1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

اب کوئی خواب نہیں دیکھوں گا

امجد میانداد نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 19, 2014

  1. امجد میانداد

    امجد میانداد محفلین

    مراسلے:
    4,970
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dead
    السلام علیکم،

    اپنے خیالات و جذبات پیش کر رہا ہوں اگرچہ کوئی دس بارہ سال پہلے کی نظم ہے پر اب تک پختگی نہیں آ سکی تحریر میں دعاکرتا ہوں کہ آپ سب دوستوں کو پسند آئے، نیز اصلاح بھی ممکن ہو۔

    اب کوئی خواب نہیں دیکھوں گا

    اپنی شکست کے اسباب نہیں دیکھوں گا
    اب کوئی خواب نہیں دیکھوں گا

    خواب تو سارے فریب ہیں بھول ہیں
    دلِ ویراں میں اُڑتی دھول ہیں

    خواب تو شکستگئِ دل کے آثار ہیں
    ادھوری خواہشوں کے بازار ہیں

    خواب تو بس چند لمحے جھوٹ کے
    اور پھر آنکھ کُھل جاتی ہے

    نہ جانے بنی بنائی منزل کیوں
    پَل بھر میں گُھل جاتی ہے

    ایسا میں عذاب نہیں دیکھوں گا
    اب کوئی خواب نہیں دیکھوں گا

    امجد میانداد​
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 20, 2014
    • زبردست زبردست × 3
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,512
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خیالات تو خوب ہیں۔ اب اگر اس عرصے میں عروض کی شد بد آ گئی ہو تو ذرا دیکھ لو خود ہی۔ بعد میں میں دیکھتا ہوں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. امجد میانداد

    امجد میانداد محفلین

    مراسلے:
    4,970
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dead
    استادِ محترم شدبد آنے کے بعد تو "آپ کی شاعری پابندِ بحور" کے زمرےکے تحت شائع ہوتی :)
     

اس صفحے کی تشہیر