ابن صفی: یہی ہے خاک نشینوں کی زندگی کی دلیل

فہد اشرف نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 26, 2018

  1. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,606
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    غزل

    یہی ہے خاک نشینوں کی زندگی کی دلیل
    قضا سے دور ہے ذروں کا انکسار جمیل

    وہی ہے ساز، ابھارے جو ڈوبتی نبضیں
    وہی گیت نَفَس میں جو ہوسکے تحلیل

    دکھائی دی تھی جہاں سے گناہ کی منزل!
    وہیں ہوئی تھی دلِ ناصبور کی تشکیل

    سمجھ میں آئے گی تفسیر زندگی کیا خاک
    که حرفِ شوق ہے اجمال بے دلی تفصیل

    یہ شاہراہِ محبت ہے، آگہی کیسی!
    بجھا سکو تو بجھا دو، شعور کی قنديل!

    صدائے نالہ بھی آتی ہے ہم رکابِ نسیم
    نہ ہو سکی ہے نہ ہو گی بہار کی تکمیل

    ہزار زیست ہو پائنده تر مگر اسرار
    اجل نہ ہو تو بنے کون بارِ غم کا كفیل!

    اسرار ناروی
    (ابنِ صفی)

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر