دوسری سالگرہ اراکین اشعار کے آئینے میں

F@rzana

محفلین
ماورا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چندا ذرا ٹھیک سے چیک کرلو اگر کسی کا نام رہ گیا ہے تو یا دلادو تاکہ ان کو بھی شامل کرلیا جائے ۔۔۔۔ورنہ تو۔۔۔۔۔ :roll:
(My neck is on the line)
 

ماوراء

محفلین
فرزانہ سسٹر۔۔۔میرا خیال ہے ابھی بھی کچھ نام رہتے ہیں۔

ابو شامل
اظہرالحق
جاوید اقبال
راسخ
باسم
راہبر
واجد حسین
کالاپانی


ہو سکتا ہے ان میں سے کچھ کے لیے لکھ چکی ہوں۔ اور مجھے یاد نہ رہا ہو۔
 
F@rzana نے کہا:
محب، شعر ملا نہیں ابھی تک؟
:shock:
(جنگل مت نکل جانا)

پہلے بھی ایک شعر لکھا تھا تمہارے لیے پڑھا نہیں

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے :wink:

ویسے تم ذرا لیٹ ہو گئی میں جنگل پہنچ گیا تھا وہاں مجنوں کو اداس دیکھا تو لوٹ آیا مگر شعر لے آیا ہوں تمہارے لیے


یہ بزم محبت ہے اس بزم محبت میں
دیوانے بھی سودائی فرزانہ بھی سودائی
 
اب ٹھیک کر دیا ہے ۔

پہلا شعر تھا

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنَِ کرشمہ ساز کرے
 

F@rzana

محفلین
محب علوی نے کہا:
F@rzana نے کہا:
محب، شعر ملا نہیں ابھی تک؟
:shock:
(جنگل مت نکل جانا)

پہلے بھی ایک شعر لکھا تھا تمہارے لیے پڑھا نہیں

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے :wink:

ویسے تم ذرا لیٹ ہو گئی میں جنگل پہنچ گیا تھا وہاں مجنوں کو اداس دیکھا تو لوٹ آیا مگر شعر لے آیا ہوں تمہارے لیے


یہ بزم محبت ہے اس بزم محبت میں
دیوانے بھی سودائی فرزانہ بھی سودائی

لو، جنگل تم پہنچے اور شعر میں نے کہہ دیا(حد ہے بھئی)

حقیقت میں یہ دانائی بہت بے چین کرتی ہے
وہ لڑکی جو ہے سودائی بہت بے چین کرتی ہے

(اب سر دھنو)
 
کیا کہنے تمہارے ، ٹھہری نہ فی البدیہہ شاعرہ

سر دھنتا ہوں مگر کوئی اچھا ہیر آئل بھی تو دے دو تاکہ اسی بہانے سر کی مالش بھی ہو جائے۔

ویسے یہ سودائی لڑکی فرزانہ بھی ہے (‌حد ہے ویسے :wink: )
 

تفسیر

محفلین
جیہ ، ماورا اور حجاب کے لئے

بنجارے ہیں رشتوں کی تجارت نہیں کرتے
ہم لوگ دکھاوے کی محبت نہیں کرتے

کیوں بوجھ لیے بیٹھے ہو تم ذہین پہ اپنے
ہم لوگ تو دشمن سے بھی نفرت نہیں کرتے

پلکوں پہ ستارے ہیں نہ شبنم ہے نہ جگنو
اسطرح تو دشمن کو بھی رخصت نہیں کرتے
 

جیہ

لائبریرین
تفسیر نے کہا:
جیہ ، ماورا اور حجاب کے لئے

بنجارے ہیں رشتوں کی تجارت نہیں کرتے
ہم لوگ دکھاوے کی محبت نہیں کرتے

کیوں بوجھ لیے بیٹھے ہو تم ذہین پہ اپنے
ہم لوگ تو دشمن سے بھی نفرت نہیں کرتے

پلکوں پہ ستارے ہیں نہ شبنم ہے نہ جگنو
اسطرح تو دشمن کو بھی رخصت نہیں کرتے

بقول غالب

ڈبویا مجھ کو ہونے نے
نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
 
Top