آیے مستقبل تلاشیں ۔

نور وجدان

لائبریرین
انسان اس دنیا میں تین قسم کے ہیں : ایک وہ جو مستقبل بنانے کا inborn,innate ٹیلنٹ رکھتے ہوئے کم سنی میں ہی اپنا نام تاریخ کے صفحات پر روشن الفاظ میں لکھ جاتے ہیں ، دوسری قسم کے انسان ساری زندگی ناکام رہتے ہیں ۔ تیسری قسم کے لوگ اپنی ناکامیوں سے منزل تراش لیتے ہیں ۔ میرے سامنے اس کی مثال Steve jobs or Bill gates کی طرح ہے ۔ سٹیو جب 27 سال کا تھا وہ اپنی کمپنی سے نکال دیا گیا اور bankrupt ہوگیا۔ ناجانے وہ کیسے کامیاب ہوگیا ۔ Arfa Kareem کی مثال میرے سامنے ہے ۔ اس قسم کے لوگ جو کم عمری میں ہی اپنی خواہش کی تعبیر پالیتے ہیں ۔ یہ باتیں میں نے ایک ڈاکومینٹری Secret دیکھتے ہوئے محسوس کیں ۔ اس ڈاکومینٹری میں فزکس کے دو قوانین : law of conversation and law of gravitational attraction کو انسان کی خواہشات کی تعبیر کا ذریعہ بتایا گیا ہے ۔ ہماری سوچ اور ارادے potential رکھتے ہیں ۔ اس سوچ کو kinetic کس طرح بنایا جائے کہ سوچ و ارادے بذات خود energy ہیں ۔ ہماری مخفی قوت کی بیداری کا انحصار کسی طاقت کے حصول ہر مبنی نہیں ہے بلکہ اس کا انحصار Quantum theory of photons پر ہے ۔ آئن سٹائن نے مخفی سوچ کو تحریک تصور یا visualize کرکے دی ۔ اس کے تخییل نے وجدان یعنی intuition کو بیدار کردیا ۔ اپنے وجدان پر کام کرتے ہوئے دنیا بنانے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں ۔ دنیا میں کامیابی کی اساس وجدانی صلاحیت ہے جو انسان میں ecstasy یعنی وجدانی سرور پیدا ہونے کے بعد ایک اشارہ دیتی ہے ۔ دنیا میں سب مخفی چیزوں کی دریافت اس وجدان یا لا شعور کی طاقت پر مبنی ہے ۔ اصل مسئلہ خود کی خواہشات کی پہچان ہے ۔ جو انسان کم عمری میں اپنی خواہشات کی پہچان کرلیتے ہیں وہ اپنی خوشی پالیتے ہیں ۔ کچھ لوگ ٹھوکر کھا کر پہچان لیتے ہیں اور بعض تا عمر نہیں پہچان سکتے ۔

زندگی میں ہمارا مقصد ایک نہیں ہوتا ہے ۔ ہم زندگی کے ہر انچ کی خوشی کو سموچنا چاہتے ہیں ۔ یعنی کہ ہم خوش رہنا چاہتے ہیں ۔ یا ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں ۔ ہمارا مقصد کتنا سچا ہوتا ہے اس کا انحصار ہماری کامیابی پر ہوتا ہے ۔ ایک زخموں سے چور اور معذور انسان جو صرف دیکھنے کی حس رکھتا تھا اس نے اپنی ایک اس حس کے ذریعے دماغ کو سگنل بھیجے اور دماغ نے یہی اشارے دعا کی صورت اللہ کودیے ۔ اور بار بار فضاء میں سوچ کی انرجی سے ارتعاش پیدا ہو تو بہت سے ذرات متحرک ہو کر ایک قوت بن جاتے ہیں ۔ یہ قوت انسان کو تحریک دیتی ہے اور وہ ٹھیک ہوجاتا ہے ۔ انسان پیسے کمانا چاہتا ہے ، طاقت کا حصول چاہتا ہے یا کچھ بھی وہ اپنے من میں جھانک کر حاصل کرسکتا ہے ۔ اپنی خوشی کو انسان جب تک محسوس نہیں کرسکتا ہے تب تک وہ خوشی حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے اور یوں منزل اس سے دور رہتی ہے ۔ ایک سرمایہ کار سوچتا ہے کہ وہ سال میں 50 ملین کماناچاہتا ہے ، وہ نہیں جانتا اس کو کیسے کمانا ہے ، اور اس کے خواب دیکھتے دیکھتے اس کو ایک اشارہ مل جاتا ہے یا قسمت اس کے دروازے پر کھٹکھٹاتی ہے ۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ سیڑھی کے پہلے قدمچے پر قدم رکھتا ہے اور کامیاب ہوجانے کے بعد سوچتا ہے کہ اس کا نصب العین کس حد تک تکمیل پاگیا ہے ۔

اس کی مثال مجھے کیٹس کی شاعری میں ملتی ہے ۔ کیٹس رومانوی دور کی پیداوار ہوتے ہوئے بھی کلاسیکل شعراء میں شمار کیا جاتا ہے ۔ کیٹس نے اپنی پانچ حسیات کو اپنی شاعری میں استعمال کرتے ہوئے اپنے وجدان کو اٹھان دے کر خوشی حاصل کی ۔ لکھاری ، شاعر ، مصور ، سنگ تراش عام انسانوں کی نسبت بہت خوش رہتے ہیں یا اپنے غم غلط کرسکتے ہیں کیونکہ وہ انتقال کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ سوچ کا انتقال دراصل ایک کشش پیدا کرتا ہے ۔ ایک مثال سگریٹ نوشی کے اشتہار کی دوں کہ ان کو پینے پر خبردار کیا جاتا ہے ۔ لوگ اس کو دیکھیں گے اور اس کی طرف زیادہ مائل ہوں گے ۔ انسانی سائیکالوجی ان پیغامات کو قبول کرتی ہے اور کشش کرتی ہے بالکل اسی طرح اینٹی -تحریکیں معاشرتی برائیوں کی طرف زیادہ مائل کرتی ہے اس کے بجائے اگر امن کی تحریک چلائی جائے یا صحت بڑھانے کے اصول پر روشنی ڈالی جائی تو معاشرے وہ منفی مخفی صلاحیتیں تحریک میں نہیں آئیں گی بلکہ اس کے بجائے مثبت قوت کی تحریک زیادہ ہوجائے گی ۔


اس ڈاکومینٹری پر روشنی ڈال کر میں خودکو میں نے دیکھا اور پرکھا ہے . سوچتی ہوں میں نے اپنی زندگی کے بہت سے مقصد رکھے مگر میں کسی ایک پر قائم نہیں رہی یا میں قائم رہتے ہوئے کامیاب نہیں ہوئی . اس کی وجہ یہ کہ میں نے کبھی اپنے دل کی آواز سنی ہی نہیں . میں نے وہ کیا جو مجھے معاشرے نے کرنے کو کہا . میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی مگر میں نے انجیرنگ کی فیلڈ اپنائی . وقت نے میرا ارادہ ڈھیر کردیا . اور میری زندگی میں طویل کڑی دھوپ نے میرے پاؤں میں آبلے ڈال دیے . میں پھر بھی حرکت کرتی رہی کہ حرکت میں برکت ہے . یہ نہیں سوچا کہ اگر اس حرکت کے ساتھ اپنے اندر کی مرضی کو شامل کرتی تو کبھی ناخوش نہیں ہوتی . بالکل اسی طرح اس مووی میں ایک سائکاٹرسٹ نے مصور سے پوچھا تم نے پینٹنگز میں خواتین کے پوز اس طرح بنائے ہیں جیسے وہ تم سے کشش نہیں رکھتی . کیا تم عورتوں میں کشش نہیں رکھتے ہو ؟. اس نے کہا ایسا نہیں ہے . اس مصور نے اپنے اندر کی سوچ سے اپنی مصوری کے رخ کو بدلا اور وہ پینٹ کیا جو اس کے من کی خواہش تھی . اس کی خواہش کی تکمیل ہوگئی .


میرے ذہن میں ایک مثال آئی کہ مصطفی زیدی کو بھی کسی سے محبت تھی اور کہا جاتا ہے اس نے اس کی محبت میں خود کشی کی تھی . مصطفی زیدی کی شاعری میں مجھے کہیں بھی امید نظر نہیں آئی ہے . اس میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں .
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوے دل
راکھ ہو جائیں ،کوئ اور تمنا نہ کریں
چاکِ وعدہ نہ سلے،زخمِ تمنا نہ کھلے
سانس ہموار رہے ،شمع کی لو تک نہ ہلے

اگر مصطفی اس یاس میں امید کے دیے روشن کرتا تو اس امید کے بل پر وہ اپنے محبوب کو پالیتا مگر وہ اپنے محبت کی جستجو میں مخالف سمت میں سفر کرتے ہوئے اتنی دور نکل آیا کہ مایوس ہو کے خود کشی کردی . انسان جو جو خواہش کرتا ہے ، اس کا تصور اس کا ذہن بناتا رہتا ہے . اور جب تصویر مکمل ہوکر ایک فلم کی صورت اختیار کرلے تب انسان کا شعور و لاشعور مل جاتا ہے اور یہی سے ایک صدا اور آواز بلند ہوتی ہے . جو کبھی فطرت بن کے انسان کا موقع دیتی ہے . اور جس کو وجدان کہا جاتا ہے .اس لڑی کا مقصد صرف اور صرف اتنا ہے کہ ہم سب اپنا خوش کن مستقبل لکھیں . وہ اپنے من کی خواہشیں لکھیں . جن کو لکھ کر ہم اپنی سمت کو متعین کرتے ہوئے منزل پالیں .اس ضمن میں میں کچھ مقصد لکھتے ہوئے آپ سے بھی درخواست کروں گی کہ اپنی زندگی کے کچھ واقعات بھی بتائیں جن سے باقی سب امید لے سکیں . اور وہ خواب جو آپ سوچتے ہیں . جب خواب وجدان بن کر یقین کی صورت اختیار کرلیتا ہے تو کامیابی یقینی ہوجاتی ہے .

میں سوچتی ہوں کہ میں اسپیشل بچوں کے لیے اسکول بناؤں . میں نے سوچ رکھا ہے کہ اس اسکول کے ذریعے میں نے امید کی شمع کو روشن کروں . میرا مقصد سرمایہ کاری نہیں ہوگا . میں نے سوچ رکھا ہے کہ مجھے اب وہ سب کچھ لکھنا ہے جس کو لکھتے ہوئے میں قلم روک لیتی ہوں اور سچ کو اس طرح چھپاتی ہوں جیسا کہ وہ جھوٹ ہے . میں نے خوشیاں لوگوں میں بانٹنی ہے . مجھے سفر کرنا بہت پسند ہے . مگر ابھی تک کسی بھی باہر کے ملک نہیں جاسکی . میں نے سوچا ہے کہ میں اب ہر اس ملک جاؤں گی جہاں جانے کی خواہش رکھتی ہوں . اب میں ان خواہشات کو اس طرح تخیل میں لایا کروں گی کہ جس طرح کہ یہ میں حقیقی طور پر یہ کام کر رہی ہوں . کسی دن کوئی نہ کوئی راستہ اور دروازہ میرا راہوں کو ہموار کرتا مجھے خوشی سے ہمکنار کردے گا

نوٹ: لڑی پڑھنے والے تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی خواہشات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے تبصرہ رسید کریں .
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین
میری تمام پڑھنے والے حضرات سے درخواست ہے کہ وہ اس لڑی پر تبصرہ کرتے ۔ اپنے پڑھنے کا نشان ثبت کرنے کا بہت شکریہ ۔ میری درخواست پر غور کیجئے ۔

میں نے زندگی میں جو باتیں visualize کیں اور ان کو ترک کردیا۔ ایک یہ سوچا کرتی تھی کہ مجھے بڑے ہوکر یہ کرنا ہے یا وہ کرنا ہے ، میں نے اپنے دل کی ہر ہر آواز ترک کردی ۔ اور میں مایوس ہوگئی ۔اب میں وہ کروں گی جو میرے دل کی آواز ہے ۔ یہی یقین کا راستہ ہے
 
آخری تدوین:

نور وجدان

لائبریرین

حاصلِ مضمون تو یہ تھا کہ آپ اپنی خواہشات لکھ ڈالتے جو آپ نے اپنی کوشش سے حاصل کیں اور ان میں آپ کے تخیل کا کتنا دخل ہے ۔ یا وہ جو پانا چاہتے ہیں اور کس طرح پائیں گے ۔ یہ راستہ ہمیں اور باقی لوگوں کو رہنمائی دے گا۔
 

محمدظہیر

محفلین
حاصلِ مضمون تو یہ تھا کہ آپ اپنی خواہشات لکھ ڈالتے جو آپ نے اپنی کوشش سے حاصل کیں اور ان میں آپ کے تخیل کا کتنا دخل ہے ۔ یا وہ جو پانا چاہتے ہیں اور کس طرح پائیں گے ۔ یہ راستہ ہمیں اور باقی لوگوں کو رہنمائی دے گا۔
ایک خواہش ہے کہ مجھے کوئی خواہش نہ ہو
 

اکمل زیدی

محفلین
جیسے کوئی انسان غیر جانبدار نہیں رہ سکتا (کیونکے غیر جانب داری بھی ایک جہت رکھتی ہے) اسی طرح بغیر خواھش کے کوئی نہیں رہ سکتا ...اچھی بات یہ کے...خواھشات کے پیچھے ...امیدیں نہ باندھی جائیں ...احسن عمل یہی ہے ...
 

نور وجدان

لائبریرین
جیسے کوئی انسان غیر جانبدار نہیں رہ سکتا (کیونکے غیر جانب داری بھی ایک جہت رکھتی ہے) اسی طرح بغیر خواھش کے کوئی نہیں رہ سکتا ...اچھی بات یہ کے...خواھشات کے پیچھے ...امیدیں نہ باندھی جائیں ...احسن عمل یہی ہے ...
خواہش کے ساتھ اُمید اور یقین تو منزل کی طرف لے جاتا ہے ۔ جو Genius ہوتے ہیں وہی دیوانے ہوتے ہیں ۔ یہی دیوانے سائنس دان ، مجدد اور رہنما ہوتے ہیں، پر ہوتے کم کم ہیں
 

اکمل زیدی

محفلین
خواہش کے ساتھ اُمید اور یقین تو منزل کی طرف لے جاتا ہے ۔ جو Genius ہوتے ہیں وہی دیوانے ہوتے ہیں ۔ یہی دیوانے سائنس دان ، مجدد اور رہنما ہوتے ہیں، پر ہوتے کم کم ہیں
مگر میرا کچھ اور نقطہء نظر ہے ...تمام خواھشات ..کا تعلق ..دنیا سے ہوتا ہے ...لہٰذا اس سے متعلق یقین یا امید بھی دنیاوی ...ہوئ ...جس میں بے یقینی غالب رہتی ہے ..دنیا خواھشات کے لیےہ نہیں ضروریات کے لئے ...یعنی ہر چیز بقدر ضرورت .. ...اور اب دوسری بات کے جینیس دیوانے ہوتے ہیں ...تو جب دیوانگی آگئی تو جینیسنس تو رخصت ہوگئی نا ... یہاں غالباً لفظ پرلگن صحیح رہے گا ....
 

آوازِ دوست

محفلین
آ تو گئے پر یہ بتائیں کہ مستقبل کیوں تلاشیں؟ ہمیں تو خوشیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارا حال ہی توتمنّائی ہوتا ہے کہ ہمارے دامن میں خوشیوں کے ڈھیر لگتے چلے جائیں۔ ماضی کو آپ بدل نہیں سکتے اور مستقبل میں داخل نہیں ہو سکتے تو حال اور فقط حال ہی ہماری حالتِ زار کا رونا روتا ہے یا اِس پر مسرور رہتا ہے۔ دُنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو ناکام نہ ہوا ہو یا جس نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر زندگی کو ایک بارِ گراں محسوس نہ کیا ہو زندگی کا موسم اپنے ہر ترش و شیریں پھل کی یکساں بارآوری کرتا ہے۔ بِل گیٹس اور سٹیو جابز جیسے لوگ کامیاب ہوئے یا نہیں البتہ مشہور ضرور ہوئے ہیں کہ ایک خاص حد کے بعد وسائل کا بڑھتے رہنا بے معنی ہو جاتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے مسائل ایک حد کے بعد کتنے اور کیسے ہی کیوں نہ ہوں بے اثر ہو جاتے ہیں میں اپنی بات یوں سمجھاتا ہوں کہ پائی کی قیمت یعنی بائیس بٹا سات کا حتمی تعین ناممکن ہے لیکن ہم اِس کی قیمت کو اپنے درستگی کے مطلوبہ درجے کی صحت تک لا کر استعمال کرتے ہوئے اِس حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ یہ پائی کی حقیقی قیمت نہیں ہے یا دوسرے لفظوں میں درستگی کا مزید بہتر معیار ہمارے لیے بے معنی ہو جاتا ہے تو یہ بات یاد رہے کہ ہماری ساری حقیقتیں مفروضی ہو سکتی ہیں ہمارے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہمارے تصورِحقیقت کوزیادہ پشیمان کیے بنا ہماری ضرورت پوری کرتی رہیں۔ غزالی اپنے وقت کے چیف جسٹس تھے اور شاندار دنیاوی مقام رکھتے تھے مگر اُنہوں نے محسوس کیا کہ وہ فریب خوردہ ہیں سو اُنہوں نے حقیقت کی تلاش میں ایک دہائی صرف کی اورتصوف کی راہ سے اپنی بے کیفی کو تسکین سے ہمکنار کیا۔ گوتم بُدھ نے اپنے طریقے سے نروان تک رسائی پائی، ہندو، سِکھ، عیسائی، دہریے سب اپنے اپنے راستے سے ہستی کے بخیئے اُدھیڑ دینے والے سوالوں کے آگے بندھ باندھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔
انسان اسیرِِ اضطراب ہے بلکہ وہ ساری مخلوق جِس کی خلقت میں ہنگامہء انبساط کا اضطراب شامل کر دیا گیا ہے وہ مضطرب رہتی ہے اور زندگی بھر مضطرب رہتی ہے بلکہ یہی اِضطراب اُس کی زندگی قرار پاتا ہے کہ جیسے ہی وہ حالتِ سکون میں آتی ہے اُس کے فنا ہونے کا اعلان کر دیا جاتا ہے لِہٰذا ہم درختوں کے پروقار سکوت اور ٹہراؤ کو خراجِ تحسین تو پیش کر سکتے ہیں لیکن خود جیتے جی حرکت و اضطراب کے حصار سے نہیں نکل سکتے۔
ہر کوئی خوشی کا اپنا اپنا تصور رکھتا ہے اچھا بُرا اور ادنیٰ یا اعلیٰ لیکن اپنی اصل میں خوشی خود بھی ایک کمتر چیز ہے ہر وہ چیز جو آپ کو سوالی بنا دے اُس کے اعلیٰ ہونے پر شک کرنا عجب نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایموشنلی نیوٹرل ہونا ایک زیادہ اہم چیز ہے آپ کائنات کا غیر جانبدارانہ جائزہ اِس کے بغیر لے ہی نہیں سکتے لیکن یہ خاص چیز ہے اور آپ عمومیت کے ساتھ چل کر اِس تک نہیں پُہنچ سکتے آپ کو اپنے پرابلم سیٹ کی ہر ویری ایبل کی ویلیو میں صفر بطور ابتدائی قیمت رکھنا ہو گا۔ یہ عمل جھٹ سے ساری کائنات کو ایک چٹیل میدان میں تبدیل کر دے گا " نہ کوئی بندہ رہا نہ بندہ نواز" ۔ اَب آپ دور تک دیکھ سکتے ہیں شائد بہت دور تک پھر اپنی ذات کو آئینہ بنا کر سارے منظر پر پھیلا دیں۔ اَب اِس آئینے میں کُچھ آئے یا اِس منظر میں آپ شاہد و مشہود کے تعلق کو پا لیں گے۔
چیزوں کی ممانعت ہمیں کشش نہیں کرتی بلکہ ہمیں ایک تجربے سے محروم کیے جانے کا ردِّعمل اِس کشش کا باعث بنتا ہے۔ آدم کی طرح آدم زاد کو بھی اپنی جنت میں کوئی شجرِ ممنوع گوارا نہیں ہے اور جنتوں کے شجرِ ممنوع سفرِ آدم کے وسیلے کے سِوا کُچھ نہیں اور سفر اگر وسیلہ ظفر ہو سکتا ہے تو کڑی دھوپ میں چھاؤں کی حسرت ِناکام بننے کا ہنر بھی رکھتا ہے۔ ایک مصطفیٰ زیدی پر ہی کیا موقوف کتنے ہی نامراد، دِلِ زار کی تیرگی کا مداوا کرتے کرتے زندگی کے چراغاں کوپیچھے چھوڑ گئے۔ بیمار کے لیے صحت خوشی ہے، کم رو کے لیے حُسن، مفلس کے لیے دولت، طالب کے لیے مطلوب مگر جو ان سب چیزوں کی حقیقت جان لیتا ہے وہ خوشی کے لیے کیا کرے وہ اپنی تلاش کے سفر میں ہرحد سے گزر جائے تو مصطفیٰ زیدی بن جاتا ہے۔
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دل
راکھ ہو جائیں ،کوئی اور تمنا نہ کریں
چاکِ وعدہ نہ سلے،زخمِ تمنا نہ کھلے
سانس ہموار رہے ،شمع کی لو تک نہ ہلے

تو کیا یہاں مصطفیٰ زیدی تمنا اور اُس کے آزار سے بیزار نظر نہیں آتا؟ چاہتوں کی روشنی جس تپش سے وجود پاتی ہے وہ دِلوں کو گرماتی اور جلاتی بھی ہے اِس روشنی کو فزوں تر دیکھنے کی لگن ہی ہے جو دِل فانی کو خاکستر کر دیتی ہے نہ کہ کوئی محرومی۔ چاہتوں کی معراج یہی روشنی ہے۔ یہ نور ہے جو تمنا کے قالب میں ڈھل جائے تو نور نہیں رہتا یہ وہ مقام ہے جہاں مجاز اور حقیقت کا ملن ہوتا ہے۔
خواہشیں ہماری کمزوریاں ہوتی ہیں یہ ایسے ہی آپ کو کوئی کیوں بتانے لگا :) ہر سچائی خوشگوار نہیں ہوتی کُچھ سچ ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو شائد ہم خود کو بھی اچھے نہ لگتے ہوں۔
میری خواہشیں کم ہوتے ہوتے بس تھوڑی سی ہی رہ گئی ہیں اور اَب یہ بھی عجب سے موڑ پر آ گئی ہیں کہ یہ پوری ہوں تو بہت خوب اور اگر پوری نہ ہوں تو بھی بہت خوب :)
آپ کا اسپیشل بچوں کا اسکول بھی آپ کے باقی پروجیکٹس جیسا ہی ہے اور اِس کا مستقبل بھی دوسروں کے ماضی جیسا ہی ہو گا لیکن یہ کوئی عجب بات نہیں ہےایسا ہوتا ہے اور ہوتا رہتا ہے۔آپ عملی زندگی کی سہل پسندی کوسوچ کی مُشکل پسندی کے ہاتھوں نہ مرنے دیں تو اچھا ہے۔ فرصت ایک نعمت ہے اور اِس کا احساس ہمیں تب ہی ہوتا ہے جب یہ چھِن جاتی ہے سو ہماری طرح آپ بھی انجوائے کریں مگر کتنے دِن!!!
 

اکمل زیدی

محفلین
سوچ و ارادے بذات خود energy ہیں ۔ ہماری مخفی قوت کی بیداری کا انحصار کسی طاقت کے حصول ہر مبنی نہیں ہے ۔

صحیح بلکہ یہ اندر ہے موجود ہے ...صرف احساس کرنے کی بات ہے ...

دنیا میں کامیابی کی اساس وجدانی صلاحیت ہے جو انسان میں ecstasy یعنی وجدانی سرور پیدا ہونے کے بعد ایک اشارہ دیتی ہے ۔ دنیا میں سب مخفی چیزوں کی دریافت اس وجدان یا لا شعور کی طاقت پر مبنی ہے

اب یہ اشارہ سمجھنے والے کی استعداد پر ہے ...
 

نور وجدان

لائبریرین
مگر میرا کچھ اور نقطہء نظر ہے ...تمام خواھشات ..کا تعلق ..دنیا سے ہوتا ہے ...لہٰذا اس سے متعلق یقین یا امید بھی دنیاوی ...ہوئ ...جس میں بے یقینی غالب رہتی ہے ..دنیا خواھشات کے لیےہ نہیں ضروریات کے لئے ...یعنی ہر چیز بقدر ضرورت .. ...اور اب دوسری بات کے جینیس دیوانے ہوتے ہیں ...تو جب دیوانگی آگئی تو جینیسنس تو رخصت ہوگئی نا ... یہاں غالباً لفظ پرلگن صحیح رہے گا ....

خواہش کا تعلق نیت سے ہوتا ہے . جب میں دُنیا میں رہوں گی اور خواہش کا تعلق حقیقت سے ہو ، تو تب میری ہر خواہش مجاز کے لبادے میں ہوگی ، میں ایسی خواہش نہیں کرسکتی ہوں ؟آپ عمرے کی خواہش یا حج کی خواہش رکھتے ہوں گے . دنیا میں رہ کر یہ خواہشات کہلائیں گی تو دنیاوی مگر ان کا تعلق دنیا سے نہیں ہے .

کیا آپ کو نہیں لگتا اقبال دیوانے تھے کہ شکوہ کر بیٹھے یا دیوانگی میں نظریہ پاکستان دے دیا جس کی دور دور تک تعبیر نظر نہیں آتی یہاں تک کہ قائد اعظم اگر پاکستان کی بات کرتے تو گاندھی ، نہرو ان کو مجنوں کہتے اور بولتے کہ یہ دیوانے کی باتیں ہیں جو ہندوستان میں نہیں چل سکتیں قیام پاکستان کی بات کرنی ہے تو جا کر آپ انڈونیشاء یا تھائی لینڈ کے جزیروں پر کریں .

“Few individuals significantly alter the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation-state. Mohammad Ali Jinnah did all three.”

― Stanley Wolpert, Jinnah of Pakistan


 

نور وجدان

لائبریرین
آ تو گئے پر یہ بتائیں کہ مستقبل کیوں تلاشیں؟

بہت شکریہ ، آپ کی بصیرت افروز باتوں سے بہت سے دلوں میں اُمید کے چراغ جلے ہوں گے یا نہیں پر بہت مدلل گفتگو ہے . ان اچھی باتوں میں بہت سی باتیں میں سمجھ نہیں سکی . کیا آپ مجھے سمجھانا چاہیں گے ؟
ہمارا حال ہی توتمنّائی ہوتا ہے کہ ہمارے دامن میں خوشیوں کے ڈھیر لگتے چلے جائیں
حال کی تمنا حسرت میں بدل جائے تو ہم کیا کریں ؟ بندہ جائے تو کہاں جائے ؟

دُنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو ناکام نہ ہوا ہو یا جس نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر زندگی کو ایک بارِ گراں محسوس نہ کیا ہو زندگی کا موسم اپنے ہر ترش و شیریں پھل کی یکساں بارآوری کرتا ہے۔ بِل گیٹس اور سٹیو جابز جیسے لوگ کامیاب ہوئے یا نہیں البتہ مشہور ضرور ہوئے ہیں کہ ایک خاص حد کے بعد وسائل کا بڑھتے رہنا بے معنی ہو جاتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے مسائل ایک حد کے بعد کتنے اور کیسے ہی کیوں نہ ہوں بے اثر ہو جاتے ہیں
کیا دنیا میں خواہشوں کا آسمان نہیں ہوتا ؟ کیا خواہش مجاز کی ہوتی ہے ؟ حقیقت کی خواہش کوئی نہیں کرسکتا ؟ اور تپتے صحراؤں میں حقیقت پالینے والے سُرور کی بے پایاں کیفیت سے محروم رہتے ہیں ؟
پائی کی قیمت یعنی بائیس بٹا سات کا حتمی تعین ناممکن ہے لیکن ہم اِس کی قیمت کو اپنے درستگی کے مطلوبہ درجے کی صحت تک لا کر استعمال کرتے ہوئے اِس حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ یہ پائی کی حقیقی قیمت نہیں ہے یا دوسرے لفظوں میں درستگی کا مزید بہتر معیار ہمارے لیے بے معنی ہو جاتا ہے تو یہ بات یاد رہے کہ ہماری ساری حقیقتیں مفروضی ہو سکتی ہیں ہمارے لیے بس اتنا ہی کافی ہے

پائی کی قیمت کیا ہر انسان کی کانسٹنٹ ہوتی ہے؟

وہ ہمارے تصورِحقیقت کوزیادہ پشیمان کیے بنا ہماری ضرورت پوری کرتی رہیں۔ غزالی اپنے وقت کے چیف جسٹس تھے اور شاندار دنیاوی مقام رکھتے تھے مگر اُنہوں نے محسوس کیا کہ وہ فریب خوردہ ہیں سو اُنہوں نے حقیقت کی تلاش میں ایک دہائی صرف کی اورتصوف کی راہ سے اپنی بے کیفی کو تسکین سے ہمکنار کیا۔ گوتم بُدھ نے اپنے طریقے سے نروان تک رسائی پائی، ہندو، سِکھ، عیسائی، دہریے سب اپنے اپنے راستے سے ہستی کے بخیئے اُدھیڑ دینے والے سوالوں کے آگے بندھ باندھنے کی کوششیں کرتے ہیں۔

میں نے مجاز کے روپ میں مراقبے یا نفس میں جھانکنے کی بات کی . یہ غلط ہے ؟

انسان اسیرِِ اضطراب ہے بلکہ وہ ساری مخلوق جِس کی خلقت میں ہنگامہء انبساط کا اضطراب شامل کر دیا گیا ہے وہ مضطرب رہتی ہے اور زندگی بھر مضطرب رہتی ہے بلکہ یہی اِضطراب اُس کی زندگی قرار پاتا ہے کہ جیسے ہی وہ حالتِ سکون میں آتی ہے اُس کے فنا ہونے کا اعلان کر دیا جاتا ہے لِہٰذا ہم درختوں کے پروقار سکوت اور ٹہراؤ کو خراجِ تحسین تو پیش کر سکتے ہیں لیکن خود جیتے جی حرکت و اضطراب کے حصار سے نہیں نکل سکتے۔
آپ نے اوپر قناعت کی بات کی ہے . قناعت پر اضطراب ہوتا ہے ؟ اور ہوتا ہے تو خواہش کے ہونے سے ہوتا ہے ۔ آپ نے دو باتیں کی ہیں ۔ مجھے سمجھایے کچھ کہ سمجھ نہیں آئی ہے ۔ اور اضطراب خواہش سے ہے تو کیا ہم خود کو مضطرب رکھیں یہ سوچ کہ خواہش تو مل نہیں پائے گی ۔ یہ تو بے یقینی کی حالت ہے ۔
ہر وہ چیز جو آپ کو سوالی بنا دے اُس کے اعلیٰ ہونے پر شک کرنا عجب نہیں ہے
واہ ! عمدہ ! عمدہ ! عمدہ ! کیا بات کی ہے ! گویا کہ دن بنادیا ہے ۔

ایموشنلی نیوٹرل ہونا ایک زیادہ اہم چیز ہے آپ کائنات کا غیر جانبدارانہ جائزہ اِس کے بغیر لے ہی نہیں سکتے لیکن یہ خاص چیز ہے اور آپ عمومیت کے ساتھ چل کر اِس تک نہیں پُہنچ سکتے آپ کو اپنے پرابلم سیٹ کی ہر ویری ایبل کی ویلیو میں صفر بطور ابتدائی قیمت رکھنا ہو گا۔
اس سیٹ میں کانسٹنٹ ویلیو کیا خواہش ہے ؟ تو انسان نیوٹرل رہ سکتا ہے ؟



چیزوں کی ممانعت ہمیں کشش نہیں کرتی بلکہ ہمیں ایک تجربے سے محروم کیے جانے کا ردِّعمل اِس کشش کا باعث بنتا ہے
چیزوں کی طرف جانا ، کشش کرنا ، محبت ہونا ، حقیقی ہو مجازی ہو ۔۔۔ جو بھی خواہش ہو کیا تجربہ نہیں چاہتی ۔ آپ منع کر رہے ہیں خواہش نہ کرو، اس صورت میں کیا کرنا ہوگا کہ یہ بھی ممانعت ہے

ایک مصطفیٰ زیدی پر ہی کیا موقوف کتنے ہی نامراد، دِلِ زار کی تیرگی کا مداوا کرتے کرتے زندگی کے چراغاں کوپیچھے چھوڑ گئے۔ بیمار کے لیے صحت خوشی ہے، کم رو کے لیے حُسن، مفلس کے لیے دولت، طالب کے لیے مطلوب مگر جو ان سب چیزوں کی حقیقت جان لیتا ہے وہ خوشی کے لیے کیا کرے وہ اپنی تلاش کے سفر میں ہرحد سے گزر جائے تو مصطفیٰ زیدی بن جاتا ہے۔

مصطفی کی مثال دی تھی ۔ انتہائیں دو اقسام کی ہیں ۔ ایک خلا کی طرف لے جاتی ہے اور دوسری ستاروں کی طرف ۔ خلا ایک حسرت ۔۔ حسرت جی لیجئے اور جو حسرت جیتے ہیں وہ خود کشی کرتے ہیں ۔ وہ جو مظہر سے جڑ جاتے ہیں وہ اقبال و رومی و جامی بن جاتے ہیں ۔

آپ کا اسپیشل بچوں کا اسکول بھی آپ کے باقی پروجیکٹس جیسا ہی ہے اور اِس کا مستقبل بھی دوسروں کے ماضی جیسا ہی ہو گا لیکن یہ کوئی عجب بات نہیں ہےایسا ہوتا ہے اور ہوتا رہتا ہے۔آپ عملی زندگی کی سہل پسندی کوسوچ کی مُشکل پسندی کے ہاتھوں نہ مرنے دیں تو اچھا ہے۔ فرصت ایک نعمت ہے اور اِس کا احساس ہمیں تب ہی ہوتا ہے جب یہ چھِن جاتی ہے سو ہماری طرح آپ بھی انجوائے کریں مگر کتنے دِن!!!

یہ پراجیکٹ ایک مثال ہے ۔ اس کو میں ترک کردوں یہ سوچ کر کہ میں باقیوں کی طرح ہو جاؤں گی ۔

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے ۔
 
Top