آج کی بات

زبیر مرزا نے 'گپ شپ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 29, 2013

  1. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    دنیا بے وفا اور انتہائی ناقابل اعتبار ہے اس سے فائدہ وہی شخص اٹھاتاہے جو اسے مخلوق خدا کی اصلاح اور فلاح میں لگا دیتاہے۔

    شیخ سعدیؒ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. اسرار اظمی

    اسرار اظمی محفلین

    مراسلے:
    37
    بے شک
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    جزاک اللہ:):):):):)
     
  4. اسرار اظمی

    اسرار اظمی محفلین

    مراسلے:
    37
    جو بھی کیجیے تمام کیجیے
    چھوڑ دیجیے یا تھام لیجیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. عطاء اللہ جیلانی

    عطاء اللہ جیلانی محفلین

    مراسلے:
    290
    موڈ:
    Amused
    ‏عزتیں اور آسانیاں تقسیم کرنے والا کبھی خالی ہاتھ نہیں رہتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ڈگریاں درحقیقت تعلیمی *اخراجات* کی رسیدیں ہیں ، ورنہ علم تو وہی ہے جو عمل سے ظاہر ہو ۔۔۔۔!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. عطاء اللہ جیلانی

    عطاء اللہ جیلانی محفلین

    مراسلے:
    290
    موڈ:
    Amused
    ‏تعریف میں "اعتدال" پسندی اچھے اخلاق کی نشانی ہے اور اچھی بات ہے ۔
    یاد رہے ،شخصیت پرستی بت پرستی سے بڑھ کے خطرناک ہو سکتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. ابن آدم

    ابن آدم محفلین

    مراسلے:
    676
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ایک شخص نے اپنی مسجد کے پیش امام سے کہا: مولانا میں کل سے مسجد نہیں آؤں گا؟ پیش امام صاحب نے پوچھا: کیا میں سبب جان سکتا ھوں؟ اس نے جواب دیا: ھاں کیوں نہیں! در اصل وجہ یہ ھے کہ جب بھی میں مسجد آتا ھوں تو دیکھتا ھوں کہ کوئی فون پہ بات کر رھا ھے تو کوئی دعا پڑھتے وقت بھی اپنے میسجز دیکھ رھا ھوتا ھے، کہیں کونے‌ میں غیبت ھو رھی ھوتی ھے تو کوئی محلے کی خبروں پر تبصرہ کر رھا ھوتا ھے وغیرہ وغیرہ پیش امام صاحب نے وجہ سننے کے بعد کہا: اگر ھو سکے تو مسجد نہ آنے کا اپنا آخری فیصلہ کرنے سے پہلے ایک عمل کر لیجئے۔ اس نے کہا: بالکل میں تیار ھوں۔ مولانا مسجد سے متصل اپنے حجرے میں گئے اور ایک بھرا ھوا گلاس پانی کا لے کر آئے اور اس شخص سے کہا یہ گلاس ھاتھ میں لیں اور مسجد کے اندرونی حصہ کا دو چکر لگائیں مگر دھیان رھے پانی چھلکنے نہ پائے۔ اس شخص نے کہا: قبلہ اس میں کون سی بڑی بات ھے یہ تو میں انجام دے سکتا ھوں۔اس نے گلاس لیا اور پوری احتیاط سے مسجد کے گرد دو چکر لگا ڈالے، مولانا کے پاس واپس آ کر خوشی سے بتایا کہ ایک قطرہ بھی پانی نہیں چھلکا۔پیش امام صاحب نے کہا: یہ بتائیے جس وقت آپ مسجد کا چکر لگا رھے تھے اس دوران مسجد میں کتنے لوگ فون پر باتیں یا غیبت یا محلہ کی خبروں پر تبصرہ کر رھے تھے ؟اس نے کہا: قبلہ میرا سارا دھیان اس پر تھا کہ پانی چھلکنے نہ پائے، میں نے لوگوں پر توجہ ھی نہیں دی۔پیش امام صاحب نے کہا: جب آپ مسجد آتے ہیں تو اپنا سارا دھیان "خدا" کی سمت رکھیں؛ جب آپ خالص خدا کیلئے مسجد میں آئیں گے تو آپ کو خبر ھی نہ ھو گی کون کیا کر رھا ھے۔یہی وجہ ھے کہ قرآن کہتا ھے کہ "رسول کی پیروی کرو" یہ نہیں کہا کہ مسلمانوں پر نظر رکھو کہ کون کیا کر رھا ھے۔ خدا سے تمہارا رابطہ تمہارے اپنے اعمال کی بنا پر مضبوط ھوتا ھے دوسروں کے اعمال کی بنیاد پر نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  9. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت خوب۔۔۔۔جتنا اسلام ججمینٹل ہونے کو منع کرتا ہے اُتنا ہی ہمارا پسندیدہ مشغلہ۔
     
    • متفق متفق × 1
  10. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    7,920
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بغض رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی کو اپنے دماغ میں رہائش کے لیے بغیر کرایہ کی جگہ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
    پردہ آنکھ کا ہوتا ہے نہ کہ دل کا ۔ دل تو خود پردے میں ہے۔۔۔
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر