مشاہدرضوی:نعت

  1. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: مدینہ چھوٹتا ہے جب ۔۔۔۔

    مدینہ چھوٹتا ہے جب ۔۔۔۔۔ عرض نمودہ: ڈاکٹر محمد حسین مشاہدؔ رضوی مدینہ چھوٹتا ہے جب تو کیسا درد ہوتا ہے بتاسکتے نہیں اُس کو قلم سے لکھ نہیں سکتے وہ جنت بلکہ جنت سے بھی بڑھ کر روضۂ اقدس جہاں پر لمحہ لمحہ نور کی برسات ہوتی ہے سنہری جالیاں ، محراب و منبر ایک اک گوشہ فدا ہوجائے جنت جس پہ ایسی خوش...
  2. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: طیبہ کا سفر

    طیبہ کا سفر ( فضل ربی جل جلا لہٗ اور عطاے سرکار ﷺسے زیارتِ روضۃ الرسول ﷺاور سفرِ عمرہ کی سعادت پر ایک نعت شریف) عرض نمودہ: ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی طیبہ کا سفر شکر ہے در پیش ہوا ہے خوشیوں کا مسرت کا کنول دل میں کھلا ہے بے تابیِ دل آج سکوں پائے گی میری ہے اُن کا کرم اِذنِ سفر مجھ کو مِلا...
  3. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    موبائل مشاہدرضوی: دینی و اسلامی کتب پر مبنی انڈروائڈ ایپلی کیشن

    سلام مسنون ! الحمد للہ ! اس سال جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبار ک و مسعود موقع پر ناچیز کی دینی و اسلامی موضوعات پر لکھی گئی مطبوعات کا انڈروائڈ ایپلی کیشن لانچ کردیا گیا ہے ۔ جس کو ڈاوان لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔...
  4. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہد رضوی: آرزوئے نبی ﷺ(نعت شریف)

    آرزوئے نبی ﷺ زہے نصیٖب سفر ہو مرا بھی سوئے نبی خوشا ! میں دیکھ لوں یارب زمینِ کوئے نبی سمجھ لو اس کا ستارا ہے اوج پر پہنچا کہ جس نے خواب میں دیکھا ہو حُسنِ روئے نبی اسے گلاب کی خوشبو سے کیا غرض ہوگی جسے ملی ہو مقدر سے بھیٖنی بوئے نبی مجھے طلب نہ ہو دنیا کے سیٖم وزر کی خدا فقط ہو دل سے مرے...
  5. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: ایک نعتیہ شعر

  6. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: ایک نعتیہ شعر

  7. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی : مصطفاے ذاتِ یکتا کی نرالی شان ہے

  8. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: ایک نعتیہ شعر

  9. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: میں سوچتا ہوں کبھی ایک نعت ایسی لکھوں

    میں سوچتا ہوں کبھی ایک نعت ایسی لکھوں ازقلم: ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی (ایک مثنوی نما تلمیحی نعت شریف اساتذہ کی توجہ کی مستحق) میں سوچتا ہوں کبھی ایک نعت ایسی لکھوں تصرفاتِ پیمبر کو جس میں درج کروں میں مانتا ہوں نہیں میری فکر ہے کامل نہیں ہے خامۂ خامِ مشاہدؔ اس قابل جو اختیارِ پیمبر کو...
  10. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: سبز گنبد کی رعنائیاں دیکھ لوں

  11. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: معطر کاغذ

    معطّر کاغذ نام جب اُن کا لکھا ہو گیا بہتر کاغذ اُن کے اوصاف کی خوشبو سے معنبر کاغذ سادہ تھا ، چھپ گیا جب اُس پہ قرآنِ اکرم بن گیا دیکھو مقدّر کا سکندر کاغذ شاخِ طوبیٰ کے قلم سے ہو رقم نعتِ نبی تو لکھوں لالہ و گل کے میں بنا کر کاغذ جس پہ سرکار کا فرمان ہوا ہے مرقوم ہے وہ لاریب! بڑا دل کش و...
  12. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی : نعتِ مصطفیٰ ﷺ

    نعتِ مصطفیٰ ﷺ کوئی نبی نہیں سلطانِ انبیا کی طرح قریبِ رب نہیں کوئی بھی مصطفیٰ کی طرح بشر کے رُوپ میں نورِ خدا کے پیکر ہیں کوئی بشر نہیں محبوبِ کبریا کی طرح نکالا ہم کو جہالت کے اندھے غاروں سے نہ آیا جگ میں کوئی میرے رہنما کی طرح جمالِ یوسفِ کنعاں پہ دل مرا قرباں ہے یہ بھی سچ نہیں وہ...
  13. تسنیم کوثر

    تشطیر بر اشعار اعلیٰ حضرت ، از :ڈاکٹر مشاہدرضوی

  14. تسنیم کوثر

    ڈاکٹر مشاہدرضوی کی ایک خوب صورت نعت شریف

  15. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: سیدِ ابرار کا چرچا

    سیدِ ابرار کا چرچا چل کر اے زباں سیّدِ ابرار کا چرچا محبوبِ خدا مونس و غم خوار کا چرچا آدم کو ملی زیست ، ہے انوارِ نبی سے ہر شَے نے کیا آپ کے انوار کا چرچا انساں ہی نہیں حور و ملک بھی ہیں ثنا خواں کس جا نہ ہوا احمدِ مختار کا چرچا اَخلاق ہی سرکارِ دوعالم کے تھے ایسے دشمن ہوئے تائب ، کیا...
  16. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: کوئے نبی کے ارمان (نعت)

    کوئے نبی کے ارمان دل میں اُٹّھا طوفانِ غم کوئے نبی کے ارمانوں کا اب تو بلالیں ہم کو طیبہ دُور ہو غم دیوانوں کا اللہ اللہ! شہرِ مدینہ جس کے چپّے چپّے پر جان نچھاور کرتے ہیں سب کیا کہنا مستانوں کا نعرہ لگایا سرورِ عالم نے وحدت کا جب لوگو! اوندھے منہ بُت گرنے لگے تھا حال بُرا بُت خانوں...
  17. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: ایک نعتیہ قطعہ

    الفتِ پیمبر کا غم کبھی بھی کم نہ ہو سیم و زر کی چاہت میں آنکھ میری نم نہ ہو شاعری بھی لاحاصل اور قلم بھی بد قسمت نعتِ مصطفی جس سے ایک بھی رقَم نہ ہو ٭
  18. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: ایک نعتیہ قطعہ

    رہے گا نفسی کا عالم جہاں اِلیٰ غیری اَنالہا کا سنائیں گے مژدہ شاہِ دَنا شفیعِ روزِ جزا جرم بخشوائیں گے وکیل بالیقیں ہوں گے ہمارے پیشِ خدا
  19. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: ایک نعتیہ قطعہ

    داعیِ امن و اماں ہیں آپ اے شاہِ شہاں آپ آئے تو مٹے ظلم و تشدد کے نشاں جان کے دشمن سے بھی نرمی رکھی سرکار نے کوئی بھی آیا نہیں ہے مثلِ شاہِ مرسلاں
  20. ڈاکٹر مشاہد رضوی

    مشاہدرضوی: ایک نعتیہ قطعہ

    ستارا اُن کے مقدر کا اوج پہ پہنچا جنھیں ہوا ہے شہ انس و جاں کا پیار نصیب جو سر کٹاتے ہیں ناموسِ مصطفائی پر انھیں بہشت کے ہوتے ہیں لالہ زار نصیب
Top