1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

آسمان کِس چیز سے بنا ہوا ہے؟

عبدالقدیر 786 نے 'سائنس اور ٹیکنالوجی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 15, 2019

ٹیگ:
  1. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    آپ نے تو سب اجرامِ فلکی کو گیسی غبارے بنا دیا!
    :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  2. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    1,107
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ میرا ناقص علم ہے اسی لئے میں نے آخر میں واللہ عالم لکھ دیا تھا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    کوئی گیس کا مسئلہ تو نہیں چل رہا آج کل
    :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  4. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,880
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    گیس کی بڑی مقدار اکٹھی ہونے پر قوت ثقل کی وجہ سے دب کر ٹھوس اور مائع بھی بن جاتی ہے۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ مقدار کتنی ہے اور اس کو وقت کتنا گزرا ہے۔
     
    • متفق متفق × 3
  5. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    میں نے بھی ازراہِ تفنن ہی کہا ہے، اس لیے آخر میں :) لگا دیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. بندہ پرور

    بندہ پرور محفلین

    مراسلے:
    162
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    قران پاک میں آسمانوں کا ذکرہے اور دیگر الہامی کتب میں بھی ذکر ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آسمانوں کا وجود ہے
     
    • متفق متفق × 1
  7. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    1,107
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہاں آسمان کے وجود کی بات نہیں ہورہی آسمان کِس چیز سے بنا ہے وہ پوچھا جارہا ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  8. بندہ پرور

    بندہ پرور محفلین

    مراسلے:
    162
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    درست فرمایا عبداقدیر صاحب لیکن میں نے یہ مراسلہ عباس اعوان کے جواب میں لکھا ہے جو کہتے ہیں کہ سائنسی نقطہ نظر سے آسمانوں کا وجود نہیں ہے
     
    • متفق متفق × 2
  9. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    1,107
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    1,880
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    کسی "شے" کا "وجود" ہونا کئی طرح سے کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر۔ زبان وجود رکھتی ہے۔ اس میں الفاظ وجود رکھتے ہیں۔ لیکن لازمی نہیں کہ وہ وجود مادی صورت میں ہی ہو۔ کسی شے کے مجرد (abstract) ہونے کا مطلب لازمی نہیں کہ وہ وجود نہیں رکھتی۔
    آسمان کے تذکرے کو ایک مجرد تصور سمجھ کر الفاظ میں اور مشاہدے میں تطبیق پیدا کی جا سکتی ہے۔ اگر پھر بھی آپ کا اصرار ہے کہ پرانی سمجھ ہی کو لیا جائے تو آپ کی مرضی، خاکسار کیا کر سکتا ہے سوائے ایک تجویز پیش کرنے کے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
    • متفق متفق × 2
  11. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,911
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    سورۃ الذاریات آیت # 47 سے ظاہر ہے کہ آسمان کوئی ٹھوس شے نہیں بلکہ قابلِ توسیع ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • متفق متفق × 1
  12. عبدالقدیر 786

    عبدالقدیر 786 محفلین

    مراسلے:
    1,107
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جب وجود نہیں تو نظر کیوں آتا ہے؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  13. عباس اعوان

    عباس اعوان محفلین

    مراسلے:
    2,187
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Amused
     
    • متفق متفق × 1
  14. عباس اعوان

    عباس اعوان محفلین

    مراسلے:
    2,187
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Amused
    بہت ہی آسان الفاظ میں یوں سمجھیں کہ ہمارے سیارے زمین کی فضا، ایک نیلے رنگ کی عینک ہے، جب ہم اس فضا کے ذریعے سے خلا کو دیکھتے ہیں تو ہمیں نیلا نیلا نظر آتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  15. عباس اعوان

    عباس اعوان محفلین

    مراسلے:
    2,187
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Amused
    جب آپ اس عینک کے اوپر اٹھ کر دیکھیں گے، تو آپ کو نیلا آسمان نظر نہیں آئے گا۔
    اس کا مشاہدہ محمد سعد بھائی کی شئیر کردہ ویڈیو میں بھی کیا جاسکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 1
  16. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,911
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    مع درجہ حرارت۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,704
    جی نہیں البتہ محفلین سے ملاقاتوں کے دوران "بادلوں" میں ضرور ہوتے ہیں :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  18. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,704
    جب یہ الہامی کتب نازل ہوئیں، اس وقت گیسی غباروں ، دوربینوں اور دیگر جدید سائنسی آلات سے آسمان کا مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,704
    سائنس تو وہی بتا رہی ہے جو حقیقت ہے۔ باقی دینی نکتہ نظر سے آسمانوں کا وجود ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. عدیل عبد الباسط

    عدیل عبد الباسط محفلین

    مراسلے:
    124
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    یہ الگ بات ہے کہ الہامی کتابوں کے اصل منبع یعنی ذاتِ باری تعالیٰ کو ان آلات کی ضرورت نہ تھی، نہ ہے، نہ ہوگی۔ :)
    سائنس وہ بتا رہی ہے جو اسے فی الحال سمجھ آرہا ہے۔ دینی نکتۂ نظر سے آسمانوں کا وجود ہے، لیکن ان کی کیفیت اور حقیقت کیا ہے، یہ واقعتا اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
    تفسیرِ قرآن اور تشریحِ احادیث کا ایک مسلمہ اصول یہ ہے کہ جب تک قرآن و حدیث کے کسی جملے کا حقیقی معنیٰ مراد لینا ممکن ہو اس وقت تک مجازی معنیٰ مراد لینا درست نہیں ہے۔ چنانچہ جب قرآن کریم میں نہ صرف تخلیقِ آسمان کا تذکرہ موجود ہے بلکہ اس کی تخلیق میں جو مدت صرف ہوئی وہ بھی مذکور ہے اور پھر واقعہ معراج میں آپ ﷺ کا اپنے جسم مبارک کے ساتھ مختلف آسمانوں پر تشریف لے جانا اور انبیاء علیہم السلام سے ملاقات فرمانا اور وہاں کے مختلف احوال کا تذکرہ مستند احادیث مبارکہ میں موجود ہے، تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم آسمانوں کو محض ایک تصوارتی اور خیالی وجود تسلیم کرلیں، بلکہ انہیں ایک حقیقی وجود تسلیم کرنا ضروری ہوگا۔
    البتہ یہ بات قابلِ تسلیم ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جس نیلے پن کو یا جس سیاہی کو ہم آسمان سمجھ رہے ہیں وہی آسمان ہو، بلکہ عین ممکن ہے کہ آسمانوں سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جو مراد ہے وہ ہماری نظروں سے اوجھل اور ہمارے دائرہ علم میں موجود کہکشاؤں سے بالا تر اور ماوراء، اللہ تعالیٰ کی قدرتِ تخلیق کا کوئی عظیم الشان مظہر ہو جس تک ہمارے علم کی تاحال رسائی نہ ہو سکی ہو۔ آخر یہ بات بھی تو ذہن میں رکھنے کی ہے کہ خود سائنس اس بات کی معترف ہے کہ کائنات کا جو حصہ آج ہمارے مشاہدے میں ہے وہ کائنات کی حقیقی وسعتوں کے مقابلے میں محض اتنا سا ہے جتنا کسی بڑے وائٹ بورڈ پر ایک معمولی سا نکتہ۔ اس صورتِ حال میں ہماری کیا مجال رہ جاتی ہے کہ ہم کسی بھی چیز کو حتمی طور پر آسمان قرار دیں یا آسمان کے وجود کو کوئی خاص جہت دینے کی کوشش کریں۔
     
    آخری تدوین: ‏اگست 16, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر