آزادیِ نسواں۔۔۔ آخری حد کیا ہے؟؟؟

جاسم محمد

محفلین
میں آپ کی بات سے متفق ہوں۔ میرا سوال تو ان صاحب سے تھا جو ایک طرف تو علماء کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے اور دوسری طرف اپنی رائے ثابت کرنے کے لیے علماء کی ہی رائے (وہ بھی نامکمل) پیش کر رہے تھے۔
میں نے کہیں علما کرام کی رائے سے اتفاق نہیں کیا۔ اوپر جو عرفان سعید نے سیاق سباق کے ساتھ مذکورہ آیات کا مطلب سمجھایا ہے۔ وہ کوئی بھی پڑھنے لکھنے والا مسلمان خود جان سکتا ہے۔ اگر آپ کو اتنے سادہ کام کیلئے بھی علما درکار ہیں تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں۔
 

محمد سعد

محفلین
اگر آپ کو اتنے سادہ کام کیلئے بھی علما درکار ہیں تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں۔
مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آیا قرآن مجید ایک آسان کتاب ہے جسے کوئی بھی انسان پڑھ کر خدا کے پیغام کو جان سکتا ہے یا ایک مشکل کتاب ہے جسے سمجھنا عام انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ضرورت کے حساب سے اس کے خواص بدل لیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنے اوپر منحصر رکھنے اور گلشن کا کاروبار چلاتے رہنے کا مقصد پورا ہوتا رہے۔
 

عدنان عمر

محفلین
جاننا تو چاہوں گا لیکن اب تک کی گفتگو سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ ایسا کچھ سیکھنے کے لیے آپ اور سید عمران صاحب غلط استاد ثابت ہوں گے، معذرت کے ساتھ۔
آپ کی بات درست ہے۔ استاد تو دور کی بات، میں تو دین کا باقاعدہ طالبِ علم ہونے کا دعوے دار بھی نہیں۔
کسی بھی علم کو حاصل کرنے کے لیے اس علم کے اساتذہ سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ مجھے آپ کے خلوص کے بارے میں کوئی شک نہیں۔ اگر آپ اپنی مصروف زندگی میں سے دین کے لیے کچھ وقت نکال سکیں تو امید اور دعا ہے کہ رب تعالیٰ کے آپ کے ذہن و قلب کو علمِ دین کے نور سے بھردے۔ جزاک اللّہ خیراً۔
 

عدنان عمر

محفلین
مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آیا قرآن مجید ایک آسان کتاب ہے جسے کوئی بھی انسان پڑھ کر خدا کے پیغام کو جان سکتا ہے یا ایک مشکل کتاب ہے جسے سمجھنا عام انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ضرورت کے حساب سے اس کے خواص بدل لیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنے اوپر منحصر رکھنے اور گلشن کا کاروبار چلاتے رہنے کا مقصد پورا ہوتا رہے۔
میرا ایک مشورہ ہے، ہو سکے تو قبول فرما لیجیے۔
ایک دفعہ پورا قرآنِ مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھ کر دیکھیے۔ اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتے رہیے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کا درست فہم عطا فرمائے۔ جب آپ قرآنِ پاک کے ترجمے کا مطالعہ کر رہے ہوں تو ساتھ ساتھ جو جو نکات آپ کو غور طلب لگیں، انھیں نوٹ بھی کرتے جائیے۔ کوشش کیجیے کہ قرآن پاک کے مطالعہ کے وقت اپنے ذہن کو خالی رکھیں تا کہ مکمل غیر جانبداری سے کلامِ پاک کو سمجھنے کی کوشش کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کو اور مجھے دین کا درست فہم عطا فرمائے، آمین۔
 

سید عمران

محفلین
عمران بھائی قرآن کو سب مسلمان اللہ کا کلام مانتے ہیں لیکن کیا تمام دنیا کے مسلمان اس کی تمام باتوں پر عمل کرتے ہیں؟ کیا عمل نہ کرنے کی وجہ سے آپ ان تمام مسلمانوں پر دہریئے مردوں اور عورتوں کا حکم نافذ کررہے ہیں؟ کیا آپ ایسا کہنے کے مجاز ہیں؟
ہماری بات سے یہ مطلب کیسے نکال لیا کہ ہم نے مسلمانوں کو کہا ہے۔۔۔
اللہ کا حکم نہ ماننے سے یعنی گناہ کرنے سے کوئی مسلمان غیر مسلم نہیں ہوتا۔۔۔
لیکن اسلامی احکام کا مذاق اڑانا مسلمان کا کام نہیں۔۔۔
البتہ جو پہلے سے دہرئیے ہیں اور سرعام ببانگِ دہل خود اس کا اعلان بھی کرتے ہیں وہ جو چاہے سو کریں!!!
 

سید عمران

محفلین
حکم الٰہی رسول اللہ ﷺ کی بیبیوں کیلئے تھا۔ تمام مومنین کی بیبیوں کیلئے نہیں۔ احکام الٰہی کی اپنی من پسند تشریحات کرنے کا اختیار آپ کو کس نے دیا؟
چوں کہ آپ نے نبی کی زوجات کا حوالہ دیا تھا اسی کے تناظر میں یہ بات پیش کی تھی کہ اگر آپ ان کے تجارتی و کاروباری کردار کی بات کرتے ہیں تو ان کے حوالے سے اللہ کے اس حکم کی بھی بات کریں کہ اپنے اپنے گھروں میں جم کر بیٹھی رہو۔۔۔
کیا آپ خواتین کو یہ رہنمائی دیں گے کہ اللہ نے تو نبی کی بیویوں کو گھر میں جم کر بیٹھنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تمہاری پہلی ترجیح یہی ہو کہ اس حکم کا اتباع کرنے کی کوشش کرو۔۔۔
دوسری بات ایک طرف حضرت خدیجہ سرمایہ کار تھیں تو دوسری طرف ام المؤمنین حضرت زینب بہترین دستکار تھیں، اپنی دستکاری کی اشیاء فروخت کرتیں اور ساری رقم صدقہ کردیتی تھیں۔۔۔
اسی صفت کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرے وصال کے بعد میری بیویوں میں سب سے پہلے وہ مجھ سے ملے گی جس کے ہاتھ سب سے دراز ہیں۔۔۔
تیسری بات یہ بیبیاں خود گھروں سے باہر نکل کر تجارت نہیں کرتی تھیں، حتی کہ اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں بھی حضرت خدیجہ جن کا بزنس ملٹی نیشنل تھا، آپ کا مال باقاعدہ ملک شام ایکسپورٹ ہوتا تھا گھر سے نکل کر ملک شام نہیں گئیں، باہر کا کام ہمیشہ دوسروں سے لیا۔۔۔
بات ہورہی ہے بلاوجہ خواتین کو گھروں سے کھینچ کھینچ کر باہر نکالنے کی ترغیب دینے کی۔۔۔
جس کو ضرورت ہے وہ اپنا مسئلہ خود جانے دوسرے بیگانے کی شادی میں کیوں دیوانے ہورہے ہیں؟؟؟
 

سید عمران

محفلین
مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آیا قرآن مجید ایک آسان کتاب ہے جسے کوئی بھی انسان پڑھ کر خدا کے پیغام کو جان سکتا ہے یا ایک مشکل کتاب ہے جسے سمجھنا عام انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ضرورت کے حساب سے اس کے خواص بدل لیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنے اوپر منحصر رکھنے اور گلشن کا کاروبار چلاتے رہنے کا مقصد پورا ہوتا رہے۔
یہ بتائیں کہ یہی قرآن یہ کیوں کہتا ہے:

۱) فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون

۲) إنما يخشى الله من عباده العلماء

۳) الرحمٰن فاسئل بہ خبیرا

۴) فَمَنْ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفاً أَوْ إِثْماً فَأَصْلَحَ بَیْْنَہُمْ فَلاَ إِثْمَ عَلَیْْہِ
اس آیت میں دونوں میں صلح کرانے کا کیا مطلب ہے؟؟؟

۵) النجم و الشجر یسجدٰن
اس آیت میں ستارے اور درخت بیان کرنے کا آپس میں کیا ربط ہے؟؟؟

۶) یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا سے کون لوگ مراد ہیں؟؟؟

۷) اہل زبان ہونے کے باوجود حضرت عمر و عنبا و ابا کا مطلب پوچھنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کیوں گئے؟؟؟

۸) اہل زبان اور ہر دم رسول اللہ کے صحبت یافتہ ہونے کے باوجود حضرت عمر نے نو یا گیارہ سال صرف سورہ بقرہ سمجھنے میں کیوں لگادئیے؟؟؟

۹) صحابہ کو بہتان کا مطلب معلوم تھا لیکن اہل زبان ہونے کے باوجود انہوں نے قرآن پاک میں لفظ غیبت کا مطلب پوچھنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں رجوع کیا؟؟؟

۱۰) وإذا جاءهم أمر من الأمن أو الخوف أذاعوا به ولو ردوه إلى الرسول وإلى أولي الأمر منهم لعلمه الذين يستنبطونه منهم ولولا فضل الله عليكم و رحمته لاتبعتم الشيطان إلا قليلا

اس آیت میں اہل استنباط سے کون لوگ مراد ہیں؟؟؟
 

محمد سعد

محفلین
ہماری بات سے یہ مطلب کیسے نکال لیا کہ ہم نے مسلمانوں کو کہا ہے۔۔۔
اللہ کا حکم نہ ماننے سے یعنی گناہ کرنے سے کوئی مسلمان غیر مسلم نہیں ہوتا۔۔۔
لیکن اسلامی احکام کا مذاق اڑانا مسلمان کا کام نہیں۔۔۔
البتہ جو پہلے سے دہرئیے ہیں اور سرعام ببانگِ دہل خود اس کا اعلان بھی کرتے ہیں وہ جو چاہے سو کریں!!!
ذرا وضاحت بھی کر دیں کہ اس گفتگو میں آپ کے مخاطبین میں سے کون پہلے سے دہریے ہیں اور سر عام ببانگ دہل اس کا اعلان کرتے ہیں۔ کیا آپ کچھ مثالیں دے سکتے ہیں جہاں انہوں نے ایسا کچھ اعلان کیا ہو؟ یا یہ وہی فرسودہ مائینڈ سیٹ ہے کہ جہاں کسی نے آپ کی ذاتی رائے کو اس کی جگہ پر ہی رکھا اور اسے ذاتی رائے کے بجائے مذہب کا درجہ نہ دیا تو اس پر ٹھک سے کافر، دہریے یا قادیانی کا لیبل لگ گیا؟
 

سید عمران

محفلین
ذرا وضاحت بھی کر دیں کہ اس گفتگو میں آپ کے مخاطبین میں سے کون پہلے سے دہریے ہیں اور سر عام ببانگ دہل اس کا اعلان کرتے ہیں۔ کیا آپ کچھ مثالیں دے سکتے ہیں جہاں انہوں نے ایسا کچھ اعلان کیا ہو؟ یا یہ وہی فرسودہ مائینڈ سیٹ ہے کہ جہاں کسی نے آپ کی ذاتی رائے کو اس کی جگہ پر ہی رکھا اور اسے ذاتی رائے کے بجائے مذہب کا درجہ نہ دیا تو اس پر ٹھک سے کافر، دہریے یا قادیانی کا لیبل لگ گیا؟
پہلی بات ہم نے اپنی بات نہ ماننے والوں کو کچھ نہیں کہا۔۔۔
دوسری بات آپ خود ڈھونڈ لیں، یہیں کہیں آپ کو سرعام ببانگ دہل اعلانات مل جائیں گے، ہم کسی کا نام نہیں لیں گے۔۔۔
تیسری بات ہم نے تو کسی کا نام نہیں لیا لیکن آپ نے براہ راست ہم پر فرسودہ مائنڈ سیٹ ہونے کا الزام لگا دیا۔ یعنی دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت۔۔۔
کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں!!!
 

زاہد لطیف

محفلین
جس کو ضرورت ہے وہ اپنا مسئلہ خود جانے دوسرے بیگانے کی شادی میں کیوں دیوانے ہورہے ہیں؟؟؟
جس کا مسئلہ ہے وہ خود اسے حل کر لے گا یہ بات تو لڑی کے ابتداء میں ہی کر دی گئی تھی لیکن آپ کی پوسٹ کردہ من پسند تاویلات، تشریحات اور ویڈیوز یہ بتا رہی ہیں کہ سب سے زیادہ مسئلہ تو آپ کو ہے۔ آپ بھول رہے ہیں اس کی ابتداء آپ نے خود ہی کی اور اگر اب آپ کو اختلاف رائے ہضم نہیں ہو رہا تو ایسا بودہ مشورہ دینے سے قبل لڑی کی ابتداء کی طرف ہی دیکھ لیتے۔ یعنی ہم اگر پرائی شادی میں دیوانے ہوتے رہیں تو کوئی بات نہیں بلکہ ہمارے مقتدی اور غلام بھی شامل ہو جائیں تو بھی کوئی بات نہیں لیکن جیسے ہی ہماری غلامی سے آزاد اور اختلاف رائے رکھنے والا شخص شامل ہو فوراً مسئلہ شروع ہو جاتا ہے! سبحان اللہ! :)
 
مدیر کی آخری تدوین:

زاہد لطیف

محفلین
لیکن اسلامی احکام کا مذاق اڑانا مسلمان کا کام نہیں۔۔۔
اسلامی احکام نہیں بلکہ آپ کی من پسند تشریحات اور دین کا ٹھیکیدارانہ رویہ۔
مذاق اڑانا نہیں بلکہ ناقدانہ نگاہ سے دیکھنا۔ حوصلہ پیدا کیجیے، آپ اسلام نہیں ہیں! :)
 

جاسم محمد

محفلین
بات ہورہی ہے بلاوجہ خواتین کو گھروں سے کھینچ کھینچ کر باہر نکالنے کی ترغیب دینے کی۔۔۔
معلوم نہیں آپ بار بار ترغیب کا لفظ کیوں استعمال کر رہے ہیں؟ ہم نے صرف اتنا کہا تھا کہ جو بیویاں اپنی تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر کام کاج کرنا چاہتی ہیں ان کو روکنے کا کوئی جواز خاوند کے پاس موجود نہیں ہے۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد شادی کے بعد بچوں کی دیکھ بھال میں فُل ٹائم مصروف ہو جاتی ہیں۔ اور جب بچے کچھ بڑے ہو جائیں تو کام کاج پر واپس آجاتی ہیں۔ ظاہر ہے جو بیوی کام کاج کرنا نہیں چاہتی ہے اسے خاوند مجبور نہیں کر سکتا۔ اور جو کرنا چاہتی ہے اسے خاوند روک نہیں سکتا۔ کام کرنے نہ کرنے کا اختیار بہرحال بیوی کے پاس موجود ہے۔
 

محمد سعد

محفلین
اسلامی احکام نہیں بلکہ آپ کی من پسند تشریحات اور دین کا ٹھیکیدارانہ رویہ۔
مذاق اڑانا نہیں بلکہ ناقدانہ نگاہ سے دیکھنا۔ حوصلہ پیدا کیجیے، آپ اسلام نہیں ہیں! :)
کچھ لوگوں کے لیے یہ قبول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ اسلام ان کی ذات کا نام نہیں ہے۔
 

محمد سعد

محفلین
پہلی بات ہم نے اپنی بات نہ ماننے والوں کو کچھ نہیں کہا۔۔۔
دوسری بات آپ خود ڈھونڈ لیں، یہیں کہیں آپ کو سرعام ببانگ دہل اعلانات مل جائیں گے، ہم کسی کا نام نہیں لیں گے۔۔۔
تیسری بات ہم نے تو کسی کا نام نہیں لیا لیکن آپ نے براہ راست ہم پر فرسودہ مائنڈ سیٹ ہونے کا الزام لگا دیا۔ یعنی دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت۔۔۔
کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں!!!
کمال کرتے ہو جناب۔ دعویٰ آپ کرو، ثبوت میں جا کے ڈھونڈوں۔ کبھی برڈن آف پروف کے تصور کے بارے میں کچھ سنا ہے؟
 

محمد سعد

محفلین
پہلی بات ہم نے اپنی بات نہ ماننے والوں کو کچھ نہیں کہا۔۔۔
دوسری بات آپ خود ڈھونڈ لیں، یہیں کہیں آپ کو سرعام ببانگ دہل اعلانات مل جائیں گے، ہم کسی کا نام نہیں لیں گے۔۔۔
تیسری بات ہم نے تو کسی کا نام نہیں لیا لیکن آپ نے براہ راست ہم پر فرسودہ مائنڈ سیٹ ہونے کا الزام لگا دیا۔ یعنی دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت۔۔۔
کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں!!!
فرسودہ مائینڈ سیٹ کو فرسودہ ہی کہیں گے خواہ بزنس خراب ہونے پر چیخنے والوں کو لاکھ برا لگے۔ اپنی ذاتی رائے کو خدائی حکم کا درجہ دیتے ہوئے اس سے اختلاف کرنے والوں پر دہریت کے الزام لگائیں گے تو فرسودہ کا لفظ تو ایسی سوچ کے لیے نہایت کم درجے کا ہے۔
 

عدنان عمر

محفلین
اسلامی احکام نہیں بلکہ آپ کی من پسند تشریحات اور دین کا ٹھیکیدارانہ رویہ۔
مذاق اڑانا نہیں بلکہ ناقدانہ نگاہ سے دیکھنا۔ حوصلہ پیدا کیجیے، آپ اسلام نہیں ہیں! :)
اسلام میں عورت کا مقام
یہ ایک مختصر کتاب ہے اور ایک نشست میں باآسانی ختم ہو سکتی ہے۔ ذرا اسے پڑھ کر بتائیے کہ کیا اس میں اسلامی احکام کی من پسند تشریحات کی گئی ہیں یا درست اسلامی احکام پیش کیے گئے ہیں۔
امید ہے کہ آپ کی ممکنہ تنقید مستند دینی حوالوں کے ساتھ ہو گی۔
 

سید عمران

محفلین
معلوم نہیں آپ بار بار ترغیب کا لفظ کیوں استعمال کر رہے ہیں؟ ہم نے صرف اتنا کہا تھا کہ جو بیویاں اپنی تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر کام کاج کرنا چاہتی ہیں ان کو روکنے کا کوئی جواز خاوند کے پاس موجود نہیں ہے۔ خواتین کی ایک بڑی تعداد شادی کے بعد بچوں کی دیکھ بھال میں فُل ٹائم مصروف ہو جاتی ہیں۔ اور جب بچے کچھ بڑے ہو جائیں تو کام کاج پر واپس آجاتی ہیں۔ ظاہر ہے جو بیوی کام کاج کرنا نہیں چاہتی ہے اسے خاوند مجبور نہیں کر سکتا۔ اور جو کرنا چاہتی ہے اسے خاوند روک نہیں سکتا۔ کام کرنے نہ کرنے کا اختیار بہرحال بیوی کے پاس موجود ہے۔
اسلام میں تو مرد ماں باپ کی اور عورت شوہر کی اجازت کے بغیر خدا کی نفل عبادت نہیں کرسکتی چہ جائیکہ غیر ضروری کام۔۔۔
اور ضرورت ہے تو کوئی کسی کو نہیں روک رہا!!!
 

فرقان احمد

محفلین
میاں بیوی کے مابین ہم آہنگی پائی جائے تو وہ بیشتر مسائل کا حل خود نکال لیتے ہیں اس لیے ایسے معاملات پر اصولی بحث ہی ممکن ہے جو کہ اس لڑی میں جاری وساری ہے۔ اگر کوئی مرد یا خاتون جاب کرنا چاہے تو ایسے مرد اور خواتین جاب کر سکتے ہیں تاہم اگر ان کے گھر میں سے کسی مرد یا خاتون کو اس جاب پر بوجوہ اعتراض ہو تو وہ اس اعتراض کو سامنے رکھ سکتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر جاب کرنے والا یا جاب کرنے والی اعتراض یا اعتراضات تسلیم نہ کرنا چاہے تو وہ اپنے عمل میں آزاد ہے تاہم اس کے نتائج برآمد ہوں گے یا ہو سکتے ہیں۔ ایسی کئی خواتین دیکھی ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کے لیے شوہر سے ہی جان چھڑا لی۔ بہتر ہوتا ہے کہ شادی سے قبل ہی ایسے معاملات طے کر لیے جائیں تاکہ بعد ازاں ایسے پیچیدہ معاملات سے بچا جا سکے اور بالخصوص بچے کسی عذاب سے نہ گزریں۔
 
Top