1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

احباب دانش سے اصلاح کی درخواست ہے

Khaaki نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 20, 2019

  1. Khaaki

    Khaaki محفلین

    مراسلے:
    14
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Suspicious
    کیا سے کیا بن گئے افسوس زمانے والے
    کتنے سادہ تھے سبھی لوگ پرانے والے

    وہ جو رکھتے تھے نہ اپنوں میں اناؤں کو
    کھو گئے لوگ وہ رشتوں کو نبھانے والے

    وہ جو حق سچ ہی کہا اور سنا کرتے تھے
    جن کو آتے تھے نہیں بول بہانے والے

    جن کو لگتے تھے مسافر بھی خدا کی نعمت
    خالی جیبوں میں بھی لگتے تھے خزانے والے

    جن کو ہر شخص ہی اپنوں کی طرح لگتا تھا
    جن کے اخلاق بھی ہوتے تھے سہانے والے

    اب زمانے کی بھلائی کی فکر کون کرے
    سو چکے اب تو زمانے کو جگانے والے

    اب تو ہر فعل برائی کا ہی اپنایا جائے
    ہیں لگیں سب کو برے بول سیانے والے

    خاکی ہوتے تھے بشر بھی کیا جہاں میں ایسے
    اب تو لگتے ہیں یہ کردار فسانے والے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,105
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    بہت خوب ۔تکنیکی طور پر تو اساتذہ چیک کریں گے ۔ میں تو اتنا کہہ سکتا ہوں کہ بہت خوبصورت خیالات ہیں۔ خدا سب کو اچھی سوچ عطا فرمائے۔
     
  3. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,535
    کیا سے کیا بن گئے افسوس زمانے والے
    کتنے سادہ تھے سبھی لوگ پرانے والے
    اس غزل میں تو آپ بالکل ہی مختلف نظر آ رہے ہیں، عروضی اعتبار سے اغلاط نہ ہونے کے برابر ہیں ماشاء اللہ
    مطلع درست بھی ہے اور اچھا بھی ہے ماشاء اللہ

    وہ جو رکھتے تھے نہ اپنوں میں اناؤں کو
    کھو گئے لوگ وہ رشتوں کو نبھانے والے
    پہلے مصرع میں روانی کی کمی ہے ۔ خاص طور پر دوسرے ٹکڑا میں۔ الفاظ کی نشست بدل کر دوبارہ کہنے کی کوشش کریں

    وہ جو حق سچ ہی کہا اور سنا کرتے تھے
    جن کو آتے تھے نہیں بول بہانے والے
    دوسرا مصرع میں شاید گرامر کی غلطی ہے، 'نہیں' کی بجائے 'نہ' کا محل معلوم ہوتا ہے

    جن کو لگتے تھے مسافر بھی خدا کی نعمت
    خالی جیبوں میں بھی لگتے تھے خزانے والے
    یہ شعر میرے خیال میں درست ہے

    جن کو ہر شخص ہی اپنوں کی طرح لگتا تھا
    جن کے اخلاق بھی ہوتے تھے سہانے والے
    درست

    اب زمانے کی بھلائی کی فکر کون کرے
    سو چکے اب تو زمانے کو جگانے والے
    'فکر' میں ک پر جزم ہے ۔ درد کے وزن پر آئے گا

    اب تو ہر فعل برائی کا ہی اپنایا جائے
    ہیں لگیں سب کو برے بول سیانے والے
    'ہیں لگیں' اچھا نہیں لگ رہا ۔ اس کے علاوہ خیال بھی باقی غزل کے مقابلے میں اچھا نہیں۔ یہ شعر نکالا بھی جا سکتا ہے

    خاکی ہوتے تھے بشر بھی کیا جہاں میں ایسے
    اب تو لگتے ہیں یہ کردار فسانے والے
    پہلا مصرع بحر سے خارج ہے یا 'کیا' کو 'ک' تقطیع کرنے کی وجہ سے ایسا محسوس ہو رہا ہے
     
  4. Khaaki

    Khaaki محفلین

    مراسلے:
    14
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Suspicious
    بہت بہت شکریہ میں انشاء اللہ ساری غلطیاں درست کروں گا آگے مزید بہتری لاؤں گا انشاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر