احمدی اقلیت اور ہمارے علما کا رویہ

جاسم محمد نے 'اسلام اور عصر حاضر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 16, 2020

  1. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    1,305
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    جاسم صاحب اپ قادیانیوں کیا مانتے ہیں۔۔۔؟؟؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    517
    موڈ:
    Breezy
    میری ایک گزارش ہے جاسم صاحب کہ آپ کو جن معاملات کی حقیقت کا ادراک نہیں خدارا آپ انہیں موضوع بحث نہ بنایا کریں کیونکہ ایک کلرک (جو سائنس کی ابجد تک سے واقف نہ ہو) فلسفے پر لیکچر دینے آئے گا تو افلاطون بھی پانی بھرتا نظر آئے گا
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,229
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    معزز محفلین سے گزارش ہے کہ دوسرے معزز محفلین کی ذات کو موضوعِ گفتگو نہ بنائیں۔ دوسرے کی رائے سے اختلاف آپ کا حق ہے، سو وہ ضرور کیجیے۔

    غلط اور اخلاقی معیار سے گرے ہوئے تبصروں کو منتظمین کے نوٹس کے لیے رپورٹ کریں لیکن براہِ راست کسی محفلین کی ذات کو نشانہ بنانے سے گریز فرمائیے۔
     
    • متفق متفق × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    20,577
    آئین پاکستان کے مطابق غیرمسلم اقلیت۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    1,305
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    ہاہاا۔۔۔ اپ آئین پاکستان نہیں ہیں ۔۔۔ اپکے اس نیم سیاسی بلکہ سیاسی جواب کا مطلب ہوا کہ اپ ان کو کافر نہیں مانتے۔۔۔۔۔ رہی بات اقلیت کی تو اپکے یہ حواری خود کو اقلیت نہیں سمجھتے ۔۔۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  6. وجی

    وجی لائبریرین

    مراسلے:
    24,693
    موڈ:
    Daring
    لَا إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ ٱللَّٰهِ
    بات صرف کلمہ کی کر لیتے ہیں اگر آپ کلمہ کو سمجھیں تو۔
    میرے نذدیک اللہ نے انبیاء ، رسول اور پیغمبر اتنے سارے اس لیئے بھیجے کہ ہر بار لوگ اس پیغام کو تبدیل کردیتے تھے ۔
    مگر آپ ﷺ کو بھیجنے کے بعد قرآن محفوظ کردیا و ہ پیغام محفوظ ہوگیاتو پھر کسی نئے نبی ، رسول یا پیغمبر کی کیا ضرورت رہ گئی۔
    اب کوئی کلمہ ہی صحیح سے نہیں سمجھ رہا تو کیا مسلمان کہلائے؟؟
    ہم بھی آپ ﷺ سے پہلے تمام انبیاء ، رسول اور پیغمبروں کو مانتے ہیں مگر عمل ، اقتداء صرف آپ ﷺ کی کرتے ہیں
    کیونکہ وہ الہامی پیغام و کتب ہوا کرتی تھی ہیں نہیں کیونکہ ان میں لوگوں نے تبدیلیاں کردیں۔ ابھی صرف ایک الہامی کتاب ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    20,577
    یہ عقیدہ ختم نبوت کی تعریف ہے اسلام کی نہیں ۔ قادیانی اسے تسلیم نہیں کرتے۔ قادیانی رسول اللہﷺ کو نبی و رسول مانتے ہیں اور اس بنیاد پر خود کو مسلمان تصور کرتے ہیں۔ دیگر مسلمان ان کو عقیدہ ختم نبوت رد کرنے پر کافر گردانتے ہیں۔ اسے عقیدہ کا اختلاف تو کہا جا سکتا ہے، کافر کی تعریف کے تحت کفر نہیں۔ قادیانی اگر یہود و نصاریٰ اور دیگر غیرمسلمین کی طرح رسول کریم ﷺ پر سرے سے ایمان ہی نہ لاتے تو بائی ڈیفینیشن کافر کہلاتے۔
     
  8. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    1,305
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    کسی کے زخموں پر نمک بالکل بھی نہیں چڑک رہا۔۔۔۔۔

    [​IMG]
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  9. ابو ہاشم

    ابو ہاشم محفلین

    مراسلے:
    826
    واقعی؟
    اگر یہ بات درست ہے تو یقیناًاحمدی ایک الگ امت ہیں یعنی غیر مسلم ہیں
     
    • غمناک غمناک × 1
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    20,577
    یہ واقعہ بالکل غلط ہے اور بغض قادیانیت میں لکھا گیا ہے۔ قادیانی لیڈر مرزا بشیر الدین محمود دیگر لیڈران تحریک پاکستان کی طرح یہی سمجھتے تھے کہ پورا پنجاب پاکستان کا حصہ بنے گا۔ اسی لئے انہوں نے پاکستان ہجرت کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ اور جب پارٹیشن سے قبل معلوم ہوا کہ قادیان بھارت کا حصہ بننے جا رہا ہے تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی اوّل دن سے حمایت پر پاکستان ہجرت کی۔ اور پھر وہاں جا کر نئے سرے سے قادیانیوں کا شہر چناب نگر بسایا۔
    اگر مرزا بشیر کو قادیان میں ہی رہنا ہوتا تو پاکستان ہجرت کی تکالیف ہی نہ اٹھاتے۔ بھارتی سیکولر آئین میں تو آج بھی قادیانی مسلمان تصور کیے جاتے ہیں۔ بھارت و قادیان سے اتنی محبت تھی تو واپس چلے جاتے۔ مگر وہ مرتے دم تک پاکستانی رہے اور آج بھی چناب نگر میں ہی دفن ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    20,577
    تحریک پاکستان کے ہیروز: ملک کے پہلے وزیر خارجہ چوہدری ظفراللہ خان (جو کٹر قادیانی تھے) بانی پاکستان محمد علی جناح کا کوئٹہ میں استقبال کر رہے ہیں
    [​IMG]
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    1,303
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    یہ بات درست ہو تب بھی، اور غلط ہو تب بھی، قادیانی غیر مسلم ہیں۔ کسی کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا تعلق اس کے عقیدے سے ہے۔
    یہ واقعہ تو اس تناظر میں بیان کیا گیا تھا کہ کن کن مواقع پر قادیانیوں نے خود تسلیم کیا کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ خیر آج وہ نہ بھی مانیں تب بھی ان کا کفر شک و شبہ سے بالاتر ہے۔
    امت میں جھوٹے مدعیانِ نبوت کی آمد کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ پہلا کذاب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں آیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر اسے جہنم واصل کیا گیا تھا۔ انھی کذابین میں سے ایک مرزا قادیانی ہے۔
    ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ آئندہ کوئی کذاب مدعی نبوت نہیں آئے گا۔ اس قسم کے اور دیگر فتنوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم علمائے کرام سے جڑ کر رہیں۔ جنت میں جانے کا رستہ ایک ہی ہے لیکن جہنم میں جانے کے ان گنت راستے ہیں جہاں ہزاروں ایمان کے شکاری دامِ ہمِ رنگِ زمیں بچھائے بیٹھے ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏فروری 22, 2020
    • متفق متفق × 2
    • غمناک غمناک × 1
  13. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,703
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    وضاحت کے لیے پوچھ رہا ہوں کہ غیر مسلم اور کافر کا ایک ہی معنی ہے یا دونوں میں کوئی فرق ہو گا؟
     
    • زبردست زبردست × 1
  14. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    1,303
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    دونوں کا ایک ہی مطلب ہے۔
    پھر بھی آپ کہتے ہیں تو میں کسی عالمِ دین سے پوچھ لوں گا تاکہ شک کی کوئی گنجائش نہ رہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  15. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,703
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    عقلِ عام کی روشنی میں دیکھا جائے تو مثال کے طور پر ایک شخص پر خدا کا پیغام مکمل واضح ہو گیا اور اب وہ جانتے بوجھتے اس کا انکار کر رہا ہے تو اسے قرآن کی اصطلاح میں کافر ہی کہا جائے گا۔
    لیکن ایک شخص تک پیغام پہنچا ہی نہیں یا واضح ہی نہیں ہوا تو عقل تقاضا کرتی ہے کہ اسے اسی درجہ میں نہ رکھا جائے۔
    اس لیے پوچھا۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  16. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,058
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بات آپ کی درست ہے عرفان صاحب فرق موجود ہے۔ جہاں تک میرا مطالعہ ہے علمائے کرام بھی یہ فرق تسلیم کرتے ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں اللہ نے ہدایت کا بندوبست نہ کیا ہو اور تمام گذشتگان و آئندگان تک خدا کا پیغام پہنچا ہے اور پہنچے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  17. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    6,703
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Mellow
    یہاں ذہن میں کچھ تحفظات موجود ہیں۔
    پیغام پہنچنے اور اس پر شرحِ صدر ہو کر ایمان لانے میں فرق ہے۔ پیغمبروں کا بھی معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے صرف پیغام پہنچایا ہی نہیں بلکہ اسے آخری درجے میں واضح کر دیا۔ اور ہر قوم کے لیے اس کی مدت بھی مختلف رہی ہے۔ اس کے بعد پیغمبروں کی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کے فیصلے کے تحت انہیں دنیا میں ہی عذاب کی سزا دی گئی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ حق آخری درجے میں واضح ہوا ہے یا نہیں اس کا علم صرف اور صرف اللہ ہی کو ہے۔
    اب خدا کا آخری پیغام پہنچ چکا ہے، اس پر تو اتفاق کیا جا سکتا ہے، لیکن دنیا کے ہر انسان پر حق آخری درجے میں واضح ہوا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ اور اگر یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا تو ہر غیر مسلم کو کافر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
    (اس مراسلے کو محض طالب علمانہ گزارشات پر ہی محمول کیا جائے۔)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  18. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,058
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واضح پیغام پہنچانا اور چیز ہے، کسی پر پیغام واضح ہونا دوسری چیز ہے۔ جہاں تک پیغام پہنچانے کی بات ہے تو پیغمبروں کی طرف سے اس کا جواب سورۃ یٰسین میں ہے کہ

    وَمَا عَلَيْنَا إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِينُ
    اور نہیں ہے ہم پر (کوئی ذمہ داری) مگر (اللہ کا پیغام) صاف صاف اور واضح پہنچا دینا۔

    سو صاف صاف اور واضح پہنچا دیا گیا، اب اگر کسی پر واضح نہیں ہے تو ہدایت اللہ کی طرف سے ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 2
  19. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    1,303
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جیسا کہ روایات میں ہے کہ ہر قوم پر پیغمبر بھیجے گئے تھے۔ اور انھوں نے اللہ کا پیغام اپنی قوم تک پہنچایا تھا۔ اہلِ کتاب کی ہی مثال لیں۔ یہودی اپنے وقت کے مسلمان تھے۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے بعد یہودیوں نے جب انھیں نبی ماننے سے انکار کیا تو وہ اسی وقت سے غیر مسلم یا کافر ہوگئے۔ اب مسلم صرف وہ تھا جس کا ایمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی شریعت پر تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت صحیح العقیدہ نصاریٰ حق پر تھے۔ لیکن جب انھوں نے خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا نبی اور رسول ماننے سے انکار کیا تو دائرہ اسلام سے خارج ہو گئے۔ اب صرف وہ مسلمان ٹھہرا جو شریعتِ محمدی کا پیروکار ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد دین کی تبلیغ کی ذمہ داری علماء و مبلغین کے کاندھوں پر ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر دور میں اسلام کا پرچار رہا ہے۔
    باقی اس حوالے سے میں نے کوئی خاص تحقیق نہیں کی۔ جو تھوڑا بہت جانتا تھا، عرض کر دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  20. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,254
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    یہ کونسا ان تک مخصوص ہے ہر مذہبی طبقہ دوسروں کو ایسا ہی کہتا آیا ہے۔ مجھے تو (اس بات میں) تمام ہی سچے معلوم ہوتے ہیں
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر