اردو اشعار کی تشریحات

محمد خرم جاوید نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 23, 2015

  1. محمد خرم جاوید

    محمد خرم جاوید محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    InLove
    کیا کوئی اس شعر کی تشریح کر دے گا وہ بھی مشکل الفاظ کے معانی کے ساتھ جیسے کہ (زلف کاسرہونا) وغیرہ!
    آہ کو چاہئے اک عمر اثر کے ہونے تک
    کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. محمد خرم جاوید

    محمد خرم جاوید محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    InLove
    یہ محفل نوجوانوں کے لئے موزوں و ممدود ہو گی جو اشعار تو پڑھتے ہیں لیکن ا س کو سمجھنا محال گردان کر اردو شاعری سے آہستہ آہستہ کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں! اس برائے مہربانی اس محفل میں بھر پور حصہ لیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. Mystic Enigma

    Mystic Enigma محفلین

    مراسلے:
    141
    موڈ:
    Where
    میں سمجھنا چاہتی ہوں اشعار کو آپ کے ساتھ ہوں. خوب سلسلہ شروع کیا
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد خرم جاوید

    محمد خرم جاوید محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    InLove
    محفل پسند کرنے کا شکریہ، لیکن اشعار کی تشریح کون اور کب شروع کرے گا؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  5. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    شعر کی تشریح کوئی بھی شروع کرسکتا ہے۔۔۔ پابندی نہیں ۔۔۔
    ایک کوشش میری طرف سے:
    آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
    کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
    ۔۔۔
    آہ اثر کرے، اس کے لیے وقت درکار ہے اور وہ وقت بہت طویل ہے۔
    زلف کا سر ہونا ۔۔۔ اسے یوں سمجھئے جیسے شاعر نے زلف کو پہاڑ سے تشبیہ دی ہے جسے سر کرنے کے لیے اتنا وقت درکار ہے کہ شاعر کو اپنی زندگی میں یہ کام ہوتا نظر نہیں آتا۔
    تاہم یہ بات دلیل کے اعتبار سے درست معلوم نہیں ہوتی۔ یعنی آج کے دور میں ایسا شعر کہا جاتا تو تنقید شدید ہوتی ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. محمد خرم جاوید

    محمد خرم جاوید محفلین

    مراسلے:
    5
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    InLove
    شاندار! بہت اعلٰی شاہد بھائی! ، اچھے سے تشریح کی آپ نے ، شکری جناب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    4,394
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا - کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکر ِتصویر کا

    تشریح درکار ہے ۔۔۔
     
  8. راحیل فاروق

    راحیل فاروق محفلین

    مراسلے:
    1,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    نقش فریادی ہے کس کی شوخیءِ تحریر کا
    نقش سے مراد تصویر ہے۔ شوخی ہماری ادبی روایت میں صرف شوخ ہونا نہیں بلکہ محبوب کی ستم گری بھی کسی قدر اس کے مفہوم میں شامل ہو گئی ہے۔ فریادی مطلب فریاد کرنے والا۔ تحریر کا مطلب لکھائی نہ سمجھیے۔ مصوری بھی تحریر میں شامل کیجیے۔ دونوں قلم کا کمال ہیں۔
    شاعر سوال کرتا ہے کہ تصویر کس کے قلم یا تحریر کی شوخیوں کی بابت فریاد کر رہی ہے۔
    کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
    زمانہءِ قدیم کے ایران میں رسم تھی کہ فریادی بادشاہ کے دربار میں کاغذ کی پوشاک پہن کر آتے تھے۔ یعنی کاغذ پہن لینے کا مطلب ہی یہ تھا کہ موصوف پر کوئی ستم ٹوٹا ہے جس کی داد رسی مقصود ہے۔
    پیرہن مطلب لباس۔ پیکرِ تصویر یعنی تصویر کا ہیولیٰ۔ تصویر کا بدن۔
    اب مصرعِ ثانی پر غور کیجیے۔ عام طور پر تصویر کاغذ پر بنتی ہے۔ شاعر نے نکتہ پیدا کیا ہے کہ ہر تصویر نے گویا کاغذ کی پوشاک پہن رکھی ہے۔
    اب پورے شعر کا مفہوم دیکھیے۔
    ہر تصویر نے گویا کاغذ کی پوشاک پہن رکھی ہے۔ یعنی ہر تصویر فریادی ہے۔ ہر نقش کسی کی شوخی یا ستم گری کے بارے میں شکایت کر رہا ہے۔ آخر یہ تصویریں، یہ نقوش کس کے قلم کی شوخی کی چوٹ کھائے ہوئے ہیں؟
    نقش فریادی ہے کس کی شوخیءِ تحریر کا
    کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

    ہمارے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ شعرا عام طور پر اپنے دواوین کا آغاز حمد و نعت سے کرتے ہیں۔ مرزا نے یوں تو نہیں کیا مگر دیوان کے پہلے شعر میں اردو کی بلیغ ترین حمد کہہ دی ہے۔
    حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو اس شعر کی لطافت کا جواب نہیں۔ تصویریں کاغذ پر بنتی ہیں۔ کوئی مصور چاہے یا نہ چاہے مگر اس کی بنائی ہوئی ہر تصویر گویا ایک فریادی ہے جو کسی عظیم تر مصور کی شوخیءِ تحریر کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ ستم یا ظلم وغیرہ سے متعلق کوئی لفظ استعمال نہیں کیا جو مالکِ حقیقی کی ذات کے شایان نہ ہو۔ شوخی کہا ہے۔ جو محبوبوں کی صفت ہے۔
     
  9. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    4,394
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Daring
    راحیل فاروق... صاحب ...بہت نادم ہوں آپ کو دیر سے جواب دینے پر....اسکے بعد بہت شکریہ آپ کے اتنی بہترین تشریح کرنے کا بات بہت واضح ہوگئی ۔۔ اب ...نوازش ...
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. مزمل اختر

    مزمل اختر محفلین

    مراسلے:
    109
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Pensive
    شعر بہت پسند آیا
    پہلے مصرعہ کی تشریح درکار ہے

    *عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا*

    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
    مرزا غالب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. فہیم ملک جوگی

    فہیم ملک جوگی محفلین

    مراسلے:
    207
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جہاں سے تخلیق ہوئی ہے وہیں ساری تکلیفوں کا حل بھی ہے ۔

    عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا۔ ۔
    درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا۔ ۔

    غالب کہہ رہے ہیں کہ اک قطرے کے لیے اس سے بڑھ کر فخر اور خوش نصیبی کی کوئی بات نہیں کہ وہ اپنے اصل یعنی دریا سے مل جائے۔اور مل کر اُس کا حصہ بن جائے یعنی جہاں سے آئے تھے وہیں لوٹ جائیں۔لیکن ہر قطرے کا نصیب ایسا نہیں ہوتا ۔کچھ خاک میں نِیست و نابود بھی ہو جاتے ہیں ۔ ۔
    اس پہلو سے غالب کہتے ہیں کہ جو انسان عشقِ حقیقی کی راہ پر رنج و الم اُٹھائے گا اور اُس راہ پہ بے خوف بڑھتا جائے گا۔اور درد کی پرواہ نہ کرے گا وہی کامیاب ہو گا۔یعنی درد جب حد سے زیادہ ہو جاتا ہے تو انسان کی روح نکل جاتی ہے اور وہ نجات پاجاتا ہے ۔موت وہ دوا ہے جو انسان کو آرام پہنچاتی ہے اور سچے عاشق کو خدا سے ملا دیتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اس شعر میں اور بھی بہت ساری باتیں ہیں اور بہت سارے پہلو ہیں لیکن وہ ابھی زیرِ بحث نہیں لاؤں گا۔ ۔ ۔ ۔
    اس شعر میں جو بات تھی وہی ذیل کے اس شعر میں بھی ہے کہ ہر قطرے کا نصیب نہیں ہوتا کہ دریا بن جائے ۔ ۔ ۔
    قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے۔ ۔ملاحظہ فرمائیے :-

    قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے ۔ ۔
    کام اچھا ہے وہی جس کا کہ مال اچھا ہے۔ ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. مزمل اختر

    مزمل اختر محفلین

    مراسلے:
    109
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Pensive
    ارے واہ
    یہ تو کمال ہوگیا
    مرحبا مرحبا

    آپ کو اندازہ نہیں ہوگا کہ آپ نے کتنی جامع اور بہترین تشریح کی ہے ، میں بتا نہیں سکتا اس تشریح کے بعد میری کیا حالت ہے یہاں تکہ کہ یہ عاجز کا پسندیدہ شعر ہوگیا ہے ، اللہ آپ کے علم میں اور اضافہ فرمائے . ڈھیر ساری محبتیں آپ کے لیے
     
  13. سید حیدر علی شاہ

    سید حیدر علی شاہ محفلین

    مراسلے:
    8
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    واہ عمدہ تشریح فہیم ملک
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. آصف مجید

    آصف مجید محفلین

    مراسلے:
    10
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بہت اچھا فورم ہے۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے
     
  15. اکرام ہاشمی

    اکرام ہاشمی محفلین

    مراسلے:
    2
    یہاں تشریح وضاحت سے مع تصویری حوالوں کے بیان کی گئ ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    14,000
    جھنڈا:
    Pakistan
    اچھا سلسلہ ہے۔۔۔
    محمد وارث بھائی کے فارسی اشعار کی طرح اردو اشعار کی تشریحات کا سلسلہ بھی جاری و ساری رہنا چاہیے!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. احمد محمد

    احمد محمد محفلین

    مراسلے:
    486
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    آج پہلی دفعہ یہ لڑی نظر سے گذری۔ بہت اچھی لڑی ہے، اسے جاری رہنا چاہیے۔

    مندرجہ ذیل اقتباسات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کچھ وضاحت کرنا چاہوں گا۔

    جو لوگ کبوتر پالتے ہیں وہ اس اختراع سے بخوبی واقف ہیں۔ جب کوئی نیا کبوتر خرید کر لایا جاتا ہے تو اس کے پر کاٹ دئیے جاتے ہیں تا کہ نئے آشیانے سے مانوس ہونے کے عرصہ میں یہ اُڑ کر چلا نہ جائے اورجب تک اس کے پر واپس نہیں آتے اس دوران یہ اختراع استمعال ہوتی ہے کہ "ابھی کبوتر سر نہیں ہوا". مطلب پوری طرح اُڑنے کے قابل نہیں ہوا۔

    اس شعر میں میں شاعر نے "سر ہونا" یعنی پوری طرح اُڑان بھرنے کے قابل ہونے کو محبوب کے مکمل جوان ہونے سے تشبیح دی ہے۔ سمجھ تو آگئی ہو گی مگر پھر بھی مکمل وضاحت کے لیے مزید عرض ہے کہ:-

    شاعر نے کسی ایسے نابالغ (ٹین ایج) پری چہرہ اور خوبصورت کی شوخیاں و انداز دیکھ کر اس پر فریفتہ ہو گیا اور سوچا کہ ابھی سے ہی اس کے ناز نخروں کا جواب نہیں ہے تو جب یہ محبوب جوان ہوگا تب کیا عالم ہوگا۔ اور پھر ساتھ ہی اپنی ڈھلتی عمر کا سوچ کر آہ بھری کہ جب یہ جوان ہوگا تب پتہ نہیں اسے دیکھنے کے لیے میں زندہ بھی رہوں گا یا نہیں۔

    اب اس شعر کو دوبارہ پڑھیں

    آہ کو چاہیے اک عمر (مزید کئی سال) اثر (جوان) ہونے تک

    کون جیتا ہے (پتہ نہیں تب تک میں زندہ بھی ہوں گا نہیں) تیری زلف کے سر (تیرے پوری طرح جوان) ہونے تک۔

    تشریح غیر میعاری لگے تو پیشگی معذرت چاہتا ہوں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  18. احسن سلطان

    احسن سلطان محفلین

    مراسلے:
    1
    "ہمیں جبکہ اپنا بنا لیا تو ربط کس لئے ہم سے کم یہ حجاب کیا،یہ گریز کیوں،رہیں سامنے تو وہ کم سے کم غمِ آرزو،غمِ جستجو،غمِ امتحاں،غمِ جسم و جاں مری زندگی..."


    (•ان اشعار کی تشریح بتا سکتا ہے کوئی پلیز
    مجھے اس کے بارے میں اس لحاظ سے جاننا کہ یہ عشق مجازی ہے یا حقیقی!!)
     
  19. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    14,000
    جھنڈا:
    Pakistan
    یہ اشعار بظاہر تو عشق حقیقی کے پس منظر میں کہے گئے ہیں۔۔۔
    لیکن طرز بالکل مخلوق سے شکوہ شکایت والا رکھا گیا ہے۔۔۔
    جو اللہ تعالیٰ کی شان و عظمت کے خلاف ہے۔۔۔
    جیسے پہلے مصرع میں شکایت کی گئی کہ خدا نے ربط بڑھا کر کم کرلیا۔۔۔
    جبکہ اللہ تعالیٰ تو ربط نہ رکھنے والوں کے رجوع کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔
    اور جو ربط بڑھا کر پیچھے ہٹتا ہے اسے مخاطب کرتے ہیں فاین تذھبوں، فاین ترجعون، فاین تؤفکون۔۔۔
    یعنی ہم سے منہ موڑ کے کہاں چل دئیے، الٹے پاؤں کیوں پھر گئے۔۔۔
    اسی طرح ایک آدھ کے سوا باقی اشعار بھی اپنی وفا اور خدا کی جفا کا شکوہ لیے ہوئے ہیں!!!
     
  20. شعیب علی بھٹی

    شعیب علی بھٹی محفلین

    مراسلے:
    1
    احباب سخن محترم لکھاری اور قاری حضرات السلام علیکم!
    میں نیا نیا میدان سخن میں اترا ہوں مجھے اوزان کا بلکل علم نہیں ہے مجھے سخن کی گردانیں نہیں آتیں بس الفاظ گھیر کر خود کو مطمئن کرتا ہوں یہ میری ابتدائی کوششوں میں سے ایک ادنی سی کوشش ہے قبلہ راہنمائی فرما دی۔۔
    میں اس فورم پہ نیا ہوں آج پہلی حاضری ہے تو صاحبان اعلی ظرفی کا مظاہرہ کر کے کانٹ چھانٹ کر دیں
    ممنون۔۔۔انشاء چوہدری
    رخصت یار بھی کیا قیامت کی گھڑی ہے
    میری نازک طبع اور سزا بہت بڑی ہے

    وہ شہر میں نہیں ہے تو طبیعت کو کیا ہوا
    پہلے بے کلی تھی آج شدت کی تھرتھری ہے

    یہ جو صندوق مقفل ہے ناں میرے دوست۔
    اس میں خط نہیں ، میری زندگی پڑی ہے

    موت مشکل کشا ہے بے سہاروں کے واسطے
    اذیت جینے کی میاں ہم ںپہ بہت کڑی ہے۔

    میں تو خوگر غم ہوں سہہ جاؤں گا شاید
    مگر اے بچھڑنے والے مجھے تیری پڑی ہے

    روک تو لیتا شاید اس کو جانے سے انشاء
    میں کیا کروں اجل رہ روکے کھڑی ہے۔
    انشاء چوہدری
     

اس صفحے کی تشہیر