1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

آیئے نعتیہ دوہے لکھیں

شاکرالقادری نے 'آپ کی شاعری (پابندِ بحور شاعری)' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 8, 2016

  1. فرحان عباس

    فرحان عباس محفلین

    مراسلے:
    300
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    شاکر بھائی میرے سوال کا جواب دے دیں پلیز :)
     
  2. شاکرالقادری

    شاکرالقادری لائبریرین

    مراسلے:
    2,696
    موڈ:
    Cheerful
    در اصل دوہے کا عروضی ڈائجسٹک سسٹم اضافت والی تراکیب کو بہت جلد ہضم نہیں کرتا یا یوں کہہ لیں کہ مرکبات اور اضافتین دوہے کے مزاج کے ساتھ ہم آہنگ نہیں اس سلسلہ میں بہت مہارت کی ضرورت ہوگی
    دوسرے مصرع میں سردارِ دوجہان تو ۔۔۔۔ کو با آسانی === دو جگ کا سردار تو=== سے بدل کر دوہے کو موزوں کیا جا سکتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. شاکرالقادری

    شاکرالقادری لائبریرین

    مراسلے:
    2,696
    موڈ:
    Cheerful
    ایک مصرع کے دو اجزا ہیں ۔۔۔ ماہرین نے یہ تو وضاحت کر دی ہے کہ تمام اوزان کے جزو اول کے ساھ کسی بھی جزو ثانی کو استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن جو سوال آپ نے کیا ہے اس کی وضاحت مجھے معلوم نہ وہ سکی لیکن بھائی یہ تو ایک سیدھی سادھی بات ہے کہ دوہی تو مصرعے ہیں اور اگر کوئی شاعر دو مصرعوں میں ایک جیسے اوزان کو استعمال پر قادر نہیں تو وہ دوہا کہنے کی مشقت کیوں کرے :)
     
  4. فرحان عباس

    فرحان عباس محفلین

    مراسلے:
    300
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    وہ تو میں موزوں کرچکا ہوں.

    حق ہے تیرا راستہ،حق تیرا پیغام

    تو سردار_ دو جہاں، اونچا تیرا نام
     
  5. شاکرالقادری

    شاکرالقادری لائبریرین

    مراسلے:
    2,696
    موڈ:
    Cheerful
    جس سے اعلیٰ ہوجائے، ہر ادنیٰ تخلیق
    ایسی نعتیں لکھنے کی، اللہ دے توفیق
    (تجویز)
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. فرحان عباس

    فرحان عباس محفلین

    مراسلے:
    300
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    جس سے اعلی ہوجائے
    آپکی تجویز وزن میں نہیں :) ویسے دوہا کے بارے معلومات دینے شکریہ. انشاءاللہ اس پر مشق کرونگا :)
     
  7. سلمان دانش جی

    سلمان دانش جی معطل

    مراسلے:
    398
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    قبلہ شاکر القادری صاحب۔ میں آپ کی خدمت میں کئی پارٹیشن سے قبل کے کلاسیکل دور میں لکھنے والے ہندو اور مسلم شعرا کے بیسیوں ایسے حوالے پیش کر سکتا ہوں جس میں آپ کے ارشاد کے مطابق آخری رکن فاع اور فعول کی پابندی تو کی گئی ہے لیکن ان لوگوں نے دوہوں میں بھی فاع اور فعول کی آخری ی ، یے وغیرہ بالکل ایسے ہی گرائی جیسے عمومی طور پر غزل اور نظم کے سخن اصول عروض کے تحت کیا جاتا ہے۔ میرے استاد گرامی فرماتے ہیں کہ غزل، رباعی اور دوسری اصناف سخن کی نسبت دوہا نویسی میں لچک اور تنوع ہے لہذا کلاسیکل ینڈین شعرا کے ہاں عام دوہوں اور بھجنوں میں بھی بحور کی کافی ورائٹی اور لچک نظر آتی ہے۔ آپ میرے دادا استاد ہیں تو میرا آپ سے بھی یہی سوال ہے کہ دوہوں میں فاع اور فعول کے وزن کے تحت عالی۔ گالی، سالی اور سوالی، موالی، خیالی وغیرہ کیوں نہیں باندھا جا سکتا، جبکہ ایس کی مثالیں صرف جمیل الدین عالی مرحوم کے ہی نہیں کلاسیکل ہندوستانی شعرا میں بھی عام ملتی ہیں۔ میں آپ کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ رباعی کی طرح دوہے کی بھی مخصوص بحریں ہیں ( گو کہ مجھے کلاسیکل اور موجودہ شعرا میں فعلن کی سالم | بحر ہندی میں بھی ایسے دوہے ملے ہیں، جن میں آخری فعلن میں تسبیغ کر کے ساکت حرف پر اختتام ہے ) لیکن اردو سخن کا کوئی بھی قاری یا مجھ سا بچونگڑا مبتدی اس بات کو ماننے کیلیے تیار نہیں کہ دوہے میں عروض کے عمومی اصولوں کے مطابق اختتامی حروف کو گرانے کی اجازت نہیں ہے۔ میرے اس موقف کی بنیاد دوہوں کی کلاسیکل رینج سے لیکر موجودہ دور تک کے صرف پاکستانی ہی نہیں بھارتی شعرا کے حوالہ جات ہیں۔ اپنے دلائل میں یہ حوالہ جات میں اسی لڑی میں پیش کر چکا ہوں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  8. سلمان دانش جی

    سلمان دانش جی معطل

    مراسلے:
    398
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    قبلہ شاکر صاحب مجھے یا کسی کو اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ دوہاے کے آخیر میں فاع کا آنا ضروری ہے۔ لیکن جالی، کالی، سالی، حالی، آلے، جالے، سالے، آئے، آئی وغیرہ کو غزل ، رباعی میں تو نہیں لیکن دوہے میں فاع میں باندھنا کیونکر غلط ہے؟
    ریختہ کی اس سائٹ پر کلاسیکل شعرا سے لیکر آج تک کئی شعرا کے ہزاروں دوہے موجود ہیں۔ جو میرے اس عروضی موقف کی تائید کرتے ہیں۔
     
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,518
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شاکر بھائی نے بالکل درست بات کہی ہے۔ جمیل عالی مرحوم کی ہی یہ بدعت تھی جسے پاکستان میں دوہا مان لیا گیا، اور میں اسے اب بھی نہیں مانتا۔ شاکر صاحب کا مضمون میں نے مکمل نہیں پڑھا تھا، اس لئے یہ صرف نظر ہو گیا کہ انہوں نے اردو افاعیل کی بھی بات کی ہے۔
    ہندی میں جو دوہے ہمیشہ سسے کہے گئے ہیں، اس کے وہی ارکان ہیں، جیسے
    کبرا کھڑا بجار (بازار) میں، مانگے سب کی کھیر (خیر)
    نا کاہو سے دوستی نا کاہو سے بیر
    ہندی کی لگھو اور دیگھر ماترا کے حساب سے دوہے کی بحر ہوتی ہے
    ऽऽऽऽऽऽ।
    ऽऽऽऽ।
    انگریزی ایس کی شکل کی علامت دیگھر ماترا کی ہے جسے اعشاری نظام میں 2 کہا جا سکتا ہے۔
    الف کی شکل کی علامت لگھو ماترا کی ہے۔اس لحاظ سے اس کی درست بحر صرف اور صرف
    2، 2، 2، 2، 2، 2، 1۔۔۔۔ تیرہ ماترا
    2، 2، 2، 2، 1 گیارہ ماترا
    لیکن کیونکہ عالی جی نے میر کی بحر میں دوہے کہنا شروع کئے اور وہ چل نکلے پاکستان میں، تو مجھے بھی سلمان دانش کے دوہے کے آخر میں سوالی‘ بر وزن فعولن سمجھا۔ ’ی‘ گرابا یقینإ جائز ہے، لیکن یہ مجھے کب معلوم تھا کہ اسے بطور ’سوال‘ باندھا گیا ہے!! سوالی لفظ کی تو ی کہیں بھی حذف کی جائے، مجھے تو کبھی پسند نہیں آئے گی، کہ روانی بے طرح متاتر ہوتی ہے۔
    معذرت کہ میری ہی الگ قسم کی رائے کی وجہ سے اس لڑی میں کچھ تلخیاں در آئیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  10. شاکرالقادری

    شاکرالقادری لائبریرین

    مراسلے:
    2,696
    موڈ:
    Cheerful
    میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں مگر اپنی معذوری کی وجہ سے ٹائپ نہیں کر سکتا
    میں معذرت خواہ ہوں اگر میں یہاں نعتیہ دوہے لکھوانے کی بجائے کسی تلخی کا باعث بنوں
     
  11. سلمان دانش جی

    سلمان دانش جی معطل

    مراسلے:
    398
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    قبلہ شاکر صاحب! میری طرف سے سوالات اور علمی حجت کو بے ادبی سمجھا گیا ہے تو بہت افسوس ہے۔ میں اپنے سینئرز کا بیحد فرمانبردار اور باادب شخص ہوں۔ میرے لئے عبید صاحب، وارث صاحب، آسی صاحب اور آپ میرے والد بزرگوار جیسے ہی محترم اساتذہ ہیں۔ اور جبکہ میرے کسی بھی مراسلے میں تلخی پیدا کرنے والی تو کوئی بات ہے ہی نہیں تو صاحب آپ کو ایسا گمان کیوںکر ہوا۔ بوجہ ء خصوصی استاد گرامی میرے دل میں آپ کا پیروں جیسا بیحد عزت و احترام ہے ۔ پھر بھی کوئی غلطی گستاخی ہو تو معذرت چاہتا ہوں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  12. شاکرالقادری

    شاکرالقادری لائبریرین

    مراسلے:
    2,696
    موڈ:
    Cheerful
    نہیں ایسی کوئی بات نہیں آپ کی کسی بات کا میں نے کوئی برا نہیں مانامعذرت خواہی کی
    ضرورت نہیں اللہ آپ کو خوش رکھے
     
    • زبردست زبردست × 1
  13. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,909
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اپنی کم مائیگی کا احساس ہی رقم کر سکا ہوں.

    دل کے اندر میل ہے، کیسے لکھوں نعت
    دو مصرعے بھی محال ہیں، اتنی ہے اوقات
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  14. شاکرالقادری

    شاکرالقادری لائبریرین

    مراسلے:
    2,696
    موڈ:
    Cheerful
    بہت عمدہ جزاک اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,909
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    محبت ہے آپ کی محترم.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. شاکرالقادری

    شاکرالقادری لائبریرین

    مراسلے:
    2,696
    موڈ:
    Cheerful
    میں نے آپ کا یہ دوہا یہااااااں پوسٹ کیاہے کیا آپپ سوش میڈیا پر موجود ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  17. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    23,909
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    پیج اوپن نہیں ہو رہا.
     
  18. شاکرالقادری

    شاکرالقادری لائبریرین

    مراسلے:
    2,696
    موڈ:
    Cheerful
    اگر آپ سوشل میڈیا پر ہیں تو آپ کو اس ایونٹ کا دعوت نامہ بھیجا جائے مجھے آپ کی فیس بک آئی ڈی درکار ہوگی
     
  19. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,276
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    سلمان دانش بھائی دوہے کے اوزان پر اس گفتگو میں آپ کے محولہ بالا جملوں نے مجھے یہ اس دخل درمعقولات پر مجبور کردیا ۔ :)
    بھائی یہ بات تو درست ہے کہ جو مصرع ئے ، ئی یا ؤ پر ختم ہوتا ہے اس میں ہمزہ کی حرکت کو حسبِ ضرورت گرانا اساتذہ نے روا رکھا ہے لیکن یہ بات درست نہیں کہ مصرع کے آخر سےایسی ی یا ے بھی گرائی جاسکتی ہے جو کسی لفظ کا آخری حرف ہو ۔ توضیح اس کی یہ ہے کہ ہمزہ (ء) دراصل کوئی حرف نہیں ہے ۔ نہ تو یہ اردو حروفِ تہجی کا باقاعدہ حصہ ہے اور نہ ہی اس سے کوئی لفظ شروع ہوتا ہے ۔ یہ دراصل ایک علامت ہے جو واؤ ،ے اور ی سے قبل آکران حروف کی آواز کو لمبا کردیتی ہے ۔ مثلا آؤ ، لاؤ ، آئی ، لائی، آئے، لائے وغیرہ ۔ ( ان الفاظ کی مغنونہ صورتوں یعنی آؤں ، لاؤں ، آئیں ، لائیں وغیرہ کو بھی اسی پر قیاس کیا جاتا ہے۔)۔ یعنی ہمزہ ان حروف پر دراصل زیر زبر پیش کی حرکت کا قائمقام ہوتا ہے ۔ اس لئے آئے جائےکھائے (یا آئیں ، جائیں ، کھائیں ) وغیرہ کی تقطیع کرتے وقت ہمزہ کو گرا کر ی یا ے کو ساکن کے طور پر برقرار رکھا جاتا ہے ۔ چنانچہ "جائے" کی تقطیع جاے اور آئی کی تقطیع آی بروزن فاع حسبِ ضرورت جائز ہے ۔ (ایک حرفِ ساکن مصرع کے آخر میں زیادہ کرنا تقریبا ہر بحر میں جائز اور عام مستعمل ہے ۔) ہمزہ گرانے کی کچھ مثالیں یہ ہیں۔
    آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے ۔ مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا
    درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے - کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے (غالب)
    یاقوت کوئی اِن کو کہے ہے ، کوئی گلبرگ ۔ ٹک ہونٹ ہلا تو بھی کہ اک بات ٹھہر جائے
    مت بیٹھ بہت عشق کے آزردہ دلوں میں ۔ نالہ کسو مظلوم کا تاثیر نہ کرجائے (میر)
    لذتِ عشق الٰہی مٹ جائے - درد ارمان ہوا جاتا ہے (داغ)
    دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائےئے ۔ ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائےئے (اقبال)

    لیکن انہی اساتذہ نے مصرع کے آخر میں حسبِ مرضی ہمزہ کو برقرار بھی رکھا ہے ۔ مثالیں دیکھئے۔

    لطفِ نظّارہء قاتل دمِ بسمل آئے - جان جائے تو بلاسے، پہ کہیں دل آئے (غالب)
    زخموں پہ زخم جھیلے ، داغوں پہ داغ کھائے ۔ یک قطرہ خونِ دل نے کیا کیا ستم اٹھائے (میر تقی میر)
    داغ سے کہہ دو اب نہ گھبرائے - کام اپنا بنا ہوا جانے
    بہا اے چشمِ تر ایسا بھی اک آنسو ندامت کا - جسے دامن میں لینے رحمتِ پروردگار آئے (داغ)

    چنانچہ ہمزہ کو حسبِ مرضِی رکھا یا گرایا جاسکتا ہے ۔ لیکن ایسا ممکن نہیں کہ مصرع کے آخر میں بغیر ہمزہ کے آنے والی ی یا ے کو حسبِ ضرورت گرادیا جائے ۔ مثلا سوالی، عالی، سواری ، یاری ، ہمارے ، کنارے ، حوالے کے الفاظ اگر مصرع کے آخر میں آئیں تو ان کی یائے معروف یا یائے مجہول ہمیشہ تقطیع میں آئے گی ۔ گرائی نہیں جاسکتی ۔ مجھے دوہے کے اوزان کا کچھ زیادہ علم نہیں لیکن آپ کا یہ سوال کہ " ی اور ے کو دیگر اصنافِ سخن میں گرایا جاسکتا ہے تو دوہے میں کیوں نہیں " غلط فہمی پر مبنی معلوم ہوتا ہے ۔ میرے ناقص علم کے مطابق دیگر اصنافِ سخن میں ایسا نہیں ہوتا ۔ آپ کا دعوی ہے کہ ایسی ہزاروں مثالیں آپ کی نظر سے گزری ہیں ۔ لیکن اتفاق سے میرا مطالعہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔ آج تک ایسی کوئی نظیر میری نظر سے نہیں گزری ۔ سلمان بھائی ، براہِ کرم اس سلسلے میں چند معتبر مثالیں اگر دکھا سکیں تو میں اپنی کم علمی دور کرنے پر آپ کا ممنون رہوں گا ۔ :):):)
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 12, 2016
    • زبردست زبردست × 4
    • متفق متفق × 2
  20. فرحان عباس

    فرحان عباس محفلین

    مراسلے:
    300
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    میرے خیال میں شاید دوہے کے 54 اوزان جو @شاکرالقادی بھائی نے دیئے ہیں انکو مکس کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس مثال میں یہی کیا گیا ہے.
    ﺗﯿﺮﮦ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﺗﺮﺍ، ﺑﯿﭻ ﺑﯿﭻ ﻭﺷﺮﺍﻡ
    فعل فعولن فاعلن، فعل فاعلن فاع
    ﺩﻭ ﻣﺼﺮﻋﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ، ﺩﻭﮬﺎ جسکا نام
    فعلن فعلن فاعلن، فعلن فعلن فاع
    ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
     

اس صفحے کی تشہیر