ کو تسلیم کر کے اس راہ پر گامزن ہو گئے۔

چینی تبتی خاندان کی زبانیں : اس خاندان میں بھی تین ذیلی خاندان ہیں : ((۱)) تبتی برمی، ((۲)) چینی اور ((۳)) کدائی جو مشرقی ایشیا کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔

تبت میں تبتی، برما میں برمی اور جنوب برما میں کیرین

Karen

زبانیں ہیں۔ پاکستان، ہندوستان اور برما کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان تبتی برمی زبانوں کا پھیلاؤ ہے۔ اسی وجہ سے ان میں بڑا تنوع ہے۔ گاروبوڑو اور
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۵۵۴

ناگ زبانیں بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ چینی زبانوں میں منڈارین

Mandarian

سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان ہے جو شمالی چین کے نصف حصہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ دوسری زبانینوو

Wu

سوچوفوکین، فوچو آموئی، بک کا بین ہیں جو ان شہروں کے نام پر ہیں یا ان تمام کا مجموعی نام کنٹونیز

Cantonese

ہے۔

کدائی گروہ کی زبانوں میں تھائی سیامی لاؤ اور برما کی شان زبانیں ہیں جو جنوب مغربی چین سے برما تک رائج ہیں۔ چینی تبتی خاندان کی زبانوں میں دخیل الفاظ کی بہتات ہے۔

حاتم، شیخ ظہور الدین ((۱۷۸۳ – ۱۶۹۹)) : نام شیخ ظہور الدین تھا لیکن شاہ حاتم کے نام سے مشہور ہوئے۔ پہلے رمز تخلص رکتے تھے۔ جوانی میں عمدۃ الملک امیر خاں انجام کی مصاحبت اختیار کی۔ آزاد منش تھے پھر فقیری اختیار کی، دنیا کے تعلقات سے توبہ کر کے توکل پر گزارہ کیا۔ دلی میں وفات ہوئی۔

حاتم اہم شاعر تھے۔ ان کے شاگرد بھی ممتاز ہوئے۔ سعادت یار خاں رنگین، محمد امان نثار اور عبد الحی تاباں ان کے ارشد تلامذہ میں تھے۔ حاتم نے بہت سے غیر مانوس اور غیر فصیح الفاظ ترک کر کے اپنی زبان کو دلی کے مرزاؤں اور رندوں کی زبان کے مطابق بنایا۔ اس زبان کی خصوصیات یہ تھیں کہ یہ عام فہم تھی کیونکہ اس میں عربی کے ثقیل الفاظ کم تھے، لیکن اس میں سنسکرت سے ماخوذتت سم الفاظ بھی کم تھے۔ محاورہ اہل زبان کو کتابی محاورے پر فوقیت دی گئی تھی۔ یہ سب اصول ھاتم نے اپنے دیوان موسوم بہ "دیوان زادہ" ((۱۷۵۵)) کے دیباچے میں بیان کیے ہیں۔ حاتم نے جو پابندیاں عائد کی تھیں وہ بہت سخت نہ تھیں، لیکن انھیں آہستہ آہستہ سکت تر کر دیا گیا اور ان کا یہ اصول نظر انداز ہو گیا کہ محاورہ اہل زبان کو کتابی سند پر فوقیت ہے۔ مضامین کے لحاظ سے دیکھیں تو
 
Top