آم :گرمیوں کا سب سے مقبول پھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

hakimkhalid

محفلین
_4sj28uhbdc.jpg

تحریر:حکیم قاضی ایم اے خالد​

٭…جدید تحقیقات کے مطابق آم بریسٹ اور کولون کینسر میں موثر ثابت ہواہے

٭…آم کے اندر پایا جانے والا کیمیکل عنصر پولی فینول کئی قسم کے کینسر اور ٹیومرمیں فائدہ مند ہے

آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ آم گرمیوں کا سب سے مقبول پھل ہے اور دنیا بھر میں دوسرے پھلوں سے زیادہ کھایا جاتا ہے۔ آم میں نشاستہ پایا جاتا ہے اور روغنی اجزابھی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔آم میں حیاتین اے 'سی' فاسفورس' کیلشیم'فولاد اور پوٹاشیم کے علاوہ گلوکوز بھی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ آم غذائیت بخش پھل ہے۔ یہ جسمانی کمزوری کو ختم کرتا ہے خون پیدا کرتا ہے اور جسم کو فربہ کرتا ہے۔ آم میں کیلشیم کی موجودگی ہڈیوں کیلئے مفید ہے۔ آم جگر'دل' دماغ'ہڈیوں اور پٹھوں کو سخت گرمی سے محفوظ رکھتا ہے۔ آم بچوں کو خصوصی طور پر کھلانا چاہئے۔ آم کھانسی اور دمہ کے مریضوں کیلئے بھی بہترین ہے یہ حافظے کو تقویت دیتا ہے اس لئے دماغی کمزوری والے لوگوں کوآم کا استعمال خاص طور پرکرنا چاہئے۔ آم کی مسواک دانتوں کی صفائی کیلئے مفید ہے۔آم میں موجود قدرتی اجزا دل کے امراض' کینسر اور جلدی بیماریوں سے حفاظت کا نہایت موثر ذریعہ ہیں۔ اس میں موجود فولاد جلد کی تروتازگی اور دلکشی میں اضافے کا باعث بنتا ہے جبکہ پوٹاشیم کی بڑی تعداد بلڈ پریشر کنٹرول کرتی ہے۔ گردے کی پتھری سے حفاظت کے لئے بھی آم کا استعمال نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔
حالیہ جدید تحقیقات کے مطابق آم بریسٹ اور کولون کے سرطان سے محفوظ رکھنے کیلئے ایک اہم دوا ثابت ہوا ہے۔ آم کھانے کے شوقین لوگوں میں اس سرطان کی شرح نمایاں طور پر کم دیکھی گئی ہے۔ دنیائے طب میں آم اور صحت کے درمیان تعلق پر ہونے والی پہلی طبی تحقیق کرنے والی برلن کی معروف ڈاکٹر سواسانی ٹیل کوٹ اور ان کے شوہر ڈاکٹر سیٹوٹیل کوٹ نے آم کے گودے'جوس'چھلکے'گٹھلی کو کینسر کے خلاف قوت مدافعت فراہم کرتے ہوئے نوٹ کیا۔ انہوں نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں لکھا ہے کہ آم کھانے والے افراد کے خون میں زہریلے مادوں کی شرح صرف 10فیصد تک تھی جبکہ دیگرآم نہ کھانے والے لوگوں کے جسموں میں شرح 35سے 40فیصد تک نوٹ کی گئی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو آم سپر فوڈ کہلا سکتا ہے۔ تحقیق کے دوران جسم سے زہریلے مادے اور کینسر کے سیل ختم کرنے کیلئے بلیوبیری' آم' پائن ایپل سمیت دیگر پھلوں پر تجربات کئے گئے جن میں سب سے زیادہ آم نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق انگوروں کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ سب سے بہتر خون صاف کرنے والا فروٹ ہے اور یہ ہے بھی درست مگر آم نے اس پر بھی سبقت حاصل کرلی ہے۔ ماہرین طب نے اس تحقیق سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آم کو روزمرہ خوراک بنانے کیلئے زرعی سطح پر نئے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آم کے اندر پائے جانے والے کیمیکل عنصر پولی فینول سے کولون' بریسٹ' پھیپھڑوں اور ہڈیوں کے گودے کے سرطان اور پروسٹیٹ کینسر کے ٹیومرز کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ عنصر عام طور پر پودوں میں پایا جاتا ہے مگر سب سے بہتر اور اعلی کوالٹی کا حاصل یہ عنصر آم میں ہی ملتا ہے۔
کچے آم (کیری )بھی صحت کیلئے بہت مفید ہیں ۔ کچے آم میں وٹا من بی ون اور بی ٹو پکے ہوئے آم کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ نیا سین کی قابل ذکر مقدار بھی اس میں پائی جاتی ہے ۔ شد ید گرمی اور لوکے تھپیڑوں سے بچنے کیلئے کچے آم کو آگ میں بھون کر اس کا نرم گوداشکر اورپانی میں ملا کر شربت کے طور پر استعمال کرنے سے گرمی کے اثرات کم ہو جاتے ہیں کیری پر نمک لگا کر کھانے سے پیاس کی شدت کم ہو جاتی ہے جبکہ پسینے کی وجہ سے جسم میں ہونیوالی نمک کی کمی بھی پوری ہو جاتی ہے کیری میں موجود وٹامن سی خون کی نالیوں کو زیادہ لچکدار بناتی ہے خون کے خلیات کی تشکیل میں بھی مدد گار ہوتی ہے غذا میں موجود آئرن کو جسم میں جذب کرنے میں بھی یہ وٹامن معاونت کرتی ہے اور جریان خون روکتی ہے کچے آم میں تپ دق' انیمیا اور پیچش سے بچا ؤکیلئے جسم کی مزاحمتی صلاحیت کو طاقتور بنانے کی قوت بھی پائی جاتی ہے کیری میں جو ترش تیزابی مادے ہوتے ہیں وہ صفرا کے اخراج کو بڑھا دیتے ہیں اور آنتوں کے زخموں کو مندمل کرنے میں اینٹی سیپٹک کے طور پر کام کرتے ہیں کھٹے کچے آم جگر کو صحت مند بناتے ہیں طبیب حضرات صفرادی خرابیوں کو دور کرنے کیلئے کیری کی قاشوں کو شہد اور کالی مرچ کے ساتھ کھانے کا مشورہ دیتے ہیں کچے آموں کو آنکھوں کی مرض اتوندیاشب کوری( جس میں رات کے وقت دیکھنے میں دشواری ہوتی ہے) میں بھی مفید پایا گیا ہے
آم کے پتے' چھال'گوند'پھل اور تخم سب دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ آم کے پرانے اچار کا تیل گنج کے مقام پر لگانے سے بالچر کو فائدہ ہوگا۔ آم کے درخت کی پتلی ڈالی کی لکڑی سے روزانہ مسواک کرنے سے منہ کی بدبو جاتی رہے گی۔ خشک آم کے بور کا سفوف روزانہ نہار منہ چینی کے ساتھ استعمال کرنا مرض جریان میں مفید ہے۔جن لوگوں کو پیشاب رکنے کی شکایت ہو' آم کی جڑ کا چھلکا برگ شیشم دس دس گرام ایک کلو پانی میں جوش دیںجب پانی تیسرا حصہ رہ جائے تو ٹھنڈا کرکے چینی ملا کر پی لیںپیشاب کھل کر آئے گا۔ ذیابیطس کے مرض میں آم کے پتے جو خود بخود جھڑ کرگر جائیں'سائے میں خشک کرکے سفوف بنا لیں۔ صبح و شام دو دو گرام پانی سے استعمال کرنے سے چند دنوں میں فائدہ ہوتا ہے۔ نکسیر کی صورت میں آم کے پھولوں کو سائے میں خشک کرکے سفوف بنا لیں اور بطور نسوار ناک میں لینے سے خون بند ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کے بال سفید ہوں' آم کے پتے اور شاخیں خشک کرکے سفوف بنا لیں۔ روزانہ تین گرام یہ سفوف استعمال کیا کریں۔ کھانسی' دمہ اور سینے کے امراض میں مبتلا لوگ آم کے نرم تازہ پتوں کا جوشاندہ' ارنڈ کے درخت کی چھال سیاہ زیرے کے سفوف کے ساتھ استعمال کریں۔ آم کی چھال قابض ہوتی ہے اور اندرونی جھلیوں پر نمایاں اثر کرتی ہے اس لیے سیلان الرحم(لیکوریا) آنتوں اور رحم کی تکالیف 'پیچش و خونی بواسیر کیلئے بہترین دوا خیال کی جاتی ہے۔ ان امراض میں آم کے درخت کی چھال کا سفوف یا تازہ چھال کا رس نکال کر دیا جاتا ہے۔ آم کی گٹھلی کی گری قابض ہوتی ہے۔ چونکہ اس میں بکثرت گیلک ایسڈ ہوتا ہے اس لئے کثرت حیض' پرانی پیچش' اسہال' بوا سیر اور لیکوریا میں مفید ہے۔
٭…٭…٭
یہی مضمون نوائے وقت سنڈے میگزین میں ملاحظہ فرمانے کےلیے کلک کیجئے
٭…٭…٭
یہی مضمون آپ پڑھ سکتے ہیں رمضان اسپیشل ماہ اگست ۲۰۱۰کے مصالحہ ٹی وی میگزین میں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭…٭…٭

 

hakimkhalid

محفلین
شکریہ حکیم صاحب۔

لیکن یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ممنوع بھی تو ہے۔

درست کہا آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذیابیطس کے مریض آم استعمال نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور مندرجہ بالا فوائد پپیتے کے استعمال سے حاصل کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگرچہ چائنہ کے مطالعاتی دورے کے دوران میں نے وہاں جامن اور آم کے ہموزن رس کو ذیابیطس کے مریضوں کو پلاتے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔تاہم اس کے استعمال کا مشورہ نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔
 
آم کا خالی پیٹ کھانا سخت تکلیف کا باعث ہوتا ہے کم از کم میرے ساتھ تو ایسا ہی ہوتا ہے شائد تر مزاج والے کے ساتھ ایسا ہوتا ہو
بہت سارے لوگوں سے پوچھا کہ آپ کو خالی پیٹ سے تکلیف ہوتی ہے تو ان کو جواب نفی میں تھا لیکن جن جن لوگوں نے کہا کہ سخت تکلیف ہوتی ہے ان کا مزاج تر تھا۔
 
دراصل آپ کا مزاج گرم ہے اس وجہ سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ میرے گھر میں میری والدہ ابو اور ایک بہن اور ایک بھائی بھی نہار منہ کھاتے ہیں لیکن ان کو کچھ نہیں ہوتا ہے لیکن جب میں میری سب سے چھوٹی بہن اس کو کھاتے ہیں تو شدید قسم کا درد ہوتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے بلیڈ کھا لیا ہو جو کہ اندر پیٹ کو کاٹ رہا ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
تو آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ آپ کا مزاج نرم ہے، لیکن آپ کے مراسلوں سے لگتا تو نہیں۔:cool:
 

فہیم

لائبریرین
آم کا خالی پیٹ کھانا سخت تکلیف کا باعث ہوتا ہے کم از کم میرے ساتھ تو ایسا ہی ہوتا ہے

بہتر ہے کہ آپ اپنا علاج کرالیں۔
کیونکہ ایسا صرف آپ کی طرف سے ہی سننے میں آیا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ آپ کو کوئی موذی مرض ہو جو خود آپ کے علم میں نہ ہو۔
 

تیشہ

محفلین
آم ۔۔ آم ۔ ۔۔
فہیم میں نے کچھ دن پہلے آم کاٹا ہے ملک شیک کے لئے ۔۔ اور آم کاٹتے ہوئے جو میری شکل بنی وہ بہت فنی ہے ۔ بہنؤئی جی مجھے کہا آم کاٹ دو ،، ملک شیک بناکر پیتے ہیں ۔۔ میں نے بادلنخواستہ کاٹا ۔۔
خالی پیٹ ۔۔
zzzbbbbnnnn.gif

تبھی ملک شیک ہمارے نصیب میں نا تھا نہ آم ۔۔ جیسے ہی بہنوئی جی نے دودھ آم چینی ڈال کر شیکر چلایا پھٹاک سے جگ پھٹا اور سارا ملک شیک زمین بوس ہوا ۔۔۔ میری لینڈ کی گرمی سے گبھرا کے ہم ملک شیک ، اور لسی بنا بنا کر پیتے رہے ہیں ۔۔
مگر سارے کچن کو مجھے مب مار مار کے صاف کرنا پڑا تھا :(
mango111.jpg

شکل دیکھو میری ۔
 
Top